زبانوں کا قتل عام

مغربی تہذیب، سرمایہ دارانہ جمہوریت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اورگلوبلائزیشن کے استحصالی اور تجارتی نظریات کا طوفان بیشتر مذاہب، ثقافتوں اور زبانوں کے لیے ایک عالم گیر قسم کا خطرہ بن چکا ہے کیونکہ مغربی تہذیب کے اس بڑھتے ہوئے سایے تلے کوئی نئی زبان وجود میں نہیں آئی۔ لیکن سینکڑوں ہزاروں زبانیں قتل کر دی گئیں اور سینکڑوں ہزاروں زبانوں کو موت جیسے خطرے کا سامنا ہے۔ اور یہ قتل امریکی، برطانوی، ہسپانوی، ولندیزی، اطالوی، پرتگیزی اور فرانسیسی استعماری طاقتوں کے ہاتھوں ہوا جس کی تاریخ طویل ہے۔ امریکا کی بنیاد ستر لاکھ سرخ ہندیوں (ریڈ انڈین) کی لاشوں پر رکھی گئی اور ان کی ہزاروں زبانیں مٹا دی گئیں۔ براعظم آسٹریلیا میں برطانوی استعمار نے سینکڑوں زبانوں کو قتل کر دیا۔ زناکاری، پرتعیش زندگی، خاندانی نظام کے خاتمے کے باعث زبانیں تیزی سے مٹ رہی ہیں۔ دنیا بھر کے معاشروں میں کروڑوں سال سے موجود تنوع اور رنگارنگی عالمگیریت اور سرمایہ دارانہ ثقافت و تہذیب کے استعماری غلبے کے باعث اپنا وجود کھو رہی ہیں جس کے نتیجے میں زبانیں تیزی سے مر رہی ہیں اور تہذیبیں اپنی شناخت کھوتی جا رہی ہیں۔ مذہب، ثقافت اور تہذیب کے تمام ڈھانچے تیزی سے سرمایہ داری کے سانچے میں ڈھالے جا رہے ہیں یا خود بخود ڈھلنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ مغربی تہذیب کے غلبے کے باعث خاندانی نظام زبردست شکست و ریخت کا شکار ہے۔ خواہشات نفس کی ہرصورت میں تکمیل تہذیب جدید کا فلسفہ ہے اور اس فلسفے کے باعث خاندان اور قبیلے اپنے قدیم مقامات چھوڑ کر رزق کی تلاش میں ترک وطن کر رہے ہیں۔ اعلیٰ معیار زندگی کی تلاش کے باعث خاندان دن بدن مختصر ہوتے جا رہے ہیں، مختصر خاندان آبادی کے خطرے سے بچنے کے لیے امید کی علامت سمجھے گئے لیکن اس کے نتیجے میں زبانوں کو زوال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بہرحال یہ ایک لمبی علمی، سائنسی اور لسانی بحث ہے۔ تاہم قابل غور بات یہ ہے کہ موجودہ استحصالی اور سرمایہ دارانہ نظام بے شمار الفاظ کا قتل عام کر رہا ہے۔ جدیدیت اور پس جدیدیت کے مقتول الفاظ کی طویل فہرست ہے۔ پشتو اور اردو زبان کے بے شمار عمدہ الفاظ مغربی تہذیب اور انگریزی زبان نے قتل کر دیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان زبانوں کے بیشتر محققین متروک الفاظ کا رونا رو رہے ہیں۔ لہذا متروک الفاظ پر تحقیق کی ضرورت کیوں محسوس کی جا رہی ہے؟ ہمارے خیال میں اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ متروک الفاظ کے ذریعے ہم گزشتہ سو برس کے سیاسی، سماجی، ثقافتی، علمی، ادبی، تحقیقی، مذہبی، تہذیبی، تمدنی اور معاشرتی تغیرات کا جائزہ لے سکتے ہیں جو اس خطے کے معاشرے میں برپا ہوئے اور جس کے نتیجے میں بہت سے الفاظ فراموش ہو گئے یا فراموش کر دیے گئے۔ اس جائزے کے ذریعے استعماری طاقتوں کے اثرات کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ہر لفظ کا ایک خاص طلسماتی، تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی پس منظر ہوتا ہے۔ جب ایک لفظ ہمارے حافظے سے محو ہو جائے یا یم اسے بھول جائیں یا بھلا دیں تو اس لفظ کے ساتھ وابستہ تاریخ اور ثقافت بھی طاق نسیاں کی زینت بن جاتی ہے۔ یہ متروکات ہمیں صرف یہ نہیں بتاتے کہ لفظ متروک ہو گیا ہے بلکہ وہ اس لفظ کے متروک ہونے کی اصل وجوہات سے بھی مطلع کرتے ہیں جس کی بنیادیں اس قوم کی تاریخ، تہذیب، مذہب اور تمدن، ذرائع معیشت، طرز معاشرت، ثقافت، علمیاتی اساس، مابعدالطبعیاتی نظریات اس کے طرز زندگی میں پیوست ہوتے ہیں۔ متروک لفظ بتاتا ہے کہ کون سی روایت متروک ہوئی، کون سا طرز مٹ گیا جس کے باعث اس کے اظہار کی صورتیں بھی متروک قرار پائیں۔ ہم نے کن تاریخی و ثقافتی اقدار کو بھلا دیا ہے۔ ایک مختصر سا لفظ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اگر وہ متروک ہو جائے تو اس کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے کیونکہ اب صرف لفظ نہیں رہتا، گزری ہوئی تاریخ، فراموش شدہ تمدن، تہذیب اور روایت کی داستان بھی اپنے سینے میں سمو لیتا ہے اور بلبل ہزار داستان بن جاتا ہے۔ ایک مختصر سے لفظ میں ایک خاص عہد، خاص زمانے کی مذہبی، تہذیبی روایات اور اقدار کی بہت سی جھلکیاں بھی ہوتی ہیں لہذا جب کوئی لفظ متروک ہو جائے تو یہ معمولی حادثہ نہیں ہے۔ یہ ایک غیرمعمولی سانحہ ہے کیوں کہ صرف ایک لفظ متروک نہیں ہوا اس سے وابستہ بے شمار روایات بھی متروک ہوگئیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اس تہذیب و تمدن اور مذہب کی روایات میں یا تو بنیادی تبدیلی پیدا ہوئی یا تحریف کا عمل شروع ہو گیا یا جدیدیت روایت پر غالب آ گئی یا ایسے ثقافتی، معاشرتی حالات پیدا کر دیے گئے یا پیدا ہو گئے جن کے باعث وہ لفظ خارج ہو گیا۔ الفاظ اپنے عہد کے نظام اخلاق اور معاشرتی رویوں کی بہترین ترجمانی کرتے ہیں اور لفظوں کی تحقیق سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس عہد میں اخلاقیات کی سطح کیا تھی اور شرافت کا معیار کیا تھا۔ دوسرے لفظوں میں آپ اس عہد کی مذہبی، ادبی اور علمی حالت کا اندازہ بھی کر سکتے ہیں کہ مذہب معاشرت پرکس حد تک اثرانداز تھا اور اس کی گرفت کس درجے کی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ہر لفظ اپنی تاریخ میں اپنا شجرہ نسب پوشیدہ رکھتا ہے۔ بہت سے لفظ ایک قوم کی سیاسی، اخلاقی، معاشرتی ترقی یا زوال کی روداد لیے ہوئے ہیں۔ لغات لفظوں کی سوانح عمری ہے۔ کوئی خبر، کوئی سانحہ اور واقعہ ایسا نہیں ہوتا جو ماضی میں ظہور پذیر ہو چکا ہو اور لغات میں درج نہ ہو۔ اگر ایک ایک قوم کی تاریخ کے دفتر فنا ہو جائیں مگر ان کے لغات موجود ہوں تو اس کی مدد سے قوم کی تاریخ مرتب ہو سکتی ہے۔ لفظ گمشدہ تاریخ، گمشدہ تہذیب و تمدن اور تاریخ کی گرد میں ملفوف واقعات و حادثات کی سچی تصویر کھینچ دیتے ہیں۔ بہت سے متروک الفاظ اپنی خاموش زبان سے ہم کو سنانے کے لیے بہت سے ایسے واقعات یاد رکھتے ہیں جنہیں کاغذی تاریخ کے اوراق بھلا چکے ہیں۔ اپنی بات اردو کے اس شعر پر ختم کر رہاہوں کہ
لفظ بظاہر لفظ ہے لیکن باطن میں ایک چہرہ ہے
چہرے کیا پہچانیں جن کو لفظوں کی پہچان نہیں

یہ بھی پڑھیں

Khanzeb

قومیت کا انتشار ۔۔۔ مولانا خانزیب

قومیت کی تعریف میں دیگر بنیادی اکائیوں کے ساتھ اقتصادی اور معاشی اشتراک کسی قوم …