پاک افغان سرحدی علاقہ شاہی، نام کا شاہی باقی مسائلستان

تحریر: عمران اللہ خاکسار

لوئیردیر اور اپر دیر سمیت پاک افغان سرحدی علاقہ اور قدرتی حسن سے مالامالPK-17 اورNA-7 تحصیل ثمرباغ کا علاقہ شاہی ایک طرف قدرتی حسن سے مالامال ہے تو دوسری طرف سیاستدانوں نے اس علاقے کو پیچھے دھکیل دیا ہے اور یہاں کے مکین بنیادی سہولیات سمیت انسانی حقوق کو ترس گئے ہیں، وزیراعلی محمود خان نے پچھلے دور میں علاقے کا دورہ کیا تھا، مسائل سے آگاہ ہونے کے باوجود علاقے میں بجلی ہے نہ ٹیلیفون، پختہ سڑکیں نہ مراکز صحت، پانی ہے نہ مواصلات کا نظام، انٹرنیٹ اور لڑکیوں کی تعلیم تو آسمان سے بات کرنا ہے۔ سہولیات کے برعکس اس علاقہ کو50 سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔ غربت کی لیکرکے نیچے زندگی گزارنے والے مہمان نواز اور سادہ لوح لوگ کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔

شاہی پاک افغان سرحد پر واقع حساس علاقہ ہے لیکن الحمدللہ یہاں کبھی بھی بدامنی کا سایہ نہیں رہا ہے لیکن اس علاقہ میں بنیادی سہولیت کا فقدان ہے، سڑکیں خستہ حال ہیں، مراکز صحت میں ایک سول ڈسپنسری موجود ہے جس میں بنیادی دوائیوں کانام و نشان نہیں، جس کی عمارت بوسیدہ ہو چکی اور گرنے کی قریب ہے، لڑکیوں کیلئے پرائمری سکول ہے، پرائمری سکول پاس کرنے کے بعد100% لڑکیاں سکول چھوڑ دیتی ہیں، اس جدید دور میں بھی جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں لوگ 3G اور4G انٹرنیٹ سے مستفید ہو رہے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ شاہی کے لوگ ابھی تکSMS اورCall بھی نہیں کر سکتے کیونکہ اس علاقے میں MOBILE TOWER کا نام ونشان بھی نہیں جبکہ شاذ و نادرPTCL کا نیٹ ورک موجود ہوتا ہے، گزشتہ کئی ہفتوں سے وہ بھی غیرفعال ہو چکا ہے جس کی وجہ سے اس پسماندہ علاقے کے لوگ مزدوری کی غرض سے نکلنے والے مسافر حضرات سے بھی رابطہ نہیں کر سکتے۔

علاقے میں پانی کا کوئی خاص نظام نہ ہونے کی وجہ سے خواتین دور دراز سے سروں پر پانی لانے پر مجبور ہیں، برفباری کے موسم میں انہیں انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، علاقہ مکینوں نے کہا ہے کہ شاہی کے لوگ ہمیشہ سے پسماندگی اور غربت کی چکی میں پس رہے ہیں، جبکہ الیکشن کے وقت مختلف سیاسی لوگ بڑے بڑے وعدے کر کے ووٹ بٹورکر علاقے کے عوام کو بھول جاتے ہیں اور کسی بھی سیاسی پارٹی نے ان لوگوں کے مسائل کو حل کرنے پر توجہ نہیں دی ہے تاہمANP کے موجودہMPA حاجی بھادر خان نے علاقے میں 20،25 سال پہلے کئی سکول تعمیر کروائے تھے، ان کے بعد جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق جب سینئر وزیر تھے تو انہوں نے علاقہ کے سکول کو ہائی کا درجہ دے کر طلباء کا دیرینہ مسئلہ حل کیا، اس کے بعد حاجی ہدایت اللہ خان،ANP کی طرف سے لائیو سٹاک منسٹر، نے علاقے کیلئے ایک پرائمری سکول جوکہ شاہی خرکنئی کے مقام پر ہے تعمیر کروایا تھا اور علاقے کیلئے لائیو سٹاک کی ڈسپنسری بھی منظور کروائی تھی جوکہ آج بھی موجود ہے جبکہ علاقے کے سابقہ تحصیل ممبر گل زمین عائد نے بھی سولر لائٹس کی منظوری دی ہے۔

