نوجوان گلوکار ارشاد خان کامیابی کی طرف رواں دواں ۔۔۔ : کاشف عارف

پشتو زبان کے نئے ابھرتے ہوئے گلوکار ارشاد خان، جو خیبر پختونخوا کے خوبصورت ضلع سوات میں سال 1995ء میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم سوات میں حاصل کی جس کے بعد پشاور کا رخ کیا اور پشاور میں ایک نجی کالج میں داخلہ لیا، اس کے ساتھ ساتھ ارشاد خان معروف پشتو گلوکار کرن خان کے ساتھ منسلک ہوگئے اور ان سے موسیقی کی تعلیم حاصل کرنا شروع کردیا، یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہا۔
ایک انٹرویو کے دوران گلوکار ارشاد خان نے کہا کہ گزشتہ 10 سال سے موسیقی کے شعبے سے منسلک ہوں، زمانہ طالبعلمی میں جب بھی پروگراموں میں حصہ لیتا تو میرے اساتذہ بھی مجھے سپورٹ کرتے تھے اور جب بھی استاد پوچھتے کہ آپ کیا بنو گے تو میں کہتا تھا کہ گلوکار بنوں گا۔ ارشاد خان کا کہنا ہے کہ موسیقی کے ساتھ لگاؤ بچپن سے تھا اور اس لگاؤ کی وجہ سے آج شہرت پا ئی، سب سے پہلے کوشش یہ تھی کہ موسیقی کے بارے میں کچھ سیکھ لوں اور اس کے بعد میں نے گانا ریکارڈ کرنا شروع کیا، خوش قسمتی یہ تھی کہ مجھے گلوکار کرن خان جیسے بہترین استاد کے ساتھ سیکھنے کا موقع ملا، میرے اساتذہ میں یمی خان اور شاکر ارمان بھی شامل ہیں۔

زیادہ شہرت میرے گانے ”د یار پہ سترگو کی اثر دے“،”خمار“ اور ”پتہ دی نہ لگی سے ملی، میرا نیا گانا صنم بھی کئی دنوں میں لاکھوں لوگوں نے پسند کیا

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موسیقی کی مثال سمندر کی طرح ہے اور میں نے اپنے شوق کے مطابق کچھ نہ کچھ سیکھا ہے، ارشاد خان نے کہا کہ سب سے پہلا گانا ”باران“ استاد کرن خان کی شاعری میں گایا اور دوسرا گانا انعام اللہ غالب کا تھا۔ ریکارڈنگ کے ساتھ ساتھ موسیقی کی محفلوں میں بھی شرکت کرتا ہوں اور لائیو پروگرامز میں بھی چاہنے والوں کے دل خوش کرتا ہوں، ہمیشہ کوشش ہوتی ہیں کہ میرے گائے گئے گانوں کی شاعری معیاری ہو تاکہ عوام میں پذیرائی مل سکے، مجھے زیادہ شہرت میرے ایک گانے ”خمار“ کی وجہ سے ملی جس کی شاعری گلاب خان گلاب کی تھی، ابھی تک جو بھی گانے گائے ہیں انہیں شائقین کی طرف سے بے حد پذیرائی ملی ہے۔


ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ عید تین گانے ریلیز ہوئے جن میں (”پتہ دی نہ لگی“، ”اختر او مسافر“ اور ”د یار پہ سترگو کی اثر دے“) شامل ہیں، مزید گانوں کے برعکس ان گانوں کو لاکھوں لوگوں نے سوشل میڈیا پر پسند کیا، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آج کل سوشل میڈیا کے دور میں پشتون عوام بہت آگے جا رہے ہیں اور اگر ہمارے پشتون بہن بھائی سوشل میڈیا کو صحیح طریقے سے استعمال کریں تو اس سے نہ صرف ہمیں بلکہ آئندہ نسلوں کیلئے رہنمائی ہو گی۔

اپنی زندگی کا ایک مقصد بنائیں اور اسے حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کریں، پاکستان کے مختلف علاقوں سمیت دبئی اور افغانستان کا سفر بھی کیا، گلوکار ارشاد خان کا انٹرویو کے دوران اظہار خیال


گلوکار ارشاد خان کا کہنا ہے کہ موجودہ دور کے پسندیدہ شاعروں میں ڈاکٹر اسرار اتل، اباسین یوسفزئی، محمد گل منصور، ممتاز اورکزئی اور گلاب خان گلاب شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر انسان کی زندگی میں اچھے اور برے حالات ضرور آتے ہیں لیکن ان حالات کا مقابلہ کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے، میں نے ہمیشہ برے حالات کا مقابلہ ڈٹ کر کیا ہے۔ معروف گلوکار کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے میں نے اپنا ایک نیا گانا ”صنم“کے نام سے ریلیز کیا تھا جس کی ویڈیو شوٹنگ نتھیاگھلی کے خوبصورت مناظر میں کی گئی تھی ان کو بھی میرے چاہنے والوں کی طرف سے بے حد پذیرائی ملی اور کچھ دنوں میں لاکھوں لوگوں نے پسند کیا۔ارشاد خان نے اپنے چاہنے والوں کیلئے پیغام میں کہا کہ اپنی توجہ تعلیم پر دیں اور سوشل میڈیا کا صحیح استعمال یقینی بنائیں، ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ کو کسی مدد کی ضرورت ہے تو اس سے مدد مانگنے میں برائی یا شرم محسوس نہ کی جائے اور کسی کیلئے دل و دماغ میں منفی سوچ نہ لائیں۔ ارشاد خان کا کہنا ہے کہ اپنے جذبات کی نشاندہی کریں اپنی زندگی کا ایک مقصد بنائیں اور پھر اسے حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کریں۔ دوسروں کے ساتھ ویسا ہی نرمی اور ہمدردانہ رویہ اختیار کریں جیسا آپ اپنے لئے کسی دوسرے سے توقع کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکام‘ذخیرہ اندوزوں نے عوام کو لوٹنا شروع کردیا

ضلعی انتظامیہ اوردیگر اداروں کی موجودگی میں ٹائیگر فورس کے جوان کس قانون کے تحت …

%d bloggers like this: