حضورﷺ کی شان میں گستاخی کسی بھی صورت قبول نہیں

تحریر: سید ساجد شاہ

ہمارے تو خیر پیغمبر ہیں، جسے کوئی روح اور جان کا نام دے سکتا ہے۔ کوئی بھی مسلمان چاہے وہ دنیا کے کسی خطے، علاقے اور ملک کا ہو اپنے بارے میں کوئی بھی حد برداشت کر سکتا ہے مگر حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کا ایک لفظ برداشت نہیں کر سکتا کیونکہ حضورﷺ کی ذات اور شخصیت مسلمانوں کیلئے ایک کامل نمونہ ہے اور اپنی امت کیلئے ان کی محبت کی انتہاء کوئی نہیں، دنیا میں اپنی امت کیلئے بے حساب دعا ما نگتے رہے کبھی اپنی ذات، خاندان کیلئے دعا نہیں مانگی اور قیامت کے دن بھی اپنی پوری امت کیلئے شفاعت کا ذریعہ بنیں گے اس لئے مسلمانوں کا سو فیصد عقیدہ یہ ہے کہ ان کے نام اور شخصیت پر کوئی کمپرومائز نہیں۔

حضورﷺ کی بعثت کے بعد سے لے کر آج تک دنیا کے تمام مذاہب اس بات پر تو متفق ہیں کہ حضورﷺ پوری دنیا کیلئے رحمت بنا کر بھیجے گئے تاہم چند بدقسمت اور انتہائی ذلیل لوگ محمد ﷺ کے بارے میں جداگانہ خیال رکھتے ہوئے اپنی شہرت اور نام کیلئے ایسی حرکت کر جاتے ہیں جس سے مسلمانوں میں بے چینی بڑھ جاتی ہے۔ ایسی گندی حرکت چاہے کل کا مسلمہ بن کذاب کرے، آج کا غلام محمد قادیانی کرے یا پھر فرانس کا صدر مائیکل میکرون کرے یاد رہے محمدﷺ کا مقابلہ کسی کے ساتھ نہیں جب وہ امام الا انبیاء ہیں تو وہ ہر قسم کے انسانی خطاء اور گناہ سے مبرا ہیں اس پر سیاست کی اجازت نہیں اور نہ ہی دکا نداری چمکانے کی۔

آپؐ کو ماننے والے صرف مسلمان نہیں بلکہ وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے کبھی آپؐ کو نہیں دیکھا نہ ہی سنا اور پھر بھی آپؐ کی محبت میں پاگل رہے کیونکہ آپ ﷺ نے تاریکی کے ایک ایسے دور میں دنیا کو جلاء بخشی جب عرب و عجم پر جمود طاری تھا، ہر طرف اندھیر نگری تھی، انسانیت کا نام و نشان تک نہیں تھا

گنہیا لال گابا ایک ہندو بیرسٹر تھے انہوں نے1932میں اسلام قبول کر لیا اور ایک کتاب پیغمبر صحرا لکھی۔ ان کے قبول اسلام سے ہندوستان میں ایک کھلبلی مچ گئی۔ انہیں ایک جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر گرفتار کر لیا گیا لیکن وہ اسلام پر ڈٹے رہے۔ ایک انگریز جج نے ڈیڑھ لاکھ کے عوض (جو آج کے پانچ کروڑ کے برابر رقم ہے) ان کی ضمانت منظور کی، یہ اتنی بڑی رقم تھی کہ ہند کے مسلمانوں کے چندہ اکٹھا کرنے کے باوجود اسے پورا کرنا مشکل مرحلہ تھا لہذا ہر طرف مایوسی پھیل گئی اتنے میں اچانک سیالکوٹ کے ملک سردار علی عدالت پہنچے اور بڑی بے نیازی سے ضمانت کے مچلکے بھرنے لگے۔ لاہور کے ہندو ڈی سی نے ملک کو بلایا اور سمجھایا کہ وہ اتنا Risk نہ لیں۔ ایک طرف انگریز تھے دوسری طرف ہندو کیمونٹی کے بااثر لوگ،مگر ملک صاحب نہ مانے اور ضمانت کر لی جب کسی نے اس کے بارے میں وضاحت طلب کی تو ملک نے کہا یہ تو ڈیڑھ لاکھ ہے میں تو حضورﷺ کی شان آقدس میں پوری جائیداد بھی قربان کرنے کیلئے تیار ہوں، میں کسی گابا کو نہیں جانتا مجھے حضورﷺ نے رات کو خواب میں حکم دیا ہے کہ میں گابا کی ضمانت کر لوں کیونکہ اس نے مجھ پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام پیغمبر صحرا ہے جو مجھے بے حد پسند ہے۔

حضورﷺ کی شان عظمت میں گستاخی کرنے کو ہر مسلمان اپنے ساتھ ایک عہد بدنما قرار دینے کے بعد ایک بہت بڑا جرم سمجھتا ہے۔ وہ اللہ تعالی کے واحد پیغمبر رہے جنہوں نے عملی شکل میں آخرت کو دنیا پر ترجیح دی، اپنی امت کو جینے کا سلیقہ سکھایا اور دنیا میں رہنے کا طریقہ بھی وہ بیک وقت ایک پیغمبر، سیاست دان، پاکدامن انسان، با اختیار نبی، با اخلاق اور باکردار شخصیت کے حامل رہے اس لئے تحقیق اور سائنٹیفک ریسرچ میں امریکن سکالر مائیک ہارٹ Michal Hurt نے انسانی تاریخ کے چوٹی کے100 افراد The-100 میں حضورﷺ کو تہذیب پر زیادہ گہرا اثر والی پہلی شخصیت قرار دیا۔

اس وقت حقیقت میں ایمان کا امتحان ہے، حضورﷺ کو کسی کی ضرورت نہیں بلکہ ہمیں آپﷺ کی محبت اور شفاعت درکار ہے جس کیلئے کم سے کم ان کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو برا کہہ کر ایمان کے نچلے درجے میں رہ سکتے ہیں بس!

حضورﷺ قیامت تک ہر دور اور ہر نسل کیلئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ آپﷺ نے مسلمانوں کیلئے نہیں پوری انسانیت کیلئے اللہ تعالی کے دربار میں گڑ گڑا کر معافی مانگی، اپنی پوری زندگی انسانیت کی خدمت، بقاء اور کامیابی کیلئے وقف کی اور دنیا کو بتایا کہ اس دنیا کا اصل مالک اللہ تعالی کو پہچاننے اور صدق دل سے ماننے میں سب کی خیر ہے۔ جہالت، بدامنی، سود و غیبت، کفر و حرام کو پہلی دفعہ سمجھانے کا طریقہ بیان فرما کر آپ ﷺ نے مشرق و مغرب میں اللہ تعالی کی وحدانیت کا پیغام پہنچایا، آپؐ کو ماننے والے صرف مسلمان نہیں بلکہ وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے کبھی آپؐ کو نہیں دیکھا نہ ہی سنا اور پھر بھی آپؐ کی محبت میں پاگل رہے کیونکہ آپ ﷺ نے تاریکی کے ایک ایسے دور میں دنیا کو جلاء بخشی جب عرب و عجم پر جمود طاری تھا، ہر طرف اندھیر نگری تھی، انسانیت کا نام و نشان تک نہیں تھا، ایک ایسے وقت اور دور میں آپ ﷺ نے خود تکلیفیں اور صعوبتیں برداشت کرکے اپنی امت اور آنے والے نسلوں پر احسان کر کے اسے ذلت و رسوائی سے بچایا۔

ابھی حال ہی میں پورے ملک کے اندر حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے پر ہنگامے،توڑ پھوڑ جاری رہی، ہر کوئی اپنی بساط اور طاقت کے مطابق اس میں حصہ بھی ڈال رہا ہے کیونکہ سب کا عقیدہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کی شان میں گستاخی سب سے بڑا جرم ہے جس کی معافی کوئی نہیں چاہے وہ تسلیمہ نسرین ہو یا سلمان رشدی جیسے ملعون لوگ کیونکہ ایک مسلمان اس وقت تک کامل مسلمان نہیں کہلایا جا سکتا جب تک وہ پیغمبر اسلام محمد ﷺ پر ایمان نہ لائے۔ دنیا کے کونے کونے میں محمد ﷺ کے سپاہی اس وقت تیار کھڑے ہیں اور وہ آپ ﷺ کی نام پر کسی بھی کمپرومائز کیلئے تیار نہیں۔ ویسے بھی روزے کا مہینہ ہے اس مبارک مہینے کے اندر آپ ﷺ پر قرآن مجید کا نزول ہو ا تھا اور قرآن مجید وہ نسخہ ہے جس نے کا ئنات کے اندر تخلیق، تحقیق اور زندگی کے بارے میں نئی سوچ دی اور اللہ کی وحدانیت کا پیغام گھر گھر تک پہنچایا۔ اللہ تعا لی کے کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں میں آپﷺ کو رہبر اسلام اور امام کا رتبہ ملا، عرش معلی پر دنیا کی قائم ہونے سے پہلے آپ کا اسم درج تھا۔