ان کے علاوہ کسی بھی سیاسی نمائندہ نے علاقہ کو کوئی توجہ نہیں دی ہے، اسی موقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے موجودہ وزیراعلی محمود خان جوکہ پچھلے دورحکومت میں وزیر کھیل تھے، نے اس علاقے کا دورہ کیا اور علاقے کی حالت زار دیکھ کر وعدہ کیا کہ حکومت میں آ کر میری پہلی توجہ شاہی پر ہو گی لیکن یوں لگتا ہے کہ وزیراعلی بھی اپنا وعدہ بھول گئے ہیں تاہم مختلف سیاسی نمائندوں کے وعدوں سے تنگ آ کرعلاقے کے اکثر لوگوں نے اس بارPTI کی قیادت پر اعتماد کیا جس کے نتیجے میں PTI کے امیدوار ملک لیاقت علی خان (صوبائی اسمبلی) اور محمد بشیر خان (قومی اسمبلی) کامیاب ہوئے، دونوں رہنماء مسلسل دورے کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ مختلف منظوریاں بھی کر رہے ہیں لیکن تاحال کسی بھی کام کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔ اگرچہ ملک لیاقت خان نے2 فٹ سڑک شاہی سے17 کلومیٹر دور درنگال پر منظور کروائی اور پھر جندول سے مڑ کر میدان میں دبنگ ترقیاتی کاموں کی منظوری دی ہے لیکن شاہی کی قسمت نہ بدل سکی اور شاہی ویسے کا ویسے ہی رہ گیا۔

بشیر خان (ایم این اے) بھی اس علاقے کے دھوم دھام سے روز دورے کر رہے ہیں اور بار بارPTI کی قیادت بھی کہتی ہے کہ تبدیلی آ رہی ہے لیکن تاحال ایسا کچھ نہ ہوا جسےPTI قیادت کم ازکم بلدیاتی الیکشن کیلئے بطور ثبوت بھی پیش کرے اور شاہی سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کھلے منہ پھر بھی ووٹ مانگے، ٹورازم ڈپارٹمنٹ پر بات کی جائے توPTI کے نوجوان رہنماء علی شاہ مشوانی جوکہ گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں اسی علاقے کے پاکستان تحریف انصاف کی طرف سے یونین امیدوار تھے بغیرکسی لالچ کے شاہی عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں لیکن افسوس کہ ان کی اس مخلصی نے بھی شاہی کو ترقی کے راہ پر گامزن نہ کیا کیونکہ شاہی کی بدقسمتی کی وجہ سے علی شاہ مشوانی کی آواز اپنے پارٹی قائدین کے ساتھ شائد پارٹی کے کچھ اندرونی نشیب و فراز کی وجہ سے شاہی کا ساتھ نہیں دے سکی، گزشتہ ماہ وزیر سیاحت عاطف خان کا بھی دورہ شاہی متوقع تھا لیکن دورہ کے دن دورہ منسوخ ہو چکا، یہ بھی شاہی اور شاہی کے عوام کی بدقسمتی ہو سکتی ہے کیونکہ یہ بھی ایک امید تھی کہ شاید وزیر سیاحت کا اس علاقے کیلئے کچھ خاص کرنا تھا کیونکہPTI تنظیم شاہی کی نوجوان قیادت جھانگیرخان اور عبدالرحیم و دیگر نے وزیر سیاحت کو شاہی کے بارے میں خوب آگاہ کیا تھا اور ان کی انتھک محنت سے وزیر سیاحت کا دورہ منظور ہو چکا تھا لیکن وہ پشتو کی کہاوت ہے کہ ”خوار پہ ہندوستان ھم خوار وی“ شاہی کے ساتھ بھی وہی ہوا، شاہی بھی وہی مسائلستان رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں

خون میں لت پت افغانستان اور پاکستان

تحریر:حمایت اللہ مایارافغانستان گزشتہ40 سال سے جنگ و دہشت گردی کا شکار ہے۔ لاکھوں افغان …