تھانہ میں تانڑہ ادبی ٹولنہ کے زیر اہتمام پانچ کتابوں کی تقریب رونمائی

تحریر: فضل معبود صائم

تھانہ (ضلع مالاکنڈ) کی ادبی تنظیم ”تانڑہ ادبی ٹولنہ“ کا شمار صوبہ خیبر پختونخوا کی چند فعال اور متحرک ادبی تنظیموں میں ہوتا ہے وقتاً فوقتاً جو مختلف قومی، مذہبی ایام منانے کا بھی اہتمام کرتی ہے اور نہ صرف عصر حاضر کی ادبی شخصیات کے اعزاز میں ادبی نشست منعقد کراتی ہے بلکہ مرحومین شعراء و ادباء کی یاد میں بھی اس قسم کی تقریبات کا انعقاد کر کے ان کی ادبی خدمات اور حالات زندگی سے لوگوں کو آگاہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

کتابوں میں پروفیسر فضل کریم ناشا د کی کتاب ”ٹپے د تصویرونو سرہ“، خلیل الرحمٰن خلیل کا شعری مجموعہ ”د مینی نڑئی“، علی محمد شاہد کی تحقیق پر مبنی کتاب ”د کربلا شہسوار“ اور راقم الحروف کی دو کتابیں ”د اقبال جان ژوند او فن“ اور شعری مجموعہ ”لڑی او وریزی“ شامل

تانڑہ ادبی ٹولنہ کی یہ روایت رہی ہے کہ ہر سال کئی کئی کتابوں کی تقریب رونمائی کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ تین سال قبل آٹھ کتابوں کی تقریب رونمائی کی گئی تھی، اگلے سال چھ اور امسال بھی پانچ کتابوں کی تقریب رونمائی مذکورہ تنظیم کے زیر اہتمام ہوئی۔ ان میں پروفیسر فضل کریم ناشا د کی کتاب ”ٹپے د تصویرونو سرہ“، خلیل الرحمٰن خلیل کا شعری مجموعہ ”د مینی نڑئی“، علی محمد شاہد کی تحقیق پر مبنی کتاب ”د کربلا شہسوار“ اور راقم الحروف کی دو کتابیں ”د اقبال جان ژوند او فن“ اور شعری مجموعہ ”لڑی او وریزی“ شامل ہیں۔ مالاکنڈ ڈویژن کے تاریخی تعلیمی ادارے گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1 تھانہ (موجودہ نام گورنمنٹ شہید عادل شہزاد ہائی سکول تھانہ) میں منعقدہ تقریب رونمائی کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت چیئرمین پشتو ڈپارٹمنٹ مالاکنڈ یونیورسٹی ڈاکٹر علی خیل دریاب نے کی جبکہ اس خوبصورت تقریب کے مہمان خصوصی عالمی کانفرنس کے روح رواں و سربراہ اور انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان کے مرکزی صدر بزرگ شاعر و ادیب سلیم راز تھے۔ ان کے ساتھ معروف شعراء، ادباء ودود اشنغرے اور ڈاکٹر عبداللہ سواتی بھی بطور خاص تقریب میں شریک تھے۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز سکول کے طالب علم احمد اسماعیل نے تلاوت کلام پاک سے کیا اور نعت رسول مقبول ﷺ کی سعادت بھی انہوں نے حاصل کی۔

تقریب میں مختلف سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بھی شرکت کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے نیک حسین، جمیعت علمائے اسلام (ف) کی طرف سے حاجی غنی محمد خان، پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے محمد اکرام نے شرکت کی۔ انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شعراء معاشرے کا حساس طبقہ ہوتا ہے اور جو کچھ محسوس کرتے ہیں اسے عوام الناس اور حکمرانوں تک بزبان شعر پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شعراء، ادبا ء کی وجہ سے پشتو زبان زندہ ہے۔ سیاسی قائدین نے کہا کہ شعراء معاشرے کے لوگوں کو مثبت تفریح کے ساتھ ساتھ عز ت بھی فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادب اور سیاست لازم و ملزوم ہیں۔ اور سیاسی شخصیات موقع محل کی مناسبت سے خوبصورت اشعار سے مدد لے کر اپنی تقاریر موثر بنانے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ شعراء ہی کی مرہون منت ہے۔

میزبانی کے فرائض جنرل سیکرٹری فضل معبود صائم (راقم الحروف) اور جوائنٹ سیکرٹری محمد زاہد شباب رانیزے نے مشترکہ طور پر انجام دیئے۔ تقریب کے آغاز پر تنظیم کے صدر، بزرگ شاعر زرنوش شہاب اور سرپرست اعلیٰ حمید اللہ خان ایڈوکیٹ نے آنے والے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔

اس خوبصورت تقریب کے مہمان خصوصی عالمی کانفرنس کے روح رواں و سربراہ اور انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان کے مرکزی صدر بزرگ شاعر و ادیب سلیم راز تھے، ان کے ساتھ معروف شعراء، ادباء ودود اشنغرے اور ڈاکٹر عبداللہ سواتی بھی بطور خاص تقریب میں شریک تھے

تقریب کے دوران طے شدہ پروگرام کے مطابق پروفیسر فضل کریم ناشاد کی کتاب (ٹپے د تصویرونو سرہ) پر زرنوش شہاب اور میاں فضل الرحمٰن شاہد نے تاثرات اور مہران مہر نے نظم پڑھ کر سنائی، خلیل الرحمٰن خلیل کی کتاب (د مینی نڑئی) پر ناموس خان ناموس اور محمد جمیل کاچو خیل نے تاثرات پیش کئے جبکہ فضل سبحان ساجد، محمد اویس اویس اور شاکر رانیزے نے نظمیں پیش کیں۔ علی محمد شاہد کی کتاب (د کربلا شہسوار) پر یاسر الہام اور زخمی شینواری نے تاثرات جبکہ بخت زمین نگار اور دیدار محمد طاہر نے نظمیں پیش کیں۔ راقم الحروف کی کتاب (د اقبال جان مرحوم ژوند او فن) پر پروفیسر ڈاکٹر جہان عالم اور بخت روان عمر خیل کو تاثرات اور ڈاکٹر غلام حسین یاس اور ظفر علی ناز کو نظمیں دی گئیں تھیں جبکہ شعری مجوعے (لڑی او وریزی) پر محمد اقبال اقبال، داؤد جان مومند اور ڈاکٹر شیر زمان سیماب کو مقالے اور فضل نعیم نعیم کو نظم کے لئے کہا گیا تھا۔

تقریب میں مقامی شعراء ادباء اور شائقین ادب کے علاوہ ضلع دیر، ضلع مالاکنڈ، ضلع سوات سے تعلق رکھنے والے شعراء نے بھی شرکت کی۔ حسب روایت شعراء، ادباء اور مقامی شائقین ادب کی دیر سے آمد کے باعث تقریب کا آغاز 9 بجے کے بجائے 11 بجے کیا گیا جس کا خمیازہ بروقت آنے والے معزز مہمانوں اور شائقین ادب کو برداشت کرنا پڑا۔ چونکہ یہ ایک عام روایت بن گئی ہے کہ عام طور پر ہر کسی کا یہ خیال ہوتا ہے کہ کوئی بھی تقریب حتیٰ کہ اجلاس بھی کم از کم ایک یا ڈیڑھ گھنٹہ دیر سے شروع ہو گا اور صدر محفل اور مہمان خصوصی کی تاخیر سے آمد کی وجہ سے حسب روایت اس مرتبہ بھی وہی ہوا جو ہم عام طور پر دیکھتے چلے آرہے ہیں۔ اور یہ غلط کام وہی حساس طبقہ دیگر عام لوگوں کی نسبت زیادہ کرتا ہے جسے معاشرے میں یقیناً ایک خاص مقام اور حیثیت حاصل ہے، جسے باشعور طبقہ تصور کیا جاتا ہے، یہ لوگ دیر سے آمد اپنا استحقاق سمجھتے ہیں۔

