شرم ہم کو مگر نہیں آتی

چچا غالب سے معذرت کے ساتھ ۔ ان کے مشہورِ زمانہ شعر میں اگر ہم نے بدعت کی ہے یا عام زبان میں اگر ہم نے ان کے شعر میں ہاتھ مارا ہے یا کرپشن کی ہے تو یہ بے وجہ بھی نہیں اور ازراہِ مذاق بھی نہیں۔ اصل میں کبھی کبھی ہمارے ہاں کچھ ایسے کام یا کارنامے نکل آتے ہیں جن کو بیان کرنے کے لیے الفاظ تو کیا حوصلہ بھی ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کوئی ذی شعور اور ذی عقل انسان جب ان کاموں یا کارناموں کے بارے میں سوچتا ہے تو لرز اٹھتا ہے لیکن پھر بھی بہت سے ایسے لالچی، خود غرض اور انسانیت سے دور لوگ ہوتے ہیں جو ان کاموں کو نہ صرف سرانجام دیتے ہیں بلکہ اپنا حق سمجھ کر اس کے لیے ہر جائز و ناجائز سعی و کوشش بھی کرتے ہیں۔ ایسے کام کرتے ہوئے ہم نہ اپنی عاقبت کا سوچتے ہیں اور نہ کسی دوسرے انسان کی ضرورت اور احتیاج کو مدنظر رکھتے ہیں۔ ایسے کام کرتے ہوئے ہم بالکل اندھے ہو جاتے ہیں اور اپنے سوا کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا۔ کہنے کو تو ہم خیرات بھی دیتے ہیں، حوادث کی صورت میں مدد کے لیے بھی لپکتے ہیں اور انسان دوستی کے بھاشن اور وعظ و نصیحت کی باتیں بھی بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ سنتے ہیں۔ ہم میں سے کچھ لوگ تو کسی بیان کو سنتے ہوئے ایسے روتے ہیں کہ آس پاس لوگوں کو بھی رلا کر چھوڑتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہماری خیراتوں میں ایک طرف اگر ریا کاری ہوتی ہے تو دوسری جانب ہم میں ہی کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو غریب غرباء اور مساکین کی زکواۃ اور صدقات کے پیسوں پر بھی ہاتھ صاف کر دیتے ہیں، حادثوں میں لوگوں کے کام آنا اگر انتہائی سعادتمندی کا کام ہے تو بدقسمتی سے متاثرین کے لیے جمع کیے گئے چندوں میں بھی خرد برد کی خبریں آتی رہتی ہیں، بیانوں کو تو ہم انتہائی انہماک سے سنتے ہیں، لرز بھی جاتے ہیں، کپکپی بھی طاری ہو جتی ہے لیکن جیسے ہی دکان وغیرہ پر پہنچ جاتے ہیں تو سب کچھ بھول بھال کر اپنے مسلمان بھائی کو لوٹنے میں لگ جاتے ہیں۔ رمضان کی تیاری میں دو ماہ پہلے لگ جاتے ہیں لیکن دودھ میں پانی ملانا بند نہیں کرتے، مسجدوں میں برقی قمقمے تو لگاتے ہیں لیکن ساتھ میں مصالحوں اور چائے میں زہر بھی ملاتے رہتے ہیں، اپنی دعاؤں کے پورا نہ ہونے کا شکوہ تو کرتے ہیں لیکن سود سے توبہ نہیں کرتے، رزق کی تنگی کا رونا روتے ہیں لیکن چغل خوری اور حسد سے باز نہیں آتے، ایسے ہیں ہم اور ایسے ہیں ہمارے اعمال۔ معاف کیجئے گا، لیکن ہمارے قول و فعل میں اتنا تضاد بھر گیا ہے کہ اب ہمیں کوئی گناہ، گناہ ہی نظر نہیں آتا۔ اپنے ٹماٹر کو بیچنے کے لیے قسم کھانا اگر دکاندار کا تسلیم شدہ حق ہے تو جھوٹ بولنا گاہک کا، بہن بیٹی کا حق نہیں دیتے اور پھر بدقسمتی کے لیے قصوروار اپنی قسمت کو ہی گردانتے ہیں۔ یہ اتنا رونا اس لیے رویا کہ اخبار میں خبر پڑھی۔ خبر کیا ہے بس ایک نوحہ ہے ہمارے زوال کا، ایک بدنما داغ ہے ہماری ایمانداری کے دامن پر، ایک چیخ ہے جو کانوں کے پردے چیرتی ہے، ایک شرم ہے جسے ہم دیکھ تو رہے ہیں لیکن محسوس نہیں کر رہے، ایک المیہ ہے جسے ہم المیہ ماننے کے لیے تیار نہیں، ایک بیوقوفی ہے جسے ہم عقلمندی مانتے ہیں، ایک ڈوب مرنے کا مقام ہے جسے ہم ترقی کا موقع سمجھتے ہیں، ایک بدبودار کام ہے جسے ہم مہارت سمجھتے ہیں، سیدھی سادی ایک موقع پرستی اور خود غرضی ہے جسے ہم موقع شناسی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ آپ میں سے بہت سے لوگ سمجھ گئے ہوں گے کہ ہم کس خبر کی بات کر رہے ہیں۔ اگر نہیں تو بتاتے چلیں کہ ہم کورونا وائرس کے پاکستان میں دو کیسز سامنے آنے کے بعد سرجیکل ماسک کی قیمتوں میں اچانک اور ہوشربا اضافے کی بات کر رہے ہیں۔ جیسے ہی دو تین دن پہلے خبر آئی کہ کراچی میں کورونا کا متاثرہ مریض سامنے آیا ہے تو سارے ملک میں اس وائرس کی ہولناکی کے پیش نظر سارے لوگ سہم گئے، حکومت نے ایران کے ساتھ احتیاط کے پیش نظر اور اس وائرس کی روک تھام کے لیے بارڈر بند کر دیا، ایران سے واپس آنے والوں کی سکریننگ اور ان کو قرنطینہ میں رکھنے کے انتظامات کیے تو کچھ ناعاقبت اندیشوں نے لوگوں کے ڈر سے فائدہ اٹھانے کے لیے ماسک کو یا تو غائب کر دیا اور یا ان کی قیمتیں اتنی بڑھا دی گئیں کہ لوگ کورونا کو بھول کر ماسک کی قیمتوں کا رونا رونے لگے۔ ایک خبر تو ایسی بھی آئی کہ اسلام آباد میں کسی نے بہت بڑا ہاتھ مارنے کے لیے ایک ہی وقت میں پورے ساٹھ ہزار ماسک خرید لیے۔ اب اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ شائد اس شخص نے یہ ماسک غریبوں میں مفت بانٹنے کے لیے خریدے ہوں تو خیال تو بہت نیک اور اربوں روپوں کا ہے لیکن کیا کریں کہ
؎ خیال تو خیال ہی ہوتا ہے اور بقول شاعر
دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
لیکن مزید معلومات کے مطابق اس شخص نے ساٹھ ہزار ماسک ذخیرہ اندوزی اور اس سے منافع حاصل کرنے کے لیے خریدے ہیں۔ کیسے لوگ ہیں ہم، جہاں بھی اپنا اصل چہرہ دکھانے کا موقع ملتا ہے، ہم پیچھے نہیں رہتے۔ کیوں بھول جاتے ہیں اپنی وہ اقدار جس کے قصیدے سناتے ہوئے ہم تھکتے نہیں، کیوں بھول جاتے ہیں وہ درد جس کو ہم ہمیشہ اپنے لیے مگر دوسروں کے دلوں میں ڈھونڈتے ہیں، کیوں بھول جاتے ہیں وہ انسانیت جس کا ہم ہر دم بھاشن دیتے رہتے ہیں، کیوں بھول جاتے ہیں کہ چار دن کی چاندنی کے لیے عمر بھر کی منافقت گھاٹے ہی کا سودا ہے، کیوں بھول جاتے ہیں کہ انسان کی بھوک کو صرف مٹی ہی مٹا سکتی ہے۔ مجھے جذبات بالکل بھی پسند نہیں کیونکہ جذبات میں انسان حقائق سے دور چلا جاتا ہے اور اس بات کا بھی احتمال پیدا ہو سکتا ہے کہ انسان فائدے کے بجائے کہیں نقصان کی بات ہی نہ کر بیٹھے۔ لیکن ہم انسان ہیں، ہمارے سینوں میں دل ہیں جو کہ پتھر کے نہیں بلکہ گوشت کے بنے ہیں اور اس دل کی وجہ سے کبھی کبھی درد محسوس ہوتا ہے اور انسان جذبات کی رو میں بہہ کر دل کی باتیں کر جاتا ہے۔ مجھے ماسک کے اس معاملے پر غصہ نہیں بلکہ افسوس اور افسوس سے بھی بڑھ کر رحم آرہا ہے۔ لوگ دنیا میں کہیں مثال قائم کرتے ہیں تو دوسروں کو نیکی اور اچھائی کے لیے اکساتے ہیں، لوگ ان کی مثال دے کر دوسروں کو نیکی کی طرف راغب کرتے ہیں۔ جیسے کہ امریکہ اور یورپ میں جب کرسمس نزدیک آتا ہے تو قیمتیں یا تو کم کر دی جاتی ہیں اور یا پھر ان پر منافع نہیں کمایا جاتا۔ ایسا کرنے سے ان کا صرف یہی ایک مقصد ہوتا ہے کہ سارے لوگ کرسمس کو بھرپور طریقے اور خوشی سے منا سکیں۔ اور ایک ہم ہیں، کسی کی خوشی کو بڑھانے کی سعادت تو شائد ہماری قسمتوں میں نہ ہو لیکن الٹا لوگوں کے حقوق چھیننے سے بھی باز نہیں آتے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی ایک انسان کی جان بچانا ساری انسانیت کو بچانے کے برابر ہے۔ اب اگر کورونا سے انسانوں کو خطرہ ہے اور ہمارے پڑوسی ممالک چین اور ایران میں اس سے ہلاکتیں ہوئی ہیں تو ہماری مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ایک طرف اتحاد کا مظاہرہ کریں تو دوسری جانب دل بھی کھول کر ماسک جمع کرنے کے بجائے لوگوں کی خدمت کے لیے باہر نکلیں۔ انسان اور تاریخ اگر انسانوں کے کمالات، ایجادات، احسانات اورحادثات یاد رکھتے ہیں تو یہی تاریخ انسانوں اور معاشروں کی کمزوریاں، خودغرضیاں اور لالچ بھری کہانیاں بھی بھولتی نہیں۔ ہم اگر چاہتے ہیں کہ تاریخ ہمیں لالچی، خود غرض اور تنگ نظر لوگوں کی شکل میں یاد نہ رکھے تو ہمیں اپنے چہروں پر سجے منافقت اور دو رنگی کے ’’ماسک‘‘ ہٹانے ہوں گے، ہمیں اگر مثال بننا ہے تو ہمیں ’’سب میرا‘‘ نہیں بلکہ ’’سب، ہم سب کا‘‘ کا رویہ اپنانا ہوگا۔ اگرکوئی اپنا ماسک کسی کو دے نہیں سکتا تو کم از کم دوسرے کو اس سے محروم تو نہ کرے۔
٭٭٭٭٭

یہ بھی پڑھیں

دیکھتے ہیں آگے ہوتا ہے کیا؟۔۔۔ سنگین ولی

کرونا وائرس کی وباء نے عالمی طاقت کے توازن کو بگاڑ دیا ہے۔ پرانے گلے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