ریپ کے بڑھتے ہوئے واقعات اور اس کی روک تھام

گذشہ روز بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے جلوس نکال کر اس خاتون کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا جس کو ایک گروپ نے بندوق کی نوک پر یرغمال بنانے کے بعد کئے دن تک جنسی تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ بنگلہ دیش کی کابینہ نے پیر کے دن سخت ترین سزا تجویز کرنے کی منظوری دی۔ جنوری سے لے کر ستمبر تک بنگلہ دیش میں ہزار ریپ ہوئے جن میں گینگ ریپ کا عنصر نمایاں رہا۔ پاکستان کے اندر بھی جب گزشتہ مہینے چارسدہ کے اندر ڈھائی سالہ بچی زینب کا ریپ ہونے کے بعد اس کی لاش کی بے حرمتی کی گئی اور اسے کھیتوں میں پھینکا گیا تو پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا۔ ریپ کے بڑھتے ہوئے ان واقعات نے جہاں معاشرے کے اندر ان لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے جو بیچارے بچیوں کے باپ ہیں وہاں دن بدن انتہائی تیز رفتاری سے اس قبیح عمل کا بڑھنا بھی کوئی کم تشویش ناک امر نہیں، ہر کوئی ریپ میں شامل مجرموں کو اپنی آخری انجام تک پہنچانے کیلئے سخت سزاؤں کی تجویز دیتا ہے مگر کئی وجوہات کی بنا پر ایسا ممکن نظر نہیں آ رہا۔ ان سب باتوں سے ایک چیز تو عیاں ہو ئی کہ ہمارے عدالتی نظام میں خرابی اور تاخیر سے معاملات بگڑتے چلے جا رہے ہیں۔ ماوزے تنگ کے زمانے میں جب بیجنگ شہر کے اندر ایک چودہ سالہ بچی کا ریپ ہوا تو تین گھنٹے کے اندر ملزم کو پکڑ کر پھانسی دی گئی کیونکہ اس نے پانچ کلومیٹر تک کی آبادی کو گر فتار کر کے سب کو بتا دیا تھا کہ اگر سچ نہیں بتاؤ گے تو سب مرنے کیلئے تیار رہو۔ ملک کے اندر کچھ معا ملات انتہائی حساس نوعیت کے حامل ہوتے ہیں جس کیلئے انصاف کا شعبہ صاف اور شفاف کرنا ضروری ہے اس طرح جب مظلوم کو انصاف فراہم ہو گا تو ملک بھی ترقی کرے گا۔ عدالت کے اندر بھی کچھ کالے بھیڑئیے ایسے ہوتے ہیں جو انصاف کے نام پر کسی کالے د ھبے سے کم نہیں ہوتے۔ قارئین کو یاد ہو گا کچھ عرصہ پہلے ایک معزز جج نے کورٹ میں اس وقت ایک خاتون کی عزت لوٹ لی تھی جب وہ شوہر سے خلع کرنے عدالت پہنچی تھی۔ ایسے میں انصاف کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے اور کس سے؟ دنیا پر حاوی خواہشات کی جنگ میں پہلے نمبر پر انسانی ذات پر حملہ ہے۔ ریپ اس کی بگڑتی ہوئی شکل ہے۔ حملے کی اس صورت کو ہم عزت اور غیرت کا نام دیتے ہیں۔ اس بد اخلاقی اور بد فعلی میں شامل لوگ چاہے جس قوم اور مذہب سے ہوں قابل مذمت بلکہ قابل نفرت ہوتے ہیں کیونکہ اپنی انا اور نفس کی پیاس بجھانے کیلئے ایسے لوگ دو اور تین سال کے بچوں کو بھی معاف نہیں کرتے حالا نکہ ایسے تمام بچے اتنی عمر میں کھیل کود سے تمام گھر والوں کا دل بہلاتے ہیں۔ بدقسمتی سے ظلم کی شکار ایسی تمام عورتیں باقی ماندہ زندگی جس شرم، بے حیائی، تنہائی اورتباہی و بربادی میں گزارتی ہیں اور بسا اوقات خودکشیاں کرتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسے لوگ جو اس کام میں لگے رہتے ہیں کیا ان کی اپنی بہن، بیوی، بیٹیاں اور ماں نہیں ہوتی، اگر ہوتی ہیں تو پھر وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ بچوں کے ساتھ سیکس کرنے اور انہیں قتل کرنے سے انہیں کیا ملتا ہے۔ وہ لذت جو انہیں کچھ دیر کیلئے ملتی ہے بعد میں ان کیلئے وبال جان بن جاتی ہے اور اسکی پوری خاندان و قبیلے کے لئے باعث ندامت،عورت کو ہم آج تک ایک سیکس سیمبل سمجھے ہوئے ہیں اس لئے منٹو نے کہا تھا کہ ہمارے لئے عورت وہ ہوتی ہے جو ہمارے گھر کے اندر ہو باقی تو سب گوشت کے وہ لوتھڑے ہیں جن کو ہم عقابی نظر سے دیکھتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے قصاب کی دوکان کے آگے کتے ہڈیوں اور گوشت کو دیکھتے ہیں۔ ہم اکثر یورپ کی مثال دیکھ کر کہتے ہیں کہ وہاں فحاشی و عریانی ہے مگر ہم اپنے آپ کو کبھی نہیں دیکھتے کہ ایک خا تون کو رات کے تین بجے ہم ہائی وے پر بچوں کے سامنے بے آبرو کرتے ہیں، کسی بھی خاتون کو گھر کی چوکٹ تک عقابی نظروں سے دیکھنا ہم عار، شرم نہیں سمجھتے اور تو اور ہم دو سال کے بچوں کو بھی نہیں چھوڑتے بلکہ بیچارے لڑکوں کو بھی ہم نہیں بخشتے جو کا ئنات قدرت میں بقاء اور حسن کی ضمانت ہیں۔ صرف یہی نہیں بد فعلی کے بعد ہم بچوں کو قتل کرواتے ہیں بچوں اور خواتین کو بوری میں بند کرتے ہیں یا پھر سمندر برد،ہم کیسے انسان ہوئے اور کیسے مسلمان؟ دنیا جیسی بھی ہو مگر ہم آزاد نہیں کیونکہ ہم ایک ایسے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں جس میں زناء کے بارے میں سخت وعید ہے سنگسار اور قتل سے بڑھ کر معاشرے میں اپنے اور خاندان کا عزت کھونا اس سے بھی بڑا شرم ہے۔ امام شافعی ؒ نے فرمایا تھا زناء ایک قرض ہے جس کو کرنا آپ نے ہے مگر اس کا خمیازہ آپ کے گھر میں آپ کی بیوی، بیٹی نواسی نے بھگتنا ہے۔ ہم تو اب اتنے طاقتور ہوئے کہ قدرتی آفات کی گھڑی میں بھی کسی کو نہیں بخشتے بلکہ ڈاکٹر ز جیسے مسیحا بھی اپنے مریض کو نوچتے ہیں۔ ہم نہیں سمجھتے شاید کہ اس عمل سے جہاں ہم دنیا میں خوار ہوں گے وہاں اللہ کے سامنے بھی ذلیل و خوار ہوں گے۔ تمام دنیا پر حاوی سیکس کا برملا اظہار کرنے والے اس کی سخت وعید سے بے خبر ہیں شاید لیکن مسلمان کو پتہ ہے تو پھر؟ اس وقت اگر افریقی ملک ایتھو پیا میں 60 فیصد خواتین کو ریپ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو تعجب نہیں جہاں سترہ میں ایک خاتون ریپ کا شکار ہوتی ہے۔ کینیڈا جیسے ملک میں خواتین سے بدسلوکی اور بے حرمتی کے اگر اب تک 2516918 کیسز ریکارڈ ہوئے تو خیر ہے، فرانس جیسے ترقی یافتہ اور ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک میں روزانہ اگر 7500 کیسیز ریکارڈ ہوتے ہیں تو بھی کوئی حیرت کی بات نہیں، جرمنی جسے دنیا ایک طاقتور ملک کے نام سے جانتی ہے اس میں اب تک ریپ کے 6505468 کیسز ریکارڈ ہوئے ہیں مگر یہاں بھی شرم کا نام تو کوئی نہیں حالانکہ جرمن اپنے آپ کو آرین کلاس میں سب سے عمدہ اور مہذب لوگ کہتے ہیں اور ان خواتین میں غیرت پر حملے کو برداشت نہ کرتے ہوئے 2,40000 خواتین نے اب تک خودکشی کی ہے۔ برطانیہ جو اپنے آپ کو انسانی حقوق کی دعویدار سمجھتا ہے اور پوری دنیا پر اس کا اثر کوئی بھی زائل نہیں کر سکا اس ملک میں ہر پانچ عورتوں میں سے ایک کو جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس حساب سے ہر سال انگلینڈ میں چار لاکھ خواتین اپنی عزت اور وقار کھو بیٹھتی ہیں۔ ان میں 16 سا ل سے لے کر56 سال تک کی خواتین شامل ہوتی ہیں۔ ہمارے خطے میں ہندوستان بھی بڑھتے ہوئے ریپ کیسیز کے حوالے سے یورپ سے پیچھے نہیں جہاں ہر 22 منٹ بعد ریپ ہوتا ہے۔ یہ اصلی تعداد کا دس فیصد نہیں کیونکہ زیادہ تر کیسیز میں خواتین اپنی عزت اور خاندان کی عزت بچاتے ہوئے رپورٹ نہیں کرتیں۔ سویڈن جیسے شریف ملک میں سالانہ 65000 ریپ کے کیسیز ہوتے ہیں۔ دنیا میں اس وقت ریپ کے حوالے سے ٹاپ پر امریکہ ہے جہاں ہر چھ میں سے ایک عورت ریپ کا شکار ہوتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 19.3 فیصد عورتیں اور 3.8 فیصد مردد زندگی میں کم ازکم ایک دفعہ ریپ کا شکار ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں اگر چہ ریپ کا معاملہ اس حد تک تو نہیں پہنچا مگر ہم کسی سے کم بھی نہیں۔ ہم نے بھی خواتین کے ساتھ ساتھ بچوں کو نہیں چھوڑا۔ 2010 میں ہمارے ہاں ریپ کے 2252 کیسیز ریکارڈ ہوئے۔ 2011 میں 2303، پھر 2012 میں 2788 ریپ کے کیسیز ریکارڈ ہوئے۔ 2013 میں ہم نے ترقی کر کے ریپ کے کیسیز کو 3002 تک پہنچایا اس طرح 2014 میں مزید اضافہ کر کے ہم 3508 تک پہنچے۔ 2015 میں پھر اضافے کے ساتھ یہ کیسز 3768 تک پہنچے اور 2016 میں یہ ریکارڈ 4139 ہوا۔ بدفعلی کے بعد 53 بچے قتل ہوئے جس میں 28 لڑکے تھے۔ اس میں بھی وہ بچے شامل تھے جن کی عمریں 10 سال تک تھی۔ اس طرح ایک انکشاف یہ بھی ہوا کہ 1765 واقف کار لوگوں نے بدفعلی کے ان واقعات میں موقع سے فایدہ اٹھایا جنہوں نے اپنے گھروں کے ندر ان بچوں کو بد فعلی کا نشانہ بنایا۔ ان میں رشتہ دار، دوست، اساتذہ مولوی سب شامل تھے۔ ان میں بھی 76 فیصد لوگوں کا تعلق گاؤں سے تھا باقی کا تعلق شہروں سے تھا۔ ان مجرموں کیلئے Article-34 میں جو سزا مقرر ہے اس کو نافذ کون کرے گا اس سوال کا جوب کوئی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں

Sultan

LNG کوئی گاجر مولی نہیں؟

غلط اور تاخیر سے فیصلوں کی وجہ سے قومی خزانے کو 122 ارب روپے کا …