یہ نہیں چلے گا خان صاحب!

خان کے خلاف جو بھی سیاستدان بولتا ہے، صبح ہوتے ہی اس کو نیب کا مہمان بنا لیا جاتا ہے۔ اسے جب عدالت کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو عدالت کے سامنے جب نیب کی صحت جرم سے متعلق جو کلاس لی جاتی ہے تو شرم کے مارے پسینے ہمارے چھوٹ جاتے ہیں، وہ (ملزم) تو چھوٹ جاتا ہے لیکن صبح ہوتے ہی نیب بڑی ڈھٹائی کے سا تھ کسی اور کو ملزم بناکر شکار کر تا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں احتساب پر سے عوام کا اعتماد اٹھ گیاہے لیکن اس کے باوجود شہزاد اکبر ہر شام میڈیا پر بلا امتیاز احتساب، بلا امتیاز احتساب کہہ کہہ کر ہم کو ڈرانے کی کوشش کرتے ہیں اور ہم دل میں سوچتے ہیں کہ جھوٹا بابا ہماری آنکھوں میں دیدہ دلیری سے دھول جھونک رہے ہیں، کہاں خان کا احتساب اور کہاں بلا امتیاز کا لاحقہ؟ توبہ توبہ! نیب کا تو موجودہ شکل میں اب مزید آگے چلنا مشکل نظر آرہا ہے۔ خان کے ہٹلرانا مزاج کے سامنے نیب کی شمع اب بجھتی نظر آرہی ہے۔اب خان اس گھوڑے کو ذبح کرنے پر تلے ہیں جس کی پیٹھ پر سوار ہوکر خان آف جوانان یہاں تک پہنچے ہیں۔ حکومت نے بڑی خاموشی سے سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لئے قوانین بنا لئے ہیں اور وفاقی کابینہ نے ان کی منظوری بھی دے دی ہے حالانکہ کابینہ قانون کے نفاذ کے لئے تو رولز بنا سکتا ہے لیکن قانون نہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے سوشل میڈیاکے قواعد میں ترمیم کی ہے جس کو ان کی روایت کے مطابق پا رلیمنٹ سے منظوری لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ وزارت اطلاعات کے سینئر حکام نے قانونی مسودے کی منطوری کی تصدیق کی ہے۔ نئے قوانین کے تحت یوٹیوب، فیس بک، ٹوئٹر، ٹک ٹاک اور ڈیلی موشن سمیت دیگر تمام کمپنیوں کو 3 ماہ کے اندر اندر رجسٹریشن کرانا ضروری ہوگی اور 3 ماہ کے اندر اندر اسلام آباد میں دفتر کھولنا لازمی ہوگا جبکہ ان پر پاکستان میں رابطہ افسر رکھنے کی بھی شرط رکھی گئی ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں ایک سال کے اندر اندر پاکستان میں ڈیٹا سرورز بنانے ہوں گے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ نئی ترمیم کے تحت حکومتی اداروں کے خلاف بات کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لئے نیشنل کوآرڈینیشن اتھارٹی بنانے کا بھی فیصلہ ہوگیا۔ یہ ادارہ ہرزہ سرائی، اداروں کو نشانہ بنانے اور ممنوعہ مواد کی اشاعت پر اکاؤنٹ بند اور ملک کے خلاف باتیں کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے گا۔ کیا حکومت کا یہ اقدام درست ہے؟ سوشل میڈیا کو اس لحاظ سے تو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ لاکھوں پاکستانیوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کئے گئے مواد کی لگ بھگ 10فیصد آمدن اس مواد کے پروڈیوسرز کو ملتی ہے لیکن اس کو جانچنے کا بھی واضح طریقہ کار پاکستانی حکومت کے پاس نہیں اور نہ ہی اس ریونیو سے حکومت پاکستان کو کوئی حصہ ملتا ہے۔ اس لحاظ سے تو ان کے دفتر اسلام آباد میںضرور ہونے چاہئیں تاکہ ان کو ریگولیٹ کیا جا سکے اور ان کے کمائے ہوئے منافع میں پاکستان کو بھی کچھ حصہ مل سکے۔ لیکن اس کی دیگر شقوں سے ماہرین موافق نظر نہیں آتے ہیں کہ دفتروں کے قیام کے بعد جو رولز اور ریگولیشن بنائے گئے ہیں ان پر ان میڈیاز کو پورا اترنا ہو گا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان کو معطل یا بند کرکے 50 کروڑ تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ جو انفارمیشن ان اداروں سے مانگی جائے گی وہ بھی ان اداروں کو مہیا کرنا ہوگی، نہ کرنے کی صورت میں ان اداروں کو جرمانہ کیا جا سکے گا۔ اس سے ماہرین کو یہ لگتا ہے کہ حکومت کے اختلاف رائے پر قد غن لگانے کے عزائم ہیں اور اس کی نگرانی کے لئے جو طریقہ کار اختیا ر کیا گیا ہے کہ نیشنل ایک کوآرڈینیٹر ہوگا جو کہ ایک فرد واحد ہوگا اور صرف ایک شخص ہی فیصلہ کرے گا کہ کون سا مواد ملک مخالف اور کون سا مواد ہمارے کلچر کے لئے زہر قاتل ہے۔ بقول سلیم صافی عمران خان کی یہ فطرت ہے کہ جو ادارہ اس پر احسان کرتا ہے اقتدار میں آنے کے بعد وہ اس کا گلا دبا دیتے ہیں۔ ٹی وی چینلز نے ان کو تراشنے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا لیکن خان نے اقتدار میں آکر ٹی وی چینلز کو معاشی طور پر برباد کر رکھا ہے اور دوسری طرف سوشل میڈیا کے ذریعے پی ٹی آئی کے ورکروں نے کسی بھی سیاستدان کے پگ کو بے داغ نہیں چھوڑا ہے لیکن خان صاحب اب اسی سوشل میڈیا کا گلا دبانا چاہتے ہیں اور اس کے بعد، سلیم صافی کے مطابق خان اپنے دوستوں کو لاتیں مار کر اپنی جماعت سے نکال دیں گے اور پہلی باری ترین کی ہوگی، یہ سب کچھ کیا دھرا فروغ نسیم کے ذہن کی اختراع ہے جس نے اپنے سازشی ذہن کی بنیاد پر مشرف اور الطاف حسین کو رسوائی کے انجام سے دوچار کیا اور یہی شخصیت اپنے سازشی ذہن کو بروئے کار لا کر عمران خان کے لئے بھی بڑی رسوائی کے ساتھ وطن سے جانے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ یہ تو ہر کوئی مانتا ہے کہ سوشل میڈیا پر کسی پر تنقیدکرنے کے نام پر اس کی تضحیک ہو رہی ہے، کسی کی عزت محفوظ نہیں ہے، غیر اخلاقی فراوانیاں ہیں، جعلی اکاؤنٹس کی بھر مار ہے بلکہ اس میدان میں انٹرنیشنل پلیئرز بھی کود چکے ہیں، جزا سزا کا کوئی انتظام نہیں ہے لیکن اگر حکومت کی نیت میں کوئی فتور نہیں تو ایسا عظیم کام رات کی تاریکی میں نہیں کیا جاتا، یہ تو ایسا ہے کہ کوئی لڑکی رات کی تاریکی میں اپنے بوائے فرینڈ کے سا تھ بھاگ جائے۔ قانون گھپ اندھیروں میں نہیں بنائے جاتے بلکہ بحث و مباحثہ کی چھان کر، نتھار کر بنائے جاتے ہیں۔ یہ بھی قابل افسوس امر ہے کہ ملک کی آزادی ایک فرد واحد کے ہاتھ میں دی جائے کہ وہ اس قوم کی رائے کے حسن و بد کا فیصلہ کرے بلکہ ماہرین کی رائے میں یہ چائنہ اور سعودی کی طرح اظہار خیال کا گلا دبانا ہے جو سزا دینے کے اعتبار سے عمران خان کے آئیڈیل ملک ہیں۔ عمران خان کی ریاست مدینہ میں عمرانی قبیلہ احتساب سے مبرا ہے۔ ان ترامیم کو آئینی پیمانے پر تول کر سپریم کورٹ پلک جھپکتے ہی کالعدم قرار دے گی۔ اس کا احسن طریقہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے اس مسئلے کو وہاں پیش کرکے ایک مکمل بحث و مباحثے کے بعدکوئی قانون بنایا جائے تاکہ ایک جامع قانون کے تحت ایک مبنی بر انصاف کمیٹی کے توسط سے ایک موثر جمہوری طریقہ کارکے تحت ان کی نگرانی کی جائے۔
٭٭٭٭٭

یہ بھی پڑھیں

اسلام کی آڑ میں

پچھلے کافی عرصے سے یا بہ الفاظ دیگر ’’یہ نصف صدی کا قصہ ہے دو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