قبلہ بالکل درست نہیں ہے

ڈھائی سال مہنگائی مسلسل بڑھنے اور معیشت کی بری کارکردگی کے بعد وزیر اعظم ایک بار پھر بہتر معیشت اور مہنگائی کم کرنے کا دعویٰ اور وعدہ کر ر ہے ہیں مگر سامنے مسائل نظر آ رہے ہیں۔ ورلڈ بینک ایک بار پھر پاکستان میں مہنگائی کو اس سال کی آخری سہ ماہی میں دس فیصد سے اوپر دیکھ رہا ہے۔ حکومت نے بجٹ میں ملکی ترقی کی شرح 2.1 فیصد رکھی ہے۔ گزشتہ دنوں سٹیٹ بینک نے ملک کی ترقی کی شرح تین فیصد دیکھنے کی توقع کی مگر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف دونوں ہی پاکستان میں بہتر معاشی ترقی کی توقع نہیں کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف اس سال کے لئے 1.5 فیصد اور ورلڈ بینک اس سے بھی کم یعنی 1.3 فیصد ترقی کی شرح دیکھ رہا ہے۔

آئی ایم ایف نے پوری دنیا کے لئے بہت بہتر ٹارگٹ دیا ہے۔ دنیا کی جی ڈی پی 6 فیصد، بھارت 12.5 فیصد اور چین 8.4 فیصد سے ترقی کرے گا مگر پاکستان محض 1.5 فیصد سے ترقی کر پائے گا جبکہ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں معاشی ترقی کی شرح آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے متاثر ہو گی اور یہ وہ معاملہ ہے جس میں حکومت پھنس گئی ہے۔ یہی معاملہ اطلاعات کے مطابق حفیظ شیخ کی نوکری لے گیا اور اسی کی وجہ سے وزیر اعظم یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے ہیں کہ معیشت کا کیا کریں اور اپنی معاشی ٹیم کو کیا کریں۔ آئی ایم ایف کے پروگرام میں رہنا بھی لازمی ہے لیکن اس کی شرائط کو بھی کیسے نرم کریں یہ بھی وزیر اعظم کو دیکھنا ہے۔

شوکت ترین نے اپنے لئے نیب کی شرط رکھی تھی اب انہیں وزیر خزانہ کیسے لگائیں، آٹھ اپریل کو یہ مسئلہ مزید گھمبیر ہو گیا جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے شوکت ترین کی جلد سماعت کی درخواست کرونا ایس او پیز کی وجہ سے مسترد کر دی۔ اس لئے سوال اٹھ رہا ہے کہ آئی ایم ایف کو کیسے منایا جائے کیونکہ وزیراعظم آئی ایم ایف سے بات کر کے پروگرام کی شرائط نرم کروانا چاہتے ہیں جس کے تحت حکومت کو اگلے دو سال میں 17 سو ارب روپے کی فسکل ایڈجسمنٹ کرنا پڑے گی جو ان حالات میں معیشت کی ترقی کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے اور الیکشن کے قریب وزیر اعظم پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔ اگلے سال 5.5 فیصد فسکل خسارہ کے باعث حکومت کو سوا آٹھ سو ارب روپے کی گنجائش پیدا کرنا پڑے گی۔ حکومت خرچوں کی کمی میں ناکام رہی ہے یعنی یہ گنجائش ٹیکس میں اضافے ہی سے ممکن ہو سکے گی جو ان حالات میں بہت مشکل نظر آ رہا ہے۔ پہلے دو سالوں میں ٹیکس کولیکشن میں ناکامی، گردشی قرضہ کو کنٹرول کرنے میں ناکامی اور اس وقت حکومت کو آٹھ فیصد سے زائد فسکل خسارے نے پھنسا دیا ہے۔

خود شوکت ترین کے مطابق حکومت نے آتے ہی سوا تیرہ فیصد شرح سود کر کے اور 165 روپیہ ایک ڈالر کے برابر کر کے معیشت کا بیڑاغرق کر دیا جس کو نہ صرف ہم آج بلکہ اگلے پانچ چھ سال تک سالانہ 1600ارب روپے کی صورت بھگتیں گے۔ حالانکہ بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ معیشت بہتر شیپ (Shape) میں آ رہی ہے، سٹیٹ بینک کو بھی بہت پازیٹو نظر آنے لگی ہے مگر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کو معیشت خطرے میں نظر آ رہی ہے۔ ورلڈ بینک کے جو خدشات ہیں وہ صرف اس بنیاد پر ہیں کہ ہمارے بجٹ خسارے کے خطرات بہت بڑھ چکے ہیں۔ ابھی سٹیٹ بینک نے فروری کے جو اعداد پیش کئے ہیں، وہ بہت پریشان کن ہیں یعنی کہ اس سال کے آٹھ مہینوں میں 2200 ارب روپے کے قرضے لئے گئے ہیں اور عام طور پر پہلے آٹھ مہینے 50 سے 55 فیصد کا خسارہ ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے اگر ہم دیکھیں تو بہت بڑا خطرہ موجود ہے کہ سال کے آخر تک خسارہ ساڑھے آٹھ فیصد تک جا سکتا ہے جبکہ بجٹ میں ٹارگٹ رکھا گیا ہے 7.1 فیصد۔ آئی ایم ایف کی طرف سے دنیا کے ملکوں کے متعلق جو فسکل مانیٹر رپورٹ آتی ہے اس میں بھی یہ لکھا گیا ہے کہ پاکستان کا خسارہ 7.1 فیصد ہونا چاہیے۔ اب دوسرا مسئلہ یہ بھی ہے کہ حکومت جو آرڈیننس کے ذریعے 140 ارب روپے کا ٹیکسوں میں ایگزمپشن وغیرہ ختم کر رہی ہے یہ بہت نامناسب ہے۔ اگر حکومت نے ایسا کرنا تھا تو حکومت کو ایک منی بجٹ لانا چاہیے تھا۔ اب اس قسم کی کنفیوژن میں یہ خطرہ موجود ہے کہ خسارہ بڑھ جائے گا جس کی وجہ سے اگلے سال کے لئے بے تحاشہ دباؤ پڑے گا کہ اگر ہم آٹھ ساڑھے آٹھ فیصد پر پھنسے رہے جبکہ آئی ایم ایف فسکل مانیٹر میں کہہ رہا ہے کہ بجٹ خسارے کو 5.5 فیصد تک لاو، ساڑھے آٹھ سے ساڑھے پانچ پر لانا ناممکن سی بات ہے۔

