حادثہ کہیے اسے یا کہ تماشا کہیے

حادثہ کہیے اسے یا کہ تماشا کہیے

حادثہ ایک لفظ ہے جس کے معنی ہیں کوئی بھی ایسا واقعہ کہ جو اچانک اور بلا کسی پیشگی معلوم وجہ کے رونما ہو، اسی طرح اس کا مفہوم کسی رودادِ ناگوار جس کا اختتام یا انجام کسی اذیت یا تکلیف پر ہو بھی لیا جاتا ہے۔ حادثہ مفرد ہے اور اس کی جمع حوادث ہے۔ لیکن پھر کچھ اہل زبان اس لفظ کا مفہوم یوں بھی بیان کرتے ہیں کہ کوئی بھی ایسا غیر منصوبہ واقعہ جس کے عواقب غیر مطلوبہ لیکن کبھی کبھی خوشگوار، دلفریب اور دل خوش کن بھی ہو سکتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ عرفِ عام میں ہم حادثہ کو منفی، تکلیف دہ، ناپسندیدہ اور مائل بہ تاوان تصور کرتے ہیں لیکن ایسا ہے نہیں کیونکہ کچھ حادثے نہ صرف خوشگوار بلکہ حیران کن بھی ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے تو شعراء حضرات بھی لفظ ’’حادثہ‘‘ کو اپنے اپنے ذوق کے مطابق مختلف پیرایوں، مطالب اور مفاہیم میں استعمال کرتے ہیں ع
یہ حادثہ تو ہوا ہی نہیں ہے تیرے بعد
غزل کسی کو کہا ہی نہیں ہے تیرے بعد (کفیل آزر امروہی)
لفظ حادثہ، جیسے کہ ہم کہہ چکے ہیں، اپنے وجود میں منفی اور مثبت دونوں پہلو سمویا ہوا ہے۔ یہ الگ بات کہ ہم نے اس لفظ کو اپنے ماحول کے مطابق صرف ان واقعات سے پیوستہ سنا ہے جن میں نقصان، زخم، تکلیف اور درد کا سامان ہو۔ جیسے کہ ہم خبروں میں دیکھتے یا سنتے ہیں کہ سڑک کے خوفناک حادثے میں بدقسمت خاندان کے اتنے لوگ زخمی یا اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔ اسی طرح ہم ایسی بھی خبریں دیکھتے، پڑھتے یا سنتے ہیں کہ کسی بھائی نے اپنے بھائی کا خون کر دیا۔ ایسی خبروں کی سرخیاں اکثر ایسی ہوتی ہیں، ’’خون سفید ہو گیا، سگے بھائی نے بھائی کے خون سے ہاتھ رنگ لیے۔‘‘ اب اگر دیکھا جائے تو یہ خبر بذاتِ خود ایک بہت بڑا حادثہ ہے کیونکہ ایک بھائی نے اپنی سگی ماں کے جنے بھائی کو قتل کیا ہے لیکن کیا ہمیں زیب دیتا ہے کہ خبر کو چھوڑ کر اس میں درد، ٹیس یا سنسنی ملائیں اور خود سے ہی حکیم یا پنساری بنیں اور یہ انکشاف کریں کہ قاتل کا خون بھی سفید ہو گیا۔ اسی طرح ٹریفک حادثے والی خبر میں ’’خوفناک‘‘ اور ’’بدقسمت خاندان‘‘ کچھ ایس اصطلاحات ہیں جن کا خبر کے ساتھ کوئی بھی جائز تعلق نہیں لیکن ہم چونکہ حادثہ کے معنوں سے بے خبر ہیں اس لیے خبروں میں ایسے حادثے ہمارے ہاں روز کے معمول ہیں۔ خبروں میں ایسی مہارت کو فرسودہ کاری بھی کہتے ہیں کیونکہ ان چیزوں کا خبر سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔ خیر، ہم بات کر رہے تھے لفظ ’’حادثہ‘‘ کے بارے میں۔ اب یہ بھی اہم بلکہ ضروری ہے کہ کوئی بھی کام یا بات بلا وجہ نہیں ہوتی اور ہو نہ ہو کسی بھی بات یا کام سے پہلے ایسا کچھ ہوا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں پھر وہی بات یا کام کیا جاتا ہے۔ ہماری اس تحریر کے پیچھے بھی ایک حادثہ کارفرما ہے۔ خدانخواستہ نہ تو ہم کسی چھت سے گرے ہیں، نہ کسی گاڑی نے ہم کو ٹکر ماری ہے اور نہ نیب سے ہمیں کوئی نوٹس موصول ہوا ہے کہ بھئی بتاؤ تمہارے پاس یہ دس سال پرانا لیپ ٹاپ، پانچ سال پرانا موبائل اور تین سال پرانے کوٹ واسکٹ کہاں سے آگئے۔ نہیں، ایسا کچھ نہیں ہوا۔ کاش ہو۔۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ ہم نے اچانک سے سنا ہو کہ ملک میں تیل چالیس روپے فی لیٹر کا ہو گیا ہے، ایک کروڑ نوکریوں کے لیے فارم بھروائے جا رہے ہیں یا ہمیں کوئی فارم موصول ہوا ہو کہ مردان میں شیخ ملتون کے قریب پچاس لاکھ گھروں میں ہمارا بھی نام آیا ہے۔ ایسا بھی کچھ نہیں ہوا ہے۔ کسی لکی ڈرا میں بھی ہمارا نام نہیں آیا ہے، کہیں سے ہماری زمین بھی نہیں نکل آئی ہے وغیرہ وغیرہ۔ تو پھر کیا ایسا حادثہ ہوا ہے جس کی وجہ سے ہم حادثہ پر حادثہ صادر فرما رہے ہیں۔ بھئی، جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ حادثہ صرف وہ نہیں جو کہ ہم سنتے اور سمجھتے آئے ہیں۔ یہ بہت ’’وسیع القلب‘‘لفظ ہے۔ اس کے پیرائے میں بہت کچھ آسکتا ہے۔ کلی کا پھول ہونا بھی ایک حادثہ ہے، نظروں کا چار ہونا بھی ایک حادثہ ہے اور اسی طرح روٹھنا یا مان جانا بھی حادثے ہی ہیں۔ اور اسی لیے حادثے صرف بدنما نہیں بلکہ خوشگوار بھی ہوتے ہیں۔ اسی طرح کچھ حادثے یک دم نہیں بلکہ سالوں پر محیط ہوتے اور کہیں سے اچانک جنم لیتے ہیں۔ بقول شاعر
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا (قابل اجمیری)
یہ بھی پڑھتے جائیں۔۔۔۔
حادثہ کون سا ہوا پہلے
رات آئی کہ دن ڈھلا پہلے (عین عرفان)
یہ ہم پھر کہاں لگ گئے۔ ہم بات کر رہے تھے کہ ہم یہ کالم کیوں لکھ رہے ہیں۔ اصل میں اخبار میں ایک خبر سے ہماری نظریں ٹکرا گئی ہیں۔ اب چونکہ نظریں ٹکرانا بھی ایک حادثہ ہی ہے، اس لیے ہم حادثہ پر لکھ ایک اور حادثے کو جنم دے رہے ہیں۔ حادثہ، معاف کیجئے، خبر یہ ہے کہ ’’مارچ میں کوئی سیاسی حادثہ ہو سکتا ہے۔‘‘ خدا نہ کرے کہ ہم ایسی کسی پیش گوئی کی جرات کریں اور وہ بھی سیاست میں۔ نہیں، کیونکہ ایک تو ہم اور ہمارے سیاسی معاملات کچھ اتنے معیاری اور مثالی نہیں جن کے بارے میں کسی حادثے کے احتمال سے ہم ڈر کر لکھنے پر مجبور ہوں کیونکہ یہاں تو ہر لمحہ کوئی نہ کوئی حادثہ رونما ہوتا ہی ہے اور دوسرا یہ کہ ہم نجومی بھی نہیں ہیں کہ آنے والے وقتوں کے بارے میں کچھ ’’فرما‘‘ سکیں۔ یہ جو خبر آپ نے پڑھ لی ہے یہ بات ایک وزیر صاحب نے کہی ہے۔ یہ وزیر صاحب ریلوے کے سدا بہار وزیر تو ہیں ہی مگر ان کی زندگی خود بھی ایک حادثے سے کم نہیں۔ یہ ملک و قوم کے بارے میں ہر وقت اتنے فکرمند رہتے ہیں کہ ہر وقت کسی نہ کسی حادثے کے انتظار میں رہتے ہیں۔ ویسے تو ہم ان کی پیش گوئیاں ایک عرصے سے نظر انداز ہی کرتے چلے آرہے ہیں کیونکہ یہ کبھی قربانی کی بات کرتے ہیں تو کبھی دو قربانیوں کی، کبھی لکھ کے دے دیتے ہیں کہ فلاں حکومت کا یہ آخری سال ہے لیکن پھر وہ حکومت اپنی مدت پوری کر لیتی ہے لیکن اس کے باوجود یہ لگے رہتے ہیں اور اپنی عادت سے باز نہیں آتے۔ اب کی بار انہوں نے ہمیں شش و پنج سے ہمکنار کیا ہے کیونکہ انہوں نے کسی حادثے کی بات ہے اور مارچ کے مہینے کا بھی ذکر کیا ہے۔ ایسے حوادث کی بات کے لیے اکثر ستمبر یا دسمبر کے مہینوں کے نام لیے جاتے ہیں لیکن پتہ نہیں کیوں اس بار شیخ صاحب نے ایک ایسے مہینے کا نام لیا ہے جو کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن کسی حادثے کے لیے موزوں نہیں۔ کیونکہ ہمارے ملک میں یہ مہینہ بہار کا مہینہ ہے، پھولوں کے کھلنے کا مہینہ ہے، ہر سو رت میں نگہتیں بکھرنے کا مہینہ ہے۔ لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی کہ شیخ صاحب نے کسی سیاسی حادثے کے لیے اس شاعرانہ اور رومان پرور مہینے کا انتخاب کیوں کیا ہے۔ لیکن وہ بادشاہ آدمی ہیں کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن چونکہ انہوں نے حادثے کا لفظ استعمال کیا ہے، اس لیے ہمیں تشویش ہے۔ لیکن چونکہ حادثہ تو خوشگوار بھی ہو سکتا ہے اور شاید کوئی اچھا حادثہ ہو جائے، شائد ہمیں شیخ صاحب کی گھر بسائی کی خبر مل جائے۔ ہم بھی کیا کیا سوچنے لگتے ہیں، جب انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ ’’سیاسی حادثہ‘‘ تو پھر ان کی شادی کیسے ہو سکتی ہے۔ تو پھر کیا ہے ایسا جو ملک کے سیاسی افق پر مارچ کے مہینے میں ایک حادثہ بن کر ابھر سکتا ہے۔ بھئی، اگر آپ ہم پہ تکیہ کرکے جواب کے انتظار میں ہیں تو سوری، کیونکہ ہم پہلے ہی عرض کرچکے ہیں کہ ہم نجومی نہیں ہیں کہ پیش گوئیاں کر سکیں۔ تو پھر، پھر یہ کہ بس آپ کے ساتھ میں بھی مارچ کے مہینے کا انتظار کرتا ہوں اور دیکھتے ہیں کہ شیخ صاحب کا یہ حادثہ کیا ہوگا اور ہوگا بھی کہ نہیں۔ ویسے بھی مملکتِ خداداد میں روز کوئی نہ کوئی حادثہ تو ہوتا ہی رہتا ہے۔ کہیں پارلیمنٹ میں تو کہیں سڑکوں پر، کہیں ٹی وی شوز میں تو کہیں ڈراموں میں۔
زندگی ٹوٹ کے بکھری ہے سرِ راہ ابھی
حادثہ کہیے اسے یا کہ تماشا کہیے (داؤد محسن)
٭٭٭٭٭

Google+ Linkedin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

*
*
*