قوم پرست رہنماء عبد الرحیم مندوخیل، جو عوام کے ساتھی تھے

     تحریر: سنگین ولی

عبد الرحیم مندوخیل کا شمار جدید پشتون قوم پرستی کے اہم ترین رہنماؤں میں کیا جاتا ہے۔ موصوف پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینئر ڈپٹی چیئرمین تھے اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے بانیوں میں شامل تھے۔ آپ دو دفعہ سنیٹر رہے، ایک دفعہ صوبائی اسمبلی اور ایک دفعہ قومی اسمبلی کے ممبر بنے۔ اپنی پارلیمانی زندگی میں وہ انتہائی فعال رہے اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کی منظوری میں آپ کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ سیاست کے ساتھ ساتھ ان کو تاریخ اور ادب میں بھی ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی سیاسی جدوجہد میں گزاری۔ وہ قوم پرستی کے ساتھ ساتھ طبقاتی نظام کے سخت ناقد تھے اور پشتون وطن کے زیارکش اور نچلے طبقے کے حقوق کیلئے زندگی کے آخری ایام تک لڑتے رہے اور اسی اثنا میں ان گنت مشکلات کا سامنا بھی کیا مگر مرتے دم تک اپنے موقف پر قائم رہے۔ رحیم صاحب کو باقی قوم پرست رہنماؤں میں اس لئے امتیاز حاصل ہے کیونکہ وہ ایک سیاسی رہنما ہونے کے ساتھ ایک علمی اور ادبی شخصیت بھی تھے۔ اس کے علاہ وہ تنظیم سازی کے بہت ماہر تھے اور اپنی پارٹی کی موجودہ تنظیم اور ڈھانچہ آپ ہی کی مرہون منت ہے۔

رحیم صاحب کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ ایک سیاسی رہنماء ہونے کے ساتھ ایک علمی اور ادبی شخصیت اور تنظیم سازی کے بہت ماہر تھے،

رحیم مندوخیل کا تعلق جنوبی پشتوخوا کے مردم خیز ضلع، ضلع ژوب سے تھا۔ وہ1937 کو ضلع ژوب کے گاؤں اومژہ میں پیدا ہوئے تھے اور میٹرک تک تعلیم ژوب کے مقامی سکول میں حاصل کی، گریجویشن کوئٹہ سے کیا اور پھر لاء کی ڈگری جامعہ پشاور سے حاصل کی۔ سیاست اپنی کم عمری میں ہی شروع کی کیونکہ سیاست آپ کو ورثے میں ملی تھا، آپ کا تعلق ایک سیاسی گھرانے سے تھا۔ ان کے دادا نے غازی امان اللہ خان کی تحریک میں فعال حصہ لیا تھا اور والد بھی پشتون قومی تحریک کے حمایتی تھے۔ 1950 کی دہائی میں انہوں نے فعال سیاست شروع کی، خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کے نظریے کو اپنایا اور ان کا ساتھی اور ہمنوا بن گیا۔ اور آخر دم تک اسی نظریے پر ڈٹے رہے۔ رحیم مندوخیل کئی وجوہات کی بنا پر باقی قوم پرستوں سے ممتاز اور منفرد شخصیت کے حامل ہیں۔ ایک تو وہ صاحب قلم ادیب اور اعلی پائے کے تاریخ دان تھے۔ انہوں نے چار تاریخی کتابیں اور کئی مقبول مقالے لکھے ہیں۔ ان میں سے ایک ”افغان اور افغانستان“ جو کہ پختونوں کی قدیم اور جدید تاریخ پر مشتمل ہے کافی مشہور اور مقبول ہے۔ اس کے علاوہ ”افغانستان اور انگریز استعمار“ بھی کافی مشہور اور تحقیقی کتاب ہے۔ باقی کتابیں بھی خاصی مستند اور تحقیق پر مشتمل ہیں۔

