زرعی پیداوار میں جمود کے اسباب اور ان کا حل

تحریر: محمد سعید خان


کیمیاوی کھادوں کے استعمال میں بتدریج اضافے کے باوجود زرعی پیداوار میں اسی تناسب سے اضافہ تو درکنار اس میں بالعموم جمود اور کچھ فصلوں کی پیداوار میں بالخصوص کمی واقع ہو گئی ہے جس کے اسباب مندرجہ ذیل ہیں۔

(1سیم کلر اور تھور:

پاکستان کا نہری نظام دنیا کا سب سے بڑا نظام ہے کہ فصلوں کو جب چاہے اور جتنا چاہے پانی دیا جا سکتا ہے جبکہ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آبپاشی میں بے قاعدگی کی وجہ سے وافر پانی زمین میں رس رس کر سیم اور تھور پیدا کرتا ہے اور یہ اس وقت ہماری زمینوں کی نمبر 1 بیماری ہے۔ اس سے پیداوار میں بتدریج کمی واقع ہو جاتی ہے اور بالآخر زمین قابل کاشت نہیں رہتی۔

(2 نامیاتی مادے کی کمی:

نامیاتی مادہ زمین میں پانی جزب کرنے اور پودے کی خوراک کا ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے، زمین کی پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھنے کیلئے کم از کم نامیاتی مادے کی مقدار 2 سے 3 فیصد ہونی چاہئے، ہماری زمینوں میں اس کی مقدار اس وقت 1 فیصد سے بھی کم ہے اور نتیجتاً ان کی پیداواری صلاحیت بھی کم ہے۔

سیم و تھور نامیاتی مادوں کی کمی،کھادوں کا غیر موزوں استعمال اور غیر معیاری بیج پیداوار میں کمی کے اسباب

(3 کھادوں کا غیرموزوں استعمال:

کیمیائی کھادوں کا استعمال زرعی پیداوار میں 50 فیصد سے زیادہ اضافے کا حامل ہے اور کھادوں کا استعمال اگر صحیح طریقہ
سے کیا جائے تو یہ اضافہ 100 سے 200 فیصد بھی ہو سکتا ہے، پاکستان کی ساری زمینوں میں اس وقت نائٹروجن کی شدید کمی ہے جبکہ 90 فیصد زمینوں میں فاسفورس کی کمی ہو چکی ہے جبکہ 50 فیصد زمینوں میں پوٹاشیم اور زنگ والی کھادوں کی ضرورت ہے، کیمیاوی کھادیں چونکہ مہنگی ہیں اس لئے ان کا استعمال اگر صحیح طریقہ سے نہ کیا جائے تو ان سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا اور ماحولیاتی آلودگی کا باعث بھی بنتا ہے۔

(4 کم پیداواری صلاحیت والی اقسام کی کاشت اور کم بیج کا استعمال:

باوجود اس کے کہ زیادہ پیداواری صلاحیت والی اقسام موجود ہیں مگر کم پیداواری صلاحیت والی اقسام کی کاشت تاحال جاری ہے اورشرح بیج کم ہونے کے باعث فی ایکڑ پودوں کی تعداد بھی کم ہوتی ہے، نتیجتاً پیداوار میں کمی ہو جاتی ہے۔

(5 فصلوں کا ہیر پھیر:

اکثر زمینوں میں بار بار وہی فصلیں کاشت کرنے سے ان میں پودے کی ایک خاص گہرائی تک کمی واقع ہو جاتی ہے جو کم پیداوار کا سبب بنتی ہے۔ ان اسباب کو مندرجہ ذیل طریقوں سے دور کرنے سے نہ صرف پیداوار میں کمی کے رجحان کو روکا جا سکتا ہے بلکہ جمود کو توڑ کر پیداوار میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

(i سیم،کلر اور تھور والی زمینوں کی اصلاح:

سیم کو ختم کرنے کیلئے سیم نالیاں نکالنی چاہئیں، جو قریبی سیم نالی میں وافر پانی کو لے جائیں، کلر اور تھور کے خاتمے کے لئے جپسم کا استعمال زمینی تجزیہ کے مطابق کرنا چاہئے جس کے بعد پانی لگانا چاہئے، ایسی زمینوں میں زیادہ پانی کی ضرورت والی فصلیں کاشت کرنی چاہئیں مثلاً چاول، برسیم وغیرہ تاکہ پیداوار حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ زمین کی اصلاح بھی ہوتی رہے، ان زمینوں میں گوبر کی کھاد اور سبز کھاد کا بکثرت استعمال ہونا چاہئے۔

(ii نامیاتی مادے کا استعمال:

نامیاتی مادے کی کمی کہ پورا کرنے کیلئے زمین میں اگر ہو سکے تو گوبر کی گلی سڑی کھاد ہر سال ڈالنی چاہئے، اگر کم یا بالکل میسر نہ ہو تو سبز کھاد کا استعمال ہر سال کرنا چاہئے، اس کیلئے چنا، گوارا، سینجی، برسیم کاشت کرنا چاہئے، یہ فصلیں زمین میں نامیاتی کمی کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی جڑوں پر موجود دانوں کی وجہ سے زمین میں نائٹروجن بھی جمع کرتی ہیں جو اس فصل اور بعد میں آنے والے فصلوں کیلئے سود مند ہوتی ہے۔

(iii کھادوں کا موزوں استعمال:

کھادوں کے موزوں استعمال کیلئے چار باتوں کا خیال رکھنا چاہئے۔ کھاد کی مقدار سفارش کردہ مقدار کے برابر ہونی چاہئے، کم مقدار کے استعمال سے خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو گا، اس کیلئے زمین کا تجزیہ انتہائی ضروری ہے۔ نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم والی کھادوں کا تناسب 0.5:1.2 ہونا چاہئے، ان میں سے کسی بھی کھاد کا کم یا زیادہ تناسب افادیت کا حامل نہیں۔

کھادوں کو مناسب وقت پر ڈالنا چاہئے، ساری فاسفورس اور پوٹاشیم والی کھادوں کو بجائی کے وقت ڈال دینا چاہئے، نائٹروجن والی کھاد کا1/3 حصہ بجائی کے وقت اور باقی ماندہ 2/3 حصہ دو یا تین قسطوں میں فصل بڑی ہونے پر ڈالنی چاہئے، پوٹاشیم والی کھاد نائٹروجن کھاد کے ساتھ دو یا تین دفعہ ڈالنے سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ کیمیائی کھادوں کو صحیح طریقہ سے ڈالنا چاہئے،گو ان کا استعمال بذریعہ چٹھہ بہت آسان ہے مگر یہ بہترین طریقہ نہیں کیونکہ اس سے کھاد ہر جگہ پھیل جاتی ہے جو ضائع ہو جاتی ہے۔ بہترین طریقہ یہ ہے کہ کھاد کو پودوں کی جڑوں کہ قریب ڈالا جائے، یعنی بیج سے2 انچ کے فاصلے پر اور 2 انچ گہرائی میں ڈالنا چاہئے جس کیلئے ڈرل کا استعمال کیا جائے۔

(iv) ترقی دادہ اقسام کی کاشت:

کاشت کیلئے ترقی دادہ اقسام کا استعمال کرنا چاہئے اور بیج کے مناسب مقدار ہونے کے ساتھ ساتھ بیماریوں سے بھی پاک ہونا
چاہئے، اگر ہو سکے تو بیج پیرسباق ریسرچ سٹیشن یا پنجاب سیڈ کارپوریشن سے خریدا جائے، یہ بیج آج کل محکمہ زراعت کے فارم سنٹر پر بھی زمینداروں کی سہولت کیلئے وافر مقدار میں موجود رہتا ہے۔

(v) فصلوں کی ہیر پھیر:

ایک ہی فصل کو بار بار ایک ہی زمین پر کاشت نہیں کرنا چاہئے، اس سے زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے اور بیماریوں اور کیڑے مکوڑوں کا حملہ بھی زیادہ ہوتا ہے، اس لئے فصلیں ہیر پھیر سے کاشت کرنی چاہئیں اور کوشش کرنی چاہئے کہ اس ہیر پھیر میں پھلی دار اجناس مثلاً برسیم، شغتل، سینجی، گوارا اور دالیں شامل ہوں۔ کیمیاوی کھادوں کے ساتھ ساتھ گوبر کی کھاد اور سبز کھاد کا استعمال ہونا ضروری ہے، اس سے ایک تو کیمیاوی کھادوں پر لاگت کم آتی ہے اور دوسرا ان کی افادیت

بڑھ جاتی ہے، ہمارے زمینداروں نے نامیاتی کھادوں کا استعمال بالکل ہی ترک کر دیا ہے اور سارا انحصار کیمیاوی کھادوں پر کر رہے ہیں جو ٹھیک نہیں، ہر طرح کا نامیاتی مادہ خواہ گوبر، مرغی خانہ، مذبح خانہ کی بقایاجات ہوں، زمین میں ڈالنا چاہئے اس سے ایک تو ماحول صاف ستھرا رہتا ہے کیونکہ یہ نامیاتی مادہ جگہ جگہ گل سڑ کر ماحول کی خرابی کا باعث بنتا ہے اور دوسرا کیمیاوی کھادوں کے کم استعمال سے ممکنہ مضر ماحولیاتی اثرات سے بچاؤ بھی ہو سکے گا۔

یہ بھی پڑھیں

تعصب نہیں انصاف چاہئے

تحریر: مظفر خان پشتین تاریخ گواہ ہے کہ گروہ بندی، فرقہ بندی اور تعصب کو …