ٹائیگر فورس بھی گلے پڑ گئی ۔۔۔ ظاہر یوسفزئی

ستائیس جولائی کو ٹائیگر فورس نے لاہور میں چاہ میرا کے قریب رات گئے جانوروں کے ہسپتال پر دھاوا بول دیا اور ماسک نہ پہننے پر رشوت کا بھی مطالبہ کیا۔ اس حوالے سے ڈاکٹر ذیشان کا کہنا تھا کہ ٹائیگر فورس کی جانب سے وٹرنری ہسپتال میں ماسک نہ پہننے پر رشوت کا مطالبہ کیا گیا، رشوت نہ دینے پر ٹائیگر فورس کے جوانوں نے تلخ کلامی کی۔ اہل علاقہ کے جمع ہونے پر ٹائیگر فورس کے جوان جان بچا کر نکلے۔ واقعہ کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کر دی گئی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ کورونا ریلیف ٹائیگر فورس نے عام شہریوں کو لوٹنے کیلئے کمر کس لی ہے، سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ویڈیو وائرل ہونے پر غصہ کا اظہار کیا گیا اور وزیراعظم عمران خان سے واقعے کا نوٹس لینے کی اپیل کی گئی۔ دوسری طرف گوجرانوالہ کی پیپلز کالونی میں ٹائیگر فورس کی خواتین نے دو لڑکیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ ویڈیو میں ٹائیگر فورس کی خواتین کو تھپڑ مارتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ٹائیگر فورس کے تشدد سے ایک خاتون زخمی بھی ہو گئی، متاثرہ خواتین نے ٹائیگر فورس کی ملوث کارکنوں کیخلاف تھانہ پیپلز کالونی میں درخواست جمع کرا دی تاہم پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ 8 اگست کو ٹائیگر فورس ڈے منانے کے حوالے سے لاہور میں ایک تقریب منعقد کی گئی جس سے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار نے خطاب کیا۔ وہ ٹائیگر فورس کے حوالے سے کافی پرامید نظر آ رہے تھے۔ اس تقریب میں موجود بزنس کمیونٹی، تاجروں اور دکانداروں نے ٹائیگر فورس کے حوالے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور ان پر لاک ڈاؤن کے دوران بھتہ خوری اور غیرقانونی جرمانے زبردستی وصول کرنے کے الزامات لگائے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے دوران ٹائیگر فورس کے جوانوں نے مختلف بازاروں اور مارکیٹس پر چھاپے مارے اور دکانوں کو زبردستی تالے لگا کر بند کر دیا۔ بعد میں غیر قانونی طور پر تین سے پانچ ہزار روپے لے کر دکانیں کھولنے کی اجازت دی۔ پولیس کے ساتھ ساتھ ٹائیگر فورس کے جوان بھی دکانداروں سے زبردستی بھتہ اور غیرقانونی جرمانے وصول کرتے رہے۔ اس کے علاوہ اس طرح کے واقعات معمول بن گئے ہیں جس کے دوران ٹائیگر فورس کے جوانوں کی جانب سے تاجروں، عوام اور سرکاری ملازمین کو بے جاتنگ کرنے کی شکایات آ رہی ہیں۔ ملک میں جب کوروناکی وباء پھیلنے لگی، حالات خراب ہونے لگے، اموات اور مریضوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہونے لگا تو مرکزی حکومت کی جانب سے کورونا وباء کا پھیلاؤ روکنے کیلئے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا علان کیا گیا، تما م صنعتیں، کارخانے، کاروبار، تعلیمی ادارے، بازار، مارکیٹس، ٹرانسپورٹ وغیرہ بند کر دیئے گئے۔ اسی دوران لاکھوں غریب عوام اور روزانہ اجرت پرکام کرنے والے مزدوروں کے گھروں کے چولہے بیروزگاری کی وجہ سے ٹھنڈے پڑ گئے۔ حکومت نے ہنگامی حالات میں انہی مزدوروں اور غریب عوام کی مددکیلئے نوجوانوں پر مشتمل ٹائیگر فو رس بنانے کا اعلان کیا جس کا بنیادی مقصد بیروزگار، غریب اور دیہاڑی دار مزدوروں کے گھروں تک مرکزی حکومت کی جانب سے مفت راشن پہنچانا تھا تاکہ ان مشکل حالات میں ان کے گھروں کے چولہے جلتے رہیں، مگر ملک بھر میں کئی مہینوں تک جاری لاک ڈاؤن کے دوران حکومت اس بنیادی مقصدکی تکمیل کیلئے ٹائیگر فورس فعال کر سکی اور نہ ہی مستحق لوگوں کی مدد کی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حوالے سے وزیراعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب اور بیورو کریسی میں 38 اجلاس ہوئے مگر پنجاب میں ٹائیگر فورس کی حتمی فہرستیں تیار ہو سکیں اور نہ ہی واضح ایکشن پلان سامنے آ سکا۔ ٹائیگر فورس کو کبھی جیکٹس اور کبھی شناختی کارڈ دینے کی تجاویز دی گئیں، جو فہرستیں مرتب کی گئیں ان میں متعدد افراد کام کرنے کو ہی راضی نہیں تھے، پنجاب کے متعدد ڈپٹی کمشنرز نے بھی ٹائیگر فورس پر تحفظات سے اعلیٰ حکام کو آگاہ کر دیاتھا۔ بظاہر تو ٹائیگر فورس لاک ڈاؤن کے دوران غریب عوام کی مددکرنے اور ایس او پیز پر عملدرآمد کرانے کیلئے بنائی گئی تھی مگر سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے اس سے مختلف ہے۔ ان کے مطابق 2018ء کے انتخابات میں تحریک انصاف کی ملک گیرکامیابی کی وجہ پاکستان کی آبادی کا 62 فیصد تعلیم یافتہ نواجوان طبقہ تھا، چونکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن سمیت گزشتہ حکومتوں کی کارکردگی نے نواجوانوں کو مایوس کر دیا تھا۔ دوسری طرف عمران خان اور ان کی جماعت تحریک انصاف نے الیکشن مہم کے دوران مسلسل نوجوانوں کے مسائل حل کرنے، انہیں باعزت روزگار دینے اور ملک و قوم کی خدمت کیلئے تیار کرنے کے دعوے اور اعلانات کئے اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کیلئے مواقع فراہم کرنے کو اپنے منشور کا حصہ بنایا۔ اس لئے نوجوانوں کو پی ٹی آئی کا یہ نعرہ بھا گیا، انہیں تحریک انصاف اور عمران خان کی صورت میں امیدکی ایک کرن نظر آئی اور انہوں نے تحریک انصاف کو مکمل طور پر سپورٹ کیا، تحریک انصاف نے سوشل میڈیا کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متحرک کیا اور اس طرح انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے مرکز اور تین صوبوں میں حکومتیں بنائیں۔ نوجوان پرامید تھے کہ اقتدار میں آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان اور ان کی جماعت تحریک انصاف انتخابی وعدوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے ان کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرے گی مگر دو سالہ اقتدار کے بعد بھی جب تحریک انصاف کی حکومت نے نوجوانوں کیلئے وہ اقدامات نہیں اٹھائے جن کا وعدہ کیا گیا تھا تو نوجوان پی ٹی آئی سے بدظن ہونا شروع ہو گئے جس کا اظہار مسلسل سوشل میڈیا پر بھی وہ کرتے رہے۔ اسی صورتحال کو بھانپتے ہوئے عمران خان اور ان کی ٹیم نے محسوس کیا کہ نوجوان طبقہ اب ان کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان کا نوجوان اس قدر بدظن اور مایوس ہو چکا ہے کہ اگر ملک میں انتخابات کرائے جائیں تو خدشہ ہے کہ وہ ووٹ کاسٹ کرنے کیلئے نکلے ہی نا اور اگر نکل بھی جاتے ہیں تو ووٹ تحریک انصاف کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف ملک میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد بھی ہونے جا رہا ہے تو اس حوالے سے بھی تحریک انصاف کی قیادت کو خدشات تھے کہ اس صورتحال میں ان کو شکست کا سامناکرنا پڑ سکتا ہے اس لئے ان کی کوشش ہے کہ بلدیاتی انتخابات موخر یا ملتوی کئے جائیں تاکہ ان کو تیاری کیلئے وقت مل سکے۔ اسی تناظر میں خیبر پختونخوا حکومت نے صوبائی اسمبلی سے بل پاس کر کے بلدیاتی انتخابات کو دو سال کیلئے موخر کر دیا ہے۔ ان حالات میں ٹائیگر فورس کا قیام، فورس میں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی شمولیت، ان کی سرکاری طور پر حلف برداری اور انہیں انتظامی اختیارات دینے کامطلب ایک ہی ہے کہ کسی طرح ان کودوبارہ متحرک کر کے ان کا اعتماد حاصل اور بحال کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان کی خارجہ پالیسی حالات کے تناظر میں (دسواں حصہ)

مترجم نورالامین یوسفزئی خدائی خدمتگاروں کی ایک اور بدنصیبی یہ بھی تھی کہ وہ جغرافیائی …

%d bloggers like this: