این ٹی ایس سسٹم اور بے بس حکومت

تحریر: سید ساجد شاہ


این ٹی ایس یا نیشنل ٹیسٹنگ سسٹم ایک ایسے ادارے کا نام ہے جس کا کام ملک کے اندر اکیڈمک پرفارمنس کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ این ٹی ایس کو ملک گیر سطح پر ہمیشہ سراہا گیا کیونکہ اس کے ذریعے نیا ٹیلنٹ سامنے آتا ہے۔ حق اور انصاف کے ذریعے ملک کو وہ جوان طبقہ میسر آتا ہے جو ملک اور قوم کی بہتر خدمت کر سکتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ 2006 سے پہلے جب اس سسٹم کا مکمل اجراء نہیں ہوا تھا تو ملک کے اندر صرف طاقتور اور بااثر لوگ آگے نکل سکتے تھے جو زیادہ تر سیاسی پارٹیوں کے جیالے ہوا کرتے تھے۔ پی آئی اے، قومی اسمبلی، ایف ائی اے اور دیگر طاقتور اداروں میں بھرتی ہونے والے آدھے سے زیادہ اہلکار سفارش اور رشوت کے ذریعے آئے ہوئے ہیں۔ اگر آج بھی کوئی چھان بین کر ے تو آدھے سے زیادہ ڈپارٹمنٹ اور اس میں بھرتی ہونے والے لوگ ان غلط طریقوں سے بھرتی ہوئے ہیں۔ این ٹی ایس سسٹم اور EETA اور جائزہ لینے والے دیگر ادارے اور ان کے قیام سے ایک یہ چیز تو ختم ہوئی کہ اب کوئی سفارش یا رشوت سے بھرتی ہو گا جو ایک بہتر قدم ہے مگر اس میں شفافیت بہت بڑا مسئلہ رہا۔

شاید یہ ایک خام خیالی تھی کیونکہ اس کے اندر بیٹھے ہوئے لوگ بھی دل و جگر تو رکھتے ہیں، پیسے کی ضرورت ان کو بھی ہوتی ہے اس لئے انہوں نے بھی وہ کام شروع کیا جو پہلے بے تر تیب ہو کر کیا جاتا تھا کیونکہ ٹیسٹ لینے کے بعد تو کوئی گنجائش نہیں رہی کہ کوئی اعتراض کر سکے اس لئے ان سب ٹیسٹنگ اداروں کے اندر یا مقابلے کے امتحانات میں شامل لوگوں نے اس کے اندر کرپشن کا بے دریغ اضافہ کیا اور اب صورتحال یہ ہے کہ سارے پیپرز لیک بھی ہو جائیں تو کوئی این ٹی ایس والوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

خود این ٹی ایس کا ہیڈ جو ایک ڈاکٹر تھا اس کے پاس جعلی ڈگری تھی مگر اس کو سلیکٹ کرنے والااس ملک کا سب سے بڑا سمجھدار اہلکار اور ذمہ دار شخص تھا۔ جب اس کا پتہ چلا تو وہ ملک چھوڑ کر بھاگ گیا۔ اب سی ایس ایس، پی سی ایس، آرمی میں سلیکشن کے مجوزہ طریقہ کار پر ہم بات نہیں کر سکتے کیونکہ وہ ان لوگوں کی گیم ہے جس میں عام شخص کا کوئی عمل دخل نہیں تاہم جو چھوٹے موٹے ادارے ہیں جہاں کسی کلرک اور استاد نے بھرتی ہونا ہے اب اس کے اندر بھی یہ مافیا کود پڑا۔ چونکہ این ٹی ایس سسٹم ایک صوبہ گیر سطح پر اس طرح کے exams کنڈکٹ کرتا ہے اس لئے جب تک اس میں شامل اہلکار اس قابل نہ ہوں کہ وہ امتحانات کی اہمیت کو سمجھتے ہوں، ان کے پاس تعلیم کی کوئی قدر ہو، ان کو اس چیز کا احساس ہو پھر اس پر کیا بات کی جا سکتی ہے۔

المیہ یہی ہے کہ صوبائی سطح پر اس کے اہلکار ٹھیکدارانہ سسٹم کے تحت کام چلا رہے ہیں جس میں بہت سارے عملے کا تعلق تعلیم سے نہیں بلکہ ٹھیکدارانہ سسٹم سے ہوتا ہے، یہ ناسور ہے اور حکومت شاید بے بس ہے یا اس عمل کو own کرنے سے قاصر

این ٹی ایس کا سسٹم بالکل امریکی educational testing services (ETS) کے برابر ہوتا ہے۔ پاکستان میں این ٹی ایس دو قسم کے پروگرامز منیج کرتا ہے۔ NAT National Aptitude Test اور GAT یعنیGraduate Assesment test، کالج یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے کیلئے نیشنل ایپٹیچوڈ ٹیسٹ جبکہ پوسٹ گریجویٹ داخلے کیلئے گیٹ GAT ٹیسٹ کا استعمال ہوتا ہے۔ این ٹی ایس سسٹم اس وقت ایڈوانس سٹڈیز کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے جبکہ اس کے ذریعے مطلوبہ معیار پر بھرتی کے ذریعے پیشہ ورانہ روزگار حاصل کرنے والوں کے درمیان مقابلہ کرایا جاتا ہے۔ این ٹی ایس بین الاقوامی معیار یعنی International Association for educational Assesment کا بھی ممبر ہے۔

کئی سال سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ این ٹی ایس کا لیول آہستہ آہستہ گر رہا ہے اور اس میں اب وہ کوالٹی نہیں رہی جس کی اس سے توقع کی جا سکتی تھی کیونکہ وہی مافیا جو امتحانات کو کمائی کا ذریعہ بنا رہی تھی اب وہ این ٹی ایس کے ذریعے مال کمانے کے چکر میں ہے، اندازہ لگائیے پیپرز ہال کے اندر 8 بجے تقسیم ہوتا ہے اور ساڑھے آٹھ بجے وہ لوگوں کے پاس موبائل کے اندر محفوظ ہوتا ہے، اور یہ کام ہر بار ہوتا ہے

اتنی ساری تمہید باندھنے کے بعد جب ہمارے ہاں این ٹی ایس کی بات آ جاتی ہے تو پچھلے کئی سال سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس کا لیول آہستہ آہستہ گر رہا ہے اور اس میں اب وہ کوالٹی نہیں رہی جس کی اس سے توقع کی جا سکتی تھی کیونکہ وہی مافیا جو امتحانات کو کمائی کا ذریعہ بنا رہی تھی اب وہ این ٹی ایس کے ذریعے مال کمانے کے چکر میں ہے۔ اندازہ لگائیے پیپرز ہال کے اندر 8 بجے تقسیم ہوتا ہے اور ساڑھے آٹھ بجے وہ لوگوں کے پاس موبائل کے اندر محفوظ ہوتا ہے، اور یہ کام ہر بار ہوتا ہے، ہر ضلع کا ڈی سی جب سخت ہو کر مانیٹرنگ کی بات کرتا ہے تو ہنسی آ جاتی ہے کیونکہ امتحان میں شامل مافیا ان سے زیادہ خطرناک اور طاقتور ہے مگر وہ ماننے کیلئے تیار نہیں۔ این ٹی ایس میں شامل اہلکار ایک خصوصی ذہن کے مالک ہوتے ہیں اور ان کا تعلیم کے ساتھ کوئی وا سطہ نہیں ہوتا، ہمیشہ ایسے لوگ ٹیکنیکل فریج بنانے والے یا دکاندار ہوتے ہیں، مہینے یا دوسرے مہینے میں ایک بار ٹیسٹ کیلئے آتے ہیں بس اس لئے یہ لوگ مخصوص طریقے سے کام چلاتے ہیں۔

عام طور پر ایک یا دو پرچے آوٹ کرنا گڑ بڑ نہیں مسئلہ تب خراب ہوتا ہے جب انسان بہت زیادہ کمانا چاہتا ہے تو پھر لالچ کی اس دنیا میں اس کی آنکھیں بند ہو جا تی ہیں۔ امتحانات کے ذریعے اپنے رشتہ داروں، دوستوں کو پاس کرنا اور انہیں میرٹ پر لانے کیلئے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے سکینڈل کیا کافی نہیں؟ اندازہ کریں جب پانچ سال تک لگاتار پنجاب پبلک سروس کمیشن کے اہلکار ہزاروں لوگوں کو بھرتی کرنے کے سکینڈل میں ملوث رہے، ان سے چھان بین ابھی تک ہو رہی ہے، وہ پرچے آوٹ کرتے پھر وہی مافیا فائنل سلیکشن تک ساتھ دیتی رہی۔ پولیس، صحت، ایڈمنسٹریشن، تعلیم کے محکموں میں اپنی مرضی کے لوگوں کو پیسے اور دولت کے ذریعے لانا کوئی نئی بات نہیں مگر جس دلیری اور بہادری سے یہ لوگ اتنا کھل کر میرٹ کی دھجیاں اڑاتے رہے، کوئی ٹس سے مس نہیں ہوا اس طرح یہ ثابت ہوا کہ تمام مقابلے کے امتحانات میں ایک مافیا ہر وقت موجود رہتی ہے مگر وہ مافیا محدود سطح پر کام میں مصروف رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ووٹ ایک امانت کیوں؟

تحریر: سید ساجد شاہ کوئی ووٹ کو امانت اور کوئی ضمیر کی آواز کا نام …