یورپی یونین کی قرارداد

تحریر: شمیم شاہد

یورپی پارلیمان میں پاکستان کو جنرلائزڈ سکیم آف پریفرنسز (جی ایس پی) پلس کے تحت دی گئی تجارتی رعایتوں کے خلاف بھاری اکثریت سے منظور کی جانے والی قرارداد کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے حکومت کی طرف سے جو بھی حکمت عملی ہو سکتی ہے لیکن حکمرانوں کو اس معاملے کو انا کا معاملہ بنانے کے بجائے اس سلسلے میں محتاط اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ کوئی بھی اس سے اختلاف نہیں کر سکتا کہ یہ قرارداد ایک مذہبی گروہ کی جانب سے فرانس کے خلاف حالیہ کی جانے والی ریلیوں اور مظاہروں کا ردعمل ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ملک پچھلے کئی سالوں سے اپنا امیج اور ساکھ کے معاملے کو لے کر بہت سے مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ کوئی بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ پاکستان کی آزادی کے ابتدائی برسوں کے بعد یکے بعد دیگرے حکمرانوں نے اپنی تمام داخلی اور خارجی پالیسیوں کو تیار کرنے کے لئے امریکہ کی قیادت میں اتحادیوں کی پیروی کی تھی۔ داخلی معاملات کو حل کرنے اور بیرونی ضروریات کے مطابق بیرونی پالیسیاں مرتب کرنے کی بجائے یکے بعد دیگرے حکمران ایک یا دوسرے طریقوں سے پہلے یو ایس ایس آر کے خلاف امریکہ کے اتحادی بن گئے۔ اسی طرح امت مسلمہ کے متفقہ رہنماء بننے کے مواقع کو ضائع کرتے ہوئے حکمرانوں نے ایران، لیبیا، عراق اور یہاں تک کہ کویت جنگ کے معاملے پر سعودی عرب کی ڈکٹیشن کے مطابق کئی غلطیاں کیں۔ اگرچہ مخصوص ذہنیت رکھنے والے لوگ افغانستان میں سوویت یونین کے بعد امریکہ کو شکست دینے کے دعوے کر کے خوش ہو رہے ہیں لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس طویل جنگ میں کون فاتح ہے اور کون یہ جنگ ہارا ہے۔ سبھی متفق ہیں کہ افغانستان کی سرزمین پر مسلط جنگ لاکھوں افراد کی ہلاکت اور اس کے تمام بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے باوجود جاری ہے۔ لیکن افغانستان میں طویل جنگ سے پیدا ہونے والے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے رجحانات سے پوری دنیا کے امن کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ جب بھی دنیا کے کسی بھی فورم پر افغان تنازعہ کا مسئلہ اٹھایا جاتا ہے تو پاکستان کا بنیادی طور پر تذکرہ کیا جاتا ہے۔ آج بھی نہ صرف جنگ زدہ افغانی بلکہ عالمی برادری کے تقریباً سبھی رہنماء اور رائے عامہ بنانے والے جب بھی تحفظ یا سلامتی کی صورتحال پر گفتگو کر رہے ہوتے ہیں تو عالمی برادری پاکستان کی طرف دیکھتی ہے۔ حقائق کو افسانوں اور مظاہروں سے پوشیدہ نہیں رکھا جا سکتا لہذا خاص طور پر حکمرانوں کو ”دیوار پر لکھی تحریر“ کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔ ضیاء الحق کی سابقہ فوجی حکومت کے دوران اس کے نفاذ کے بعد سے ہی ناقدین سخت اسلامی قوانین کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ اسی طرح ان قوانین کا غلط استعمال بھی آج کل روز کا معمول بن گیا ہے۔ عام غیرمسلم خاص طور پر کرسچن کمیونٹی کے لوگوں کو80 کی دہائی کے وسط سے اس طرح کے سخت قوانین کے ذریعے شکار کیا جا رہا ہے لیکن گذشتہ دو سالوں میں نامور سیاستدانوں اور رکن پارلیمنٹ کو توہین رسالت کی بنیاد پر ہلاک کیا گیا ہے۔29 جولائی2020 کو پشاور کی ایک مقامی عدالت کے اندر امریکی شہری کے قتل سے پوری دنیا میں اس ملک کے امیج کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔80 کے وسط تک غیرمسلم برادری سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لئے صورتحال بہت زیادہ دوستانہ رہی، ضیاء الحق نے حدود آرڈیننس کے نفاذ کے ساتھ ہی یہ صورتحال نہ صرف غیرمسلم برادریوں بلکہ پورے ملک کے لبرل، ترقی پسند اور جمہوری ذہن رکھنے والے مسلمانوں کے لئے بھی غیردوستانہ بنا دیا۔ مغربی دنیا خصوصاً یورپی پارلیمنٹ پر تنقید کرنے کی بجائے ہمیں خود کو ان غیرمسلموں کی تعداد سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے جو گذشتہ تین دہائیوں سے ملک سے فرار ہو رہے ہیں یا فرار ہو چکے ہیں۔ کسی کو بھی یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ یا تو مقدس اسلامی اصولوں یا قومی مفادات پر سمجھوتہ کرے لیکن کسی کو بھی مذہبی اصولوں کی بنیاد پر کسی دوسرے کو نقصان پہنچانے کی اجازت بھی نہیں ہونی چاہئے۔ اسلام امن، صبر اور برداشت کا دین ہے، اسلام کسی کے خلاف تشدد اور جارحیت کی اجازت نہیں دیتا یہاں تک کہ اسلامی اصول غیرمسلم کی جانوں اور املاک کو تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔ ملک کی آزادی سے لے کر کوئی ہندو، سکھ یا کوئی اور غیرمسلم کنبہ بیرون ملک سے ہجرت کر کے پاکستان نہیں آیا ہے، ملک میں بکھری ہوئے غیر مسلم برادریوں کے تقریباً تمام لوگ اسی سرزمین پر پیدا ہوئے ہیں، وہ پاکستان کے دوسرے مسلمان شہریوں کی طرح عزت و احترام کے برابر کے مستحق ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

Bacha Khan

صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد کشمیر پر حملہ (دوسرا حصہ)

مترجم: نورالامین یوسفزئی افواج کی طرف سے ایک خطرے کی گھنٹی بج رہی تھی اور …