”تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے“

تحریر: روخان یوسفزئی

”تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے“ کے مصداق گزشتہ رزو اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین معروف ادیب، دانشور اور علمی و ادبی شخصیت پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک ایک روزہ دورے پر ”مہمان نواز“ شہر پشاور کے دورے پر آئے تھے۔ ان کے اعزاز میں اکادمی ادبیات پشاور شاخ نے برین انسٹی ٹیوٹ کے تعاون سے ایک پروقار استقبالیہ کا اہتمام کیا تھا جس میں خیبر پختون خوا میں بولی جانے والی تمام زبانوں کے نامی گرامی اور نمائندہ اہل قلم نے شرکت کی۔

استقابلیہ تقریب کی صدارت پشتو اور اردو کے معروف شاعر، ادیب، محقق، نقاد، ڈرامہ نویس اور کالم نویس سعداللہ جان برق نے کی جبکہ مہمان خصوصی اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک تھے۔ دیگر اعزازی مہمانوں میں اردو اور ہندکو زبان کے ممتاز شاعر و ادیب پروفیسر ناصر علی سید، خواتین شعراء کی معروف اور متحرک تنظیم د ”خوئیندو ادبی لخکر“ کی چیئر پرسن کلثوم زیب، اردو زبان کی معروف شاعرہ اور کاروان حوا ادبی تنظیم کی چیئر پرسن بشریٰ فرخ شامل تھیں۔ نظامت کے فرائض پشتو زبان کے ممتاز شاعر، ادیب، دانشور اور کمپیئر پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسف زئی نے بہت عمدہ انداز و بیان میں ادا کیے۔

تقریب میں مہمان خصوصی کے ساتھ آنے والے دیگر مہمانوں میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈاکٹر خاکم علی بروڑو اور ڈاکٹر ضیاء بلوچ بھی شریک تھے۔ اس سے قبل مہمانوں کو اسلامیہ کالج یونیورسٹی کا دورہ بھی کرایا گیا اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر نوشاد خان اور پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسف زئی نے انہیں اسلامیہ کالج یونیورسٹی اور خیبر سوسائٹیز کی جانب سے پشتو اور اردو کی ادبی اور علمی سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ استقابلیہ تقریب میں تمام مہمانوں کو شعراء اور ادباء کی جانب سے پختونوں کی روایتی پگڑیاں پہنائی گئیں اور پھولوں کے گل دستے پیش کیے گئے اور یادگاری شلیڈز بھی دیے گئے۔

اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین معروف ادیب، دانشور اور علمی و ادبی شخصیت پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک ایک روزہ دورے پر ”مہمان نواز“ شہر پشاور میں، اکادمی ادبیات پشاور شاخ کی جانب سے برین انسٹی ٹیوٹ کے تعاون سے ایک پروقار استقبالیہ، خیبر پختون خوا میں بولی جانے والی تمام زبانوں کے نامی گرامی اور نمائندہ اہل قلم کی شرکت


تقریب سے مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک نے کہا کہ کرونا وباء میں بھی ہم نے اپنی ادبی اور علمی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ آن لائن سیمینارز اور کانفرنسیں منعقد کیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں 72 زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں ایسی زبانیں بھی ہیں جو معدوم ہونے کے قریب سمجھی جاتی تھیں تاہم اکادمی ادبیات پاکستان نے انہیں اس خطرے سے نکالنے، محفوظ بنانے اور انہیں فروغ دینے کے لیے جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کے قالب میں ڈھالنے کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں، ورلڈبینک کے تعاون سے ان زبانوں کو زندہ رکھنے کے لیے جدید طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اکادمی ادبیات نے اب تک ملک کی مختلف زبانوں سے تعلق رکھنے والی 22 شخصیات کو لائف اچیومنٹ ایوارڈز ”کمال فن ایوارڈ“ سے نوزا ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ وقتوں میں کاغذ کا استعمال بہت زیادہ کم ہو جائے گا جس کی وجہ سے کتابوں کی چھپائی پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اس لیے ہم نے اس کا متبادل بندوست کیا ہوا ہے اور تمام مواد کو ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کتاب ختم ہو جائے گی مگر اس کی شکل بدل جائے گی، اس کے علاوہ دنیا کے دیگر شعراء و ادباء سے آن لائن ملاقاتوں، مکالمے اور مشترکہ سیمینارز کے لیے بھی اکادمی ادبیات کوشاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایسی زبانیں جو معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں انہیں بچانا اور محفوظ کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے کیونکہ زبان ایک ایسا ورثہ ہے جس سے کسی قوم کا ادب اور کلچر بھی وابستہ ہوتا ہے اور جب کوئی زبان معدوم ہو جاتی ہے تو ساتھ اس کا ادب اور کلچر بھی مٹ جاتا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پشتو کے معروف لکھاری اور سابق صوبائی وزیر عبدالسبحان خان نے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے مالی طور پر کمزور لکھاریوں کو ملنے والا ماہانہ اعزازیہ 13000 سے بڑھا کر 20000 روپے کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے۔ پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسف زئی نے کہا کہ اکادمی ادبیات ملک بھر کے لکھاریوں کا ایک مقدس ادارہ ہے اس لیے ملک بھر کے لکھاریوں کی ڈائریکٹری کو اپ گریٹ کرنے کے ساتھ اسے آن لائن نیٹ پر بھی ڈالا جا رہا ہے جو کہ خوش آئند اقدام ہے۔

انہوں نے کہا کہ شعراء و ادباء ہمارے ملک کا بہت بڑا علمی و ادبی سرمایہ ہیں مگر مالی طور پر انتہائی کمزور ہیں لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ اس طبقے کے لیے ہاؤسنگ سیکم کا بھی معقول بندوبست کریجبکہ سرکاری ہاؤسنگ سیکم میں لکھاریوں کے لیے بھی کوٹہ مختص کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک بھر میں ادبی سرگرمیوں اور مجالس کے لیے رائٹرز کلبز بنائے جائیں۔

معروف افسانہ نگار اور ادیب نور الامین یوسف زئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبے میں بولی جانے والی تمام زبانیں اس دھرتی کی زبانیں ہیں اور تمام زبانیں ہمارے لیے قابل احترام اور باعث افتخار ہیں اس لیے ہر ایک زبان کو سرکاری اداروں میں حصہ بقدر جثہ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ضروری ہے کہ صوبہ میں تمام زبانوں کے فروغ کے لیے مراکز بنائے جائیں۔

تقریب کے صدر سعداللہ جان برق نے کہا ملک میں بولی جانے مختلف اقوام کی زبانیں ہماری قومی زبانیں ہیں اور ان زبانوں کو پھلنے پھولنے کے لیے برابر مواقع دینے سے ہی ملک میں قومی یکجہتی پیدا کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو انسان اپنی زبان سے پیار کرتا ہے وہ کسی دوسری زبان سے نفرت کبھی نہیں کر سکتا، ہمیں زبانوں کے نام پر لڑانے اور ہمارے درمیان دوریاں یا غلط فہمیاں پیدا کرنے والے عناصر کا راستہ روکنا ہو گا۔

تقریب سے پروفیسر ناصر علی سید، کلثوم زیب، بشری فرخ، ارشد ملک، قاسم محمود بنوی، پروفیسر ضغیم حسن اور گوہرنوید نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اکادمی ادبیات پاکستان کی علمی اور ادبی خدمات کو سراہا۔

یہ بھی پڑھیں

روایتی مزدہ بسوں سے جدید ہائبرڈ بسوں تک کا سفر

تحریر: طارق اللہ ٹرک آرٹ ، گھونگھروں اور پھولوں سے سجھی لگ بھگ 50 سال …

%d bloggers like this: