نیک شگون

خیبر پختونخوا کی موثر سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے باقاعدہ طور پر حزب اختلاف میں شامل گیارہ جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔ پی ڈی ایم سے علیحدگی کا فیصلہ منگل کے روز پارٹی کے مرکزی دفتر باچا خان مرکز میں عوامی نیشنل پارٹی کے ایک اعلی سطحی اجلاس میں ہوا جس کا اعلان بعد ازاں پارٹی کے قائم مقام مرکزی صدر اور سابق وزیر اعلی امیر حیدر خان ہوتی نے پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ پی ڈی ایم سے علیحدگی کی بنیادی وجہ چند روز قبل اس اتحاد کے سیکرٹری جنرل اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے چناؤ کے وقت پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو جواب طلبی نوٹس کا اجرا بتایا جاتا ہے۔ سینیٹ میں چند روز قبل قائد حزب اختلاف کے چناؤ کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم کے متفقہ فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے سینیٹ میں یوسف رضا گیلانی کو لیڈر آف دی اپوزیشن نامزد کیا تو عوامی نیشنل پارٹی نے بھی اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ اپوزیشن لیڈر کے امیدوار کی حمایت کے بجائے پی پی پی کا ساتھ دیا۔ واضح رہے کہ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے وقت پی ڈی ایم اجلاس میں طے ہوا تھا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی اور ڈپٹی چیئرمین جے یو آئی ایف کو ملے گا جبکہ پی ڈی ایم فیصلے کے مطابق اپوزیشن لیڈر مسلم لیگ ن سے ہو گا ا اور پاکستان مسلم لیگ ن نے عہدے پر پنجاب سے سینیٹر اعظم تارڑ کو نامزد کر دیا تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزدہ کردہ سید یوسف رضا گیلانی کو عوامی نیشنل پارٹی کے علاوہ بلوچستان عوامی پارٹی کی حمایت سے منتخب اور دیگر آزاد اراکین کی جبکہ ن لیگ کے سینیٹر اعظم تارڑ کو جمعیت علمائے اسلام ف اور بلوچستان نیشنل پارٹی کی حمایت حاصل تھی۔ تاہم قائد حزب اختلاف کی اس اہم نشست پر پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے علیحدہ علیحدہ امیدواروں کی نامزدگی سے یہ اتحاد عملی طور پر دو حصوں میں بٹ چکا ہے اور اب عوامی نیشنل پارٹی کی علیحدگی سے اس اتحاد کے باقاعدہ خاتمے کا بھی آغاز ہو گیا ہے۔ پشاور کے ایک سینئر صحافی ارشد عزیز ملک کے مطابق کسی بھی اتحاد میں شامل جماعتوں کا علیحدہ علیحدہ منشور، انتظامی ڈھانچہ اور سیاسی حکمت عملی ہوتی ہے۔ یہ جماعتیں سیاسی اتحادوں کی مشترکہ پالیسوں کی پابند تو ہوتی ہیں مگر ان کے رہنماؤں یا عہدیداروں سے کسی دوسری سیاسی جماعت یا اتحاد کے عہدیداروں کو جواب طلبی نہیں کرنی چاہیے۔ پریس کانفرنس کے دوران امیر حیدر خان ہوتی نے واضح الفاظ میں کہا کہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے معاملے پر پی ڈی ایم کی جانب سے مولانا عبدالغفور حیدری اور انس نورانی نے رابط کیا تھا اور ان کو عوامی نیشنل پارٹی کے موقف سے آگاہ بھی کر دیا گیا تھا لہذا اس جواب طلبی کی کوئی ضرورت نہیں تھی، اگر اے این پی کے رہنماؤں یا عہدیداروں نے کوئی غلطی کی ہوتی تو ا ن سے جواب طلبی کا حق صرف اور صرف پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کو ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے قائم مقام صدر امیر حیدر خان ہوتی نے یاد دلایا کہ بیس ستمبر 2020 کو ایک ڈیکلیریشن کے تحت پی ڈی ایم بنی اور تحریک میں عوام نے بڑھ چھڑ کر حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک کے بعد لانگ مارچ پر جانا تھا مگر اختلافات کے باعث لانگ مارچ کے ملتوی ہونے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ایک سوال کے جواب میں امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ سینیٹ میں اپوزیشن رہنماء کیلئے پی ڈی ایم کے دو امیدوار سامنے آئے اور ان کی جماعت نے پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دیا۔ شوکاز نوٹس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہیں صفائی کا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔ ان کے بقول شوکاز نوٹسز پارٹیوں میں ایشو ہوتے ہیں، ہم پی ڈی ایم کی کسی پارٹی کا حصہ نہیں، اے این پی کے کسی رہنماء کو شوکاز دینے کا اختیار صرف اسفندیار ولی خان کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ کے قومی اسمبلی کی نشست پر ھونے والے ضمنی انتخابات میں جے یو آئی اور پی ٹی آئی پیپلز پارٹی کے خلاف اتحادی ہیں، پی ڈی ایم سے علیحدگی کے بعد عوامی نیشنل پارٹی پر اثرات کے بارے میں ارشد عزیز ملک نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی پہلے ہی سے حزب اختلاف میں علیحدہ طور پر ایک متحرک کردار ادا کر رہی ہے لہذا اس فیصلے کے اے این پی پر کچھ زیادہ منفی اثرات نہیں پڑسکتے تاہم انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد پی ڈی ایم اب عملی طور پر ختم ہوگئی ہے کیونکہ اس میں شامل ایک اہم اور موثر جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے پہلے ہی سے علیحدگی پر غور شروع کیا ہے اور پچھلے کئی دنوں سے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے درمیان لفاظی جنگ کا سلسلہ چل رہا ہے۔ اے این پی اور مسلم لیگ ن عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے درمیان روایتی تاریخی اختلافات کے باوجود1989 کے وسط میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کیخلاف دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد کیا تھا اور بعد میں ان دونوں سیاسی جماعتوں نے خیبر پختونخوا میں 1990-1993 اور1997 کے انتخابات میں ایک دوسرے کے ساتھ سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسمنٹ بھی کی تھی جس کا دونوں جماعتوں کو خاطر خواہ فائدہ پہنچا تھا۔ تاہم1998 میں دونوں جماعتوں نے صوبے کے نام کی تبدیلی اور متنازعہ کالاباغ ڈیم منصوبے پر ایک دوسرے سے راہیں جدا کی تھیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی دونوں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان70 کہ دھائی کے دوران بہت زیادہ اختلافات رہے تھے مگر اس کے باوجود2008 کے انتخابات کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان اتحاد ہوا جو بہت زیادہ کامیاب رہا اور اس دوران مخلوط حکومت میں دونوں جماعتوں کے درمیان کافی اور موثر رابطے رہے تھے۔ اب چونکہ پی ڈی ایم کا اتحاد شکست وریحت کا شکار ہو رہاہے مگر ان دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان اعتماد کی فضا برقرار دکھائی دیتی ہے۔ پچھلے کئی دھائیوں سے مختلف قوم پرست اور مترقی سیاسی جماعتوں کے رھنماء عوامی نیشنل پارٹی کو کمزور کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور اب جب عوامی نیشنل پارٹی کی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے علیحدگی کے بعد پختونخوا ملی عوامی پارٹی، قومی وطن پارٹی، پشتون تحفظ تحریک اور دیگر چھوٹی چھوٹی جماعتوں اور گروہوں کو پاکستان مسلم لیگ ن اور جمیعت علمائے اسلام ف کے ساتھ قریب ھونے کا موقع ملا ھے، اگر یہ جماعتیں اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئیں تو عوامی نیشنل پارٹی کو سیاسی طور پر نقصان پہنچ سکتا ھے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں جمعیت علمائے اسلام ف کے بعد عوامی نیشنل پارٹی حزب اختلاف کی دوسری بڑی جماعت ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی تیسری بڑی جماعت ہے۔ جمعیت علمائے اسلام ف اور پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے ممبران کی تعداد 21 ہے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی کی تعداد19 ہے۔ سینیٹ کی طرح خیبر پختونخوا اسمبلی میں پی ڈی ایم کے اتحاد کے ٹوٹنے سے کوئی منفی اثرات کے امکانات زیادہ اس لئے نہیں کہ حزب اختلاف میں شامل جماعتوں کے مفادات ایک جیسے ہیں جبکہ حکمران پاکستان تحریک انصاف کو ایوان میں واضح برتری حاصل ہے اور اسے حزب اختلاف میں شامل کسی بھی سیاسی جماعت کی ضرورت نہیں ہے۔ خیبر پختونخوا کے جغرافیائی محل وقوع کے لحاظ سے حزب اختلاف میں شامل جماعتوں بالخصوص جمعیت علمائے اسلام ف کو جنوبی اضلاع، عوامی نیشنل پارٹی کو وادی پشاور، پاکستان مسلم لیگ ن کو شمالی ہزارہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کو جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان، کوہاٹ، مردان اور پشاور کے بعض حلقوں پر عوامی حمایت حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بغدادی پیر، کل اور آج

تحریر: محمد عمران ڈیوڈ جونز کا ناول شاید بہت سے قارئین نے پڑھا ہو گا …