آئیں کر دکھائیں!

کورونا کے بارے میں آج دنیا کا بچہ بچہ جانتا ہے کیونکہ یہ ساری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ جس تیزی سے یہ وائرس پھیل چکا ہے اتنی ہی تیزی سے اس کے بارے میں افواہیں بھی عام ہوئی ہیں۔ اس کی ہولناکیوں سے بھی دنیا واقف ہوچکی ہے کیونکہ یہ تادمِِ تحریر لاعلاج ہے۔ چونکہ اس کا علاج ابھی تک معلوم نہیں ہوا ہے اس لیے یہ خطرناک بھی ہے اور ڈراؤنا بھی۔ لیکن ایک راستہ ہے جس پر چل کر ہم نہ صرف اس سے بچ سکتے ہیں بلکہ اس وائرس کو شکست سے بھی دو چار کر سکتے ہیں۔ دنیا میں چین ہو یا امریکہ، انگلینڈ ہو جاپان، اٹلی ہو یا فرانس سارے ترقی یافتہ اور بڑے بڑے ممالک اس راستے کو اپنا چکے ہیں کیونکہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ ہے ہی نہیں۔ یہ راستہ انسانوں کی ایک دوسرے سے دوری، میل ملاپ سے گریز اور خود کو جتنا ممکن ہو سکے اپنے گھروں بلکہ کمروں تک محدود رکھنا ہے۔ چین نے جب محسوس کیا کہ ابھی اس کے ویکسین بنانے میں وقت لگ سکتا ہے تو اس نے لوگوں کو گھروں تک محدود کر لیا اور دنیا نے دیکھ لیا کہ جس چین میں ہر روز لوگ مر رہے تھے وہاں سے نئے کیسز آنا ہی بند ہوگئے۔ اطالویوں (اٹلی) نے بے احتیاطی برتی تو نتیجہ بھگت لیا لیکن اب بچاؤ کے لیے وہاں سماجی فاصلے پر ایسا عمل کیا جا رہا ہے کہ انسانوں کے شہروں میں عمارتیں تو دکھائی دے رہی ہیں لیکن ایسا سناٹا چھایا ہوا ہے کہ بندہ نہ بندے دی ذات، اور ایسا بطورِ فیشن نہیں بلکہ حالات کو قابو کرنے لیے کیا جا رہا ہے۔ اب آتے ہیں اپنے ملک کی طرف۔ حکومت ہو یا ڈاکٹرز، علما ہوں یا دوسرے باخبر لوگ، سب لوگوں کو فاصلہ رکھنے اور ایک دوسرے سے دوری اختیار کرنے پر زور دے رہے تھے لیکن ہم ایک کان سے سن اور دوسرے سے نکال رہے تھے۔ ہمارے ہاں مثبت کیسز تو کوئی ایک ماہ پہلے آنا شروع ہوئے تھے لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ افواہیں بھی پھیلنے لگی تھیں اور ہم حقائق کو تسلیم کرنے کے بجائے افواہوں کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ کوئِی کہہ رہا تھا کہ یہ امریکہ کی چال ہے تو کوئی چین کے لوگوں کی قوتِ مدافعت کا مذاق اڑا رہا تھے، کوئی دم اور تعویذ پر زور دے رہا تھا تو کوئی ٹوٹکے سامنے لا رہا تھا، کوِئی سینہ تھان کر اس کے خلاف لڑنے کا اعلان کر رہا تھا تو کوئی دعوی کر رہا تھا کہ یہ موسمی بیماری ہے جو کہ اتنے اتنے درجہ حرارت میں ٹک نہیں پائے گی اور اپریل میں ختم ہوجائے گی، ہم ان باتوں میں لگے رہے اور کورونا ہم میں سرایت کر رہا تھا۔ ہم تھوڑے سے تب جاگے جب لوگ مرنے لگے، لیکن پھر بھی ہم لگے رہے۔ کوئی ہاتھ ملانے اور نہ ملانے کے مسئلے میں لگا رہا تو کوئی شادیوں کی منسوخی پر غم سے نڈھال، کوئی فاصلہ رکھنے پر معترض تو کوئی بازاروں کی بندش پر سیخ پا۔ دنیا کے بڑے بڑے ممالک بند لیکن ہم اب بھی عقل سے کام لینے کے لیے تیار نہیں، لوگ چیخ رہے ہیں کہ خدارا احتیاط کریں اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے لیکن ہم بھی کیا لوگ ہیں، وہی کام کرتے ہیں جو دنیا نہیں کرتی۔ ساری دنیا کے شہر اور بازار بند لیکن ہم گھر میں بیٹھنے کے لیے تیار نہیں، سعودی اور ایران جیسے ممالک میں مساجد بند لیکن ہم فقہی مسائل میں لگے ہوئے ہیں، اور تو اور، کچھ لوگ تو علماء اور مشائخ کو بھی سننے کے لیے تیار نہیں۔ اصل میں ہم ہر چیز کو گپ مانتے ہیں، ہم کبھی کسی مسئلے یا معاملے کو سنجیدہ لیتے ہی نہیں۔ اب ہاتھ ملانے کو ہی لیجئے، دنیا کے سارے ماہرین اس بار پر متفق ہیں کہ ہاتھ ملانا اس وائرس کے پھیلنے کا باعث بن سکتا ہے لیکن ہم ہیں کہ باز ہی نہیں آرہے، باز آنا تو کیا اگر کوئی ہاتھ ملانے سے کترائے تو الٹا اس کو بے عزت کرکے چھوڑ دیتے ہیں۔ سارے ماہرین ہاتھ کو صابن سے دھونے پر زور دے رہے ہیں لیکن ہم ہیں کہ صابن کو ہاتھ تک نہیں لگا رہے۔ کیا ہیں ہم، کیوں کر رہے ہیں ایسا؟ حالات اور لوگ ایسے ہوں تو پھر حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ پوری طرح میدان میں اترے، لوگوں کو شعور دے، اقدامات اٹھائے اور لوگوں کو مجبور کرے کہ احتیاطی تدابیر پر پوری طرح عمل کریں۔ لیکن بدقسمتی سے ہماری حکومتیں اس بار بھی اس میدان میں بھی لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔ ایک سندھ حکومت ہے جس نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرکے ایک مثالی اقدام کیا ہے۔ کورونا سے ساری دنیا سہم گئی ہے لیکن ہمارے ہاں اشتہاروں میں لوگوں کو ترغیب دی جا رہی ہے کہ کورونا سے ڈرنا نہیں، لڑنا ہے۔ کیسے، مطلب کیسے ہم اس وبا سے لڑ سکتے ہیں جب کہ ابھی تک ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ اس کے ماننے سے ہی انکاری ہے؟ مجھے حیرت ہوتی ہے جب ساری دنیا اس وائرس کو شکست دینے یا اس سے بچنے کے لیے اپنے گھروں میں مراقبہ میں چلی گئی ہے اور ہم ہیں کہ یہ اشتہار چلا رہے ہیں کہ اس سے لڑنا ہے۔ بھئی، پہلے لوگوں کو سمجھائیں کہ یہ وائرس کیا ہے، کیسے پھیلتا ہے، کتنا خطرناک ہے، اس سے بچنا کیسے ہے اور اگر کوئی احتیاط نہ برتے تو پھر اس کے نقصانات کیا ہیں؟ لیکن ہم ہیں کہ احتیاطی تدابیر کو بالائے طاق رکھ کر بس وائرس کے ساتھ لڑنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ یہ کوئی ٹینک پر سوار دشمن ہے جس کے خلاف ہم نکل کر لڑیں گے یا کوئی انڈیا کی کرکٹ ٹیم ہے جس کے خلاف ہم اپنے جوانوں کا حوصلہ بلند کرنے کے لیے لڑنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ میرا مقصد ہرگز اپنے لوگوں کا حوصلہ پست کرنا نہیں لیکن یہ بھی بہت زیادتی ہوگی اگر ہم صرف حوصلہ بلند رکھنے کے لیے حقائق پر پردہ ڈالیں۔ ہمیں صاف صاف بولنا ہوگا، کھلے اور واضح الفاظ میں اپنے لوگوں کو سمجھانا ہوگا کہ یہ وائرس کتنا خطرناک ہے، ہمیں ببانگِ دہل یہ اعلانات کرنے ہوں گے کہ اگر ہم نے احتیاطی تدابیر نہیں اپنائیں تو کیا کیا ہو سکتا ہے، ہمیں لوگوں کو سمجھانے کے ساتھ ساتھ ان کو احتیاطی تدابیر پر عمل کرانے کا پابند بھی بنانا ہو گا۔ اس ضمن میں حکومت کو اب تردد اور پس و پیش کی کیفیت سے نکلنا ہوگا، احتیاط کے لیے جو بھی لازم اور ضروری اقدامات ہیں ان پر عمل کرنا ہوگا۔ اب سوچنے کا وقت ہے اور نہ انتظار کا، اب اگر وقت ہے تو عمل کا۔ پچھلے ایک ماہ سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ عوام احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں سنجیدہ نہیں، اس لیے اب حکومت کو لوگوں کی بھلائی کے لیے پوری قوت سے میدان میں آنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو علماء کرام، مشائخِ عظام، ڈاکٹرز، ماہرین، سائنسدان، کرکٹرز، اداکاروں، شعراء اور سیاستدانوں کی خدمات لینا ہوں گی۔ عوامی سطح پر بھی ہر شخص کو لوگوں کو آگاہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے، سوشل میڈیا پر سرگرم لوگوں کو بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر پھیلی بے بنیاد افواہوں سے بھی بچنا ہوگا اور اس قسم کے جتنے بھی پیغامات، ویڈیوز یا باتیں ہیں ان کو شیئر کرکے جھوٹ کو بے نقاب کرنا ہوگا۔ سیاسی راہنماؤں کو بھی کچھ دنوں کے لیے سیاست کو بالائے طاق رکھ کر لوگوں کو آگاہ کرنا ہوگا۔ کورونا وائرس ایک طرف اگر ایک سنجیدہ مسئلہ اور امتحان ہے تو دوسری جانب یہ ہمارے پاس ایک سنہرا موقع بھی ہے۔ اس موقع کو ہم اپنے پیروں کے نیچے کچل کر اپنا بے پناہ نقصان بھی کرسکتے ہیں اور اس موقع کو موقع جان کر اپنی عادتیں، اپنے بارے میں دنیا کی سوچ بھی بدل سکتے ہیں۔ اگر ہم نے اپنا غیر ذمہ دار رویہ ترک نہ کیا تو خدانخواستہ یہ وائرس ہمارے اندر پنجے گاڑ لے گا لیکن اگر ہم ایک ہوکر احتیاط شروع کریں، خود کو غیر ضروری میل ملاپ سے دور رکھیں اور خود کو گھروں تک محدود کریں تو ہم اس سے بچ جائیں گے۔ اور ایک بہت ہی اہم بات، ہماری حکومت کو اب مزید انتظار نہیں کرنا چاہئے، جو بھی ضروری اقدامات ہیں اب وہ اٹھا لینے چاہئیں کیونکہ عوام اس موڈ میں نہیں کہ صرف اعلانات، نصیحت یا بیانات پر عمل کریں۔ لیکن ہمارے لیے بہتر یہی ہوگا کہ حکومتی اقدامات سے پہلے ہی احتیاطی تدابیر اختیار کر لیں اور خود کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ دنیا کو بھی یہ پیغام دیں کہ ہم ذمہ دار قوم ہیں اور ہماری غیرذمہ داری کے سارے قصے من گھڑت، بے بنیاد اور ہماری تحقیر کے لیے گھڑے گئے ہیں۔ دوسری صورت میں کورونا ہے جس کی آنکھیں ہیں نہ کان، مذہب ہے نہ کوئی تہذیب۔ آئیں کر دکھائیں کہ اگر ہم میں لڑنے کی سکت ہے تو گھروں میں بیٹھنے کا بھی ہم سلیقہ اور حوصلہ رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

Hunarmal

وَلَو کُنتُم فی بُروجِِ مُشیدۃ

موت کو تھوک کے حساب سے بانٹنے والا کورونا وائرس پوری آب وتاب کے ساتھ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