وہ بھی ایک زمانہ تھا

کبھی کبھار کوئی ایسا مضمون، تحقیقی مقالہ، کالم یا کتاب پڑھنے کو مل جاتی ہے جس کا بغور مطالعہ کر کے ہمارے اندر کا دبا ہوا، ڈرا ہوا، چھپا ہوا اور سہما ہوا پرانا ”انقلابی“ پھر سے انگڑائیاں لینا شروع کر دیتا ہے۔ گزشتہ دنوں اپنے چھوٹے بھائی اور معروف صحافی سید فخرکاکاخیل کا ایک کالم ”میڈیا اور آپ کی کھال“ صرف عام پڑھنے والے کی طرح پڑھا نہیں بلکہ غور سے مطالعہ کیا۔ سید فخرکاکاخیل ہمارے ان معدودے چند نوجوان پختون صٖحافیوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی علمیت، قابلیت، صحافتی اصولوں اس کے تمام رموز و اشاروں اور معروضی حالات سے گہری واقفیت کی بدولت بہت کم عرصے میں اپنے لیے ایک نام، مقام اور پہچان پیدا کی ہوئی ہے۔ موصوف کو میں بہت ہی قریب سے اس لیے جانتا اور پہچانتا ہوں کہ ایک تو ہم روزنامہ ”مشرق“ پشاور میں ایک ساتھ کام کر چکے ہیں اور ایک ہی کمرے کے رہائشی رہے ہیں۔ یعنی رومیٹ تھے۔ وہ عمر میں مجھ سے چھوٹے ہیں لیکن تعلیم، تجربے، مشاہدے اور حالات حاضرہ سے واقفیت میں بہت بڑے ہیں، مشرق میں وہ ہمارے چیف رپورٹر تھے اور ان سے ذاتی طور پر میں نے اردو زبان و بیان کے حوالے سے بہت کچھ سیکھا ہے خاص کر یہ جو آج تھوڑی بہت اردو لکھنے کی جسارت کرتا رہتا ہوں اس میں سید فخر کاکا خیل کا بہت بڑا عمل دخل رہا ہے۔ مجھ سے آج بھی جب کوئی ”گنتی“ کے نوجوان پختون صحافیوں کے بارے میں پوچھتا ہے تو میں سب سے پہلے سید فخرکاکا خیل کا نام لیتا ہوں۔ فخر سے میرا پیار اور اُنس کا ایک تعلق اور رشتہ ان کے والد مرحوم پروفیسر عنوان دین کاکاخیل کے توسط سے بھی قائم تھا۔ پروفیسر عنوان دین کاکا خیل نہ صرف پشتو کے ایک بلند پایہ قوم پرست اور ترقی پسند ادیب تھے بلکہ ایک بہترین کالم نویس بھی تھے اور فخر کاکاخیل سے بہت پہلے میرا ان کے والد کے ساتھ ادبی اور سیاسی تعلق بنا تھا۔ بہرحال یہ ایک الگ لمبی چوڑی داستان ہے۔ اگر زندگی رہی توکسی وقت ضرور لکھوں گا۔ آتے ہیں اپنے اصل موضوع پر کہ سید فخرکاکاخیل نے اپنے مذکورہ کالم میں آج کے کارپوریٹ کلچر میں صنعتی میڈیا، صحافتی آزادی، اصولوں اور ساتھ میڈیا مالکان کی حکومت اور دیگر اشتہاری پارٹیوں کے بارے میں ”شہد میں زہر“ دینے اور کھانے پینے کے حوالے سے جس ہلکے پھلکے انداز میں پردہ اٹھایا ہے اس سے ہمارے اندر کے پرانے ”انقلابی“ کی سیاسی اور صحافتی رگ بھی پھڑک اٹھی اور مجبوراً قلم اٹھا کر یہ سطور لکھنے بیٹھ گیا۔ ہو سکتا ہے کہ ہمارے آج کے نوجوان لکھاری اور صحافی ہماری ان باتوں پر ”ماضی پرستی“، ”مریضانہ ذہنیت“ یا ”ذہنی جلاوطنی“ کا لیبل چسپاں کر دیں۔ یا یہ کہہ کر ہماری باتیں رد کر دیں کہ ”وہ زمانہ اور تھا اب یہ زمانہ اور ہے“ ہم ان سے اس بات پر اختلاف بھی نہیں کرتے کہ ہر دور کے اپنے اپنے تقاضے ہوتے ہیں اور ہر نسل اپنی زندگی گزارنے کے اپنے اپنے معیار، اصول اور قواعد وضوابط رکھتی اور اپناتی ہے۔ لہذا ہم ان لوگوں میں سے نہیں کہ
وار می د خپلے زوانئی تیر شو
اوس چہ واڑہ لوبے کوی بدی می شینہ
