زندگی بمقابلہ زندگی

تحریر: سید ساجد شاہ

زندگی نعمت خدا وندی ہے اس کی قدر کرنا چاہیے۔ زندگی کے اس سفر میں بہت سارے لوگ سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہوتے ہیں، بہت سارے لوگ زندگی کے ساتھ مقابلہ کر کے جیتے ہیں، دونوں ایک امتحان سے گزرتے ہیں کیونکہ زیادہ سے زیادہ ساٹھ سالہ زندگی میں ایک انسان کیا کر سکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اگر زندگی کے25 سال نیند میں گزر جائیں تو پیچھے کیا رہتا ہے صرف 35 سال، اس میں ایک انسان کو کیا کچھ کرنا نہیں پڑتا۔ تعلیم کے 25 سال بیچ میں سے کاٹے جائیں تو 15 سال رہ گئے۔ اب پندرہ سال میں انسان شادی کرے گا پھر بچے ہوں گے اور پھر باقی زندگی ان کے غم و الم میں گزارے گا یوں اگر سوچا جائے تو زندگی کا کوئی فایدہ نہیں ہاں البتہ جو لوگ اپنی زندگی اللہ کی عبادت، ایک طریقے، ترتیب اور منصوبہ بندی سے گزار تے ہیں وہ زندگی کو کسی حد تک انجوائے کر سکتے ہیں یعنی اسے کبھی غلطی سے بھی اللہ کو نہیں بھولنا چاہیے کہ جس نے اسے پیدا کیا، اسے رزق دے رہا ہے اور آخر کار اس کے پاس جانا ہو گا۔ اس کے بعد اس کی تعلیم و تربیت پر اگر خصوصی توجہ دی جائے تو وہ ساٹھ سالہ زندگی میں ایک ہزار سال کا کام کرے گا۔ کسی سیانے نے کیا خوب کہا ہے کہ زندگی کا مقصد یہ نہیں کہ کوئی سو سال جیو بلکہ کوئی ایک ایسا کام کر جائے جس سے وہ سو سال زندہ رہے ایسے انسان خود نہیں بنتے بلکہ انہیں بنایا جاتا ہے جس میں والدین، اساتذہ، معاشرے کا کردار نمایاں ہے یعنی Human Capital Development اگر دیکھا جائے تو جس چیز پر بھی مال، جان دولت لگائی جائے وہ قیمتی بن جاتی ہے۔ ہمارے بہت سارے لوگ اور دوست اس ترتیب کو فالو نہیں کرتے اس لئے مشکلات میں اضافہ ایک قدرتی امر ہے۔ انسان کو چونکہ زندہ رہنے کیلئے بنیادی ضروریات چاہیے جس میں روٹی، کپڑا، مکان، پینے کا صاف پانی اور صحت کیلئے ادوایات ضروری ہیں اس کے بغیر زندگی گزر نہیں سکتی مگر ان چیزوں کیلئے انسان پر کام کرنا ضروری ہے کیونکہ مقابلے کے اس دور میں یہ چیزیں انسان ویسے حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ مقابلہ نہ کرے وقت، حالات اور مشکلات کے ساتھ، اور یہاں سے ا نسان اور حیوان کے درمیان شعور اور عقل کے استعمال کی بات شروع ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں زندگی گزارنے کے ڈھنگ دنیا سے بالکل مختلف ہیں کیونکہ ہمارے وسائل کوئی نہیں، ہم جس غربت کی زندگی گزار رہے ہیں اس کے اندر جینے کا تصور منہدم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ عزت کی دو روٹی کمانے کیلئے دن رات محنت کرنی پڑتی ہے مگر اس سے زندگی کی ضروریات پوری نہیں ہو سکتی۔ آپ اندازہ لگائیں کہ ہر شخص ایک امید اور یاس پر زندگی گزارتا ہے وہ تو ٹھیک ہے مگر خواب دیکھنے سے زندگی نہیں بدلتی، بدقسمتی سے ہماری قوم انتھک محنت کی قائل نہیں اس لئے مجموعی طور پر ہمارا کردار یا پھر سماجی، معاشی اور معاشرتی اقداروں کا پیمانہ کوئی بہتر تصور دینے کا اہل نہیں۔ آپ جاپان کو دیکھ لیں یا چین کو وہاں لوگ کس طرح کام کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کے اندر کام کرنے کا جذبہ بھی سرد پڑ گیا ہے۔ گھر کے اندر کمانے والا ایک ہے اور کھانے والے دس بارہ جس سے ضرورت زندگی کا پورا ہونا خام خیالی ہو گی۔ تیسری بات یہ ہے کہ ہم آج کے ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی دنیا سے بہت پیچھے ہیں، ہم آج بھی گلے میں تعو یذ ڈال کر اپنا سب کچھ اس کے حوالے کرنے کے قائل ہیں جو خود بھی کچھ نہیں۔ ہم آج بھی پیر وں کے پاس جا کر اپنے مسائل اور مشکلات کا حل ڈھونڈتے ہیں۔ ہم آج بھی تین سال کی بچی کو زبردستی پکڑ کر اس سے زنا بالجبر جسے ناکردہ گناہوں میں شریک ہیں۔ ہم آج بھی پولیو کے قطرے بچوں کو پلانے اور ان کو معذوری سے بچانے والوں کو گولیاں مارتے ہیں اور اسے مغرب کی سازش سمجھتے ہیں۔ جو چیز آج کی ضرورت ہے یعنی تعلیم و تربیت مہارت اور ہنر و skills سے زندگی کے معیار کو بدلنا، ہم اسے نہیں مانتے بس، ہماری آدھی آبادی سے زیادہ لوگ ان پڑھ ہیں بالخصوص خواتین، انہیں کون سمجھائے گا کہ بیشمار بچوں کی پیدائش کوئی بڑا معرکہ نہیں بلکہ بچے کو پیدا کر کے اسے انسان بنانا، اسے مہارت سکھانا اور اسے زندگی کے گر سکھانا بہت بڑا کارنامہ ہوتا ہے جس سے ہم کوسوں دور ہیں۔ ہمارے ہاں اب بھی لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ چوری چپکے غیرقانونی، غیر اخلاقی طریقے سے کہیں امریکہ، برطانیہ، فرانس، اٹلی، جاپان اور جرمنی نکل جائیں لیکن ہم سب سے پہلی گالی بھی انہی ممالک کو دیتے ہیں۔ ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ یورپ، امریکہ کیلئے جان کی بازی لگاتے ہیں حتی کہ اٹلی اور فرانس یا جرمنی میں جانے کیلئے لوگ تیل کی ٹینکی میں زندگی اور موت کے ساتھ کھیلتے ہوئے کبھی ان ممالک میں پہنچ جاتے ہیں اور کبھی سمندربرد ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں سماجی اور معاشرتی مسائل اتنے بڑھ گئے ہیں کہ ان کی وجہ سے ہزاروں لوگ روزانہ کی بنیاد پر شوگر، بلڈ پریشر اور ہارٹ اٹیک کے بیمار بن جاتے ہیں۔ وہ ان بیماریوں سے چھٹکارا پانے کے بجائے مزید ان میں الجھے رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں غربت کی حدود بڑھ رہی ہیں، وسائل کم ہو رہے ہیں اور مسائل بڑھ رہے ہیں اس لئے اب دنیا بھر میں کمزور، غریب اور بدحال ممالک نے زندگی گزارنے کیلئے شارٹ کٹ راستے اختیار کئے ہیں۔ یورپ میں سیکس انڈسٹری کا تصور ہمارے جوانوں کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ ہمارے ہاں بھی اب اس پیشے سے تعلق رکھنے والوں کا بے تحاشہ اضافہ لمحہ فکریہ ہے جس سے کوئی شہر خالی نہیں۔ ہندوستان کے اندر تو ذلت بھری زندگی کا وجود پوری انسانیت کیلئے شرم کے باعث ہے کیونکہ انڈیا میں خواتین کے حمل ٹھہرانے کیلئے مادر شکم پراجیکٹ میں مردوں سے لئے سپرم سے بچے پیدا کئے جاتے ہیں، انہیں پھر فروخت بھی کیا جاتا ہے اور یا ان لوگوں کو دئیے جاتے ہیں جو بچوں کی نعمت سے محروم ہوں۔ ایسی خواتین کو صرف لاکھ اور دو لاکھ کے بدلے اس اذیت سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس طرح ہمارے ملک، انڈیا اور بنگلہ دیش میں انسانی اعضاء کا کاروبار بام عرج پر ہے۔ ایک تو بچوں کو اغوا کر کے ان کے جسم کے مختلف اعضاء نکال کر مارکیٹ میں بیچے جاتے ہیں اور بالخصوص انسانی گردوں کی تو اپنی مارکیٹ اور بولیاں لگتی ہیں جس میں با قاعدہ brokers بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس کاروبار میں شامل لوگوں کا کہنا ہے کہ غربت کے مارے اگر ایک گردہ دو تین لاکھ میں بک جائے تو پرواہ نہیں ہم اور ہمارے بچے بھوک سے تو کم ازکم نہیں مریں گے۔ اب تک ریکارڈ پر گردوں کے22000 لوگ صرف ایک ریجن سے ہیں۔ اس طرح Gipsy لوگ سخت ترین گرمیوں کے اندر اور سردیوں میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارتے ہیں کیوں؟ دنیا کے ساتھ ارب اور پچاس کروڑ لوگوں میں کتنے ہوں گے جو اپنی مرضی کی زندگی گزارتے ہیں یا پھر انہیں زندگی کی تمام تر سہولیات میسر ہیں؟ دو فیصد بھی نہیں اور اگر ہم بنیادی ضرورتوں میں روٹی، کپڑا، مکان، پینے کا صاف پانی، گھر کے اندر ٹائلٹ وغیرہ کا سوچ لیں تو دنیا کے نوے فیصد سے زیادہ لوگ اس وقت غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر بھوک کی بات کی جائے تو 88 کروڑ لوگ اس وقت بھوک کے مارے پھر رہے ہیں، انہیں ایک وقت کا کھانا بھی میسر نہیں۔ اس کے بدلے میں صرف امریکی کتوں پر 22 لاکھ ڈالر رقم سالانہ خرچ کی جاتی ہے۔ اس طرح سگریٹ پینے حتی کہ صوبہ خیبر پختون خواہ میں صرف نسوار کھانے پر روزانہ 3 کروڑ روپے ضایع ہو جاتے ہیں۔ اس طرح اگر مہینے کا حساب لگایا جائے تو ایک ارب روپے بنتا ہے۔ ظاہر ہے جب کسی کے پاس زندگی گزارنے کیلئے وسائل نہ ہوں تو پھر وہ زندگی گزارنے کیلئے دو قسم کے راستے اختیار کرتا ہے، یا تو چوری ڈاکہ کرتا ہے یا پھر جواء کھیلنا یا پھر جسم کی نمائش کرنا، زندگی کے عذاب سے بھاگنے کیلئے کچھ لوگ نشہ شروع کرتے ہیں بعد میں عادی بن جاتے ہیں اور یوں ہم ٹھیک ٹھاک انسانوں کو اپنی کم ظرفی، بیوقوفی، نا اہلی اور انفرادیت کی وجہ سے ڈاکو، چور، لٹیرے اور دلال بنا لیتے ہیں۔ اب ہمارے ملک میں اگر غربت کے مارے لوگ 58% ہیں تو اس کی کئی وجوہات ہیں۔ مثلاً آبادی کو کنٹرول کرنے کو ہم نے مذہب کے ساتھ جوڑ لیا۔ آپ خود اندازہ لگائیں ایک گھر کے اندر اگر پورے کا پورا سکول لگا ہو، آمدن کوئی نہ ہو تو مسائل تو جنم لیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ تعلیم کا فقدان ہے، ہمارے ملک میں انگھوٹا چاپ لوگوں سے جو ہماری خواندگی بنی ہے ان کی تعداد بھی سو میں اٹھاون ہے اور خواتین کا چوالیس، اس وقت سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے اور ہم انگوٹھے لگا کر شناختی کارڈ بنا رہے ہیں۔ اس پر بے نظیر سے قرضے لے رہے ہیں، بینکوں سے ادھار لے رہے ہیں، کیا اس طرح کبھی زندگی گزر سکتی ہے؟ اس وقت پوری دنیا میں skills enhancementکی بات ہو رہی ہے، کمپیوٹر جیسے آلہ کے بغیر زندگی ناممکن ہے بلکہ اسے بھی آج کل تعلیم یافتہ نہیں کہا جاتا جو کمپیوٹر literate نہ ہو، ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ کمپیوٹر کا استعمال نہیں جانتے تو پھر؟ ہمیں نئے سال اور صدی میں اپنے آپ کو بدلنا ہو گا ورنہ ہمارے لئے اچھا نہیں ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں

Ahsan iqbal

ترکی سکالر شپس اور مدارس کے طلبہ

یہ نومبر کے مہینے کی شام تھی کہ میں لیپ ٹاپ پر اپنا کالم ترتیب …