یہاں سوال کرنا منع ہے

ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں یہاں پر سوال کرنا ممنوع ہے۔ اگر مکمل طور پر ممنوع نہیں ہے تو ناپسندیدہ ضرور ہے۔ یہاں پر تنقید اور تنقیدی فکر کو برداشت نہیں کیا جاتا ہے۔ سوالوں کے جواب دینے کی بجائے یہاں سوال اٹھانے والے کو ہی قتل کر دیا جاتا ہے۔ معاشرے میں دائرے بہت زیادہ ہیں، مذہب کا دائرہ، سماج کا دائرہ، سیاست اور ریاست کا دائرہ، غرض کوئی بھی آزادی اور تیزی سے حرکت نہیں کر سکتا ہے مبادا کسی دائرے کو پار نہ کر دیں اور لوگوں کے غیض و غضب کا نشانہ نہ بن جائیں۔ اسی لئے اکثریت نے معاشرے کے ڈر سے اپنی شخصی آزادیوں کو خود ساختہ طور پر معطل کیا ہے اور خاموشی کو ترجیح دی ہے تاکہ عوام کی بے جا ستم اور قہر کا نشانہ نہ بن سکیں۔ نتیجتاً ہماری مشرقی دنیا جمود کا شکار ہے۔ نہ کوئی تخلیق ہو رہی ہے اور نہ کوئی عظیم کارنامہ سر انجام پا رہا ہے۔ اور دنیا کی ترقی میں مشرق کا حصہ بہت کم ہے جو کہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ جبکہ مشرق کے مقابلے میں مغربی دنیا کی مثال کچھ اور ہے۔ یورپ بھی صدیوں تک تاریکی اور جمود کا شکار رہا ہے۔ جب تک کلیسا اور فیوڈلزم کا تسلط برقرار تھا تب تک ترقی ممکن نہیں تھی، جب چودہویں صدی میں نشاۃ ثانیہ اور ریفارمیشن کی تحریک نے پاپائیت کو شکست سے دو چار کیا تب ہر شعبہ زندگی میں ترقی اور ترویج کے دروازے کھل گئے۔ لوگوں نے سوال اور تنقید کرنا شروع کیا تب تخلیق اور ترقی کے دروازے کھلنے لگے۔ اور سائنس،آرٹس، معیشت، فن تعمیر اور تمدن میں انقلاب برپا ہوا۔ جدید اور ترقی یافتہ ممالک کے تجزیے سے ثابت ہوتا ہے کہ ان معاشروں میں تحقیق اور تنقید کی آزادی ہے، سوال کرنے اور تشکیک ہی سے تو تخلیق کی راہیں کھلتی ہیں اور یہی ان کی کامیابی اور ترقی کے راز ہیں جبکہ پسماندہ معاشروں میں تشکیک اور تنقید پر غیر اعلانیہ پابندی عائد ہے۔ ان معاشروں میں تشکیک اور تنقیدی سوچ کو غداری اور کفر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ان پسماندہ طبقات میں رائج نظام اور حاوی قوتوں کو چیلنج کرنے، ان کے کردار اور حیثیت پر سوال اٹھانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بالفرض اگر کوئی سوال کرنے کی جرات کرتا بھی ہے تو اس کو سوال سمیت خاموش کرا دیا جاتا ہے اور یہ سوال اس کی زندگی کو خطرے سے دوچار کر سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں پر مروجہ نظام پر سوال اٹھانے کو کفر اور غداری تصور کیا جاتا ہے۔ ریاستی پالیسیوں اور بیانیے پر تنقید ناقابلِ برداشت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مولوی سے سوال اور تنقید کو کفر سمجھا جاتا ہے۔ سماجی ساخت اور طرزِ تمدن کو تنقیدی نگاہ سے دیکھنا اور ان کو ہدفِ تنقید بنانا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ ستم ظریفی تو یہ بھی ہے کہ اب تعلیمی اداروں پر بھی پہرے بٹھائے جاتے ہیں۔ اعلی تعلیمی اداروں میں ان عناصر کو خاموش کرایا جاتا ہے جو طالبعلموں کو سوال اٹھانا سکھاتے ہیں اور جو طلبا میں تنقیدی سوچ کو فروغ دیتے ہیں جو کہ انتہائی ناقابلِ برداشت اور معاشرے کو قرون وسطی میں دھکیلنے کی مذموم کوشش ہے۔ اور یہی سوچ پہلے بھی ہماری پسماندگی اور تباہی کی ذمہ دار تھی اور آگے بھی ہمیں پیچھے کی طرف لے جاتی رہے گی۔ گزشتہ کچھ عرصے میں پاکستان کی مشہور درس گاہوں سے مشہور اور معروف اساتذہ کو نکال باہر کیا گیا، پرویز ہود بھائی، عمار علی جان اور محمد حنیف اس کی تازہ مثالیں ہیں۔ ان پروفیسرز کا قصور کیا ہے ماسوائے اس کے کہ یہ طلبا میں شعور جگاتے تھے اور ان کو سوال اٹھانے کی تلقین کرتے تھے۔ تعلیم، تحقیق اور تدریس میں سے اگر تشکیک اور تنقیدی سوچ کو نکالا جائے تو بچتا کیا ہے؟ ظاہر ہے کچھ بھی نہیں بچتا ہے۔ اور معاشرہ ہر میدان میں جمود کا شکار ہو جاتا ہے پھر ترقی کے خواب دیکھنا ممکن نہیں رہتا ہے۔ غرض اگر ملک کو ترقی اور خوشحالی کے راہ پر گامزن کرانا ہے تو نصاب اور تدریس میں سے تنقیدی سوچ کو پروان چڑھانا ہے اور ایسے عناصر کو پروموٹ کرنا ہے جو طلبا کو تدریس کے ساتھ ساتھ معاشرے کے ذمہ دار شہری بنانے کی جستجو کرتے ہیں۔ ایسے عناصر معاشرے کی ترقی کے ضامن ہیں اور ملک دشمن یا انسان دشمن نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

sadar Jamal

دانہ خاک میں مل کر گلِ گلزار ہوتا ہے

جب لازو کا آخری وقت قریب آیا تو کسی نے اس کی زندگی کے کچھ …