حماد حسن کے کالم میں فکری مغالطے اور ایک وضاحت ۔۔۔ ڈاکٹر اسحاق وردگ

منفرد اسلوب کے شاعر جناب ظفر اقبال سے متعلق بہت پہلے سن رکھا تھا کہ دنیائے ادب میں اردو شعری حلقے دو حصوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ایک گروہ اینٹی ظفر اقبال اور دوسرا پرو ظفر اقبال کہلایا جاتا ہے۔ ظفر اقبال ایک رجحان ساز شاعر تو ہیں ہی اس کے ساتھ ساتھ فکاہیہ اور ادبی کالم نگار کے طور پر بھی ادبی اور صحافتی منظر نامے پر نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کی کالم نگاری کی عمر لگ بھگ پچاس برس ہے۔ اب تک ان کے کئی کالمی مجموعے چھپ چکے ہیں۔ اور ان پر ایم۔فل کے مقالات بھی لکھے جا چکے ہیں۔ ظفر اقبال اپنی فکاہیہ کالم نگاری میں پیروڈی یعنی تحریف نگاری کے حربے سے بھی کام لیتے ہیں۔ گذشتہ ہفتے انھوں نے بلاول بھٹو اور معروف سکینڈل کے مرکزی کردار ایان علی پر طنزیہ پیرائے میں چیھڑ چھاڑ کی جس پر پیپلز پارٹی سمیت مختلف سیاسی اور ادبی حلقوں کا ردعمل سامنے آیا۔ اس ردعمل یا احتجاج کے مختلف روپ دیکھنے کو ملے۔ شائستہ حلقوں نے جناب ظفراقبال سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے طنزیہ جملوں پر نظرثانی کرتے ہوئے وضاحت کریں۔ یہ رویہ نسبتاً مہذب تھا۔ کالم کے چھپنے کے بعد ظفر اقبال نے نا صرف شاعر و اینکر پرسن وقاص عزیز کے یوٹیوب ادبی چینل ”سخن ٹی وی“ پر اپنی وضاحت کی بلکہ بلاول بھٹو کے انداز سیاست کو بھی سراہا۔ اور ساتھ ہی بلاول بھٹو کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔ اس انٹرویو کے بعد ظفر اقبال نے اگلے روز اپنے کالم میں بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری سے معذرت کی۔ اپنے کالم میں ظفر اقبال ”اعتذاز“ کے عنوان تلے لکھتے ہیں: ”مجھے بتایا گیا ہے کہ پچھلے دنوں میرے ایک کالم کی اشاعت پر جو بلاول بھٹو زرداری کے حوالے سے تھا سوشل میڈیا پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے جس کو میں سمجھنے سے قاصر ہوں کیونکہ میرا مقصد کسی کی توہین یا دل آزاری ہرگز نہیں تھا تاہم جن خواتین و حضرات کا اس سے دل دکھا ہے میں ان سے معذرت خواہ ہوں۔ بلاول بھٹو زرداری سمیت! (مطبوعہ روزنامہ ”دنیا“ لاہور) اصولاً تو ظفر اقبال کے ”اعتذاز“ کے بعد یہ بحث ختم ہونی چاہیے تھی تاہم ”اینٹی ظفر اقبال“ گروپ نے کردار کشی اختیار کرتے ہوئے بزرگ شاعر کو سوشل میڈیا پر گالیاں دینی شروع کیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ معروف صحافی مبشر علی زیدی نے فیس بک پر اپنی وال پر ظفر اقبال کو ابوجہل کہا۔ میرا موقف یہ ہے کہ ظفر اقبال سے اختلاف کا حق سب کو حاصل ہے لیکن گالی کا حق کسی کو نہیں۔ راقم نے مبشر زیدی کی اس پوسٹ پر احتجاج کیا۔ اور لکھا ”مجھے دکھ ہے کہ مبشر علی زیدی صاحب نے سینئر اور بزرگ شاعر و کالم نگار کو ابوجہل کہہ کر براہ راست گالی دی۔ چلیں ایک لمححے کے لیے زیدی صاحب کا موقف درست مان لیتے ہیں۔ لیکن کیا ہم انھیں یہ اختیار دے سکتے ہیں کہ وہ ابوجہل اور بدبودار غلاظت جیسے اخلاق سے گرے ہوئے گھٹیا الفاظ استعمال کریں۔ آپ کی رائے کا انتظار ہے۔“ مجھے انتہائی دکھ اس وقت ہوا جب پشاور کے جانے پہچانے دانشور، ادیب حماد حسن نے راقم کی پوسٹ کو بنیاد بنا کرسوشل میڈیا پر ظفر اقبال کے خلاف سخت لہجے میں ایک تحریر بعنوان ”ظفر اقبال کا لہجہ اور خاندانی خدمات“ لکھی جس میں مجھے کچھ فکری مغالطے نظر آئے۔ دکھ تو یہ ہے کہ حماد حسن کو ابوجہل کی گالی تو نظر نہ آئی لیکن خیر۔۔۔ اس لیے کچھ دوستوں کے مشورے سے حماد حسن کی تحریر کے حوالے سے چند نکات کی وضاحت پیش کر رہا ہوں تاکہ ریکارڈ کی درستی ہو سکے۔ پیارے دوست حماد حسن لکھتے ہیں: ”اسحاق وردگ کی ظفر اقبال سے خاصی نیاز مندی ہے اور ان کا طرز عمل اس سلسلے میں کافی جذباتی ہے“ وضاحت: حماد حسن! اگر آپ مبشر علی زیدی کی جانب سے ظفر اقبال کو ابوجہل کی گالی پر میرے احتجاج کو غلط قرار دیتے ہیں تو یقیناً آپ اس گالی کے حق میں ہوں گے۔ میں ادب و صحافت میں ہمیشہ اخلاقی اقدار کا قائل رہا ہوں۔ ظفر اقبال کے شعری مقام کا قائل ہوں اور ان کے شعری تجربات کے تجریدی پہلو سے اختلاف رائے بھی رکھتا ہوں۔ (آپ کے علم میں ہو گا کہ حال ہی میں پشاور کی معتبر ادبی شخصیت کے خلاف جب میرے قریبی دوست نے فیس بک پر انتہائی نازیبا زبان استعمال کی تو ان گالیوں پر بھی پہلا احتجاج اسحاق وردگ نے ریکارڈ کرایا۔)میرے نزدیک ظفر اقبال کے مجموعی شعری مقام، تنقیدی بصیرت سے چشم پوشی ادبی بددیانتی ہوگی۔ میں ظفر اقبال کے ادبی قد کاٹھ کو مانتا ہوں۔ ان کے لسانی تشکیلات کے تجریدی پہلو سے اختلاف بھی رکھتا ہوں تاہم یہ بھی واضح کر دوں کہ ابوجہل جیسی گالی کے خلاف آواز اٹھانے کو اپنے باضمیر ہونے کی دلیل سمجھتا ہوں۔ جناب حماد حسن آگے فرماتے ہیں: ”اردو کی دلآویز شاعری کے ساتھ ظفر اقبال صاحب نے جو کیا سو کیا۔۔۔“ حماد حسن سے گزارش ہے کہ وہ فن تنقید کی روشنی میں مجھ جیسے ادب کے نالائق طالب علم کو بتائیں کہ ظفر اقبال نے اردو کی دلآویز شاعری کے ساتھ کیا کیا، کیا وہ نہیں جانتے کہ ظفر اقبال کے سخت معترضین بھی ان کی شاعرانہ عظمت کے منکر نہیں، کیا حماد حسن کی نظر سے ”آب رواں“ نہیں گزری جسے ڈاکٹر وزیر آغا جدید اردو غزل کی بنیاد گزار کتاب قرار دے چکے ہیں۔ میں حماد حسن کو مشورہ دوں گا کہ اگر ان کے پاس ظفر اقبال کے تمام شعری مجموعوں کے مطالعے کا وقت نہیں تو وہ اردو ادب کی نامور شخصیات ڈاکٹر گوپی چند نارنگ، شمس الرحمان فاروقی، احمد ندیم قاسمی، قمر جمیل، ڈاکٹر وحید قریشی، محمد اظہار الحق، ڈاکٹر تحسین فراقی، شمیم حنفی، ڈاکٹر ناصر عباس نئیر، ڈاکٹر ضیاء الحسن سمیت دیگر شعراء و ادباء کی معتبر آرا دیکھ لیں۔ کالم نگار دوست لکھتے ہیں: ”اسحاق وردگ نے ظفر اقبال کو پیپلز پارٹی کا بانی رکن کہا ہے تو عرض ہے کہ وردگ صاحب بلاشبہ اہم تخلیق کار ہیں لیکن چونکہ سیاسی تاریخ سے زیادہ علاقہ نہیں رکھتے“ وضاحت: حیرت ہے کہ راقم کی پوسٹ میں کہیں بھی یہ جملہ نہیں۔ اس لیے کہ میری پوسٹ میں تو سیاست کا سوال ہی پیدا نہیں ہوا۔ دکھ یہ ہے کہ حماد نے فون پر اپنی یہ غلطی تسلیم کر لی۔ لیکن اگلے ہی روز روزنامہ ”شہباز“ میں مجھ سے منسوب رائے من و عن چھاپ دی۔ لطیفہ یہ ہے کہ حماد حسن نے ظفر اقبال کی سیاسی زندگی پر جو معلومات دی ہیں میری تحقیق کے بعد وہ بھی غلط ہیں۔ انھوں نے تو میاں یٰسین کے خلاف الیکشن لڑا ہی نہیں۔ حماد حسن کی معلومات میں اضافہ کرتا چلوں کہ اوکاڑہ میں جب پیلپز پارٹی بن رہی تھی تو اس جلسے کے سٹیج سیکرٹری ظفر اقبال تھے۔ (اگر ان کو اپنی سیاسی معلومات کی درستی پر اصرار ہے تو وہ اگلے کالم میں شواہد پیش کر سکتے ہیں) جناب حماد حسن آگے لکھتے ہیں: ”ظفر اقبال آج سے تقریباً تیس سال پہلے عطاء الحق قاسمی صاحب سے بھی الجھ پڑے تھے اور حسب عادت نازیبا گفتگو بھی کی تھی لیکن پڑھنے والوں کو یاد ہے کہ قاسمی صاحب نے عین اسی اخبار میں جوابی کالم لکھے جہاں ظفر اقبال لکھتا رہا اور قاسمی صاحب کے وہ کالمز پڑھنے والوں کو یاد ہے کہ صحیح معنوں میں کھینچنا اور رگڑنا ہوتا کیا ہے۔“ حماد صاحب! ایں چہ بوالعجبی است۔ حقیقت یہ ہے کہ ظفر اقبال اور عطاء الحق قاسمی نے ادبی بحث کا دروازہ کھولا تھا اور کالم لکھے۔ مجھے خوشی ہو گی کہ آپ ظفر اقبال کے وہ کالم دکھا سکیں جن میں آپ کے بقول ظفر اقبال نے ”نازیبا گفتگو“ کی۔ شاید آپ کی نظر سے ظفر اقبال کی نثری کتاب ”لاتنقید“ نہیں گزری۔ جس میں انھوں نے ادبی اختلاف میں مدلل اور مہذب لہجہ اختیار کیا ہے۔ اور یہ ہرگز ذاتی جھگڑا نہیں تھا۔ میرے خیال میں کھینچنا اور رگڑنا انتہائی نازیبا الفاظ ہیں۔ قاسمی صاحب نے ہمیشہ ظفر اقبال کے ادبی مرتبے کا احترام کیا ہے۔ مجھے خوشی ہو گی اگر حماد حسن قاسمی صاحب کے کالموں سے وہ مثالیں پیش کر سکیں۔ حماد حسن نے اپنے کالم میں ظفر اقبال کے صاحبزادوں پر بھی جارحانہ وار کیے ہیں جن کی کوئی تک یہاں نہیں بنتی تاہم اس حوالے سے یوٹیوب پر ظفر اقبال صاحب کے صاحبزادوں کا موقف موجود ہے۔ آخری وضاحت یہ ہے کہ یہ وضاحت مجھے اپنے دفاع کے لیے کرنا پڑ رہی ہے۔ حماد حسن نے اپنے کالم میں بار بار میری پوسٹ کے حوالے سے لایعنی اور بے بنیاد باتیں لکھیں۔ حماد حسن سمیت تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ وہ ظفر اقبال صاحب سے ضرور اختلاف کریں لیکن دلیل، احترام، تہذیب کے دائرے میں رہ کر۔ اس لیے کہ قلم کا اپنا تقدس اور بلند مرتبہ ہے۔ قلم کے توسط سے لفظ اور معنی کا رشتہ دلیل، حکمت اور تہذیب سے قائم رہ سکتا ہے۔ اور جب یہ صفات تحریر سے نکل جائیں۔۔ تو پیچھے بد تہذیبی رہ جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

sadar Jamal

پوائنٹ آف نو ریٹرن۔۔۔ ڈاکٹر سردار جمال

ہمارے اعلیٰ حکام ایسے سست روی کے شکار ہیں کہ ان کو اس ملک میں …