ظاہر ہے ایک ایسی شخصیت کے بارے میں ہر بار اس طرح کے خاکوں کا مطلب کیا ہو سکتا ہے؟ یہی کہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کی جائے اور ان کی بے حرمتی کی جائے۔ اس عمل کے نتیجے میں اس وقت بھی پوری دنیا میں احتجاج اور مظاہرے ہوئے، لوگوں نے جلوس نکال کر اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔ یہ ہر کسی کا مطالبہ ہے کہ آخر ایک ارب اور سینتالیس کروڑ مسلمانوں کی دل آزاری کرنے سے میکرون اور ڈنمارک کو کیا ملے گا۔ بدقسمتی سے ایسے تمام لوگ دین سے مبرا ہیں، انہیں کسی کی عزت اور ناموس کا کوئی پتہ نہیں ہوتا اس لئے ایسی حرکات و سکنات کر کے وہ اپنی دشمنی اور نفرت کا ثبوت دیتے ہیں مگر حضورﷺ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔

مغربی ممالک میں بھی اس وقت ان خاکوں پر شدید رنج و غم اور غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ گذشتہ روز امریکہ کے کئی شہروں میں انتہائی سخت بارش و طوفان کے اندر ایک جلوس نکالا گیا۔ جلوس کے شرکاء فرانس کی حکومت اور صدر پر لعنت بھیجنے کے ساتھ ساتھ معافی کا مطالبہ کر رہے تھے اور مستقبل میں آپؐ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کیلئے سزا تجویز کرنے کی بات کر رہے تھے۔ کئی ممالک اس مسئلے کو بین الاقوامی عدالت میں لے جانے کی بات کر رہے ہیں، بہت سارے لوگ انتہائی جذباتی ہو کر فرانس کے صدر میکرون کو بددعائیں دے رہے تھے ایک ارب اور سینتالیس کروڑ مسلمان اس وقت اس عمل سے بہت نالاں ہیں جس میں بغیر کسی وجہ کے دنیا کے محسن پیغمبر کے بارے میں منفی خیالات اور ان پر خاکے اور فلمیں روز کا معمول بن چکا ہے تاہم اسے بدقسمتی کہیے کہ او آئی سی نے اب تک ایک اعلامیہ تک جاری نہیں کیا۔ عرب لیگ کے کسی ممبر ملک میں اتنی ہمت اور جسارت نہیں کہ لفظی خطاطی سے سہی مگر اس بات کا برا مانے۔ مسلمان ممالک کی اس منتشر اور دنیاوی جاہ وجلال میں گم جانے کی وجہ سے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کا عمل بڑھ رہا ہے۔ چاہیے تو یہ کہ او آئی سی فوراً ایک غیر معمولی اجلاس بلا کر دنیا کو بتائے کہ وہ اپنے پیغمبر ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف کس حد تک جا سکتے ہیں، بزنس اور سفارتی تعلقات کو کاٹنا کیا چیز ہے؟ بات جب آپ ﷺ کی عزت و عظمت کی آ جاتی ہے تو مسلمان جان دینے کیلئے تیار ہے۔

اس طرح عرب دنیا کے امیر ترین ممالک اگر آج بھی اجلاس بلا کر کم ازکم مذمتی قرارداد پاس نہیں کریں گے تو نام کے سب مسلمان قیامت کے دن حضورﷺ کو کیا منہ دکھائیں گے؟ اس وقت حقیقت میں ایمان کا امتحان ہے، حضورﷺ کو کسی کی ضرورت نہیں بلکہ ہمیں آپﷺ کی محبت اور شفاعت درکار ہے جس کیلئے کم سے کم ان کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو برا کہہ کر ایمان کے نچلے درجے میں رہ سکتے ہیں بس!

یہ بھی پڑھیں

سانحہ12 مئی تب سے اب تک

12 مئی2007 کو انسانی خون کی ہولی اس وقت کھیلی گئی جب اس وقت کے …