آپ نے سیاست میں زمانہ طالب علمی سے قدم رکھا۔ آپ پہلی بارانیس اکیانوے میں میں سینٹ کے ممبر بنے۔ انیس ستانوے میں صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے؛ جبکہ دوہزار چھ میں دوسری بار سینٹ کے ممبر اور دوہزارتیرہ کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشت این اے دوسو ساٹھ کوئٹہ چاغی سیکامیاب ہوئے تھے۔ عبدالرحیم مندوخیل سیاست، تاریخ، جغرافیہ ودیگر اہم موضوعات پر چار سے زائد کتابوں اور مقالوں کے مصنف ہیں۔ انیس سو چونسٹھ میں نیپ (یشنل عوامی پارٹی) کی بحالی میں مرکزی قردار ادا کیا، اور نیپ کی صوبائی کابینہ میں ڈپٹی سیکریٹری رہے۔

دوسری بات وہ تنظیم سازی کے انتہائی ماہر تھے۔ انہوں نے اپنی پارٹی کو جدید اور سائنسی بنیادوں پر استوار کیا۔ پارٹی کا موجوہ ڈھانچہ آپ کا بنایا ہوا ہے۔ اسی لئے ان کو جدید اور سائنٹفک تنظیم کا بانی کہا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک دیانتدار اور سچے سیاسی اور نظریاتی رہنما تھے۔ نصف صدی سیاست میں گزارنے کے باوجود ان کے کردار پر کوئی دھبہ اور داغ نہیں لگا۔زندگی میں نہ کوئی کرپشن کی اور نہ کبھی بد دیانتی کے مرتکب ہوئے۔ اس کے علاوہ وہ پارلیمانی زندگی میں بہت فعال رہے۔ چونکہ وہ خود وکیل تھے اسی لئے آئین کی نزاکتوں اور باریکیوں سے بخوبی واقف تھے۔ خاص کر اٹھارہویں ترمیم کے بنانے اور منظور کرانے میں آپ کی انتھک کوششیں شامل تھیں۔ انہوں نے اس ترمیم کے ذریعے بلوچستان میں پشتونوں اور بلوچوں کی برابری تسلیم کروائی۔ اور باقی ساتھیوں کے ساتھ مل کر مرکز سے صوبوں کو اختیارات کی منتقلی میں کامیاب ہوئے۔ یہ آپ اور دیگر ساتھیوں ہی کی بدولت ممکن ہوا جب وفاق پچاس سے زائد وزارتوں کو صوبوں کے حوالے کرنے پر تیار ہوا۔

عبدالرحیم مندوخیل کا صحافت بھی سے تعلق رہا۔ انیس سو اٹھاون سے انیس سو انچاس تک ریڈیو پاکستان میں نیوز کاسٹر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ قلعہ سیف اللہ میں کچھ عرصے تک ہیڈ ماسٹر کی حیثت سے سکول کو سنبھالا۔ کئی سال باقاعدہ وکالت کی مگر سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے وکالت بھی ادھورا چھوڑنا پڑا۔ علم اورسیاست میں مسلسل جدوجہد کی بدولت عبدالرحیم مندوخیل نے اعلی سیاستدان اور استاد کی شہرت پائی۔ سیاست، ادب، جغرافیہ، تاریخ ودیگر علوم پر عمدہ درجے کی دسترس رکھتے تھے۔ آپ کا تخلص (اولس مل) تھا جس کا مطلب ہے، عوام کا ساتھی۔

حیم صاحب ایک طبقاتی مبارز تھے۔ وہ طبقاتی امتیاز کو مٹانے کیلئے انقلابی مبارزے کو فوقیت دیتے تھے اور سماج کی معاشی اور معاشرتی ناہمواریوں کے خلاف نہ صرف خود جدوجہد کرتے رہے بلکہ اسی تناظر میں وہ ایک انقلابی پارٹی کے قیام اور خالص مبارزے پر زور دیتے تھے۔ انہوں نے کبھی بھی اپنے اصولوں پر سودا بازی نہیں کی بلکہ اپنے موقف پر سختی سے قائم رہتے اور تنظیم کے ساتھیوں کو بھی اصولوں پر سختی سے عمل کرواتے تھے۔ اپنا موقف منوانے کیلئے انہوں نے16 روزہ طویل بھوک ہڑتال کی تھی اور حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا تھا۔ ایک طویل مبارزے کے بعد وہ20 مئی2017 کو اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے مگر پشتون تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ زندہ اور تابندہ رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں

یہاں سوال کرنا منع ہے

ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں یہاں پر سوال کرنا ممنوع ہے۔ اگر مکمل طور …