چھوٹے صوبوں کے تحفظ کا ضامن کون؟

جسٹس فائز عیسیٰ اور مقبول باقر پر مشتمل بنچ نے وزیر اعظم کی طرف سے اراکین قومی اسمبلی کو ترقیاتی فنڈ دینے کا نوٹس لیا اور وزیر اعظم سے جواب طلب کیا۔ بعد میں چیف جسٹس صاحب کے زبانی آرڈر پر پانچ رکنی بنچ تشکیل دیا گیا اور جب یہ نوٹس ڈسپوز آف کیا گیا تو اس نے ایک بہت بڑے ہنگامے کو جنم دیا۔ نوٹس وزیر اعظم کے خلاف لیا گیا تھا اور چیف جسٹس کا نوٹ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف آیا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کو وزیر اعظم کے خلاف مقدمات کی سماعت نہیں کرنا چاہیے۔ توقع کے عین مطابق 20 فروری کو جسٹس فائز عیسیٰ کا 27 صفحات پر مشتمل نوٹ آیا جس کے اندر بہت زیادہ تہلکہ خیز حقائق ہیں اور ساتھ ہی بہت زیادہ سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ان حقائق میں ایک بنچ کی تشکیل کے لئے چیف جسٹس کے پاس Unstuctured اختیارات یعنی صوابدیدی اختیارات کا ہے۔ یہ اداروں میں شفافیت لانے کے لئے نقصان دہ ہے۔ اس میں ایک چشم کشا حقیقت یہ بھی ہے کہ چیف جسٹس نے دو رکنی بنچ کا مقدمہ اپنے پاس زبانی آرڈر پر منتقل کیا، اس سے پہلے کہ دو رکنی بنچ مقدمہ کی پہلی سماعت کرتا اور اگر وہ سمجھتا کہ ایسا ہونا ضروری ہے تو پھر چیف جسٹس صاحب پانچ رکنی بنچ بنا لیتے۔

پانچ رکنی بنچ سے چیف جسٹس نے جسٹس مقبول باقر کو الگ کرنے کے متعلق جسٹس فائز عیسیٰ نے ایک خط لکھا، کوئی جواب نہیں آیا۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے اس اختلافی نوٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کے حوالے سے بہت باتیں کی ہیں۔ اس نوٹ سے یہ عیاں ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے معاملات کیسے چلائے جاتے ہیں اور اگر ایسے ہی چلائے جا رہے ہیں تو بہت سے سوالات جنم لیں گے۔ 22 تاریخ کو سپریم کورٹ کے ایک بنچ کا یہ فیصلہ بھی آیا کہ بنچ کی تشکیل چیف جسٹس آف پاکستان کے صوابدیدی اختیارات ہیں۔ ان صوابدیدی اختیارات کو اگر ایک سال کی تاریخ کی روشنی میں دیکھ لیں تو ایک سال میں جتنے بھی بنچ تشکیل دیئے گئے ان میں سینئر ججوں کو نظر انداز کر کے جونیئر ججوں کو بٹھایا جا تا ہے۔ Like minded یعنی ہم خیال ججوں کو بٹھا کر اور مختلف الخیال ججوں کو نظر انداز کر کے بڑے بڑے آئینی فیصلے کئے جاتے ہیں۔ سپریم بار کا بھی یہی موقف ہے کہ مخالف خیال ججوں کو نظر اندازکر کے ان کو بڑے بڑے کیسوں میں نہیں بٹھایا جاتا ہے۔ ان کو Bail matters کے کیس نہیں دیئے جاتے ہیں۔ سعد رفیق کی ضمانت کیس کے بعد باقر مقبول کے پاس بڑے بڑے Bail matters کے کیس نہیں لگائے جاتے ہیں۔ اسی طرح منصور علی شاہ بھی بڑے بڑے کیسوں میں نہیں بٹھائے جا تے ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جس کا اظہار سپریم کورٹ بارنے لطیف آفریدی کے توسط سے جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں کیا ہے جو کہ اب جسٹس فائز عیسیٰ صاحب نے بھی اپنے نوٹ میں کیا ہے۔ یہ معاملہ چیف جسٹس نثار صاحب کے دور سے چلا آ رہا ہے۔

افتخاری چوہدری کی بحالی کے بعد تو یہ تماشہ عروج پر تھا۔ کسی فیصلہ میں اختلافی نوٹ نہیں آیا کرتا، ملک کے معزز وکلا حیران تھے کہ تمام ججوں کی سوچ یکساں کیوں ہے؟ اب وکلا کو یہ نظر آ رہا ہے کہ سپریم کورٹ میں ججوں کے کیسوں کو دیکھنے کے متعلق مختلف اپروچز ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ شفافیت کے لئے بنچوں کی تشکیل میں ایسا نہ ہو کہ ہم خیال ججوں کا بنچ نہ ہو یعنی مکس ہونا چاہیے۔ مثلاً جسٹس منصور علی شاہ کو شاذونادر جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الحسن کے ساتھ تین رکنی بنچ میں بٹھایا جاتا ہے۔ جسٹس مقبول باقر کو آئینی امور سے متعلق بنچ میں بھی بہت کم بٹھایا جاتا ہے۔ یہ وہ معاملات ہیں جو کہ باروں میں ڈسکس کئے جاتے تھے، کوئی ان پر باہر بات نہیں کرتا تھا اب کھلے عام جج ایک دوسرے کے بارے میں باتیں شروع کرنے لگے ہیں۔ سپریم کورٹ کے معاملات کیسے چلتے ہیں اب وہ چیزیں عوام کو نظر آنے لگی ہیں۔ جب فائز عیسیٰ نے یہ کہا کہ چیف جسٹس نے صوابدیدی اختیارات کے متعلق جو چھ رکنی بنچ بنایا ہے یہ غیرجانبدار نہیں ہے، اس کے بعد عمر عطا بندیال نے جسٹس فائز عیسیٰ کی بہت خوب کلاس لی تھی۔ یہ جسٹس فائز عیسیٰ نہیں ہیں جنہوں نے چیف جسٹس کے بنچ کی تشکیل کے متعلق سوال اٹھایا، یہ سوال اس سے پہلے جسٹس یحیی آفریدی بھی اٹھا چکے ہیں اور یہی سوال جسٹس منصور علی شاہ صاحب بھی اٹھا چکے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آگے چل کر چیف جسٹس بننا ہے۔ جب چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ 184-3 کے اختیارات ریگولیٹ ہونے چاہئیں تو ان جج کے نام بھی منظر پر عام آنے چاہئیں جنہوں نے ان کی مخالفت کی۔ اپنے نوٹ میں جسٹس فائز عیسیٰ صاحب نے 20 سوالات اٹھائے ہیں جن میں سے آٹھ سوالات پیرا چھ کے متعلق ہیں۔ پیرا چھ وہ پیرا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ کو وزیر اعظم کے متعلق معاملات نہیں سننا چاہئیں جس کے جواب میں جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ آئین کی طرف سے تفویض شدہ اختیارات کے استعمال سے کسی جج کو روکا نہیں جا سکتا ہے اور Bias یعنی جانبداری یا غیرجانبداری کا فیصلہ جج نے خود کرنا ہے۔

اس حوالے سے لارجر بنچ کے فیصلے موجود ہیں اور چار ججوں کا یہ فیصلہ آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف ہے۔ اس بنچ میں چند جج ایسے ہیں جن پر ماضی میں اپوزیشن کے خلاف فیصلے دینے پر اپوزیشن زبانی اٹیک کرتی تھی جس طرح پی ٹی آئی جسٹس فائز عیسیٰ پر اٹیک کرتی ہے تو چیف جسٹس کو ان ججوں کو بنچ میں بٹھانے کے بجائے اور ججوں کو بٹھانا چاہیے تھا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ چیف جسٹس صاحب آئینی امور کے متعلق فل کورٹ تشکیل کرتے یا پانچ رکنی بنچ بناتے وقت سینئر پانچ ججوں کو بٹھا دیتے تاکہ صوابدیدی اختیارات کے استعمال میں ریگولیشن کا احساس نظر آتا جبکہ 22 فروری کو بنچ کے فیصلے کی رو سے بنچ کی تشکیل کا صوابدیدی اختیار چیف جسٹس کو دے کر نہ صرف مختلف الخیال ججوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی بلکہ اس فیصلے نے آئین کی من مانی تشریح کو آسان بنانے کے لئے راستہ ہموار کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ میںاب صرف ذاتی سول کیس سن سکتا ہوں کیونکہ کریمینل کیسوں میں بھی حکومت ایک فریق ہوتی ہے۔

اس کو ججوں کے ہاتھوں ایک تضحیک سمجھ کر جسٹس فائز استعفیٰ دینے پر مجبور نظر آتے ہیں لیکن دوسری طرف ان صوابدیدی اختیارات سے اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے لئے ملک کے آئین کو Deface کرنے یعنی موم کی ناک بنانے میں کوئی دقت نہیں رہی اگر چیف جسٹس ہم خیال ہو تو۔ اگر ایک جج صاحب سپریم کورٹ کے رویے سے نالاں نظر آتے ہیں تو ہم چھوٹے صوبوں کے باسیوں میں بھی خدشات تو اٹھتے ہیں۔ 1973 کے آئین کی رو سے سینیٹ کی تشکیل کا مقصد یہی تھا کہ اس ملک میں قومی اسمبلی کے علاوہ چھوٹے صوبوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے یکساں نمائندگی پر مشتمل ایوان بالا کی ضرورت محسوس کی گئی لیکن آئین کا تحفظ جس کی نگران ملک کی سپریم عدالت ہے جہاں ایک جج بذات خود تضحیک محسوس کر کے اس کا اظہار اختلافی نوٹ میں کرتے ہیں ان کے ہاتھوں میں آئین کے تحفظ کا احساس ہم کیسے کریں گے لہذا اب وقت آیا ہے کہ ملک میں ایک سپریم آئینی عدالت ہو جو صرف آئینی امور کی نگران ہو جس کے ججوں کی تعداد تمام صوبوں سے یکساں ہو اور اس کا انتخاب خو د سینیٹ کرے، جہاں کوئی صوابدیدی اختیارارت نہ ہوں تو چھوٹے صوبوں میں کوئی احساس محرومی نہیں ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں

بغدادی پیر، کل اور آج

تحریر: محمد عمران ڈیوڈ جونز کا ناول شاید بہت سے قارئین نے پڑھا ہو گا …