’’بچے ہماری بات نہیں مانتے‘‘

’’بچے ہماری بات نہیں مانتے‘‘

گزشتہ کچھ دنوں سے ویلنٹائن ڈے کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، نوجوان جوڑے ایک دوسرے کو پھول، تحفے اور کارڈ بھیج کر اپنے من کو تسلی دیتے ہوئے اسے یادگار بنا نے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس دن حوا کی بیٹی اپنے تقدس، عظمت اور حیا کو خود نیلام کرتی ہے۔ اس دن آزاد خیال لوگ اپنی جنسی تسکین کیلئے انسانیت اور اخلاق کی تمام حدود پار کرکے لڑکیوں کی عزت نوچ لیتے ہیں۔ کسی کو پھول دے کر یا کسی کو چوم کر۔ ہمارا یعنی مسلمانوں کا تو خیر اس دن سے کوئی تعلق نہیں مگر ہم ویسے مغرب کی تقلید میں اپنے آپ کو سوشل سمجھ کر اس عمل کو بڑا اہم اور معتبر سمجھتے ہیں۔ میڈیا اور پھر ہمارے چینلز کے اندر تباہ شدہ اور طلاق یافتہ جوڑوں سمیت آزاد خیال لوگ اس دن کی حمایت کیوں کرتے ہیں؟ اس سوال کا جواب تو خیر آج تک نہیں ڈھو نڈا جا سکا۔ مغرب میں، جہاں تسکین قلب اتنا ضروری نہیں جتنا کہ عموماً لذت اور نفس کی خواہشات کیلئے انسان کے ساتھ ملاپ، 2017 میں ایک سروے کیا گیا تھا جس میں 18سے 34 سال کے تین ہزار مرد و خواتین سے انٹرویو لئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ دن ہمارے ہاں سارا دن عشق و محبت میں گزارنے کیلئے مخصوص ہے۔ یورپ اور دیگر ممالک میں پارٹیاں چاکلیٹ، پھولوں، شراب و کباب میں جوانیاں لٹائی جاتی ہیں۔ باقی تو چھوڑیں علم و تدریس جیسی عظیم درسگاہیں، یونیورسٹیاں بھی اس دن کو تہوار کی شکل میں با عزت طریقے سے مناتی ہیں۔ یہ دن یورپ میں زبردست بزنس کا دن بھی ہوتا ہے بلکہ یہ پورا مہینہ بزنس کا مہینہ ہوتا ہے۔ اس آزادی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ صرف 0.1 فیصد شادی شدہ جوڑے اس دن کو بطور خاص مناتے ہیں۔ والدین یہ مان گئے ہیں کہ سیکس بغیر شادی کے صرف AIDSکا موجب ہی نہیں بنتا بلکہ اس سے معاشرے کے اندر بگاڑ بھی پیدا ہوتی ہے، بے حیائی پھیلتی ہے اور یہ راستہ انسانوں کو گمراہ کرتا ہے۔ ہمارے ہاں نوجوان نسل کی بے راہ روی میں میڈیا کا منفی کردار کسی سے پوشیدہ نہیں، ہمارے ڈرامے اور فلمیں صرف محبت کے عنوان پر بنتی ہیں جن میں عریانیت، فحاشی اور بے حیائی دیکھ کر انگریزی فلموں کو انسان بھول جاتا ہے۔ اب تو فائیو جی آنے کے بعد آپ اور اس رنگین دنیا کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں، نہ وقت کا مسئلہ اور نہ ہی کوئی پابندی، لگام یا ماں باپ کی طرف سے ممانعت بلکہ زیادہ تر والدین خود بھی اس قبیح عمل سے گزر رہے ہیں حالانکہ مغرب میں جنسی آزادی کے باوجود سخت گیر مذہبی لوگ اس دن کو فحاشی کے زمرے میں ڈالتے ہیں۔ بنکاک کے ایک پادری نے تو اپنے ہم خیالوں کے ساتھ مل کر اس دوکان کو بھی نذر اتش کر دیا جہاں اس دن کے حوالے سے کارڈ اور دیگر چیزیں بیچی جا رہی تھیں۔ اس دن بارے کوئی خاص معلومات تو نہیں البتہ ایک کہانی ضرور ہے کہ تیسری صدی میں ویلنٹائن نام کے پادری کو ایک راہبہ سے عشق ہوا۔ مسیحی مذہب میں راہب اور راہبہ کیلئے نکاح کی گنجائش نہیں تھی اسلئے دونوں ایک دوسرے کو چاہتے ہوئے بھی شادی نہیں کر سکتے تھے تب ایک من گھڑت کہانی بنائی گئی اور ایک خواب کا سہارا ڈھونڈ کر اس جوڑے نے14فروری کو ملاپ اور عشق کا دن بنایا جس کے بعد سے اس گناہ میں دنیا بھی مبتلا ہو گئی۔ اس جوڑے کو قتل کرکے دنیا کیلئے عبرت بنایا گیا تاریخ میں اس کا ذکر خاص نہیں لیکن ہوس کے پجاریوں نے اس روایت کو برقرار رکھا جو آج تک زندہ ہے۔ آج دنیا بھر میں اس دن مختلف پروگرامز منعقد کئے جاتے ہیں، تحفے تحائف کے علاوہ منچلے بے باک اظہار محبت میں تمام حدوں کو پار کرتے ہیں اور اسے ایک مقدس تہوار کے طور پر مناتے ہیں۔ چونکہ اس دن کا اسلامی اقدار اور مذہب سے کوئی تعلق نہیں اس لئے اس کا منانا صرف معیوب نہیں بلکہ گناہ بھی سمجھا جاتا ہے تاہم ہمارے ہاں نوجوان نسل یورپ سے بڑھ کر اس دن کو منانے کے خواہاں ہیں۔ یہ بچے ہماری بات نہیں مانتے اور قرآن سے روگردانی کرتے ہوئے ہم سب کو عذاب میں ڈال رہے ہیں۔ ہم یہ دن کیوں منائیں؟ اللہ تعالی نے اسلام میں بے حیائی کے کاموں سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے جو لوگ ایمان والوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کیلئے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہیں اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے(سورہ النور 19) اسی طرح سورہ الا عراف ایت 33 میں ارشاد باری تعالی ہے، اے نبی کہہ دیجئے سوا اس کے نہیں میرے رب نے بے حیائی کے کاموں کو حرام قرار دیا چاہے ظاہری ہوں یا پوشیدہ، حضرت محمد ﷺ کا ارشاد ہے جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ ان ہی میں سے ہے(ابو داود)۔

Google+ Linkedin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

*
*
*