باچا خان کے پشتونوں پر احسانات

باچا خان کے پشتونوں پر احسانات

عظیم افریقی رہنما نیلسن منڈیلا پر جنوبی افریقی لوگوں کے ساتھ ساتھ دنیا کے سارے آزادی پسند فخر کرتے ہیں اور ان کو مظلوم لوگوں کے مسیحا اور نجات دہندہ کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ اسی طرح امریکہ کے ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جونیئر پر بھی امریکہ کے سارے سیاہ فام دل و جان سے فدا ہیں اور موت کے ساٹھ سال بعد بھی وہ لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

ان دونوں راہنماوں نے جدید دور میں انسان کی غلامی اور ان کے استحصال کو ناجائز مانتے ہوئے جابر حکمرانوں اور قوتوں کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ نیلسن منڈیلا نے اگر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں تو لوتھر کنگ جونیئر نے اسی تگ و دو میں اپنی جان کا نذرانہ ہی پیش کر دیا۔

یہ لوگ خوش قسمتی سے امریکہ اور افریقہ میں تھے اس لئے یہ نہ صرف قابل فخر ہیں بلکہ نیلسن منڈیلا کو ان کی جد و جہد اور آزادی کے لئے بے مثال کوششوں پر امن کا نوبیل ایوارڈ بھی دیا گیا۔ جب یہ لوگ اپنے اپنے علاقوں میں ظلم اور بربریت کے خلاف نبردآزما تھے تو دنیا کے ایک دوسرے کونے، جسے آج کل لوگ پاکستان اور ہندوستان کے نام سے جانتے ہیں، میں بھی ایک انسان اپنے لوگوں کی آزادی کا خواب دیکھ کر بے قرار تھا۔ دیکھنے میں وہ کسی درویش اور ملنگ سے کم نہ تھے لیکن ان کا دل بادشاہوں سے بھی بڑا تھا۔ وہ ایک ایسے وقت میں اپنی قوم کے حقوق کے لئے ایک ایسی قوت کے سامنے کھڑے ہوگئے تھے جب ساری دنیا ان کی مٹی میں تھی۔

فرد تو کیا اس وقت بہت سے ایسے ممالک بھی تھے جو اس وقت کے برصغیر پر حاکم بنے قوت کے خلاف تھر تھر کانپتے تھے، لیکن چاسدہ کے اتمانزئی سے تعلق رکھنے والے یہ طویل القامت شخص کچھ اس ادا سے انگریزوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے کہ پشتون ان پر فدا ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور اپنی آزادی کے لئے ان کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ اس شخصیت کو دنیا آج باچا خان کے نام سے جانتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے کہا کہ دیکھنے میں وہ بالکل ملنگ تھے لیکن ان کے سینے میں دھڑکنے والا دل اتنا بڑا تھا کہ بادشاہ بھی ان کے سامنے ہیچ تھے۔

جیسا کے عظیم لیڈروں کا کمال ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوموں کو اگر کچھ بھی نہ دے سکے تو ان کی ایسی پرورش کرجاتے ہیں کہ پھر وہ اپنی مستقبل، لائحہ عمل اور حکمت عملی کا تشکیل بطریقہ احسن کرتے ہیں۔ اگر منڈیلا نے اپنی قوم کو آزادی سے نوازا ہے، لوتھر کنگ نے اپنے لوگوں کو ایک خواب سے آاشنا کرایا تو باچا خان نے اپنے لوگوں کو شعور دیا، سیاست سے باخبر کرایا اور ان کو ان کی خامیوں کا احساس بھی دلایا

پشتونوں کو دنیا ایک بہادر اور نڈر قوم کے نام سے جانتی ہے لیکن یہ قوم بدقسمتی سے ہمیشہ سے جغرافیائی ہئیت، حالات اور اپنی نا اتفاقی کی وجہ سے یا تو ایک دوسرے سے دور رہے ہیں اور یا پھر غاصبوں اور دنیا کی سپر پاورز کے ساتھ نبرد آزاما اور یہی وجہ ہے کہ اگر پڑوس میں ایران، ترکی اور چین نے ترقی کی تو پشتون بہت پیچھے رہ گئے۔ باچا خان نے نہ صرف اس حقیقیت کو سمجھا تھا بلکہ اس کی روک تھام کے لئے راستے کا تعین بھی کیا تھا۔

انہوں نے بارہا اپنے لوگوں کو احساس دلایا کہ ان کے پاس سب کچھ ہے اور اگر کسی چیز کی کمی ہے تو وہ ہے اتفاق۔ باچاخان نے سب سے پہلے پشتونوں پر زور دیا کہ وہ اپنے درمیان اتفاق پیدا کرے۔ یہی ہمارے خیال میں اس وقت کے لحاظ پشتونوں پر ایک بڑا احسان ہے۔ اسی طرح پشتون چونکہ بحیثیت قوم اپنی اہمیت سے بھی زیادہ تر ناخبر ہی تھے اس لئے ان کو اس اہمیت کا احساس دلانا بھی بہت ضروری تھا۔ باچا خان اس مقصد کے لئے گلی گلی گھومے، لوگوں سے ملے اور جرگے کیے۔ انہوں نے لوگوں کو سیاسی شعور دیا۔

لوگوں کو بتایا کہ اس ملک کے اصل مالک و مختار وہ ہیں، انگریز نہیں۔ انہوں نے لوگوں کے دلوں سے انگریزوں کا خوف بھی نکالنے کی کوشش کی۔ یہ سب کچھ وہ ایک ایسے وقت میں کر رہے تھے جب بہت سے لوگ انگریزوں کے یا تو طرفدار بنے تھے اور یا پھر چند روپوں اور جائیداد کے لئے انگریز سامراج کے آلہ کار۔ باچا خان نے جب انگریز جیسی طاقت کو للکارا تو انگریزوں کی جانب سے ان کے خلاف کارروائی بھی شروع ہوئی اور پھر تاریخ نے دیکھا کہ ایک آدمی نے صرف اور صرف اپنی قوم کے لئے اپنی زندگی کے 39 قیمتی ترین سال جیلوں میں گزار دیے۔

اس دوران وہ اگر اپنے بچوں سے دور رہے تو اپنے ملک پر کئی مرتبہ ان کے داخلے پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ ان کی زمینیں اگر ضبط کر لی گئیں تو ان پر غداری کے فتوے بھی لگا دیے گئے۔ لیکن ان تکالیف کے باجود بھی وہ لگے رہے، نہ کبھی دل ہارا اور نہ کسی پر الزام لگایا کیونکہ وہ سب اپنے لِیے نہیں بلکہ اپنی قوم کے لئے کر رہے تھے۔ باچا خان نے اپنی آپ بیتی "زما ژوند او جد و جہد” میں اپنی زندگی، خدائی خدمتگار تحریک، مدرسے بنانے، پشتونوں میں تعلیم کی اہمیت، انگریز سامراج کے خلاف اپنی جد و جہد آخر تک اپنے عدم تشدد کے نظرئے پر قائم رہنے تک کے سبھی زاویوں سے پردہ اٹھایا ہے۔

باچاخان کی جد و جہد، قید و بند کی صعوبتیں اور پشتونوں کے لیے جلاوطنیاں برداشت کرنا ان کے بلا شبہ اس قوم پر بے بدل احسانات ہیں اور اس کی شائد ہم کبھی بھی قرض نہیں اتار سکیں۔ لیکن ان کے علاوہ بھی باچا خان کے پشتونوں پر ان گنت احسانات ہیں جن کے بارے میں زیادہ تر لوگوں کو علم نہیں۔ احسانات کی اس فہرست میں سب سے پہلے نمبر پشتو املا ہے۔ باچا خان چونکہ ایک عالمی شخصیت بھی تھے اس لئے انہوں نے برملا یہ اظہار کیا تھا کہ تعلیم کا ذریعہ اپنی مادری زبان ہونی چاہئے۔ اس لئے جب انہوں نے آزاد مدرسے قائم کئے تو نہ صرف اس پشتو زبان و فوقیت دی بلکہ اس پر کام بھی کیا۔

اسی طرح پشتو زبان میں رسالے کا اجرا ان کا ایک ایسا کارنامہ ہے جس کی مثال ہی نہیں ملتی۔ تاریخ میں پہلی بار انہوں نے پشتو زبان میں "پشتون” کا اجرا کیا تھا اور اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ پشتو زبان میں صحافت کا سہرا بھی ان ہی کے سر ہے۔ اسی طرح باچا خان چونکہ ایک جہاندیدہ اور پڑھے لکھے شخص تھے اس لئے ان کو علم تھا کہ تعلیم ہی ایک ایسی قوت ہے جس کے ذریعے ایک قوم کی حالت بدلی جا سکتی ہے۔ اپنے اس سوچ کی بنیاد پر انہوں نے ایک ایسے وقت میں تعلیم کا علم بلند کیا جب یہاں تعلیم کو گناہ سمجھا جاتا تھا۔ ان کو طعنے دیے گئے، ان پر فتوے لگے لیکن وہ تو اپنے پہاڑوں کی طرح مضبوط تھے اس لئے کچھ بھی ان کے ارادے کمزور نہ کر سکے۔ انگریزوں نے ان کے مدرسوں کو بند کیا تو مقامی لوگوں کو بھی ان کے خلاف بھڑکایا لیکن باچاخان نے تعلیم کے لئے اپنی تگ و دو جاری رکھی۔ آج اگر ہمارے معاشرے میں لوگ تعلیم کے زیور سے بہرور ہیں تو اس میں باچاخان کے کردار کو نظرانداز کرنا تاریخ سے زیادتی ہوگی۔

اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ جب باچا خان نے آزادی اور اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کی تو صرف انگریز سامراج کے ظلم نہیں تھے بلکہ ہمارے معاشرے میں بھی کچھ ایسے رواج رائج تھے جو کہ کسی بھی ظلم سے کم نہیں تھے۔ اس وقت اگر تعلیم نہیں تھی اور لوگ اپنے حقوق سے بے خبر تھے تو اپنے گھروں میں عورتیں بھی اپنے حقوق سے محروم تھیں۔ آپ اندازہ کیجئے کہ جس معاشرے میں لڑکوں کو تعلیم کی اجازت نہیں تھی وہاں بچیوں کا کیا حال ہوگا۔ ایسے ماحول میں باچاخان نے عورتوں کی تعلیم پر زور دینا شروع کیا۔ ان کی ایک ایسی قول میں یہاں لکھنے والا ہوں جو کہ بیک وقت فلسفے، علمیت، ماضی کے دریچوں اور مستقبل کا حال سنانے والا ہے۔ باچا خان کا یہ قول میرے خیال میں سینکڑوں کتابوں پر بھاری ہے۔

باچا خان نے فرمایا تھا "اگر تم دیکھنا چاہتے ہو کہ کوئی معاشرہ کتنا مہذب ہے تو یہ دیکھو کہ وہاں عورتوں کے ساتھ سلوک کیسا کیا جاتا ہے”۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ ترقی پسند اور لبرل دنیا تعلیم اور عورتوں کے حقوق پر بہت زور دیتی ہے لیکن بدقسمتی سے یہ بھول چکے ہیں کہ آج سے 100 سال پہلے باچا خان نے نہ صرف ان معاملات پر بات کی تھی بلکہ اس ضمن میں عملی اقدامات بھی اٹھائے تھے۔ سب سے بڑا جو احسان باچاخان کا ہے وہ عدم تشدد کے نظریے کا ہے۔

باچاخان اگر چاہتے تو پشتونوں کو انگریز سامراج کے خلاف لڑا بھی سکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اور ثابت کیا کہ وہ قول و فعل کے کتنے سچے اور پکے تھے۔ دنیا میں بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ہر قسم کے حالات میں اپنے نظریات پر قائم رہتے ہیں۔ باچاخان قول و فعل میں یکسانیت کے پیکر تھے۔ جو بات انہوں نے اپنی عین جوانی میں کہی تھی اس پر 98 برس کی عمر میں بھی قائم رہے۔ وہ جیل کے اندر ہوتے تو بھی عدم تشدد کے علمبردار تھے، وہ جیل میں ہوتے تو بھی۔ ان کو انگریزوں کی جانب سے بہت اکسایا گیا، ان پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹ گئے لیکن انہوں نے کبھی تشد کا راستہ نہیں اپنایا۔ اپنے اس عمل سے انہوں ساری پشتون قوم کو ہر حال میں اپنی بات پر کھڑا رہنے اور یوٹرن لینے سے باز رہنے کا درس دیا ہے۔

یہ تو وہ باتیں ہیں جن کے بارے میں بچہ بچہ جانتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی باچاخان کے اپنی قوم پر بہت احسانات ہیں۔ عموما ہر بڑے آدمی کی اولاد اپنے پاب کی طرح نہیں ہوتی۔ لیکن باچاخان اس میدان میں بھی کمال کر گئے۔ ان کے سب سے چھوٹے بیٹے عبدالعلی خان اگر تعلیم کے میدان میں استعارہ ہیں تو غنی خان پشتو شاعری میں بے مثل۔ بلکہ اپنے نادر خیالات اور تصوارت کی بنیاد پر غنی خان کو پشتونوں کا پہلا فلسفی مانا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اسی طرح پھر سیاست میں اصولوں کے دیوتا خان عبدالولی خان کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔

سیاست اور جمہوری نظام میں جب ان کی طرح قدآور اور اصول پرست شخصیت کا ذکر آتا ہے تو حساس اور حالات کو پرکھنے والے لوگوں کا سر فخر سے بلند ہوتا ہے۔ الغرض، باچاخان ایک ایسی شخصیت تھے جن پر بلا شبہ رشک اور فخر کیا جا سکتا ہے اور ان کے اپنی قوم پر احسانات بھی بے شمار ہیں۔ بس ضرورت اس امر کی ہے کہ باچا خان کی تعلیمات پر کام کیا جائے، ان کی تشہیر کی جائے اور ان سے کما حقہ فائدہ اٹھایا جائے۔

Google+ Linkedin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

*
*
*