اے این پی اوراٹھارویں ترمیم

اختلاف رائے نہ صرف جمہوریت کا حسن ہے بلکہ یہ ہرکسی کا بنیادی حق بھی ہے مگر کسی سے اختلاف رکھنے میں اپنے معاشرتی اقدار،اخلاق ،اصولوں، زمانی اورزمینی حقائق سے انکاراورچشم پوشی کرنا کسی طرح بھی درست علمی،معاشرتی اورسیاسی رویہ نہیں ہے اگرکسی سیاسی یامذہبی جماعت کے نظریات سے کسی کواختلاف ہو تویہ اس کا بنیادی انسانی حق ہے اوراس پرتنقیدکرنا بھی انہیں زیب دیتاہے مگرانہیں یہ حق بالکل حاصل نہیں کہ کسی جماعت یاان کی قیادت کی تاریخ،کردار اورقربانیوں سے اپنی آنکھیں چرائے، عوامی نیشنل پارٹی کا شمار ملک کی ان چندسیاسی جماعتوں میں ہوتاہے جس کی اپنی ایک سماجی اورسیاسی تاریخ ہے اور برطانوی سامراج سے لے کر وقتاً فوقتاًملک پرمسلط ہونے والی ہرامریت کے خلاف مذکورہ جماعت کے کارکنوں اورقائدین نے اپنی جان ومال اوراولاد کی پرواکیے بغیرہرقسم قربانیوں،تکالیف اورمشکلات سے منُہ نہیں موڑااورہمیشہ نہ صرف اپنی پختون قوم بل کہ دیگرمحکوم ومظلوم قومیتوں کے حقوق ان کی سیاسی اورمعاشی آزادی کے لیے آئینی اورجمہوری جدوجہدکرتی چلی آئی ہے اورجس کی پاداش میں اس جماعت پرقسماقسم لیبلزبھی لگائے گئے اسے ہندوستان،افغانستان اورروس کی ایجنٹ جسیے القابات اورخطابات سے بھی نوازا گیا جیسا کہ گزشتہ دور حکومت میں اس پرامریکاکی ایجنٹ کا لیبل چسپاں کیا گیاتھا ملک کی کون کون سی جماعتیں اورسیاسی قیادت امریکا کی وکالت اوراس کے ’’وسیع تر مفادات‘‘ کے حصول کے لیے نظریاتی اور سیاسی میدان ہموارکررہی ہے وہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہ رہی لہذا دلائل کے بجائے کسی پراپنی مرضی کا لیبل چسپاں کرنا غیرسیاسی،غیرجمہوری اور غیراخلاقی حرکت ہے،عوامی نیشنل پارٹی کے نظریات اوراس کی طرزسیاست سے اگر کسی کو اختلاف ہے تو اپنے اس اختلاف کو دلائل کے ساتھ ثابت کرنا چاہیئے نہ کہ بغض معاویہ سے کام لیاجائے ۔اب اس حقیقت سے کون انکار کرسکتاہے کہ اے این پی نے پاکستان پیپلزپارٹی اوردیگرسیاسی قوتوں کی مددسے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبائی خودمختیاری کے بہت سے اہم اہداف حاصل کرلیے ہیں جن میں تریسٹھ سال بعدپختونوں کو خیبرپختون خوا کے نام سے اپنی قومی شناخت اور کالاباغ ڈیم کے منصوبے کا خاتمہ تواپنی جگہ بہت بڑی سیاسی جیت ہے مگراس سے زیادہ اٹھارویں ترمیم سے پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک وفاقی،جمہوری پارلیمانی ریاست کی طرف گامزن کرنا، کنکرٹ لسٹ کا خاتمہ،اٹھارہ اہم وزارتوں کو وفاق سے صوبوں کومنتقل کرنا،جس سے صوبوں کوترقی کے لیے اپنی مرضی کی حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے کھلامیدان مہیا ہوگا، یہ اٹھارویں ترمیم ہی کی برکت ہے کہ صدرکے اختیارات وزیراعظم اور گورنرکے اختیارات وزیراعلیٰ کومنتقل ہوگئے ہیں،اس کے علاوہ ملک میں ایمرجنسی لگانے میں مرکزجس