یہ خانہ بدوش ہیں کون؟

یہ خانہ بدوش ہیں کون؟

یہ پاوندہ ہیں کون؟ تو پاوندہ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا مستقل گھر نہیں ہوتا۔ خیبر پختون خوا میں پاوندہ خانہ بدوش ہزاروں کی تعداد میں رہتے ہیں۔ مقامی زبان میں ان کو ’’کوچی‘‘ یا ’’کوچیان‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مختلف قبیلوں سے تعلق رکھتے ہیں جو دراصل ’’غلزئی‘‘ قبیلے کی چھوٹی چھوٹی شاخیں ہیں۔ پورے وسطی ایشیاء میں پاوندہ، خانہ بدوشوں کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی تعداد پر اتفاق رائے نہیں ہے۔ اندازوں کے مطابق ان کی تعداد ڈھائی سے تین لاکھ تک ہو سکتی ہے۔ان کی بنیاد افغانستان ہے۔ پاکستان کی مردم شماری میں دیے گئے اعدادوشمار کے مطابق پاوندہ دو قسم کے ہیں، افغان پاوندے اور پاکستانی پاوندے۔ ان کی باہمی ثقافتی ہم آہنگی اس قدر ہوتی ہے کہ افغان اور پاکستانی پاوندوں میں پہچان مشکل ہو جاتی ہے۔ یہ دونوں قسم کے پاوندے ایک قسم کا لباس زیب تن کرتے ہیں، ایک قسم کا رہن سہن اور رسم و رواج رکھتے ہیں اور ایک ہی طرح کی زبان بولتے ہیں۔ ان میں اکثریت پشتو بولنے والے خانہ بدوشوں کی ہے تاہم بعض دری بھی بولتے ہیں۔ پاوندہ یا کوچی بہت مشکل زندگی گزارتے ہیں، یہ لمبے سفر پیدل کرتے ہیں۔ ان کے مرد اور جوان زیادہ تر پیدل ہی سفر کرتے ہیں تاہم بوڑھوں، بچوں اور خواتین کو اونٹوں، خچروں یا گھوڑوں پر سوار کرکے منزل کی طرف بڑھتے ہیں۔ ان کا مرکز غزنی ہے، ہلمند سے بھی ہزاروں خانہ بدوش کوچی یا پاوندہ پاکستان تک کا سفر کرتے ہیں۔ یہ خیبر پختون خوا کے مختلف شہروں میں رہ رہے ہیں، ایران اور ہندوستان تک کا سفر بھی کرتے ہیں۔ ان کے ایک ایک خاندان میں 20 سے 80 تک افراد ہوتے ہیں، یہ سب چاچے، مامے، بھانجے وغیرہ ہوتے ہیں، ان کی شادی بھی آپس میں کرائی جاتی ہیں یعنی خاندان کے اندر ہی شادی کا رواج ہے کیوں کہ باہر سے ان کی لڑکیوں کے لیے رشتے نہیں آتے۔ ان کی خواتین چوں کہ محنت مشقت کرتی ہیں اس لیے وہ جسمانی لحاظ سے بہت مضبوط ہوتی ہیں، کام کاج میں مردوں کا برابر ہاتھ بٹاتی ہیں، پانی دور دور سے بھر کر لاتی ہیں، گھر کے کاموں میں مصروف رہتی ہیں جب کہ اکثر خواتین گاؤں گاؤں جا کر کپڑے فروخت کرنے کا کاروبار بھی کرتی ہیں۔ لڑکیوں کی شادی 14 سے 18 سال تک کی عمر تک کرائی جاتی ہے۔ جس لڑکی کی نسبت طے نہیں ہوتی اس کے ماتھے پر کوئی نشان نہیں ہوتا البتہ منگنی کے بعد ماتھے پر ایک مخصوص نشان ’’خال‘‘ لگا دیا جاتا ہے۔ ان کے ہاں رواج ہے کہ شادی کے بعد کوئی خاتون اپنے شوہر کا نام نہیں لے سکتی۔ ان کی شادی کی رسومات بڑی سادہ ہوتی ہیں، کسی پڑاؤ والی جگہ شادی کی تقریب ہو تو برادری کے تمام افراد کے لیے چاول پکا کر ولیمے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ لڑکیاں دائرہ بنا کر روایتی مگر انتہائی دلکش رقص پیش کرتی ہیں۔ مہندی نہ صرف لڑکیوں نے بلکہ لڑکوں نے بھی ہاتھوں اور پیروں پر لگائی ہوتی ہے، یہ دنداسہ بھی شوق سے استعمال کرتے ہیں۔ ان کی خواتین روایتی کشیدہ کاری والے لمبے لمبے کپڑے استعمال کرتی ہیں جس کو ’’گھگرا‘‘ کہا جاتا ہے۔ پشتو میں اس کو ’’گھگرے‘‘ یا ’’گھگریئے‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ گرمی ہو یا سردی ان کی خواتین یہی گرم لباس زیب تن رکھتی ہیں، برقعہ استعمال نہیں کرتیں، نہ ہی نقاب اوڑھتی ہیں۔ ان کے پڑاؤ والی جگہ میں سے کوئی غیر مرد گزرے تو صرف چادر کے پلو سے چہرہ چھپا لیتی ہیں۔ ان کے مرد اپنی خواتین کا بہت احترام کرتے ہیں تاہم ان کی خواتین انتہائی پست معیار کی زندگی گزارتی ہیں۔ پاوندہ کی تعلیمی شرح صفر ہے۔ اب پاوندہ خانہ بدوشوں کی تعداد گذشتہ کئی دہائیوں کی نسبت انتہائی کم ہو رہی ہے کیوں کہ زیادہ تر پاوندہ یا کوچی خانہ بدوشوں نے شہری یا دیہی علاقوں میں مکانات خرید کر یا کرائے پر لے کر مستقل سکونت اختیار کر لی ہے۔ تاریخی حوالوں کے مطابق بلوچستان اور خیبر پختون خوا کے نور زئی، ناصر، مروت اور نیازی قبیلے پہلے پاوندہ تھے جنہوں نے مختلف ادوار میں افغانستان سے آکر مستقل سکونت اختیار کرلی۔ گذشتہ دہائی میں ہزاروں پاوندہ خانہ بدوشوں نے افغان مہاجرین کو حاصل مراعات سے بھی استفادہ کیا۔ اب دور جدید کے تقاضوں کے مطابق وہ پاوندہ جو خانہ بدوش نہیں رہے، ان کے بچے سکول بھی جانے لگے ہیں۔ پاوندہ یا کوچی خانہ بدوش سردیوں میں افغانستان یا پاک افغان سرحدی علاقوں سے آکر خیبر پختون خواکے مختلف علاقوں میں رہائش پذیر ہو جاتے ہیں۔ یہ خانہ بدوش خیموں میں نہیں بلکہ کچے مکانات یا جھونپڑیوں میں رہتے ہیں، ان کے مکانات عارضی ہوتے ہیں۔ یہ جب گرمی کا موسم شروع ہوتے ہی واپس چلے جاتے ہیں تو ان کی بستیاں ویران ہو جاتی ہیں۔ ان کے کچے مکانات کی صرف چار دیواری رہ جاتی ہے، باقی چھت میں استعمال ہونے والا سارا مٹیریل وہ اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ یہ خانہ بدوش قبائل بھیک نہیں مانگتے، بھیڑ بکریاں، گھوڑے، خچر اور اونٹ پالتے ہیں۔ ان کے ایک ایک اونٹ کی قیمت 40 سے 50 ہزار روپے تک ہوتی ہے۔ خوست، پکتیا اور پکتیکا نامی افغان صوبوں سے آنے والے زیادہ تر بنوں، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان کے مغربی علاقوں میں پڑاؤ ڈالتے ہیں۔ ان کے مرد لنڈے کا کاروبار بھی کرتے ہیں۔ سائیکل پر گاؤں گاؤں جا کر کپڑے بھی فروخت کرتے ہیں جب کہ ان کے بچے ہوٹلوں وغیرہ میں کام کرکے گزر بسر کرتے ہیں۔ یہ خانہ بدوش مالی لحاظ سے مستحکم ہوتے ہیں تاہم ان میں سے بعض مفلس بھی ہوتے ہیں جن کی خواتین کو بھیک بھی مانگنا پڑتی ہے۔ سفید ریش اور بزرگ مرد ان کے خاندان کے سربراہ ہوتے ہیں جن کے فیصلے کا ہر کوئی احترام کرتا ہے۔ ان کے پاس مخصوص قسم کے شکاری اور دیگر اقسام کے کتے بھی ہوتے ہیں جو موسم کے ساتھ خود کو ہم آہنگ رکھتے ہیں۔ مقامی زبان میں ان کتوں کو ’’ دَ کوچیانو سپے‘‘ (کوچیوں کا کتا) کہا جاتا ہے۔ کوچی قبائل نسل در نسل کتا شناس ہوتے ہیں، یہ مال مویشیوں کا کاروبار کرتے ہیں مگر اپنے کتے بیچنا برا خیال کرتے ہیں۔ اپنی حفاظت کے لیے پستول یا بندوق کی بجائے یہ اپنے کتوں کا سہارا لیتے ہیں۔ (ختم شد)
٭٭٭٭٭

Google+ Linkedin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

*
*
*