قصور کی زینب سے دیر کی حریم شاہ تک، سلسلہ ابھی رکا نہیں

تحریر: رومان ایوب

بچے پھولوں کی مانند ہوتے ہیں، گھروں کی خوبصورتی اور رونق ہو تے ہیں۔ والدین بھی بچوں کی دیکھ بھا ل کے لیے دن رات ایک کرتے ہیں مگر اپنے بچوں کو کسی چیز کی کمی کا احساس نہیں دلاتے۔ ان کی کو شش ہو تی ہے کہ وہ پید ائش اور بچپن سے لے کر جوانی تک بچوں کی ایسی تر بیت کر یں تاکہ وہ معاشرے کے مفید اور اچھے شہری ثابت ہو جائیں لیکن کبھی کبھار والدین کی یہ امیدیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دم توڑ دیتی ہیں۔

حالیہ برسوں میں وطن عزیز پا کستان میں بچوں پر تشدد اور جنسی زیادتی کے بے شمار ایسے واقعات رونما ہو ئے۔ پنجاب کے ضلع قصور میں معصوم بچی زینب جنسی زیادتی کے بعد قتل کر دی گئی، اس واقعے کو میڈیا اور پریس میں خوب کوریج دی گئی، ہر کسی کی یہ امید تھی کہ اس واقعے کے بعد یہ سلسلہ رک جائے گا مگر اس واقعے کے بعد کبھی فرشتہ تو کبھی اسماء اور نجانے کتنی معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی کی گئی اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ آخر کار ان معصوم بچوں کا جرم کیا ہے؟ کیوں ان کو تشدد اور جنسی ہراسگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے یہاں تک کہ زیادتی کے اکثر واقعات میں انہیں جان سے بھی مار دیا جاتا ہے۔

بڑے افسوس کی بات ہے کہ ننھی حریم شاہ کے قتل کا نوٹس لیے جانے کے باوجود تاحال کیس میں کوئی اہم پیشرفت نا ہو سکی جبکہ دوسری جانب معصوم بچے بچیوں کے ساتھ اس طرح کے بے رحمانہ سلوک پر مبنی واقعات آج بھی پیش آ رہے ہیں

دیر لوئر کی تحصیل ادینزئی کی یونین کونسل چکدرہ دو سالہ ننھی حریم شاہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ اس کی تازہ ترین مثال ہے۔
چکدرہ کے گاؤں چٹ پٹ کی حریم شاہ چھ روز قبل اپنی والدہ کے ہمر اہ راموڑہ درہ میں منگنی کے پر وگرام میں شرکت کے لئے گئی تھی جہاں سے وہ لاپتہ ہو گئی، والدین، رشتہ داروں اور گاؤں والوں نے تلاش شر وع کی مگر ناکام رہے۔ بچی کے والد مجاھد شاہ نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہو ئے بروقت پو لیس تھانہ چکدرہ میں ایف آئی آر درج کرائی۔ ڈی ایس پی سرکل ادینزئی اعجاز خان نے ایس ایچ او چکدرہ ظاہر شاہ کی سر بر اہی میں ایک ٹیم تشکیل دی۔ پو لیس نے دن رات ایک کر کے راموڑہ شراب کوہ کے نزدیک پہاڑ ی علاقے سے حریم شاہ کی تشدد زدہ لاش برآمد کی جس کو چکدرہ پو لیس نے تحویل میں لے کر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکدرہ اور وہاں سے جدید لیبارٹری پشاور منتقل کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر خبر پھیلی تو علاقے کی عوام نے غم و غصہ کا اظہار کیا اور اگلے روز صدر انجمن تاجران ادینزئی خواجہ فیض الغفور کی کال پر مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور تاجر وں نے چکدرہ مین بازار میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے سے خطاب میں صدر انجمن تاجر ان ادینزئی خواجہ فیض الغفور نے قاتل کی گر فتاری کے لیے انتظامیہ کو تین دن کی ڈیڈ لائن دی اور قاتل کی گر فتاری کا مطالبہ کیا۔ خواجہ فیض الغفور نے کہا کہ حریم شاہ کے قتل پر پوری قوم افسردہ ہے، ہم سب غمزدہ خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں، قرآن وحدیث معصوم جانوں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دیتا ہے، یہ علاقے کے امن، غیرت اور عزت کی بات ہے، جلد ازجلد قاتل کو گر فتار کر کے سر عام سزا دی جائے۔


عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر حسین شاہ یو سفزئی نے کہا کہ معصوم بچی کو قتل کر کے پختون معاشرے سے غیرت اور عزت کا جنازہ نکال دیا، قاتل کو گر فتار کر کے قر ار واقعی سزادی جائے۔ صدر جماعت اسلامی یوتھ عبیداللہ تاجک نے کہا کہ تمام یوتھ تنظیمیں متحد ہیں، اگر ڈیڈ لائن کے اندر قاتل گرفتار نہ ہوئے تو یوتھ تنظیمیں سب سے آ گے ہوں گی۔ مظاہرے سے امیر جماعت اسلامی ادینزئی سید سلطنت یار ایڈوکیٹ، نعیم اللہ خان، سید علی شاہ سابق ناظم، واصل خان بہرام خیل ممبر بورڈ آف ڈائر یکٹر خدائی خدمت گار، جاوید اقبال ضلعی جنر ل سیکرٹری جمعیت علماء اسلام لوئر دیر، پاکستان تحریک انصاف کے عبداللہ نواز خان اور سابق ناظم اسلامی جمعیت طلبہ گل آباد کالج منظور علی نے بھی خطاب کیا۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سر اج الحق نے بھی حریم شاہ کے گھر کا دورہ کیا، ان کے والدین اور رشتہ داروں کے ساتھ تعزیت کی اور واقعہ پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ بعدازاں سینیٹر سر اج الحق نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ جہاں بھی بچوں پر تشدد اور جنسی ہراسگی کے واقعات ہوتے ہیں، مقامی تھانوں میں زینب الرٹ بل کے تحت ایف آئی آر درج نہیں ہوتی جو موجودہ حکومت کی ناکامی ہے، مو جودہ حکومت نے زینب الرٹ بل کا نوٹیفکیشن تھانوں کو ابھی تک نہیں بجھوایا، جہاں قانون سزا و جزا نہیں ہو وہاں اس طرح کے واقعات رونما ہوں گے، مسلسل واقعات ہو رہے ہیں، بچوں کو بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے، قاتل گر فتارکیا جاتا ہے نہ سزا ہے نہ جزا حکومت ایک واقعہ کے بعد دوسرے واقعے کے انتظار میں ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے فر ائض کو پہچانے، حکومت کا اصل کام شہر یوں کی جان ومال کا تحفظ ہے، جماعت اسلامی نے حریم شاہ قتل واقعہ کو اسمبلی فلور پر اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

وزیر اعلی خیبر پختونخواہ نے بھی اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ اس واقعہ پر پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ وزیر اعلی کے معاون خصوصی شفیع اللہ خان نے وزیر اعلی کی طرف سے لڑکی کے خاندان کے ساتھ تعزیت کی اور صوبائی حکومت کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ تاہم بڑے افسوس کی بات ہے کہ حریم شاہ کے قتل کا نوٹس لیے جانے کے باوجود تاحال کیس میں کوئی اہم پیشرفت نا ہو سکی جبکہ دوسری جانب معصوم بچے بچیوں کے ساتھ اس طرح کے بے رحمانہ سلوک پر مبنی واقعات آج بھی پیش آ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان کا ہر صوبہ پاکستان کا دل ہے۔۔۔ سدرہ شیخ

آج میں جس صوبہ کے موجودہ حالات کے بارے میں لکھنے کے لیے قلم اٹھا …