حسب روایت ایک ایک کتاب کی تقریاب رونمائی یعنی نقاب کشائی کے لئے کئی کئی شعراء، ادباء اور مہمانان گرامی کو سٹیج پر بُلایا گیا، مصنف بھی ان کے ہمراہ سٹیج پر موجود ہوتے تھے۔ پروفیسر فضل کریم ناشاد کی کتاب کی نقاب کشائی کے موقع پر مہمان خصوصی سلیم راز، ودود اشنغرے، پروفیسر فضل مالک، شہباز محمد، فضل احد شہاب،حمید اللہ خان ایڈوکیٹ، نیک حسین، بخت زمین نگار اور مصنف پروفیسر ناشاد موجود تھے۔ خلیل الرحمٰن خلیل کے شعری مجموعے کی نقاب کشائی صدر محفل ڈاکٹر علی خیل دریاب، صدر تنظیم زرنوش شہاب، محمد اکرام، ممتاز علی ممتاز، زرشد کریم شلمانی، نعیم ریحان اما ن روم خان، حشمت اللہ خان، سرور خٹک اور مصنف خلیل الرحمٰن خلیل نے کی۔ دلی محمد شاہد کی تحقیقی کتاب کی نقاب کشائی کے موقع پر مصنف کے ساتھ ڈاکٹر عبد اللہ سواتی، زار یوسفزے، ناصر امین، راحت علی طوفان، میاں فضل حمید شاہین، جہانگیر خان سواتی، سبحان ساجد، حافظ محمد طارق، حاجی غنی محمد خان اور دیگر موجود تھے۔ راقم الحروف کی کتاب د اقبال جان ژوند او فن کی نقاب کشائی کے موقع پر اقبال سجید اداس، قاری عظیم، نثار راحید، اسفندیار، ضیاء اللہ ساحل اور دیگر کئی شعراء موجود تھے۔ جبکہ میری دوسری کتاب شعری مجموعے (لڑی او وریزی) کی نقاب کشائی کے دوران صدر محفل ڈاکٹر علی خیل دریاب، مہمان خصوصی سلیم راز، ودود اشنغرے، ڈاکٹر عبداللہ سواتی، زرنوش شہاب، محمد اکرام، تیمور کونسلر، فیاض خان اور دیگر موجود تھے۔

اس موقع پر یاران قلم ادبی تنظیم آلہ ڈھنڈ کی طرف سے راقم الحروف کو ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر فریم شدہ تصویر بطوراعزازی تحفہ دی گئی۔ مقالہ نگاروں اور نظم پیش کرنے والوں نے مصنفین پر منظوم اور منثور انداز میں عقیدت کے پھول نچھاور کئے۔ تقریب میں شعراء اور ادباء کے علاوہ شائقین ادب نے بھی بھر پور شرکت کی۔ صدر محفل ڈاکٹر علی خیل دریاب اور مہمان خصوصی سلیم راز نے تانڑہ ادبی ٹولنہ اور مصنفین کو مبارک باد اور بیک وقت پانچ کتابوں کی تقریب رونمائی کی کامیاب تقریب پر شاباش دی۔ انہوں نے کہا کہ پشتو زبان شعراء کی وجہ سے زندہ ہے ورنہ حکومت اور منتخب نمائندے تو اس طرف کوئی توجہ نہیں دیتے اور نہ ہی پشتو زبان کو الیکٹرانک میڈیا پر اپنا جائز حق اور مناسب نمائندگی ملتی ہے۔ سلیم راز نے کہا کہ وہ زمانہ گیا جب شاعرصرف لب اور رخسار یاد کیا کرتے تھے۔ اب حالات اور تقاضے بدل چکے ہیں۔ وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ معیاری اور مقصدی شاعری کی طرف توجہ دی جائے۔ انہوں نے تنظیم کے ارکان کو تجویز دی اور کہا کہ خواہ مخواہ لوگوں کو خوش کرنا ضروری نہیں کہ ہر کتاب کی نقاب کشائی کے لئے کئی کئی افراد کو سٹیج پر بلایا جائے۔ بس صرف ایک صدر یا کوئی بھی کئی کتابوں کی نقاب کشائی کے لئے کافی ہے۔ اور کئی کتابوں کی نقاب کشائی بھی مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیک وقت سب کتابوں کی نقاب کشائی ایک ساتھ ہو جانی چاہئے۔ سلیم راز نے یہ بھی تنقید کی کہ پشتو کی محفل میں اردو نعت کی بجائے پشتو میں نعت خوانی کی جانی چاہئے تھی۔ آخر میں ملک اور قوم کی ترقی خوشحالی اور قیام امن کے لئے دعا کی گئی۔


یہ بھی پڑھیں

خون میں لت پت افغانستان اور پاکستان

تحریر:حمایت اللہ مایارافغانستان گزشتہ40 سال سے جنگ و دہشت گردی کا شکار ہے۔ لاکھوں افغان …