اس کو اس مقام تک لانے کے لئے ہم کو اپنے ریونیو میں ساڑھے گیارہ سے بارہ سو ارب تک اضافہ کرنا پڑے گا جو کہ ان حالات میں بالکل بالکل ایک غیرمنطقی سا عمل ہے۔ ملک میں بجٹ دو سال مسلسل خسارے میں رہا جبکہ تیسرے سال تو یہ خسارہ 8.5 فیصد تک واضح ہے۔ فروری میں پاکستان کا کلہ قرضہ 36 ہزار ارب سے تجاوز کر گیا ہے جبکہ وزیر اعظم ابھی تک کہہ رہے ہیں کہ گزشتہ حکومتوں کی وجہ سے ہم یہ مسائل بھگت رہے ہیں۔ جب دو سال میں اتنا ہائی فسکل ڈیفسٹ یعنی بجٹ خسارہ، تیسر ے سال کے لئے بھی معاشی ماہرین ساڑھے آٹھ فیصد کی پیشن گوئی کر رہے ہیں جبکہ شوکت ترین صاحب کہہ رہے ہیں کہ حکومت میں آتے ہی سوا تیرہ فیصد شرح سود، ساتھ ہی 165 کے برابر کرنسی تو اس معیشت کی کشتی تو اس حکومت نے منجدھار میں ڈبو دی ہے تو خان صاحب کی طرف سے کیوں صرف گزشتہ حکومتوں کو ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ بجٹ خسارے کی اصل وجہ تو یہ ہے کہ خان کے آنے سے لے کر اب تک ٹیکس ریونیو میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ خان کے آنے سے اب تک ریونیو تین اور چار ہزار ارب کے درمیان پھنسی ہوئی ہے جبکہ خرچوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ 2019 میں ٹیکس سروسز میں تقریباً تیس فیصد کا اضافہ ہو چکا تھا تو ترین صاحب کا یہ فرمان سو فیصد درست ہے کہ جب حکومت چھ فیصد شرح سود لے کر سوا تیرہ فیصد پر چلی گئی تو یقیناً ٹیکس سروسز کی لاگت میں بہت ہی اضافہ ہونا تھا۔

اس کے باوجود نہ جانے وزیراعظم کس بنیاد پرکہتے ہیں کہ ہم نے معیشت کو ٹھیک کیا ہے اور آئندہ جو ترقی ہو گی وہ خساروں میں نہیں ہو گی جو کہ ماضی میں ہوتی تھی۔ فسکل خسارے کی یہی صورت حال ہے اور اگر ہم مارچ کی درآمدات کا نمبر دیکھیں تو وہ 5.6 ارب ڈالرز آیا ہے جو کہ 2018 کے بعد سب سے زائد نمبر ہے۔ پاکستان کا تاریخ کا سب سے زائد نمبر 5.8 ارب ڈالرز ہے۔ اگر اس ترقی کے ساتھ درآمدات اس لیول پرپہنچ گئی ہیں تو ان درآمدات کے ساتھ ہم یقیناً خسارے میں رہیں گے، خاص طور پر بیرونی خسارہ۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ فسکل پوزیشن کے لحاظ سے ہم پائیدار ترقی کی پوزیشن پر نہیں پہنچ سکتے۔ دوسری طرف درآمدات میں جو ستر فیصد کا اضافہ ہوا ہے یہ شوگر، گندم اور کپاس کی درآمدات کی وجہ سے ہوا ہے جبکہ ابھی کپاس اور امپورٹ کرنی ہے جوکہ اس فسکل سال کے آخر تک پوری کرنی ہے جس کی وجہ سے بجٹ کا فسکل خسارے میں جانا یقینی ہے۔ آئی ایم ایف بھی کہہ رہا ہے اور سٹیٹ بینک بھی کہ خسارہ تقریباً تین ارب ڈالرز تک پہنچ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

Bacha Khan

صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد کشمیر پر حملہ (دوسرا حصہ)

مترجم: نورالامین یوسفزئی افواج کی طرف سے ایک خطرے کی گھنٹی بج رہی تھی اور …