دنیا کی تاریخ کا عجیب و غریب ظلم ۔۔۔ پروفیسر سریر خان

تین جون پلان کے نتیجے میں جب14 اگست1947 کو پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا تو صوبہ سرحد میں ڈاکٹر خان صاحب کی سربراہی میں خدائی خدمتگاروں کی حکومت قائم تھی جسے22 اگست1947 کو ختم کر کے خان عبدالقیوم خان کی سربراہی میں مسلم لیگ کی صوبائی حکومت بنائی گئی تو با چا خان اور خدائی خدمتگار تحریک نے حکومت کے اس قدم کو غیرآئینی اور غیرقانونی قرار تو دے دیا لیکن کسی بھی قسم کے احتجاج سے گریز کرتے ہوئے کراچی میں آئین ساز اسمبلی کے اجلاس میں با چا خان نے اپنی تقریر میں نہ صرف پاکستان کو تسلیم کیا بلکہ اپنے آپ کو اور خدائی خدمتگار تحریک کو پاکستان کی خدمت کرنے کیلئے بھی پیش کیا، باچا خان کے اسی جذبے کو دیکھتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح نے انہیں ملاقات کی دعوت دی جس کی منظوری پر دونوں رہنماؤں کے درمیان گورنر ہاؤس میں خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی، جس میں باچا خان نے ایک بار پھر پاکستان کیلئے کام کرنے کی اپنی پیش کش کا اظہار کیا اور قائد اعظم محمد علی جناح کو خدائی خدمتگار تحریک کے ہیڈ کوارٹر سردریاب آنے کی دعوت دی جس کو قائد اعظم محمد علی جناح نے بخوشی قبول کیا، لیکن جب قائد اعظم محمد علی جناح نے پشاور کا دورہ شروع کیا تو قیوم خان نے ان کو باچا خان اور ان کی تحریک کے بارے میں بدگمان کیا اور یوں سردریاب جانے کے بجائے قائد اعظم محمد علی جناح نے باچا خان کو گورنر ہاؤس بلایا جہاں ان پر زور دیا گیا کہ وہ مسلم لیگ میں شامل ہو کر اپنی تحریک کو بھی مسلم لیگ میں ضم کر دیں، باچا خان نے مسلم لیگ میں ضم ہونے کی تجویز پر سردریاب میں خدائی خدمتگار تحریک کا اجلاس بلایا جہاں پر متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ ھم پاکستان کو تسلیم کرتے ہیں اور ہمیں موقع دیا جائے کہ ھم اس نئے ملک پاکستان کی خدمت کریں البتہ تحریک اپنی الگ شناخت کو برقرار رکھے گی اور کسی بھی دوسری پارٹی میں ضم نہیں ہو گی، اس فیصلے سے جب مسلم لیگ اور قائد اعظم محمد علی جناح کو آگاہ کیا گیا تو قیوم خان نے قائد اعظم محمد علی جناح کو باچا خان سے مذید بدگمان کیا اور یوں پورے پاکستان میں باچا خان کے خلاف پروپیگنڈا کر کے انہیں ملک دشمن کہا گیا، غنی خان ایک انٹرویو میں یہاں تک کہتے ہیں کہ وزیراعظم لیاقت علی خان نے ان کو بلا کر کہا کہ اپنے والد باچا خان سے پاکستان کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کچھ لکھ کر ان کو دے دیں تاکہ پنجاب میں ان کے خلاف پروپیگنڈا کو کاؤنٹر کیا جا سکے، غنی خان نے جب باچا خان کو وزیراعظم لیاقت علی خان کا پیغام پہنچایا تو باچا خان نے کہا کہ میں تو بار بار کہہ چکا ہوں کہ میں پاکستان کو تسلیم کرتا ہوں اسمبلی کے فلور سے لے کر تحریک کی قرارداد تک ھم پاکستان کو تسلیم کر چکے ہیں، غنی خان نے ان سے کہا لیکن آپ کی آواز کو پنجاب تک نہیں پہنچنے دیا جاتا ہے، باچاخان نے ایک خط لکھا جس میں پاکستا ن کو اپنا ملک قرار دے کر غنی خان کو وزیر اعظم لیاقت علی خان کے لئے دیا تو اٹک پل پر اسے گرفتار کیا گیا اور خط بھی قبضے میں لے لیا گیا اور یوں یہ خط وزیراعظم تک نہیں پہنچ سکا، اب ایسے ماحول میں افغانستان کے سردار داؤد نے فقیر ایپی کے ذریعے پاکستان میں پختونستان کی تحریک شروع کی تھی جس سے باچا خان نے اپنے آپ کو ملکمل طور علیحدہ رکھا تھا، اسی دوران باچا خان بنوں کے دورے پر جاتے ہوئے ابھی راستے میں تھے جب فقیر ایپی نے پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملہ کیا، تو الزام باچا خان پر لگایا گیا کہ وہ فقیر ایپی کے لیے سردار داؤد کی طرف سے بھاری رقم لے جا رہے تھے اور اسی الزام پر ان کو کوہاٹ کے نزدیک احمدی بانڈہ سے گرفتار کیا گیا، جس کے کوئی ثبوت کوئی بھی حکومت آج تک پیش نہیں کر سکی، اسی گرفتاری کے خلاف غنی خان کے گھر پر تحریک کا اجلاس