سگریٹ مافیا اور عبث دعوے

سگریٹ مافیا اور عبث دعوے

وزیر اعظم بار بار دعوی مافیاؤں سے لڑنے کا کر رہے ہیں اور نتیجہ مافیاؤں کی جیت کی صورت میں نکل رہا ہے۔ آٹا اور چینی مافیا کا حال ہم نے دیکھ لیا۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ سگریٹ بنانے والی کمپنیاں جو ٹیکس چوری میں ملوث ہیں، حکومت ان کے خلاف کریک ڈاؤن کرے گی مگر ہوا اس کے بالکل الٹ، سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق قانونی طور پر بننے والی سگریٹ کی فروخت میں کمی واقع ہو ئی ہے۔ رواں مالی سال کے دوران قانونی سگریٹ کی فروخت میں 34 فیصد کمی آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا سگریٹ کے قانونی کاروبار پر اثر پڑا ہے جس کی وجہ سے صارفین غیر قانونی اور سستے سگریٹ کے استعمال کی طرف چلے گئے ہیں۔ وزیراعظم جہاں جاتے ہیں، دعوے مافیاؤں سے لڑنے کے کرتے ہیں جبکہ سٹیٹ بینک کی رپورٹ وزیراعظم کے دعوؤں کے برعکس حال سنا رہی ہے۔ اربوں روپے کی ٹیکس چوری ہو رہی ہے، ان میں ایسے سیاستدان بھی شامل ہیں جو صوبے اور مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت سے وابستہ ہیں۔ اس بات کا وزیراعظم کو علم بھی ہے اور خود ہی اس بات سے عوام وک بھی آگاہ کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ صرف دو کمپنیاں 98 فیصد ٹیکس دیتی ہیں اور باقی جو 40 فیصد سگریٹ بنانے والی کمپنیاں ہیں، صرف 2 فیصد ٹیکس دیتی ہیں۔ جس وقت وزیراعظم اس اجلاس میں ٹیکس چوری کے متعلق بات کر رہے تھے عین اس وقت کیمرے کی آنکھ کے پی کے کے ایک سگریٹ مافیا کے سرغنہ پر پڑ گئی جو ایک قیمتی گھڑی پہنے پہلی صف میں وزیراعظم کے سامنے بیٹھے بڑے آرام سے تبدیلی کی دعویدار سرکار کی باتیں سن رہے تھے۔ حکومتی اندازے کے مطابق ناقص سگریٹ کی ایک ڈبیہ پر 62 روپے 76 پیسے خرچ آتا ہے جس میں 42 روپے حکومتی ٹیکس کے بھی شامل ہیں۔ اس وقت چترال سے لے کر کراچی بلکہ تفتان (بلوچستان) تک 35 روپے سے 50 روپے تک کی قیمت پر 10مختلف برانڈ کی سگریٹ کی ڈبیاں فروخت کی جاتی ہیں جو قانونی طور پر سگریٹ فروخت کرنے والی مارکیٹ کو نگل رہی ہیں جس کا اعتراف سٹیٹ بینک کی پہلی سہ ماہی رپورٹ سے بھی واضح ہے۔ ان غیر قانونی سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کی وجہ سے تاحال 50 ارب روپے کا ملکی خزانہ کو نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ دوسری طرف ملک میں ٹیکس شارٹ فال کے سبب حکومت کو منی بجٹ تیار کرنا پڑ رہی ہے اور مہنگائی سے تڑپتے عوام کو بنیادی اشیاء میں ناجائز ٹیکس کا سامنا اور مزید کرنا پڑ رہا ہے۔ اس مافیا کو حکومت اپنے لئے ایک پولیٹیکل اکانومی سمجھتی ہے تو اس کے خلاف ایکشن کیسے لے گی؟ حکومت کا مافیا کے خلاف جنگ کے دعوے میںکیا وزن باقی رہ جاتا ہے جبکہ Conflict of intersts حلقہ وزیراعظم کے سامنے بیٹھ کر وزیراعظم کی تقریر ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑا دیتا ہے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ سارا کاروبار ملک بھر میں کھلے عام ہو رہا ہے، جب دکاندار سے کوئی بھی جرنلسٹ پوچھتا ہے کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں تو دکاندار کھل کر کیمرے کے سامنے جواب دیتا ہے کہ ہمیں پتہ ہوتا ہے کہ یہ سگریٹ کہاں بنتے ہیں لیکن جب ساری مارکیٹوں میں اس کی رسد بلا روک ٹوک دن دیہاڑے ملک بھر میں جاری ہے اور ملک بھر کی ہر مارکیٹ میں ان کے بڑے بڑے ڈیلرز بلا خوف خطر مال کے ساتھ آتے جاتے ہیں اور حکومت کی طرف سے ابھی تک کسی مارکیٹ پر چھاپہ بھی نہیں پڑا ہے تو ہم کیوں مہنگا بیچ کر اپنے کاروبار کو ناکام بنا کر گھر بیٹھ جائیں جبکہ سلسلہ اگر اسی طرح چلتا رہا تو عنقریب تمام قانونی کمپنیاںکاروبار سمیٹ کر مزید 75 ارب روپے کا سالانہ نقصان ملکی خزانہ کو دیںگی۔ میں یہ الزام نہیں لگاتا کہ یہ کاروبار عمران خان کے دور میں شروع ہوا ہے بلکہ سٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کے دور میں اس میں اضافہ ہوا مگر افسوس کی بات تو یہ ہے کہ عمران خان ان کے خلاف لڑنے کی نوید بھی سناتے ہیں اور اس وقت تحریک انصاف کی چھتری تلے وہ کے پی کے، وفاقی اسمبلی اور سینٹ میں قوم کے خادم بن کر قوم کا خون بھی پی رہے ہیں۔گزشتہ حکومتوں پر عمران خان کرپشن کے الزامات لگاتے تھے لیکن عمران خا ن کی حکومت اس وقت مافیاؤں کے نرغے میں ہے۔ اس وقت کے پی کے اسمبلی میں تحریک انصاف سے جڑے ایم پی ایز اور تحریک انصاف کے ایک سینیٹر کی کمپنیاںکم از کم 7مختلف برانڈز کے سگریٹ تیار کرکے بیچ رہی ہیں جن کی قیمتیں40 روپے یا اس سے کم ہوتی ہیں۔ اسی طرح اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز، سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کے اراکین اور حکومت کے مختلف تحقیقاتی اداروں کے اراکین بھی اس کاروبار سے وابستہ ہیں۔ یہ بااثر افراد ہیں جو حکومت پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اس حکومت پر اور بھی اثر انداز ہوچکے ہیں۔ اس وقت ملک میں تمباکو کی پیدوار 70 ملین ٹن ہے جس سے 43 ملین ٹن فارمل سیکٹر خریدتا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ باقی 27 ٹن کہاں جاتا ہے جس سے سگریٹ بھی تیار ہوتے ہیں اور ملک میں کھلے عام فروخت بھی کئے جاتے ہیں مگر کاغذات میں نہیں آتے اور اس پر ٹیکس نہیں لگتا۔ یہ ملک میں ٹیکس چوری کا پرانا دھندہ ہے جو چلتا آرہا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے ابتدا میں اس کو روکنے کی کوشش کی لیکن پھر کہانی نے ایک نیا موڑ لیا اور تحریک انصاف کی حکومت اس مافیا کے سامنے لیٹ گئی۔ ملک میں تمباکو کاشت کرنے والے ہزاروں کاشت کار ہیں اور خریدنے والے درجنوں کے حساب سے ہیں۔ گرین لیف تریشنگ پلانٹ کے عمل سے گزرنے کے بعد تمباکو سے سگریٹ تیار کئے جاتے ہیں۔ حکومت نے اس GLTP کے عمل کے بعد فی کلو 10روپے سے بڑھاکر 300 روپے فی کلو کردیا جو سگریٹ تیار کرنے کے بعد فی ڈبیہ کے لحاظ سے 42 روپے ٹیکس لے کر باقی واپس کرتی لیکن اس سے حکومت کو سگریٹ کے پورے نظام کو شفافیت کے دائرہ میں لانے کی آسانی پیدا ہو جاتی جس نے ٹیکس چوری کو مشکل بنا دیا تھا یعنی حکومت کو یہ پتہ چل جاتا تھا کہ کاشتکار سے کس کمپنی نے کتنا تمباکو خریدا ہے اور کمپنی نے کل کتنے سگریٹ بنائے، کتنے بیچے اور کل کتنا ٹیکس ادا کیا۔ حکومت کو یہ احساس ہونے لگا کہ اب خزانے میں 50 ارب روپے کا اضافہ ہو جائے گا مگر یہ مافیا فعال ہوا جو چینی مافیا کی طرح سیاسی طور پر بہت اثرورسوخ والا مافیا ہے جس کے زیادہ تر ارکان تاحال صوبائی اور وفاقی اسمبلی میں تحریک انصاف سے جڑے ہوئے ہیں۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے ایک خصوصی کمیٹی بنائی گئی جس کا اجلاس 13جون 2019 کو اسد قیصر کی سربراہی میں ہوا، اجلاس میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی سے تعلق رکھنے والے ارکان نے شرکت کی اور اس وقت کے ریونیو منسٹر حماد اظہر اور کے چیئرمین ایف بی آر شیبر زیدی بھی شریک ہوئے اور کاشتکاروں کو ریلیف دینے کے نام پر یہ ٹیکس ختم کردیا گیا لیکن اجلاس کے خاتمے پر یہ بات سامنے آئی کہ اسد قیصر نے شبر زیدی پر دباؤ ڈال کر یہ ٹیکس ختم کیا تھا۔ دبائو کے تاثر کو چیئرمین ایف بی آر نے رد کیا البتہ یہ واضح کیا کہ ہم نے ٹیکس لگاتے وقت قانون میں یہ شق شامل کی تھی کہ کاشتکار پر اس ٹیکس کا اثر نہ ہو اس لئے ہم نے GLTP کے مرحلے کے بعد قابل واپسی ٹیکس لگایا تھا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عمران خان کھلے طور پر مافیا کے سامنے سجدہ ریز ہیں، یہ جہاد کے دعوے محض عبث ہیں۔ لیکن پھر بھی خان یہ رونا روتے ہیں کہ مافیاؤں کی وجہ سے شبر زیدی گھر چلے گئے ہیں بلکہ کل تو حکومت سے بھی چلے گئے۔

Google+ Linkedin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

*
*
*