ملاکنڈ کا مزدور مجبور، فیکٹری مالکان کی من مانیاں عروج پر

تحریر: محمدزادہ

خیبر پختونخواہ کے صنعتی ضلع، ملاکنڈ خصوصاً درگئی میں فیکٹری مالکان کی من مانیاں عروج پر ہیں، جن کے ہاتھوں لیبر قوانین کی پامالی کی جاتی ہے اور جو ریاست کے اندر ایک ریاست قائم کئے ہوئے ہیں۔ ملازمتیں عارضی ہیں تو ورکرز بنیادی حقوق سے یکسر محروم اور انتہائی پسماندہ حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔

ان کارخانوں میں مستقل ملازمت نہ ہونے کے برابر ہے، ملازمین کی اکثریت عارضی، سیزنل اور کنٹریکٹ ورکرز کی ہے جنہیں ملازمت کا تحفظ، سوشل سیکورٹی اور تنظیم سازی کے حقوق حاصل نہیں ہیں جبکہ دوسری جانب مالکان کو محکمہ محنت و افرادی قوت خیبر پختونخواہ، خیبر پختونخواہ انڈسٹریل اسٹیٹس ڈویلپمنٹ اتھارٹی سمیت دیگر اداروں کے حکام کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ اس سرپرستی کا ثبوت مزدوروں کا جاری استحصال ہے۔

فیکٹری مالکان کے ہاتھوں لیبر قوانین کی پامالی کی جاتی ہے اور جو ریاست کے اندر ایک ریاست قائم کئے ہوئے ہیں۔ ملازمتیں عارضی ہیں تو ورکرز بنیادی حقوق سے یکسر محروم اور انتہائی پسماندہ حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں

زرائع کے مطابق ضلع ملاکنڈ میں قائم پاور ہاؤس جنریشن کمپنی، پیٹرولیم پاکستان لمیٹڈ، پاکستان پیپرز ملز، پیپسی و جوس سالٹ سمیت دیگر ملٹی نیشنل کمپنیوں میں بھی50 سے80 فیصد ٹھیکیداری نظام قائم ہے جس کا سہرا محکمہ محنت و افرادی قوت خیبر پختونخواہ کے حکام کے سر ہے۔ ٹھیکیداری نظام کے سبب مزدور تمام جائز مراعات سے محروم ہیں بلکہ ان کی ملازمتوں کو بھی کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے اور کسی بھی وقت ٹھیکیدار ملازم کو ملازمت سے فارغ کر دیتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ محکمہ محنت و افرادی قوت خیبر پختونخواہ مکمل غیرفعال ہے جس کے سبب مزدور کا خون چوسا جا رہا ہے۔

درگئی کے صنعتی شہر میں تقریباً زیادہ تر کارخانے فعال ہیں۔ بظاہر لیبر قوانین موجود ہیں تاہم ان پر عمل نہ ہونے کے برابر نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں مزدوروں کی بڑی تعداد استحصال، جبری مشقت اور خطرناک حالات میں کام کرنے پر مجبور ہے۔ 95 فیصد ملازمین جب نوکری پر آتے ہیں تو ان کو اپائنٹمنٹ لیٹر تک نہیں دیا جاتا۔ یعنی ان کے پاس کوئی ثبوت ہی نہیں ہوتا کہ وہ جن کے لیے کام کر رہے ہیں، وہ اس جگہ پر ملازم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان کو نکالا جاتا ہے اور وہ کسی بھی لیبر ڈیپارٹمنٹ یا لیبر کورٹ میں جا کر یہ دعوی دائر کرنا چاہیں کہ ان کو غیرقانونی طور پر برخاست کیا گیا ہے تو وہ یہ ثابت ہی نہیں کر سکتے کہ وہ وہاں پر مزدور تھے۔ اس کے علاوہ97 فیصد فیکٹریاں ایسی ہیں جہاں مزدوروں کو کم سے کم مقرر کی گئی اجرت تک نہیں دی جاتی۔ کارخانوں میں نو، دس بلکہ12 سے15 گھنٹے بھی کام لیا جاتا ہے جبکہ مقرر کردہ اوقات کار8 گھنٹے ہیں۔ اس کے علاوہ ہفتہ وار چھٹیوں کا بھی نظام نہیں اور مزدوروں کو اتوار کے روز بھی کام پر مجبور کیا جاتا ہے۔

