بونیر میں ٹریفک پلان کی بہتری اور چند تجاویز

ہمارے ہاں یہ بڑے پیمانے پر دیکھنے میں آیا ہے کہ بونیر ٹریفک پولیس کی کارکردگی میں کافی حد تک بہتری آئی ہے۔ مختلف چیک پوائنٹس پر تعینات ٹریفک وارڈن چوبیس گھنٹے مصروف رہتے ہیں تاکہ ضلع میں ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ٹریفک وارڈنوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ وہاں ڈیوٹی پوائنٹس کو بھی ضرب دیا گیا ہے۔ ماضی میں صرف بونیر کے دو اہم شہروں، ڈگر اور سواڑی، میں ہی ٹریفک وارڈن کو دیکھا جا سکتا تھا۔ لیکن اب توتالائی سے پیر بابا اور جووڑ تک بھی ان کے چیکنگ سپاٹ قائم ہو چکے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک شخص بونیر کے ہر مصروف مقام اور محل وقوع پر تعینات ٹریفک وارڈن دیکھ سکتا ہے۔ مبینہ طور پر جدید آلات اور تکنیک سے آراستہ ہونے کے بعد ٹریفک وارڈنز کی کارکردگی میں بھی بہتری آئی ہے۔ مناسب ٹریننگ کے ساتھ ساتھ ریفریشر کورس بھی وقتاً فوقتاً منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ انہیں جدید علم اور ٹریفک قوانین سکھائے جا سکیں۔ مختصر الفاظ میں بونیر ٹریفک پولیس بغیر کسی مبالغہ کے بہتر دکھائی دیتی ہے، ایک بہت ہی ذہین اور مکمل نظم و ضبط والی قوت کی طرح نظر آتی ہے اور عام لوگوں کے ساتھ ان کا برتاؤ اور سلوک کا طریقہ آج کل قابل تحسین ہے۔ اسی لئے بونیر ٹریفک کے جوانوں کو بجا طور پر پولیس فورس کا عوام دوست دستہ کہا جا سکتا ہے۔ تاہم میرے ذہن میں ان کی مزید بہتری اور کارکردگی کے لئے کچھ تجاویز ہیں جو میں ضرور پیش کرنا چاہوں گا۔ سب سے پہلے صوبے کے دوسرے اضلاع اور شہروں کے برعکس پورے ضلع بونیر میں ٹریفک سگنل نصب نہیں ہیں۔ خاص طور پر سواڑی اور ڈگر پر ٹریفک سگنل قائم کرنا ٹریفک کے آسان بہاؤ کے لئے بہت ضروری ہے۔ ٹریفک سگنل کی عدم دستیابی کی وجہ سے نہ صرف عام لوگوں کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ ٹریفک بھی طویل عرصے تک جام رہ کر رہ جاتا ہے۔ معاملے کی حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر گاڑیاں ان دونوں جگہوں سے گزر رہی ہیں۔ لہذا عوامی مطالبہ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تحصیل ڈگر اور تحصیل گاگرہ کی تحصیل میونسپل انتظامیہ کو کم سے کم یہاں ٹریفک سگنلوں کی کھدائی /قیام کے انتظامات کرنے کے لئے سخت اقدامات اٹھانا ضروری ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مرکزی بازار خصوصا سواڑی، ڈگر، پیر بابا، جواڑ اور دیوانہ بابا وغیرہ میں بڑھتے ہوئے تجاوزات کا لاحق خطرہ بھی بہت ساری پریشانیوں کا سبب بنتا ہے اور بونیر میں ٹریفک کے آسانی سے بہاؤ کو روکتا ہے۔ خاص طور پر مرکزی شہروں اور قصبوں میں دکانداروں کی طرف سے تجاوزات بہت پریشان کن ہیں اور لوگوں کی بے حد پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔ تیسرا یہ کہ بونیر کی ضلعی انتظامیہ کو بھی متبادل مقامات پر احتجاج کے انعقاد اور اجتماع کے لئے ایک حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اکثر سیاسی جماعتوں کے احتجاج یا عوامی مظاہروں کے دوران سڑکیں بند ہو جاتی ہیں خاص طور پر ضلع بونیر کا مصروف ترین اور پرہجوم بازار سواڑی کا مرکزی چوک۔ یہ کسی بھی احتجاج یا عوامی اجتماع کے موقع پر ہر طرح کی ٹریفک کے لئے گھنٹوں بند رہتا ہے۔ اسی وجہ سے بونیر کے مرکزی ہیڈ کوارٹر میں جانے والے عام لوگوں کو شدید ذہنی اور جسمانی دباؤ اور تناؤ سے گزرنا پڑتا ہے۔ لہذا یہ نہ صرف ہماری درخواست ہے بلکہ عوامی مطالبہ بھی ہے کہ آئندہ احتجاج کے مقام کو کسی اور آسان جگہ پر منتقل کیا جائے۔ مجھے امید ہے کہ بونیر کی ضلعی انتظامیہ ڈسٹرکٹ پولیس ڈپارٹمنٹ کے اتفاق رائے سے ان تجاویز کو عوامی مفاد میں بڑے پیمانے پر نافذ کرے گی۔ اگر ممکن ہوں تو!

یہ بھی پڑھیں

کشمیر، او آئی سی کی حمایت اور زمینی حقائق

جموں و کشمیر سے متعلق اسلامی ممالک کے رابطہ گروپ آف آرگنائزیشن (او آئی سی) …