مطلب یہ کہ میری جوانی کا دور گزر گیا اور اب جب بچے کھیلتے کودتے ہیں تو مجھے برُے لگتے ہیں۔ گاؤں میں میرا ایک پرانا انقلابی دوست ہے۔ ہم جب آپس میں مل بیٹھتے ہیں اور کسی نئے انقلابی اور ترقی پسند نظریے یا تھیوری کا ذکر چھیڑ دیتے ہیں تو وہ ہنس دیا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یار آپ بھی بڑے عجیب آدمی ہو۔ جب کوئی مریض پانچ سو ملی گرام گولیوں کا عادی ہو اور آپ اسے پھر دو سو ملی گرام کے استعمال پر مجبور کرتے ہوں تو یہ کیسے ممکن ہو گا، یہ تو اس مریض سے بڑی زیادتی اور ناانصافی ہے نا۔ وہ اگر پاگل نہیں تو ضرور پاگل ہو جائے گا اور مر جائے گا۔ اس کی یہ بات سن کر پھر ہم اکٹھے ایک زوردار قہقہ لگا دیتے ہیں۔ بہرحال آتے ہیں اپنے موضوع پر کہ آج کی صحافت، صحافیوں، میڈیا مالکان، حکومت اور صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی نمائندہ مرکزی اور صوبائی تنظیموں کے کردار کی بات ہے تو وہ بھی ایک زمانہ تھا، وہ بھی صحافی تھے، وہ بھی صحافیوں کی مرکزی اور صوبائی قیادت تھی کہ جس وقت حکومت نے پہلے پریس کمیشن رپورٹ 1956ء کی سفارشات کی روشنی میں 1960ء میں میڈیا مالکان کی رضامندی حاصل کیے بغیر ملک کے پہلے ویج ایوارڈ کا اعلان کر دیا۔1970ء میں حکومت نے کچھ مراعات شامل کر کے دوسرے ویج ایوارڈ کا اعلان کیا لیکن مالکان نے ایک بار پھر اسے مسترد کر دیا۔اس واقعہ پر پی ایف یو جے نے ہڑتال کی کال دینے کے لیے ریفرنڈم منعقد کروایا۔ ریفرنڈم کے نتائج کی روشنی میں یونین نے ہڑتال کا اعلان کیا۔ پی ایف یو جے اور ایف ای سی نے مشترکہ طور پر مطالبات کی منظوری کے لیے 16 اپریل 1970ء کی حتمی تاریخ کا اعلان کیا۔ حکومت کی ہٹ دھرمی ختم نہ ہوئی تو تمام یونینوں نے مشترکہ طور پر ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ اگلے دس دن تک ملک میں کوئی بھی اخبار شائع نہیں ہوا۔ اس دوران حکومت کی جانب سے صحافیوں کی صفوں میں تقسیم پیدا کرنے کی کوششیں جاری رہیں لیکن ہڑتال کی کال اپنا اثر قائم کر چکی تھی۔ حزب اختلاف کے رہنما ذوالفقارعلی بھٹو (پاکستان پیپلزپارٹی) اور ”نیپ“ (نیشنل عوامی پارٹی) اور دیگر ٹریڈ یونینز بھی پی ایف یو جے کے ساتھ شانہ بشانہ ہڑتال میں شامل ہو گئیں۔ بالآخر ہڑتال کامیاب ہوئی اور حکومت نے پی ایف یو جے کی تمام شرائط تسلیم کیں اور صحافیوں کو ادائیگیاں کر دی گئیں۔ لیکن ہڑتال کے فوری بعد اخبارات کے مالکان نے پی ایف یو جے کے متعدد اراکین کو ملازمتوں سے برخاست کر دیا۔ نوکریوں سے نکالے جانے والے افراد میں یونین کے متعدد مرکزی رہنما بھی شامل تھے۔ اب اگر ہم اس دورصحافت اور موجودہ دور صحافت یا دوسرے معنوں میں اس دور کے صحافیوں اور صحافتی تنظیموں اور موجودہ دور کے صحافیوں اور تنظیموں کا غیرجانب دارانہ جائزہ لیتے ہیں، موازنہ کرتے ہیں تو بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج ہمارے صحافی اور ہماری صحافتی تنظیمیں ہمارے درون خانہ اختلافات، ذاتی مفادات، حکومت اور میڈیا مالکان کے ساتھ درپردہ ہاتھ ملانے کی وجہ سے بالکل غیرفعال، غیرمتحرک، غیرموثر، مفلوج اور تقسیم ہوکر رہ گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج گلوبلائزیشن کے گھنے سایے تلے پلنے اور بڑھنے والے موجودہ کارپوریٹ کلچر میں میڈیا مالکان روزانہ متعدد کارکن صحافیوں کو بلا نوٹس گھر بھیج رہے ہیں۔ سینکڑوں ہزاروں صحافیوں کو ملازمت سے فارغ کیا گیا جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے مگر ہماری ترجمان مرکزی اور صوبائی تنظیمیں اور اس کے قائدین یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں مگر بولتے کچھ نہیں۔ یہ ہے ہماری آج کی صحافت، صحافی تنظیمیں اور قیادت۔
آپ ہی اپنے اداؤں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی

یہ بھی پڑھیں

بی آر ٹی، ایک ”پوڈری” اور رکشہ ڈرائیور – تحریر: ملک سیدزمان خان

پشاور بی آر ٹی منصوبے پر ایک واقعہ بلکہ لطیفہ یاد آیا۔ ایک ”پوڈری” (ہیروئنچی …

%d bloggers like this: