دعا کریں

اس وقت قطر میں جاری طا لبان اور امریکی نمائندوں کے درمیان افغانستان میں مستقل امن قا ئم کرنے اور جنگ بندی روکنے کیلئے مذاکرات ایک امن معاہدے پر منتج ہو رہے ہیں اور جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے تو فریقین اس معاہدے پر دستخط کر رہے ہوں گے۔ طا لبان کے نمایندوں سمیت امریکی وزیر خارجہ ماک پومیو کی دلچسپی اس بات کی علامت ہے کہ اس بار اس مسلے کا سیاسی حل نکال ہی لیا جائے گا تاہم اس کے بارے میں تمام تر معلومات کو کو خفیہ رکھا جا رہا ہے۔ ایک بات جو روز روشن کی طرح عیاں ہے وہ یہی کہ چالیس سال تک مسلسل جنگ میں رہنے کے بعد افغا نستان پر مسلط دنیا جہاں کی طاقتور افواج کا فتح کا خواب چکنا چور ہوا، بالکل اسی طرح جیسے 1979میں روس نے افغا نستان پر چڑھائی کرکے اسے کچھ دنوں کے اندر ہی فتح کرنے کا اعلان کیا تھا مگر پھر اس اعلان کا منطقی انجام آج تاریخ کاحصہ ہے۔ دونوں سپر طاقتوں کے درمیان پھنسی ہوئی دنیا کی اس با غیرت قوم نے سینہ تان کر بغیر کسی ٹینک، جہاز اور بکتر بند گاڑی کے دنیا کی سب سے طاقتور اور جدید ترین ٹیکنالوجی و اسلحے سے لیس افواج کا مقابلہ کیا اور یوں افغانی کٹے ہوئے بدن اور بے تحاشہ جانی و مالی قربانیوں کے بعد اپنے ملک کو ایک بار پھر غاصبوں سے آزاد کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس لڑائی میں افغان سب سے زیادہ اپنا نقصان کر بیٹھے۔ اٹھارہ سال کی اس امریکی جنگ میں ڈرون جیسی ٹیکنالوجی اور ہوائی لڑاکا طیاروں کا مقابلہ خالی ہاتھوں سے کرنے کے بعد بھی یہ قوم اس لئے زندہ ہے کہ ان کے پاس ایمانی طاقت کا جذبہ ہے۔ یہ خدشہ بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ امریکی انخلاء کے بعد یہ گروہ آپس میں حکومت کیلئے دوبارہ جنگ شروع نہ کریں اور خدانخواستہ قوم ایک بار ان سازشوں کا شکار ہو جس نے ماضی میں انہیں آپس میں مشت و گریبان کرتے ہوئیتباہ و برباد کیا، جس کا افغا نستان مزید متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اس سال نومبر میں امریکی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ ان انتخابات میں ایک مضبوط امیدوار ہوں گے۔ چونکہ صدر ٹرمپ افغا نستان سے فوج واپس بلانے کے اپنے انتخابی وعدے میں ناکامی کے باعث مشکل میں پھنس سکتے ہیں چنانچہ وہ چاہتے ہیں کہ جلد از جلد اس معاملے کو نمٹایا جائے تاکہ وہ اپنا ایک اور وعدہ پورا کریں حالانکہ پچھلے سال مذاکرات کے آٹھویں راؤنڈ میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب ٹرمپ انتظامیہ جنگ بندی کی تمام تر شرائط پر راضی ہونے کے بعد اچانک انکاری ہوئی۔ مبصرین اور نقاد عجیب مخمصے کا شکار ہوئے جب کابل میں دہشت گردی کے واقعے میں ایک امریکی فوجی سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے جس کے فوراً بعد ٹرمپ نے مذاکرات کو یکدم منسوخ کر دیا تھا۔ اس وقت مذاکرات کی میز پر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ طے شدہ شیڈول کے مطابق افغا نستان سے امریکی افواج کے انخلاء کا روڈ میپ جاری کیا جائے گا۔ اس طرح ٹرمپ کا وعدہ بھی پورا ہو گا اور دنیا کے اندر امریکیوں کی قدرافزائی بھی بڑھے گی جبکہ افغا نیوں کو ان کی سرزمین دوبارہ مل جائے گی۔ تاہم اس بار سب کچھ اوپن نہیں رکھا جا رہا ماسوائے یہ بتانے کے کہ معاہدے پر دستخط 29 فروری کو ہوں گے۔ اس لئے سب کچھ راز میں رکھا جا رہا ہے۔ اس بار مذاکرات میں سنجیدگی کا عنصر پایا جاتا ہے۔ افغانستان کی جنگ امریکیوں کی فتح نہیں بلکہ ویتنام کی بیس سالہ جنگ کی یاد تازہ کر دی۔ افغان جنگ میں افغانیوں کی قربانی رنگ لائی مگر یہ جنگ امریکیوں کیلئے تباہی کا ذریعہ رہا، امریکی حکومت کو 2 ٹریلین ڈالر کی خطیر رقم خرچ کرنا پڑی، اتنی رقم خرچ کرنے کے باوجود بھی امریکیوں کو وہ نتائج نہیں مل سکے جس کی انہیں امید تھی۔ الٹا کہا جا رہا ہے کہ افغا نستان کے70 فیصد حصے پر اب بھی طالبان کا کنٹرول ہے۔ اس وقت طالبان کی موجودگی دراصل میں امریکی افواج سمیت باقی ماندہ نیٹو افواج کیلئے صرف چیلنج ہی نہیں بلکہ ان کی طاقت، اہمیت اور موجودگی کی نفی ہے جس نے افغانستان کو کھنڈرات میں تو بدلا مگر ان کی طاقت کو ختم نہیں کر سکی۔ ایک سروے کے مطابق نائن الیون کے بعد سے لے کر اب تک 43000 لوگ اس جنگ کی بھینٹ چڑھے، امریکی جو اپنے آپ کو اس صدی کے سب سے طاقتور اور مرد آہن کہتے ہیں انہوں نے بھی اس جنگ میں 2400 امر یکی جانیں گنوائیں۔ اس جنگ میں القاعدہ کے ٹاپ لیڈر اب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن سیکنڈ اور تھرڈ منیجمنٹ کیڈرز فیلڈ میں ہیں۔ افغان سرزمین ایک اور کھیپ تیار کرنے میں لگی ہے تاہم جنگ سے تنگ لوگ اب جنگ ختم کرنے کا سوچ رہے ہیں کیونکہ جنگ مسئلے کا حل نہیں۔ کسی بھی جنگ کی معاشی، معاشرتی، سماجی اور عسکری پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے اور اگر یہ جائزہ افغانستان کی جنگ کا لیا جائے تو افسوس ناک پہلو سامنے آتے ہیں۔ افیون شاید ان وجوہات میں سے ایک ہے جس نے افغان جنگ کو طول دیا تاہم افیون کی کاشت اور مغرب کا اس سے ڈرنا ایک معمول ہے۔ یورپ کے اندر افیون کی سپلائی بڑھی ہے کوئی کم تو نہیں ہوئی۔ بہرحال افغان طالبان کے رہنماء جلال الدین حقانی نے امریکہ سے جنگ بندی کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے اور اپنے ایک مضمون ’طالبان کیا چاہتے ہیں‘ میں کھل کر لکھا ہے کہ افغان قوم نے امریکہ کے ساتھ اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے، اس جنگ میں ہر کسی نے کوئی نہ کوئی پیارا کھویا ہے، ہم نے جنگ کا راستہ خود چنا بھی نہیں، یہ جنگ ہم پر مسلط کی گئی تھی لیکن اب خون ریزی کا سلسلہ بند ہو نا چاہیے، افغانستان سے امریکی فوج کے نکلنے کے بعد بھی خدشات تو موجود رہیں گے کیونکہ کچھ لوگ کسی نہ کسی شکل میں افغانیوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور انہیں لسانی، مذہبی اور فرقوں میں تقسیم کر کے فائدے اٹھانا چاہتے ہیں۔ افغان جنگ ختم کرنے کا ایک حل یہ ہے کہ مل بیٹھ کر مسئلے حل کئے جائیں۔ حقانی کے مطابق ہمیں اس وقت یہ کوشش کرنی چاہیے کہ معاہدہ کامیاب ہو، ہمیں اس خول سے نکلنا چاہیے جس نے افغانستان کو اندھیرے میں رکھا، ہمیںافغانیوں کی ہر خواہش کا احترام کرنا چاہیے، معاہدے سے پہلے ہمیں اس قسم کی شرائط نہیں رکھنے چاہئیں جو ناممکن ہوں، اسلئے سب گروپوں کو متحد ہونا چاہیے اور سب کو مل کر تباہ شدہ افغانستان کو دوبارہ اس مقام پر لانا چاہیے جہاں پر اس کی تاریخی اہمیت تھی، اس دہائی میں اب یہ فیصلہ کہ جنگ بندی ہوگی یقیناً تباہ شدہ افغانستان کیلئے، افغانستان کے لوگوں اور اس خطے کیلئے بہت بڑا ا نعام ہے کیونکہ چالیس سال سے ہماری تین نسلیں اس جنگ میں تباہ و برباد ہوئی ہیں، ہم اسے فتح کا نام دیں یا نہ دیں لیکن ہمیں اپنی سرزمین کیلئے قربانی پر سر کو فخر سے بلند رکھنا چاہیے، تاہم مزید جنگ کی گنجائش نہیں، یقیناً نئے افغانستان کیلئے تمام فارمولے افغانستان سمیت عالمی برادری کیلئے بھی شراکت داری اور عزت کا باعث ہوں گے، ایک وقت تھا جب 2001 کے بعد ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے کی وجہ سے امریکہ نے القاعدہ اور طالبان کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا کر یا بہانہ بنا کر افغا نستان کو سبق سکھانے کی بات کی تھی، اب اٹھارہ سال بعد انہیں خدا یاد آیا اور خود سبق سیکھ کر جا رہے ہیں۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ جنگیں اسلحہ سے زیادہ ایمان کی طاقت سے لڑی جاتی ہیں لیکن ہمارا اتنا عقیدہ اور ایمان کہاں ورنہ دنیا کے ساتھ امن و محبت سے رہ کر ظالموں کے خلاف لڑنے کو جہاد کہتے ہیں، جو اسلام کا ستون ہے، ہم کبھی اس سلسلے میں تاویلیں پیش کرتے نظر نہ آتے بلکہ جو جیسا ہے اسی طرح نہ صرف بیان کرتے بلکہ ضرورت پڑنے پر اس کا عملی مظاہرہ کرنے میں بھی کبھی تاخیر سے کام نہ لیتے کیونکہ یہ ہم ہی تو ہیں جن کا اصل مدعا اور اصل منزل دنیا بھر میں امن کا قیام ہے۔ دعا کریں کہ افغان سرزمین کے ساتھ ساتھ پاکستان ہی نہیں پوری دنیا امن کاگہوارہ بن جائے۔
٭٭٭٭٭

یہ بھی پڑھیں

دیکھتے ہیں آگے ہوتا ہے کیا؟۔۔۔ سنگین ولی

کرونا وائرس کی وباء نے عالمی طاقت کے توازن کو بگاڑ دیا ہے۔ پرانے گلے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