دیکھ ضرور مگر پیار سے! ۔۔۔ محمد سہیل مظہر

جناب وزیراعظم عمران خان کے چاہنے والوں کی طرف سے بارہا یہ شکایت سننے کو ملی ہے کہ ایمان دار آدمی تو ہمارے جاہل ہم وطنوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ بات تو ویسے ایک سو ایک فیصد درست ہے مگر جو ان سے اختلاف رکھتے ہیں ان کا بھی یہی موقف ہے۔ اول الذکر یہ بتاتے ہیں کہ سیاست کی دنیا کے دو درجے ہیں ”ایک محبتِ عمران ہے اور ایک بغضِِ عمران“۔ پہلے والے یعنی ٹائیگر یہ کہتے ہیں کہ عمران خان سے محبت ہی تمہیں صراط مستقیم پر لا سکتی ہے مگر یہ (عوام) ہیں کہ ایک کان سے سنتے ہیں اور دوسرے کان سے نکال باہر مارتے ہیں یا شاید کینہ پرستی کے تالاب میں غوطہ خوری کے عادی ہو چکے ہیں۔ مگر میں موخر الذکر والوں سے کنی مار کر تھوڑی سی تو تعریف ضرور کروں گا تاکہ نجات دہندوں میں شامل ہو سکوں۔ تو لیجیے! ایک دفعہ زرتاج گل صاحبہ نے جذبِ ایمانی سے سرشار ہو کر کسی کانفرنس میں خان صاحب کی شان میں قصیدہ پڑھتے ہوئے فرما دیا کہ اس برس بارشوں کے زیادہ برسنے کی وجہ عمران خان ہیں بس ان کی اتنی سی بات کرنا تھی کہ ہال نعروں سے گونج اٹھا حالانکہ یہ نیک نامی وہ اپنے نام بھی کر سکتی تھیں کیونکہ وزیر ماحولیات کی کرسی انہی کے تابع تھی مگر نہیں۔ حتی کہ انہوں نے تو یہاں تک قوم کو باور کرانے کی کوشش کی کہ جب عمران خان صاحب چل کر آتے ہیں تو اس ناز و انداز سے کہ بندہ ان کا گرویدہ ہو جاتا ہے اور ان کی باتوں کو ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے، زبان پر تالے اور آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔ ارے! اب تو بغض کے چشمے اتار لو اور ”تبدیلی آئی رے“ کی دھن پر رقص کر لو شاید اس رقص میں ہی تمہیں نفع ہو اور ایسا وزیراعظم بعد میں تمہاری قسمت میں ہی نہ آئے۔ اسی لئے فردوس عاشق اعوان صاحبہ نے زلزلہ آنے پر عمران خان صاحب کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیک حکمران آئے ہیں تو اتنی جلدی زمین بھی تبدیلی قبول نہیں کر رہی مگر چند شر پسند عناصر اس بات کا بھی مذاق اڑانے لگے حالانکہ زمین نے کروٹ ہی تو بدلی تھی۔ بیچوں بیچ بہت سے وزراء نے مالا جپنے کی سعادت حاصل کی تھی مگر آج کل ریاض فتیانہ نے جو پوزیشن سنبھال رکھی ہے وہ سب پہ بھاری پڑ گئی۔ فرماتے ہیں کہ ٹڈی کھانے سے کرونا کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ بھلے وہ یہاں کسی کے معترف نہیں ہوئے مگر نہ جانے میرے دل کو کیوں بھلے لگے۔ یعنی دنیا کی معیشت تباہ ہونے سے بچ سکتی ہے اگر تمام وزرائے اعظم پاکستان آئیں اور پندرہ روپے کلو کے حساب سے ٹڈیاں لے جائیں تو۔ اس طرح سے ملک میں ٹڈیوں کا بھی خاتمہ ہو جائے گا اور لگے ہاتھ دنیا پر احسان بھی ہو جائے گا مگر یہ بات صرف حکومت وقت کے لئے ہے اور اپوزیشن کو بالکل نہ بتائی جائے، ورنہ تو نواز شریف مودی کو گفٹ دے ڈالے گا اور زرداری خود بھی کھائے گا اور جیالوں میں بھی بانٹے گا۔ مگر تم جو صحافی ایک بات پر اڑ جاؤ تو چھوڑنے کا نام بھی نہیں لیتے ہو۔ مولانا طارق جمیل صاحب کو بھی تمہیں نے جکڑا تھا۔ خدا کی پناہ! کتنے ظالم ہو تم لوگ، خدا کو کیا منہ دکھاؤ گے؟ لیکن میں سمجھ گیا بھئی ضد کا کوئی علاج نہیں۔ اگر تنقید کرنی ہی ہے تو ان (عوام) پر کرو جو یہ نہیں مانتے کہ وزیراعظم تو ایمان دار ہے مگر عوام بے ایمان۔ وہ وزیر اعظم جس کی کابینہ کے وزرا آئے روز علمی پیچیدگیوں کو آسان بنانے کے لیے انتھک کوششیں کر رہے ہیں ان کو بھی چین سے نہیں بیٹھنے دیا جا رہا۔ کبھی ایسی تنقید بھارت کی طرف سے بھی عمران خان پر ہوئی نہیں نا؟ حالانکہ وہ سچے اور محب وطن پاکستانیوں کا ازلی دشمن ہے۔ عمران خان صاحب تو یقیناً دنیا کو آپس میں ملانے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ اس بات کا واضح ثبوت جرمنی اور جاپان کی سرحدوں کے ملانے کا قول ہے۔ اور تو اور جو دنیا اسامہ بن لادن کو دہشت گرد کہتی رہی آج خان صاحب نے اس بات کو بھی واضح کر دیا کہ وہ ”شہید“ ہیں۔ دل صاف ہو تو بندہ دنیا کے بنائے ہوئے معیارات کو بھی جھوٹ ثابت کر سکتا ہے۔ میرا تو اس دن کا غصہ بھی نہیں اتر رہا جب ہمارے خان نے مودی کو فون کیا اور اس نے سننا تک گوارا نہ کیا۔ دکھ تو خان صاحب پر بھی ہوا کہ کوئی ایسے بھی کرتا ہے اپنے چاہنے والوں کے ساتھ جو خبر آپ نے ہم تک بھیجی مگر کیا کریں دل کے ہاتھوں مجبور ہیں نا۔ اب کوئی کم عقل اٹھ کر مجھے بھی محبتِ عمران میں تنقید کا نشانہ بنا جائے گا تو اس پر میں اسے یہی کہوں گا۔ ارے بھائی دیکھ ضرور مگر پیار سے۔۔۔۔!

یہ بھی پڑھیں

sadar Jamal

پوائنٹ آف نو ریٹرن۔۔۔ ڈاکٹر سردار جمال

ہمارے اعلیٰ حکام ایسے سست روی کے شکار ہیں کہ ان کو اس ملک میں …