آج بھی تلخ ہیں بندہ مزدور کے اوقات!

تحریر: سید ساجد شاہ

یکم مئی دنیا بھر میں مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، مزدور تنظیمیں اس دن اپنے حقوق کیلئے میدان میں نکلتی ہیں۔ اس دن کو منانے کا مقصد مزدوروں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ کرنا اور اپنے لئے بنیادی انسانی حقوق کے ڈھانچے میں جگہ پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اس دن ریلیاں بھی نکلتی ہیں، جلوس بھی، بڑے بڑے نفیس ہالوں کے اندر لمبی لمبی تقریریں بھی ہوتی ہیں، ائیر کنڈیشنڈ ہالوں میں بیٹھے ہوئے مزدور لیڈرز، عموماً اس دن مزدوروں کے سر کا سودا کرتے ہیں شاید، اس کے باوجود اس دن کی مناسبت سے دنیا کو sensitize کیا جاتا ہے۔

یہ حقیقت اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ مزدوروں کی زندگی ہمیشہ مشکل میں رہتی ہے کیونکہ ان کی دہاڑی سے روزمرہ زندگی کی بنیادی ضروریات کا پورا ہونا کسی خام خیالی سے کم نہیں۔ اجرت لے کر کام کرنے والے مزدور ہمیشہ غربت کی چکی میں پستے رہتے ہیں۔ دنیا بھر کے مزدوروں کا یہ عالمی اجتماع ایک احساس کا نام ہے یا پھر ایک سوچ کا، کہ انہیں کل بھی کم اجرت دی جاتی تھی اور آج بھی انہیں انتہائی کم اجرت ملتی ہے بلکہ ان کا ایک مطالبہ تو اجرت نہ ملنے کا بھی ہے اور ان سے کام لینے کا طریقہ اور دورانیہ تو ہمیشہ تنقید میں رہا۔

یہ حقیقت اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ مزدوروں کی زندگی ہمیشہ مشکل میں رہتی ہے کیونکہ ان کی دہاڑی سے روزمرہ زندگی کی بنیادی ضروریات کا پورا ہونا کسی خام خیالی سے کم نہیں، اجرت لے کر کام کرنے والے مزدور ہمیشہ غربت کی چکی میں پستے رہتے ہیں

1886 میں شکاگو امریکہ کے اندر اس طرح مزدوروں نے ایک جلوس نکالا، یہ جلسہ اور جلوس کم ازکم تین دن تک لگاتار اپنے حقوق اور کام کی زیادتی کے حوالے سے مطالبات کا حامی تھا۔ اس جلسے کے اندر کم ازکم 200000 ورکرز موجود تھے۔ یہ سب مزدور صرف ایک مطالبہ کر رہے تھے کہ مزدوروں کی دہاڑی کے اوقات میں کمی کی جائے اور ان سے 12 گھنٹے کام لینے کے بجائے 8 گھنٹے کام لیا جائے، ارباب اختیار کو یہ بات اچھی نہیں لگی کیونکہ وہ مزدور سے غلاموں جیسا کام لینے کے عادی تھے۔ اندازہ لگائیے تپتی دھوپ، موسلادھار بارش کے اندر بھی مزدوری کرنے والے یہ مزدور دنیا سے بے خبر رہتے ہیں، ان مزدوروں کو اکٹھا کر کے شکاگو میں اپنے حق کی بات کرنے کیلئے بلایا گیا تھا، ابھی ان کی بات شکاگو کے میئر کے ساتھ چل رہی تھی کہ مجمعے میں ایک بم پھٹا جس نے بہت سارے پولیس اہلکاروں کو زخمی کر دیا جبکہ سات پولیس والے اس میں موت کا شکار ہوئے۔ بس پھر کیا تھا اگلے چند لمحوں میں پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے مزدوروں کو گولیوں سے بھون ڈالا، ان کا خون دیواروں اور راستوں کے بیچ ان کے حقوق کی دیوار بنا، بہت سارے مزدور مر گئے اور سینکڑوں مزدور زخمی ہوئے۔ اس دن کے بعد سے لے کر آج تک با قاعدہ طور پر یکم مئی مزدروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

دنیا کے بہت سارے ممالک یکم مئی کو جبکہ کچھ ممالک جیسے امریکہ اور کینیڈا ستمبر کے مہینے میں یہ دن مناتے ہیں۔ روس نے تو کارل مارکس کے فلسفے کی بنیاد پر دنیا کو بتایا کہ مزدور کا حق سب سے پہلے، روس میں 1917 کا انقلاب ہی اسی بنیاد پر تھا جس میں 2 کروڑ سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے اور دنیا میں سوشلزم کا نیا concept develop ہوا۔ یہاں سب کچھ اپنے لئے نہیں بلکہ سٹیٹ کیلئے کیا گیا اور capitalism کے برعکس دولت کو انبار کرنا جرم مانا گیا۔ لاکھوں لوگوں کو پھانسی دی گئی اور لاکھوں کو مار دیا گیا۔ یہ الگ کہانی ہے کہ روس کا سوشلزم جس کا یورپ میں چرچا تھا آخر کار 1991 میں گورباچوف کے ہاتھوں ختم ہوا اور روس دوبارہ 15 حصوں میں بٹ گیا۔

مزدوروں کے حقوق کی بات کی جائے تو ان کے حقوق کبھی پورے نہیں ہو سکتے، انہیں پہلے کام نہیں ملتا، کام مل جائے تو اجرت نہیں ملتی اور سب سے پیچیدہ مسئلہ ان کی protection کا ہے۔ کئی اداروں کے اندر جب مزدوروں کے جسم کسی معذوری کا موجب بن جاتے ہیں تو وہ کسی کام کے نہیں رہتے، اس طرح مزدوروں کا زیادہ وقت اور کم اجرت بھی بڑا مسئلہ ہے جس کا کسی کو احساس تک نہیں حالانکہ دیکھا جائے تو دنیا بھر میں جتنی بھی ترقی اور خوشحالی کے کام ہوئے ان میں مزدوروں کا پسینہ شامل ہے۔

مزدوروں کے حقوق کی بات کی جائے تو ان کے حقوق کبھی پورے نہیں ہو سکتے، انہیں پہلے کام نہیں ملتا، کام مل جائے تو اجرت نہیں ملتی اور سب سے پیچیدہ مسئلہ ان کی protection کا ہے

آپ پرانے زمانے میں مزدوروں کی کارکردگی دیکھنا چاہیں یا آج کے زمانے میں، مزدوروں نے ہر زمانے اور وقت میں اپنا خون پسینہ ایک کر کے دنیا کو راحت اور خوشی پہنچائی ہے۔ ایک نظر آپ کو دیوار چین پر ڈالنا چاہیے، کتنے مزدور اس میں لقمہ اجل بنے؟ دنیا کے آٹھویں عجوبے یعنی پاکستان اور شاہراہ ریشم بنتے وقت کم ازکم دو سو اسی مزدور موت کے منہ میں چلے گئے، اس سے زیادہ بارود کی وجہ سے معذور ہوئے تب جا کر شاہر اہ ریشم بنا، تاج محل پر جہاں لاکھوں مزدوروں نے اپنے جسم کو استعمال کر کے، ذہانت اور طاقت کو آزما کر دنیا کو یہ خوبصورت تحفہ دیا اس میں ان گمنام مزدوروں کا نام تک شمل نہیں جو اس کی بنیادوں میں اپنے لہو سے داستان رقم کر گئے۔ کوئی ایک نظر احرام مصر پر ڈالئے یا پھر برج خلیفہ پر جس کی عالیشان اور بلند بالا عمارتیں ان کے بدن کے استعمال کے نتیجے میں وجود میں آئیں۔

آج بھی دنیا کے سخت ترین اور مشکل ترین کام مزدور ہی سر انجام دیتے ہیں۔ آگ کی بھٹی میں اپنے جسم کو روندتے ہوئے یہ دہاڑی کرتے ہیں، کوئلے کی کانوں میں اپنی زندگی کے ساتھ یہ لوگ کھلیتے ہیں اور ہزاروں فٹ زمین کے اندر جانے کے بعد بلیک ڈائمنڈ نکالتے ہیں مگر انہیں اس میں بھی موت اور معذوری کے علاوہ اور کچھ نہیں ملتا، بس دو وقت کی روٹی جسے وہ ہضم کرنے کی طاقت نہیں رکھتے، اس کے لئیانتہائی خطرناک شعاؤں کا مقابلہ کرتے ہوئے نیوکلیئر فیلڈ کے اندر بھی مزدور بہت کم اجرت پر کام کرتے ہیں۔ کروڑوں اور اربوں ڈالرز لگانے والے سرمایہ دار ان کو بھوکوں مرواتے ہیں اور ان کے جسم کے اندر بیماریاں پیدا کر کے انہیں مفلوج بناتے ہیں۔
ہوٹلوں، گھروں کے اندر انتہائی کم معاوضے پر کام کرنے والے یہی مزدور ہوتے ہیں مگر ان کو ملتا کیا ہے؟ سچ پوچھیے تو دو وقت کی روٹی، وہ بھی انسانوں کی طرح گھر میں بچا کچا کھانا، آج کے اس سائنسی دور میں دنیا پوری بدل گئی مگر مزدور کے اوقات نہیں بدلے، کہنے کو تو ہم اس بار بھی جلسے کر کے جلوس نکال لیں گے مگر کیا ان سے ان کی حالت بدلے گی؟ بلکہ کوویڈ نائنٹین کی وجہ سے جو دنیا کے اندر معاشی بحران پیدا ہوا ہے اس میں سب سے زیادہ متاثر یہی مزدور طبقہ ہوا کیونکہ مزدور ہمیشہdaily wages پر کام کرتا ہے اور اگر اسے دن کی دیہاڑی نہیں ملی تو گھر کا چولھا ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ بہت سارے مزدوروں کی اجرت بھی کچھ نام نہاد لیڈرز اور مالک ہڑپ کر جاتے ہیں۔ مزدروں کے بچے بھی ہمیشہ مزدور ہوں گے، یہ تسلیم شدہ ہے کیونکہ آج کے دور میں انہیں پڑھانا مشکل کام ہے جس کی طاقت ان کے اندر نہیں ہوتی۔ اس طرح زندگی بھر خود ٹھوکریں کھانے کے بعد مزدوروں کے بچے بھی ٹھوکریں کھاتے رہیں گے۔

یکم مئی مزدوروں کے حقوق کیلئے مختص ہونے کے باوجود لوگ صرف چھٹی کر کے انجوائے کرتے ہیں، بڑے لوگ عیاشیاں کرتے ہیں جبکہ مزدور اس وقت پریشان حال کھانے کے چکر میں ہوتا ہے یا پھر مزدور بیچارے کو پتہ نہیں ہوتا کہ یہ دن اس کے حقوق کیلئے مقرر ہے۔ مزدوروں کے لاغر جسم میں طاقت کی فراوانی کا واحد فارمولا ان کیلئے پالیسی وضع کر کے ان کے اور ان کے بچوں کے مستقبل کو بچانا ہے۔ کیا ایسا ممکن نہیں کہ مزدوروں کے بچوں کو تعلیم دی جائے؟ ورکر ویلفیئر بورڈ کا کیا کام ہے؟ اس طرح مزدوروں کے بچوں کو اپنے بچے تسلیم کر کے ان کی صحت کیلئے کوئی جامع منصوبہ بندی کی جائے۔ انہیں پڑھنے کیلئے سکالرشپ دیئے جائیں، حکومت کی نوکریوں میں ان کیلئے کوٹہ مقرر کریں، عام زندگی میں ان کی اجرت اور وقت آٹھ گھنٹے کو یقینی بنایا جائے۔ اب بھی یہ سب کچھ پالیسی کا حصہ ہے مگر افسوس مزدور کے ساتھ ناانصافی برتنے والے چند لیڈرز اور سرکاری عملہ یا بیوروکریٹ اسے کوئی ٹھوس شکل نہیں دے رہے بلکہ مزدوروں کے نام پر نکلنا والا پیسہ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے یا وہ خود ہڑپ کر جاتے ہیں۔

دنیا اگر چہ ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے مگر مزدور کیلئے آج بھی، اس گلوبل دنیا میں بھی رہنا کسی چیلنج سے کم نہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے ان کے کام کو آسان نہیں بلکہ اور مشکل بنا دیا بلکہ اب انہیں ڈیلی ویجز پر کام بھی نہیں ملتا اور اجرت انتہائی کم ملتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اتنا اجرت ان کی مقرر کرے جس سے ان کی زندگی کا پہیہ چل سکے یا گھر کا چولھا، آج کی اس گرانی اور مہنگائی کے دور میں مزدور کے پاس زندگی گزارنے کے وسائل سے زیادہ موت کا پروانہ ہر وقت ہاتھ میں رہتا ہے اور یہ مزدور کے ساتھ بڑی زیادتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

سانحہ12 مئی تب سے اب تک

12 مئی2007 کو انسانی خون کی ہولی اس وقت کھیلی گئی جب اس وقت کے …