ہوا جس میں حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے ٹسل (ٹکرؤ) نہ لینے کا فیصلہ کیا گیا، لیکن جب گرفتاریوں کا سلسلہ مزید بڑھایا گیا اور خدائی خدمتگار تحریک پر پابنددی لگانے کے ساتھ ساتھ تحریک سے وابستہ لوگوں کی جائیدادیں بھی ضبط کی گئیں تو پھر تحریک کی طرف سے عید کے بعد حکومت کے خلاف بابڑہ (چارسدہ) کے مقام پر ایک احتجاجی جلسے کا فیصلہ کیا گیا، اس وقت چونکہ تحریک کی اعلی قیادت گرفتار ہو چکی تھی تو اس جلسے کی قیادت کی ذمہ داری سالار امین جان کے سپرد کی گئی، احتجاجی جلسے کے لئے بابڑہ کے مقام پرغازی گل بابا مسجد کے سامنے ایک بڑے میدان کا انتخاب کیا گیا اور11 اگست کی رات سے جلسہ گاہ کے اطراف میں لوگ پہنچا شروع ہو گئے، پولیس نے بھی رات ہی سے دونوں مساجد میں مورچے سنبھال لئے تھے اور صبح جیسے ہی جلوس میدان میں نمودار ہوا پولیس کی طرف سے فائرنگ ہوئی جس سے سپین ملنگ جو جلوس کی قیادت کر رہا تھا شہید ہو گیا، گولیوں کی آواز سنتے ہی جب آس پاس کی عورتیں قرآن مجید ہاتھوں میں اٹھائے گھروں سے نکل کر جلسہ گاہ میں آئیں تو پھر بھی فائرنگ کا سلسلہ تھم نہ سکا اور لوگ فائرنگ سے مسلسل شھید ہوتے رہے، ساڑھے گیارہ سے لے کر ایک بجے تک مسلسل فائرنگ ہوئی، ایک بجے کے بعد جب فائرنگ کا سلسلہ ختم ہوا تو خدائی خدمتگاروں نے اپنا جلسہ شروع کیا لیکن اس وقت بہت سے لوگوں کی نعشوں کو اپنے ورثا جلسہ گاہ سے لے گئے تھے لیکن پینتیس کے قریب شہداء کی نعشیں اب بھی میدان میں موجود تھیں۔ جلسے کے اختتام پر لاشو ں کو جلوس کی شکل میں بازار لایا گیا جہاں پر دوبارہ جلسہ ہوا اور پھر رات گئے لاشوں کو ان کے ورثا کے حوالے کر کے خدائی خدمتگار اپنے اپنے علاقوں کو روانہ ہوئے، یہ دنیا کا عجیب و غریب ظلم تھا کہ مرنے والوں اور زحمیوں کے ورثا سے ان پر خرچ ہونے والے کارتوسوں کے بھی پیسے لئے گئے، اس سانحے میں مرنے والوں اور زخمیوں کے صحیح اعدادوشمار کبھی بھی ہمارے سامنے نہیں آئے کیونکہ بہت سی نعشوں کو حکو مت دریا میں پھینک چکی تھی۔ بہت سے ہسپتالوں میں شھید ہوئے تھے کیونکہ حکومت نے ڈاکٹروں کو زخمیوں کو علاج کرنے سے بھی روک دیا گیا تھا اور بہت سی لاشوں کو ان کے ورثا خاموشی سے اپنے اپنے علاقوں کو لے گئے تھے، حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس میں صرف چودہ لوگ شہید ہوئے تھے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے آج کے موقف کے مطابق اس میں 600 لے کر700 تک لوگ شھید ہوئے، اس واقعے کے بعد پروپیگنڈے اور جرمانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ پانڑگ (بابڑہ) کے پورے علاقے کو پچاس ھزار روپے جرمانہ کیا گیا، ریڈیو کے ذریعے سے یہ پروپیگنڈا کیا جانے لگا کہ اتنے خدائی خدمتگار سرخ کپڑے جلا کر غداری سے توبہ کر کے مسلمان ہوئے، ستمبر1948 میں اس واقعے کے حوالے سے عبدالقیوم خان نے صوبائی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ دفعہ144 نافذ ہو چکی تھی اس لئے خلاف ورزی پر حکو مت کو کارروائی کرنی پڑی اور یہ تو خوش قسمتی تھی کہ پولیس کے پاس کارتوس ختم ہو گئے ورنہ نقصان اس سے بھی زیادہ ہو سکتا تھا، دفعہ144 کے حوالے سے بھی عبدالقیوم خان نے اسمبلی میں غلط بیانی کی کیونکہ ڈپٹی کمشنر کے مطابق انھوں نے دفعہ144 کا نفاذ سرے سے کیا ہی نہیں تھا، یہ واقعہ پاکستان کی تاریخ کا ایک بہت دردناک واقعہ تھا کہ آزادی کے ٹھیک ایک سال بعد نہتے، پرامن لوگوں پر جو باچا خان کے عدم تشدد کے نظریے سے سرشار تھے، جو صرف اپنے لیڈران کی رہائی کیلئے ایک پرامن احتجاج کر رہے تھے ان کو اس طرح گولیوں کا نشانہ بنایا گیا، مشہور بنگالی سیاستدان اور پاکستان کے سابق وزیر اعظم حسین شھید سہروردی نے اس واقعے کو جلیانوالہ باغ کے سانحے سے تشبیہ دی۔

یہ بھی پڑھیں

کیا گلگت بلتستان کو صوبہ بنانا چاہئے؟

گزشتہ دنوں اسلام آباد میں پارلیمنٹیرین کی آرمی چیف سے ایک میٹنگ ہوئی تھی۔ اس …

%d bloggers like this: