پشاور دھماکہ، مذمت سے کام نہیں چلے گا

کل بروز منگل پشاور کے علاقہ دیرکالونی میں مسجد سے متصل مدرسے میں بم دھماکے سے تاحال 8 طالب علم شہید اور 125زخمی ہوگئے،صبح آٹھ بجے کے قریب سپین جماعت میں شیخ الحدیث رحیم اللہ کی نگرانی میں بخاری شریف کے ساتویں درجے کا درس جاری تھا کہ اچانک دھماکہ ہوگیا جس کے ساتھ ہی مسجد کے ہال میں آگ بھڑک اٹھی ،ہرطرف بھگدڑ مچ گئی،ریسکیو1122،ایدھی اور اور الخدمت کے رضاکارون کی امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں منتقل کیا،جہاں طبی عملے نے 8افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی جب کہ 125زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے زخمیوں میں متعدد کی حالت تشویش ناک بتائی جارہی ہے۔مدرسہ انتظامیہ کے مطابق جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت مسجد کے ہال اور باہر تین سو کے قریب طلبا موجود تھے۔

واقعہ کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے سخت الفاظ میں مذمت کی شہداء کے درجات بلند کرنے کی دعائیں اور زخمیوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔یہ دل خراش اور افسوس ناک واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا کہ پورے ملک میں اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل اتحاد پی ڈی ایم کی جانب سے حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک جاری ہے۔ گوجرانوالہ اورکوئٹہ میں بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے بعد22نومبر کو پشاور میں منعقدہ جلسئہ کے لیے اپوزیشن جماعتوں کی تیاریاں زور وشور سے جاری ہیں۔تاکہ پنجاب اور بلوچستان میں ہونے والے جلسوں کے مقابل پشاور کا جلسئہ ایک یاد گار جلسئہ ثابت ہو۔جس کے لیے تمام اپوزیشن جماعتیں کافی متحرک دکھائی دے رہی ہیں اور اس سلسلے میں چونکہ عوامی نیشنل پارٹی صوبے کی سب سے بڑی جماعت کے طور پر ایک طرح میزبان جماعت کا کردار ادا کرے گی اس لیے اس کی تیاریاں دیگر جماعتوں کے مقابل زیادہ تیز اور فعال نظر آرہی ہیں۔

ایک ایسے ماحول میں کہ 22نومبر کو منعقد ہونے والے پی ڈی ایم کے جلسئے کے لیے صوبے کے تمام اضلاع میں عوامی مہم جاری ہے، پشاور کے مدرسہ میں پیش آنے والا واقعہ موجودہ حکومت اور ملک کے سیکورٹی اداروں کے لیے ایک اہم سوال اور لمحہ فکریہ ہے۔کیونکہ الرٹ جاری ہونے کے باوجود دہشت گردوں کا اپنے ٹارگٹ تک پہنچنا سیکورٹی اداروں کی غفلت پر دلالت کرتی ہے۔ پشاور واقعہ سے قبل باجوڑ اورکوئٹہ میں بھی اس قسم کے واقعات پیش آئے۔جس کے ردعمل میں ملک کے بعض سیاست دانوں خصوصاً اے این پی کی مرکزی اور صوبائی قیادت نے بارہا حکومت اور متعلقہ سیکورٹی اداروں کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی کوشش کی کہ دہشت گرد گروپس ایک بار پھر منظم ہورہے ہیں لہذا ضروری ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں،سول اور ملٹری بیورکریسی کے منظور شدہ نیشنل ایکشن پلان پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے اور اس ضمن میں سب سے زیادہ ذمہ داری صوبائی حکومتوں کی ہے۔کہ وہ اپنے اپنے صوبے میں ان نکات پر عمل درآمد کریں۔لیکن افسوس کہ حسب سابق کی طرح اب بھی اے این پی قیادت کی باتوں کو ملک کی مقتدرقوتیں اور حکومت سنجیدہ نہیں لے رہی ہیں۔جس کانتیجہ پشاور مدرسہ میں پیش آنے والے واقعے کی صورت میں ہم نے دیکھ لیا۔اگر آج سے چالیس سال قبل خدائی خدمتگار تحریک کے بانی باچاخان،ان کے صاحبزادے خان عبدالولی خان اور بعد میں اے این پی کی موجودہ مرکزی اور صوبائی قیادت کی باتوں پر عمل درآمد ہوتا رہا تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ہم موجودہ دہشت گردی کی آگ سے محفوظ رہ سکتے تھے۔

لہذا اب بھی وقت ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق سنجیدہ عمل درآمد کیا جائے۔تنگ نظری،فرقہ واریت،انتہاپسندی اوردہشت گردی کی جڑیں جہاں جہاں بھی ہوں انہیں کاٹنا ہوگا۔صرف مذمتی بیانات یا اپنے ”پسندیدہ کھلاڑیوں” کو کھلے میدان میں کھیلنے کی اجازت سے اس آگ پر قابو پانا دیوانے کا خواب ہوگا۔ اگراب بھی ہماری سیکورٹی ایجنسیاں اور صوبائی حکومتیں لیت ولعل سے کام لیں گی تو حاکم بدہن اس بار دہشت گردی کی ایک ایسی آگ بھڑک اٹھے گی جس سے کسی بھی مسلک،نظریہ،رنگ ونسل اور عقیدہ کے لوگ بچ نہیں پائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

Sultan

LNG کوئی گاجر مولی نہیں؟

غلط اور تاخیر سے فیصلوں کی وجہ سے قومی خزانے کو 122 ارب روپے کا …