ملاکنڈ کی بیشتر صنعتوں میں مزدوروں کو کسی قسم کی صحت کی سہولیات و مراعات حاصل نہیں ہیں۔ ملاکنڈ میں پچاس بستروں پر مشتمل ایک اسپتال قائم ہے۔ اکثر مزدوروں کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں بھی کرپشن پرچی سسٹم اور بوگس بلز کے ذریعے معاملات چلائے جا رہے ہیں۔ عام مزدور صحت کی ہر طرح کی سہولت سے محروم ہیں۔ محکمہ محنت و افرادی قوت خیبر پختونخواہ مزدوروں کو سہولیات و مراعات فراہم میں مکمل ناکام ہو چکا ہے، خیبر پختونخواہ کی اسی فیصد کے قریب فیکٹریز بند ہو گئی ہیں کیونکہ خیبر پختونخواہ حکومت نے سرمایہ داروں کو دس سے پانچ سال تک کی ٹیکس چھوٹ دے رکھی ہے۔ جب ٹیکس دینے کا وقت آتا ہے یا بجلی اور پانی کے بلز کے واجبات کی ادائیگی کا وقت آتا ہے تو یہ سرمایہ دار مختلف بہانے بنا کر فیکٹریوں کو بند کر دیتے ہیں اور بعض اوقات فیکٹریوں کو جلا بھی دیا بھی جاتا ہے۔ مزدوروں کی تنخواہیں ہڑپ کر لی جاتی ہیں۔ تمام مزدوروں کو جبراً برطرف کر دیا جاتا ہے۔ بیشتر مالکان بند فیکٹری کی جگہ حکام کو واپس نہیں کرتے ہیں بلکہ دوبارہ فیکٹری چلانے کے بجائے اس کو گودام میں تبدیل کر دیا جاتا ہے اور کرائے پر چڑھا دیا جاتا ہے حالانکہ ان کو خیبر پختونخواہ حکومت کی جانب سے صرف فیکٹری چلانے کے لئے یہ سستی اراضی دی جاتی ہے جو کوڑیوں کے مول انہیں ملتی ہے تاکہ خیبر پختونخواہ میں صنعتوں کو فروغ مل سکے۔ ان فیکٹریوں کوگودام میں تبدیل کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہوتا لیکن یہ معاملہ بیوروکریسی اور مالکان کے درمیان انڈرہینڈ ڈیل سے طے ہوتا ہے۔

خیبر پختونخواہ انڈسٹریل اسٹیٹس ڈویلپمنٹ اتھارٹی (لیڈا) کسی زمانے میں منافع بخش ادارہ ہوتا تھا۔ اقرباء پروری اور کرپشن کی وجہ سے ادارہ تباہی کی دہلیز پہنچ چکا ہے۔ ادارہ آخری سسکیاں لے رہا ہے۔ آج وہ اپنے ملازمین کو تنخواہ ادا کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا ہے۔ تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے خیبر پختوانخواہ حکومت سے گرانٹ لینا پڑتی ہے حالانکہ ضلع ملاکنڈ ایک صنعتی ضلع ہے جہاں ریونیو حاصل کرنے کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرروت نہیں ہے۔

سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ لیڈا حکام اور مالکان کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم ہوا ہے۔ وہ رشتہ رشوت کی بنیاد پر قائم ہے۔ لیڈا کی تباہی کی دوسری وجہ سیاسی بنیادوں پر بھرتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق چار سو کے لگ بھگ افسران اور ملازمین ہیں جن میں آدھے سے زیادہ گھوسٹ ہیں، جو گھر بیٹھے تنخواہیں لے رہے ہیں۔ صرف ”خپل“ وزیراعلی حکومت کے دور میں پانچ ایم ڈیز کی تعیناتی اور تبادلے ہوئے۔ یہ سارے معاملات سیاسی تھے۔ ایک ایم ڈی نیب زدہ بھی نکلا۔ آخری اطلاعات تک لیڈا بغیر ایم ڈی کے چل رہا ہے۔ کوئی چارج لینے کے لئے تیار نہیں ہے کیونکہ سیاسی بنیادوں پر کام لیا جاتا ہے اور بعد میں ان کو نیب اور اینٹی کرپشن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔99 فیصد فیکٹری مالکان کا تعلق پنجاب سے ہے۔ فیکٹری انتظامیہ اور اکثر مزدوروں کا تعلق بھی پنجاب سے ہے۔ علاقے میں فیکٹریاں لگانے سے قبل خیبر پختونخواہ حکومت اور فیکٹری مالکان کے درمیان یہ معاہدہ طے ہوتا ہے کہ 75 فیصد مزدور یا ملازم مقامی رکھیں گے لیکن سرمایہ دار اس معاہدے پر کہیں بھی عمل درآمد نہیں کرتے۔ خیبر پختونخواہ حکومت نے اس معاہدے کی پاسداری نہ کرنے پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ شاید اس کی وجہ مالکان سے ملنے والی مراعات اور رشوت ہے۔ غیر مقامی مزدور رکھنے کی وجہ سستا لیبر ہوتی ہے جو ٹھیکیدار کے ذریعے لائے جاتے ہیں۔ جبکہ دوسری بڑی وجہ چائلڈ لیبر بھی ہے۔ اس وقت تقریباً سبھی کارخانوں میں اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں سے جبری مشقت بھی لیتے ہیں، ان بچوں میں بھی زیادہ تر کا تعلق پنجاب سے ہوتا ہے۔ ان بچوں سے مشقت زیادہ سے زیادہ مشقت اور اجرت کم سے کم دی جاتی ہے۔

دوسری جانب 80 فیصد کمپنیوں میں یونین سازی کی اجازت نہیں ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مزدوروں کا استحصال ہو سکے۔ بیشتر فیکٹریوں یا کمپنیوں میں کام کرنے والے مزدور اور ملازم ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹیٹیوشن (ای او بی آئی) میں رجسٹرڈ نہیں ہیں جس کی وجہ سے ملازم ریٹائرڈ ہونے کے بعد اولڈ ایج پنشن، لواحقین پنشن، اسٹیٹ پنشن، ان ویلیڈیٹی پنشن اور اولڈ ایج گرانٹ جیسی سہولیات یا مراعات سے محروم ہو جاتے ہیں۔ مالکان پیسے بچانے کے لئے اپنی کمپنیوں کو رجسٹرڈ نہیں کرواتے ہیں۔ دراصل ای او بی آئی حکام اور مالکان کے درمیان کا معاملہ ہوتا ہے۔

ملازمین کی اکثریت عارضی، سیزنل اور کنٹریکٹ ورکرز کی ہے جنہیں ملازمت کا تحفظ، سوشل سیکورٹی اور تنظیم سازی کے حقوق حاصل نہیں ہیں جبکہ دوسری جانب مالکان کو محکمہ محنت و افرادی قوت خیبر پختونخواہ، خیبر پختونخواہ انڈسٹریل اسٹیٹس ڈویلپمنٹ اتھارٹی سمیت دیگر اداروں کے حکام کی مکمل سرپرستی حاصل ہے جس کا ثبوت مزدوروں کا جاری استحصال ہے

الغرض خیبر پختونخواہ کی صنعتوں سے خیبر پختونخواہ حکومت کوئی فائدہ نہیں ہے۔ بیشتر بڑی بڑی کمپنیوں کے ہیڈ آفس پشاور میں قائم ہیں جس کو بنیاد بنا کر وہ سیلز ٹیکس خیبر پختونخواہ حکومت کو دیتے ہیں جس سے خیبر پختونخواہ کو کروڑوں روپے کی آمدنی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ ماضی میں اس مسئلے کو خیبر پختونخواہ کے سابق وزیراعلی نے اٹھایا تھا جس پر مالکان نے بڑا شور مچایا اور نام نہاد قومی میڈیا نے وزیراعلی کے خلاف منفی پروپیگنڈہ شروع کر دیا اور بھتہ خوری کا الزام لگایا، اس کے باوجود اس مسئلے کا شاید کوئی حل نکل ہی آتا مگر وقت سے پہلے ان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور مسئلہ ہنوز اپنی جگہ موجود ہے۔

ضلع ملاکنڈ میں آلودگی ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ تمام علاقے بری طرح ماحولیاتی آلودگی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ قائم کمپنیوں و سٹیل ملز زہریلا دھواں خارج کر کے فضا میں آلودگی کا باعث بن رہی ہیں جس کی وجہ سے پورے ضلع میں دمہ سمیت مختلف بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ خیبر پختونخواہ حکومت کو چاہیے کہ وہ لیبر انسپکٹروں کی تعداد میں اضافہ کرے، ان کی تربیت کو بہتر بنائے اور آزاد اور معتبر معائنہ کے نظام کو قائم کرے اور اپنے وسائل کے مطابق موثر معائنوں کی تعداد میں اضافہ کرے۔ ساتھ ساتھ حکومت کو متعلقہ لیبر قوانین پر نظر ثانی کرنی چاہیے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ہیں اور ان پر عملدرآمد کی وجہ سے مزدوروں کا کسی بھی قسم کا کوئی بھی استحصال نہیں ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

تعصب نہیں انصاف چاہئے

تحریر: مظفر خان پشتین تاریخ گواہ ہے کہ گروہ بندی، فرقہ بندی اور تعصب کو …