طرح مادرپدرآزادتھا،اس پرایک چیک نافذہوگیا ہے کیوں کہ پہلے وہ کسی سے پوچھے بغیر صوبے میں اچانک ایمرجنسی لگانے کااعلان کرسکتا تھا مگراب مرکز ایسا نہیں کرسکے گا ماسوائے دوطریقوں سے،ایک یہ کہ صوبائی اسمبلی قراردادپیش کرے کہ ہم حکومت چلانے کے قابل نہیں رہے اوروفاق یہاں ایمرجنسی لگاکرخودحکومت چلائے یعنی اس میں اب صوبے کی اپنی مرضی اورمنشاء شامل ہوگی تب وفاق وہاں ایمرجنسی نافذکرسکتی ہے ورنہ نہیں، دوسراطریقہ یہ کہ اگرانتہائی ضرورت پڑگئی تو مرکزاپنی طرف سے ایمرجنسی لگاسکتا ہے مگروہ اس کا بھی پابندبنادیاگیاہے کہ وہ صوبائی اسمبلی اورسینیٹ سے اس کی منظوری ضرورلے گا، تیسری اہم بات یہ ہے کہ کونسل آف کامن انٹرسٹ جواٹھ افرادپرمشتمل ہے اس میں چاروں صوبوں کے وزراء اعلی شامل ہیں چاروزراء بشمول وزیراعظم جن میں ایک ایک وزیرایک ایک صوبے سے ہے مشترکہ مفادات کونسل کے اٹھ میں سے چھ افرادہمیشہ چھوٹے صوبوں سے ہوتے ہیں،جس کا مقصدچھوٹے صوبوں کی آواز کومضبوط بناناہے چونکہ سی سی آئی اجلاس بلانے کا اختیارصرف وزیراعظم کے پاس ہوتا تھا اس لیے چھتیس سال کے دوران مشترکہ مفادات کونسل کے صرف گیارہ اجلاس ہوئے، اٹھارویں ترمیم کے بعداب سال میں کونسل کے چاراجلاس لازمی ہوں گے علاوہ ازیںاگرایک صوبے کی بھی ضرورت ہوتووہ کونسل کا اجلاس بلاسکتی ہے اورحکومت اجلاس بلانے کی پابندہوگی اس کے علاوہ جوفیڈرل لسٹ ہے اس کے دوحصے ہیں دوسرے حصے میں پیٹرول،گیس،ریلوے،بجلی،وفاقی کارپوریشنزاورپبلک سیکٹرکی انڈسٹریزشامل ہیں سی سی آئی ان ایشوزکوڈیل کرے گی اوراس کے لیے پالیسی بنائے گی اوراس کے بارے میں قانون سازی کی سفارش کرے گی صوبوں میں تیل وگیس کے ذخائرکا اختیارمرکزکے پاس ہوتاتھااب یہ فیڈریشن اورمتعلقہ صوبے کومساوی طورپرحاصل ہوگا اٹھارویں ترمیم کی اہم بات یہ ہے کہ صوبوں کوبراہ راست غیرملکی قرضے لینے کا اختیارمل گیا،پہلے صوبے قرضے لینے میں نہیں قرضوں کی واپسی میں شریک تھے،اے این پی ہی کی سابق صوبائی حکومت نے این ایف سی ایوارڈکے 57 اور43 فیصد کوآئینی تحفظ دے دیا ہے، جس سے اب صوبے کے حصے کوبڑھایاجاسکتاہے کم نہیں کیاجاسکتا،اٹھارویں ترمیم کے بعداب تعلیم اورصحت جیسی اہم وزارتیں بھی صرف صوبوں کے پاس ہوں گی اس کے علاوہ اوربھی دیگرایسے اختیارات ہیں جن سے صوبوں اورمرکزکے درمیان ایک مناسب اورمتوازن تعلق قائم ہوگا۔ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے سب سے بڑی پیش رفت ملک میں امریت کاباب بندکرناجیسااقدام بھی شامل ہے اوران اقدامات میں عوامی نیشنل پارٹی نے بہت اہم کرداراداکیا اورجس طرح 1973ء کے آئین کے نفاذ میں اس وقت کی نیشنل عوامی پارٹی(نیپ) کے سربراہ خان عبدالولی خان کا کرداررہا اسی طرح اسی آئین کواپنی سابق شکل وصورت میں بحال کرنے میں بھی اے این پی کے رول سے کون انکارکرسکتاہے، جس نے اپنے صوبے کے حقوق کے لیے ایک آئینی اورقانونی تحفظ فراہم کردیاجس کے ثمرات سے اب صوبے کے عوام اور ہر آنے والی حکومت مستفید ہو گی،تاحال اٹھارویں ترمیم کے اصل آئینی،جمہوری اورمعاشی فوائد صوبے کے عوام تک نہیں پہنچے ہیں جس کی وجہ سے عوام میں موجودہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے بارے میں کوئی اچھا تصورنہیں پایاجاتا۔