خیبر سپر مارکیٹ، وباء کے دنوں میں محبت

آج تیسرا دن ہے کہ ہم ایک ہی اپارٹمنٹ میں چار بندے ایک دوسرے سے آہستہ آہستہ اور غیر محسوس طریقے سے کنارہ کش ہو رہے ہیں۔ زندگی کتنی قیمتی ہے جس کو بچانے کے لئے انسان ہر جائز اور ناجائز طریقوں کو اپناتا ہے۔ پورا دن کتاب، سوشل میڈیا اور یا فون کالز پر گزرتاہے۔ صبح سے قیصر خان کی کرونا وائرس رپورٹ زیر بحث ہے۔ ناشتہ کے لئے مناسب سودا حسب روایت افتخار لے آئے۔ قیوم آفریدی اورانورزیب دونوں کو چونکہ ورک فرام ہوک کا اجازت نامہ نہیں ملا ہے تو وہ اب بھی آفس جاتے ہیں البتہ انور نے پبلک ٹرانسپوٹ کا مسئلہ موٹر سائیکل کو زیراستعمال لاتے ہوئے حل کر لیا ہے جس کی وجہ سے ہم اس کو اب چلتا پھرتا خطرہ 440 نہیں کہتے۔ روزنامہ شہباز نے بھی اپنے آدھے سٹاف کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی ہے تاکہ جتنا بھی ہو سکے وائرس کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔
ناشتہ کے بعد میں بالکونی سے کچھ وقت کیلئے خیبر سپر مارکیٹ کی چہل پہل والی گلیوں، ورکشاپس اور ہوٹلز میں پائے جانے والے خوف زدہ ماحول کا نظارہ کرتا ہوں، انور آفس جاتے وقت ہمیں ضرور آواز دیتے ہیں کہ قوت مدافعت کی مضبوطی کےلئے اگر وٹامن سی ضروری ہے تو زیادہ نیند بھی بری چیز نہیں ہے۔
میں نے کرکٹ بیٹ ویسے ہی ہاتھ میں لیا مگر جلد ہی احساس ہوا کہ اس پر تو دوسرے لوگ بھی گیم کھیلتے ہیں تو میں نے سامنے سینیٹائزر سے ہاتھ کو دھو لئے اور موبائل فون کو بھی جراثیم کش دوا سے صاف کیا۔ اس بات پر بھی گفتگو ہوتی ہے کہ کیا اس مرض کے خلاف لڑتے ہوئے ہم نفسیاتی طور پر کمزور تو نہیں ہوگئے۔ یہی سوال بھی ایک دوسرے سے کرتے ہیں کہ اگر خدانخواستہ قیصر خان کا رزلٹ پازٹیو آتا ہے تو کیا ہم ذہنی طور پر اس بات کے لئے تیار ہیں کہ بغیر کسی شک کے ہم بھی اس مرض میں مبتلا ہوں گے۔ اظہار اللہ اور محمد طیب کا بھی ذکر خیر اس لئے کرتے ہیں کہ وہ دونوں بروقت گھروں کو چلے گئے تھے۔ عجیب صورتحال تو اس لئے بھی ہے کہ چند دن پہلے تک ہمارے اپارٹمنٹ میں دوستوں کی محفل لگتی، عصمت شاہ اتنڑ ڈانس کرتے تو عزیز بونیری سے کہانیاں سننے کو ملتی تھیں لیکن اچانک ہر سو خوف اور وسوسوں کا راج ہو گیا ہے۔ آر ایم آئی نے جب قیصر کی رپورٹ بھیجی تو ہمیں اگر زندگی میں کسی بھی ٹسٹ کا شدت سے انتظار تھا تو یہی تھا۔ "قوارنٹائن فرد جو کہ لاغر اور کمزور اور نفسیاتی طور پر تتر بتر تھا، انھوں نے اپنے ہی کمرے سے تیز آواز میں خوشخبری سنائی کہ ”ٹسٹ از نیگٹیو”۔ کنفرمیشن کے لئے ان کو کہا کہ نکلنے سے قبل پہلے ٹسٹ رزلٹ وٹس ایپ گروپ میں پھینک، ہم سب نے سکون کا سانس لیا۔

لو اِن دی ٹائم آف کولرا (وباء کے دنوں میں محبت) ناول پر بہترین مووی بنی ہے جسے عالمی کرونا وباء کے ہنگام رات کو دیکھا۔ فلم میں ایک غریب ٹیلی گراف بوائے امیر لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوتا ہے، لڑکا محبت بھرے بہترین خطوط بھی لکھتا ہے مگر شادی کے لئے اس کو 53 سال انتظار کرنا پڑتا ہے جب اس عورت کا امیر ڈاکٹر خاوند مرتا ہے۔ ایک سین میں ہیروئن کا بھائی لڑکی سے کہتا ہے کہ
You are too beautiful to marry a telegraph boy and this love is illusion
پستول دکھا کر جان سے مارنے کی دھمکی دیتا ہے مگر عاشق اپنے دل کی طرف اشارہ کرکے جواب دیتا ہے۔
"Shoot me! There is no greater glory than to die for lo

یہ بھی پڑھیں

Hunarmal

وَلَو کُنتُم فی بُروجِِ مُشیدۃ

موت کو تھوک کے حساب سے بانٹنے والا کورونا وائرس پوری آب وتاب کے ساتھ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