ریاستی پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے

عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے شہید ترجمان اسد خان اچکزئی کی شہادت پر اس وقت نا صرف اے این پی بطور ایک جماعت سوگ کے عالم سے گزر رہی ہے بلکہ عدم تشدد کے نظریے، امن و آشتی، بھائی چارے اور سب سے بڑھ کر انسانیت پر یقین رکھنے اور اس ملک میں قانون و آئین کی حکمرانی کے لئے تگ و دو کرنے والا ہر باشعور شہری بھی افسردہ ہے اور یہی ایک سوال سب کی زبان پر مچل رہا ہے کہ آخر کیوں سچ حق کا ساتھ دینے اور امن کی خواہش رکھنے والوں کو اتنی بڑی سزا دی جاتی ہے۔ اتوار کو شہید رہنماء کی چمن میں تجہیز و تکفین کے موقع پر اے این پی کے رہنماء کی اغوائیگی اور بعدازاں بیدردی سے قتل کو ایک بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے اسی تلخ اور قابل افسوس حقیقت کی نشاندہی کی اور کہا کہ ہمیں امن، بھائی چارے اور عدم تشدد کی بات کرنے پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

دوسری جانب جبکہ باچا خان مرکز پشاور میں بھی ان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ اس موقع پر پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ اسد اچکزئی کی شہادت درحقیقت لاپتہ افراد کے لواحقین کے نام ایک پیغام ہے کہ اگر وہ خاموش نہیں ہوئے تو ان کے پیاروں کا بھی یہی حال ہو گا، مقتدر قوتیں اگر یہ سمجھتی ہیں کہ اس قسم کے ہتھکنڈوں سے ہم خوفزدہ ہو جائیں گے تو یہ ان کی بہت بڑی بھول ہے (کیونکہ) ہم پوری طاقت کے ساتھ یہ آواز بلند کرتے رہیں گے۔ انہوں نے ایک بار پھر اس امر پر زور دیا کہ ریاست اور متعلقہ اداروں کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہو گی (کیونکہ) پختون اور دیگر مظلوم اقوام کے معاملے میں ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اس وقت ملک بھر میں اے این پی کے پرچم سرنگوں ہیں، بلوچستان میں تو بازار اور مارکیٹیں بند تو سڑکوں پر ٹریفک بھی نا ہونے کے برابر ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایک طرف ہم فیٹف کی گرے لسٹ پر ہیں، ہم سے بدستور ”ڈو مور” کے تقاضے کئے جا رہے ہیں، عالمی سطح پر پاکستان تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے، اندرون ملک امن و امان کی صورتحال حوصلہ افزاء نہیں، سیاسی عدم استحکام، مہنگائی اور اس پر مستزاد بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، رہی سہی کسر کورونا کی وبائی صورتحال نے پوری کر دی ہے، ایسے میں اسد خان اچکزئی جیسی شخصیات، جو کسی دہشت گرد گروہ سے وابستہ ہیں نا ہی ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث، کے ساتھ اس طرح کا افسوسناک سلوک روا رکھ کر ہم اندرونی و بیرونی دونوں محاذوں پر اپنے مسائل میں اضافہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ بلاشبہ اچکزئی کی شہادت ایک سانحہ ہے لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہ طرزعمل ایک المیہ ہی ہے جسے اگر بدلا نہ گیا تو اس کے نتائج مزید بھیانک ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

بغدادی پیر، کل اور آج

تحریر: محمد عمران ڈیوڈ جونز کا ناول شاید بہت سے قارئین نے پڑھا ہو گا …