کیوں کہ موجودہ حکومت کو صوبائی اختیارات کے بارے میں نہ تو کوئی خاص دلچسپی ہے اور نہ اس حوالے سے کچھ علم ہے کہ اٹھارویں ترمیم کیاچیز ہے یا اس کے ذریعے ہمارے صوبے کوکیا ملااورکیاملے گا؟۔ لہذایہ کارنامہ چونکہ اے این پی نے سرانجام دیاہے اور وہی بہتر جانتی ہے کہ اٹھارویں ترمیم سے صوبے کو کیافوائد حاصل ہوئے ہیں اور مزید کیاحاصل کیے جاسکتے ہیں لہذا صوبے اور پختونوں کے حقیقی خیرخواہوں کی اکثریت کا یہ کہنابجاہے کہ خیبرپختون خوا کو ملک کے دیگرحصوں کے ساتھ تعمیر وترقی خصوصاً تعلیم،صحت اور روزگار کے سلسلے میں برابر لاکھڑا کرنے کے لیے آئندہ انتخابات میں اے این پی کوکامیابی سے ہمکنار کرنا ضروری ہے تاکہ وہ صوبے کو حقیقی معنوں میں ترقی، تعمیر اور تبدیلی کا عملی نمونہ بنائے۔ خدائی خدمتگار تحریک کی سطح پر کے مرکزی،صوبائی ،ضلعی قائدین اور دانشوروں کی ذمہ داری بنتی ہے صوبے کے عوام کواٹھارویں ترمیم کے اصل فوائد سے اگاہ کرنے میں بری طرح ناکام ثابت نظرآرہے ہیں یہی وجہ ہے کہ اے این پی کے اکثرورکرز توکیا بعض ایم پی ایزاورصوبائی وضلعی قائدین بھی اس بارے میں کورے کاغذ ہیں ان سے اپنے علاقوں میں لوگ پوچھتے ہیں سوالات کرتے ہیں کہ آپ کی حکومت اور پارٹی تو اٹھارویں ترمیم کے بارے میں ہروقت رطب السان رہتی ہے مگرہمیں یہ بتایاجائے کہ اس سے ہماری زندگی، علاقے اور صوبے پر کون سے اچھے معاشی،سیاسی،تہذیبی اوراقتصادی اثرات مرتب ہوں گے؟ اس سوال کا جواب پھران کے پاس اس لیے نہیں ہوتا کہ انہیں ابھی تک اپنے قائدین اوردانشوروں نے اس بارے میں بے خبررکھاہے اوراسی بے خبری کی وجہ سے عوام میں اے این پی کے بارے میں مختلف سوالوں نے سراٹھانا شروع کررکھاہے اوراس کی اسی تنظیمی کمزوری نے اس کی آئینی اور سیاسی کامیابی کوبھی عوام کی نظروں سے اجھل رکھاہے اگراے این پی اٹھارویں ترمیم کے تحت حاصل ہونے والی اپنی سیاسی اورآئینی کامیابیوں سے عوام کواگاہ کرنا چاہتی ہے تواس کے لیے صوبے کے ہرضلع اورتحصیل میں جلسے،ورکشاپس اورسیمینارزمنعقدکروانے ہوں گے تاکہ پارٹٰی کے ورکروں سمیت عام لوگ بھی اٹھارویں ترمیم سے ملنے والے صوبائی اختیارات سے اگاہ ہوسکے اوراے این پی کے بارے میں لوگوں کے اذہان میں جو بے زار کن تصویربنتی جارہی ہے اس میں آس اورامیدکے رنگ ابھرسکیں ۔

یہ بھی پڑھیں

Nafees Danish

اک شام جگتوں کے دیس میں

آپ کو اس بات کا علم ہے کہ فیصل آباد ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ملک کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