”گیم آف ڈیتھ“ ۔۔۔ سید ساجد شاہ

گذشتہ روز پاکستان ٹیلی کیمونیکشن اتھارٹی نے پب جی گیم کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ پی ٹی اے اس بارے میں مزید تفصیلات اکٹھی کرنے کے بعد اس گیم کے مستقبل پر سوچ رہی ہے جس نے آج کی دنیا کے کروڑوں بچوں اور جوانوں کو یہ نشہ چڑھایا کہ وہ صرف کمپیوٹر کی keys کے ذریعے کسی کو بھی بے نقاب کریں، کسی کو قتل کریں یا پھر سچ مچ اپنے آپ کو ہی قتل کر دیں۔ پب جی گیم حقیقت میں گیم نہیں بچوں کی تباہی و بربادی کا ایک راستہ، ذریعہ ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں بچوں نے خودکشی کی ہے۔ اس گیم کے بارے میں والدین اور سوسائٹی کے د یگر اراکین پر مشتمل کمیٹیوں نے با رہا حکومت کو عرضی پیش کی کہ یہ گیم چونکہ بچوں کی تباہی و بربادی، وقت اور پیسے کے ضیاع کے علاوہ اور کچھ نہیں اس لئے اس پر فوراً پابندی لگائی جائے مگر بے سود۔ اب لاہور ڈویژن میں ایک ہفتے کے اندر اندر مسلسل دو بچوں کی موت نے ہائی کورٹ کے ججز نے اس مہلک گیم کو عارضی طور پر بند کرنے کے احکامات صادر فرما دیئے ہیں مگر عوامی حلقوں میں اب بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ کیا لاہور ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ اس گیم کی مستقل بنیادوں پر بندش کا باعث بن سکے گا یا نہیں؟ پب جی کھیل، کھیل نہیں گیم آف ڈیتھ بن چکا ہے۔ پوری دنیا مانتی ہے کہ کوئی بھی کھیل کھیلنے کا مقصد اپنی صحت اور دماغ کو تر و تازہ ر کھنا ہوتا ہے کیونکہ ایک صحت مند جسم ہی طاقتور دماغ کا سبب بنتا ہے، جب انسان تر وتازہ ہو تو اس کے علم و بصیرت میں اضا فہ کرنے کا جواز بنتا ہے۔ دنیا نے مان لیا ہے کہ صحت مند جسم توانا و طاقتور تب بن سکتا ہے جب کوئی بھی انسان اپنی زندگی کا ایک حصہ کوئی ایسا ٹف گیم کھیلنے میں گزارے جس سے اس کے تمام اعضاء حرکت میں آئیں۔ مختلف ورزش کرے تاکہ اس کا جسم موٹاپے، شوگر اور دیگر بیماریوں سے بچے۔ دنیا کے سخت ترین گیم، کھیل کود، جمناسٹک، دوڑ وغیرہ میں شامل کھلاڑی ہمیشہ ایک پروقار اور آرام دہ زندگی گزارتے ہیں۔ ایسی تمام گیمز سے انسان کی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور صحت مند جسم سے وہ زندگی کی تمام تر مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے آج کے نوجوان، جو ان ڈور گیمز کے شیدائی بن گئے، کے جسم کا ایک حصہ یعنی دماغ active رہتا ہے، انسان ایک جگہ پر بیٹھ کر کئی گھنٹوں تک مسلسل کھیلتا رہتا ہے جس سے خوراک ہضم نہیں ہوتی جس سے پیٹ کی بیماریاں بڑھتی ہیں اور انسان سستی و کاہلی کا شکار رہتا ہے۔ اس گیم میں تنہائی سے بھی بندہ پریشان رہتا ہے۔ اس گیم کا منفی پہلو دنیا کے ساتھ ساتھ اپنے آپ سے بے خبر رہنا ہوتا ہے۔ اس گیم میں کھانے پینے سے بیزار لوگ رات کو چیختے چلا تے رہتے ہیں کیونکہ یہ سب لوگ اپنا Target ڈھونڈتے رہتے ہیں، ٹا رگٹ حاصل نہ کرنے کی صورت میں پھر یہ ہوتا ہے جیسے لاہور میں اس بچے کے ساتھ ہوا، ماں باپ کی زندگی جو پہلے سے Covaid -19 کی وجہ سے عذاب بنی ہوئی ہے اس پر اس گیم نے مزید عذاب چھوڑ رکھے ہیں، بچوں کی صحت پر منفی رحجانات اور اثرات الگ دیکھنے کو مل رہے ہیں جن سے بچنا ناممکن ہے۔ لاہور میں محمد ذکریا نے، جس کی عمر 16سال تھی، گلے میں پھندہ ڈال کر خود کشی کر لی کیونکہ وہ اپنے ٹارگٹ تک پہنچ نہیں پا رہا تھا۔ اس بچے کا موبائل فون تکیے کے اوپر پایا گیا جس سے پولیس نے بچے کی اس گیم میں ہار سے زندگی کی بازی ہار نے پر تفتیش کی۔ پب جی ایک انتہائی violent گیم ہے جس میں بچوں کو ٹارگٹ حاصل نہ کرنے کے بعد اس قسم کے تشدد سے زندگی ختم کرنے کے امکانات ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ اگر چہ محمد ذکریا کا باپ ایک بزنس مین تھا جس نے اپنے بچے کو کئی بار سمجھایا ہو گا مگر آج کل کے بچے کسی کا کہا کہاں مانتے ہیں۔ اس بچے نے خود کشی سے پہلے اپنی ہار کو تسلیم کیا ہو گا۔ اس نے یقیناً ایک ایسی بھیانک موت کا نقشہ ذہن میں کھینچا ہو گا۔ پھر بچے نے اپنے کمرے کا دروازہ پیچھے سے بند کیا ہو گا اور نتیجہ خودکشی کی صورت میں نکلا۔ اس سے تین دن پہلے لاہور کے کنٹومنٹ بورڈ میں ایک بیس سالہ بچے نے اسی گیم میں ٹارگٹ حاصل نہ کرنے پر خود کشی کی تھی جبکہ کچھ عرصۃ پہلے کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ایک 19 سالہ بچے کے دماغ کے اندر کینسر کے خلیے دریا فت ہوئے تھے۔ پب جی ایک ایسی گیم ہے جس کے اندر کھلینے والے بچے ایک دوسرے کے خلاف کھیلتے ہوئے زیادہ سکور بنانے کی کوشش میں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ اس گیم کے اندر ایک دوسرے پر حملہ آور ہونا اور ایک دوسرے کو مارنا بہت بڑا مشغلہ ہوتا ہے جس سے بچوں کی نفسیات پر دشمنی، غصہ، برتاؤ کی بدترین صورتیں یعنی مارنے، مرنے اور مروانے کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔ اس گیم کے موجد کو اس گیم سے روزانہ ملین ڈالرز ملنے اور اس گیم پر لاکھوں ڈالرز روزانہ خرچ نے اس گیم کو دنیا کی ممتاز گیم بنایا جس میں کسی انسان کا مرنا بغیر کسی وجہ کے شامل ہے۔ کیا یہ انتہائی دلچسپ بات نہیں کہ اب تک یہ گیم 34.2 Million بار ڈاؤن لوڈ ہو چکی ہے۔ پب جی کے ذریعے گیم کھیلنے کا اثر پاکستان کے ہر گھر تک پہنچا ہے اور اس وقت سکولوں اور کالجوں کے تمام فارغ بچے دن رات اس گیم کے ذریعے گروپس کی شکل میں ایک دوسرے کے ساتھ involve ہیں۔ اب تک ڈھائی گھنٹے تک کے لئے 250 کا پیکج لے کر یہ بچے ایک دوسرے کو مارنے کے علاوہ اپنے والدین کو بھی معاشی بدحالی سے گزار رہے ہیں اور اپنا مستقبل خود تباہ کر رہے ہیں۔ اس گیم کی وجہ سے بچوں کا اخلاقی لیول اس حد تک گر چکا ہے کہ وہ زیادہ باتیں کرنے کے علاوہ گالیاں دیتے ہوئے بھی سنے گئے اور سنے جا رہے ہیں۔ مسلسل یہ گیم کھیلنے اور مسلسل ہارنے کی وجہ سے ان بچوں کی ذہنی کیفیت بھی دیکھنے کے قابل ہے۔ کتاب کے نام سے نا اشنا بچے کتاب کی شکل کو دیکھ کر غصے میں آتے ہیں اور اب والدین سمیت اساتذہ بھی ڈر رہے ہیں کہ سکول کھلنے کے بعد پھر ان بچوں کا کیا ہو گا، کیسے ان کو سنبھالا جائے گا؟ ایک ایسی گیم کا فائدہ کیا کوئی بتا سکتا ہے جس کی وجہ سے کوئی بچہ مرے؟ اس لئے اس طرح کی گیمز مستقل طور پر بند کر کے ان بچوں اور ان کے والدین پر رحم کیجئے۔ یہ خالصتاً سٹیٹ کا کام ہے۔ عوام اور بچوں کو اس مصیبت سے چھٹکارا دیں جس کا فائدہ کوئی نہیں اور نقصان زیادہ ہی کیا موت کا کھیل بن چکی ہے۔

Advertisements

یہ بھی پڑھیں

پشتو موسیقی کل اور آج

لفظ موسیقی کے تاریخی پس منظر یا وجہ تسمیہ کے بارے میں آج تک مختلف …

%d bloggers like this: