خان زندہ باد

عدالت نے شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال کو ایک ایک کروڑ روپے کے مچلکے پر ضمانتیں دیدی ہیں۔ اب تک عمران خان اپنے دعوؤں کے برعکس کرپشن کے خلاف لڑنے میں ناکام رہے ہیں۔ کیا عمران خان کو اپنے اس عزم میں کامیابی کے لئے کرپشن کے خلاف لڑنے پر اپنی توجہ فوکس کرنی چاہیے یا ملک کی ترقی کے لئے کارکردگی دکھا کر آگے بڑھنا چاہیے۔ عمران خان کے پیروکاروں کا کہنا ہے کہ ضمانتوں کے موسم کو ایک طرف رکھیں، ڈیل کے تاثر کو دوسری طرف رکھیں یہ عدالتوں کے فیصلے ہیں اور ہم عدالتوں کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں۔ ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ نیب کی Capability کے مسائل بھی ہوں گے، کہیں الزامات بھی کمزور ہوں گے اور کہیں کیس کی پیروی بھی کمزور ہو گی اور یہ درست ہے کہ نیب کی کارکردگی بھی بلاامتیاز نہیں ہے لیکن سارے ملزمان بااختیار اور پیسے والے ہیں اور چالیس سال سے اقتدار میں ہیں اور سب کے بندے تمام محکموں میں گھسے ہیں۔ سب کے پاس چوٹی کے وکیل ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ اس ملک میں بڑوں کے لئے اور قانون ہے اور چھوٹوں کے لئے اور۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ بڑوں کے لئے مہربان عدالتیں ہوتی ہیں اور مہربان معاشرہ ہوتا ہے۔ لیکن کیا 25 والیومز والی رپورٹ جعلی اکاؤنٹ اور منی لانڈرنگ کے متعلق جھوٹ ہے؟ ہم نہیں مانتے ہیں۔ کیا 10 والیومز پانامہ والی رپورٹ جھوٹ ہے، ہم نہیں مانتے ہیں۔کیا پیڑی والوں اور پاپڑ فروشوں کی جعلی ٹی ٹیاں جھوٹ ہیں، ہم نہیں مانتے ہیں۔ کیا 56 کمپنیز والا سکینڈل جھوٹ ہے، ہم نہیں مانتے ہیں۔ کیا ایون فیلڈ اور سرے محل کی منی ٹریل مل گئی، ہم نہیں مانتے ہیں۔ کیا یہ ملک ایزی لوڈ والی سبا نے لوٹ لیا ہے یا مودی اور ٹرمپ نے لوٹ لیا ہے۔ کیوں ان خود ساختہ بڑوں کی ائیرلائنز منافع میں ہیں اور قومی ائیر لائن خسارے میں، کیوں ان کی فیکٹریاں سونا اگل رہی ہیں اور ملک کی فیکٹریاں خسارے میں ہیں۔ یہ قرضے اور یہ 173 اداروں کا زمین بوس ہونا، کیا یہ نریندر مودی کر گیا، ہم نہیں مانتے ہیں۔ جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے نیب اور ایف آئی اے کو مضبوط نہ کرنا ان کا قصور ہو سکتا ہے، نواز شریف کو ملک سے جانے دینا ان کا قصور ہو سکتا ہے۔ باقی عمران خان کی کرپشن کے خلاف دعوؤں کی نفی کس بنیاد پر ہو رہی ہے اور اپنی طاقت اور بساط کے مطابق عمران خان اپنے دعوے پر ڈٹے ہیں، احتساب کی باتیں وہ کرتے ہیں اور انہیں کرنا چاہیے لیکن اس وقت عمران خان کو اپنی توجہ کارکردگی پر مرکوز رکھنا چاہیے اور جو کام احتساب نہ کر سکا، وہ اچھی کار کردگی سے ہو جائے گا اور عمران خان ان بنارسی ٹھگوں اور ’’گنڑکپوں‘‘ کو اپنی کارگردگی کی بناء پر قابو کر سکتے ہیں۔ مندرجہ بالا پیراگراف میں جو سوالات اٹھائے گئے ہیں، انہیں ہم حقیقت کی کسوٹی پر رکھ کر ایک جائزہ لیتے ہیں۔ دنیا میں کسی بھی شخص سے چاہے وہ کسی کی نظر میں کتنا بڑا مجرم کیوں نہ ہو کوئی اس سے یہ حق چھین نہیں سکتا ہے کہ وہ کسی کو بھی اپنا وکیل بنا سکتا ہے اگر وہ افورڈ کر سکتا ہو اور نہ کوئی کسی وکیل سے یہ حق لے سکتا ہے کہ XYZ کاکیس نہ لڑے۔ لیکن نیب احتساب کرنے کے لئے نہیں بنا بلکہ یہ احتساب کے نام پر درحقیقت ایک پولیٹیکل انجینئرنگ ٹول ہے جس کے ذریعے مخالفین کو خجل و خوار کرنا ہے، لہذا یہ احتساب کے نام پر انتقام کا تاثر دیتا ہے جو ملک کی اعلیٰ عدالتوں نے بھی تسلیم کیا اور ہم کو بھی یہ حقیقت معلوم ہے کہ نیب بھونڈے طریقے سے کیس تیار کرتا ہے کہ آگے جاکر اپنے دلائل موثر طریقے پر نہ دینے کی وجہ سے ملزم آسانی کے ساتھ ضمانت پر رہا ہو جاتا ہے۔ بلکہ ملک کی اعلیٰ عدالتوں کا یہ موقف بھی سامنے آیا ہے کہ لگتا ہے کہ نیب کو کیس بنانا نہیں آتا ہے۔ ہر ملز م کی ضمانت پر نیب کی طرف سے یہ بیان آتا ہے کہ ہم دی گئی ضمانت کے خلاف سپریم کورٹ میں جائیں گے لیکن ابھی تک کسی بھی ملزم کی ضمانت سپریم کورٹ کے ذریعے کینسل نہیں ہو سکی ہے۔ گرچہ ضمانت کی بنیاد پر کوئی کسی الزام سے بری قرار نہیں دیا جا سکتا ہے لیکن ابھی تک نیب بھی تو کسی پر لگے الزام کو سپریم کورٹ میں جرم میں بدل نہیں سکا ہے۔ نیب تو قوم کو یہ تاثر بھر پور طور پر دے گیا ہے کہ زرداری اور نواز شریف اس ملک کے سب سے بڑے چور ہیں جسے عمران خان نے موثر طور پر کیش کیا لیکن اب تک ان پر کرپشن ثابت نہ ہو سکی ہے گرچہ نواز شریف اور زرداری نے بھی اب تک منی ٹریل نہیں دیا ہے لیکن پاکستان میں Asset beyond means کے الزام کی بنیاد پر کوئی بھی اپنی منی ٹریل نہیں دے سکتا ہے اور نہ دنیا کی کسی بھی عدالت میں Asset beyond means کی بنیاد پر کوئی کیس چلتا ہے۔ حسن اقبال گرچہ CPEC کے معاملے میں کے پی کے سے ظلم کرنے کی انتہا پر چلے گئے تھے لیکن ان کے اور شاہد خاقان عباسی کے متعلق یہ اندھوں کو بھی نظر آرہا تھا کہ نیب کے ذریعے انہیں ہر صورت میں مجرم ثابت کیا جا رہا ہے لیکن ان دونوں نے نواز شریف اور زرداری فیملی کے بر عکس جس بہادری سے اپنے خلاف الزامات کا مقابلہ کیا وہ ہر لحاظ سے لائق تحسین ہے اور ان کا یہ رویہ مسلم لیگ کے پورے سیاسی مزاج کے برعکس ہے۔ عمران خان، ان کے سارے مافیا اور تمام ادارے مل کر بھی ان پر جرائم ثابت نہ کر سکے حالانکہ عمران خان کے احتساب کے پراجیکٹ کی رو سے انہیں ہر قیمت پر مجرم ثابت کرنا تھا اور اس کے باوجود بھی نیب نے اتنی بے شرمی کا مظاہرہ کیا کہ نیب ان کیخلاف سپریم کورٹ جائے گا۔ کیوں شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال جیسے دیگر لوگ اکٹھے ہوکر خود نیب اور عمران خان کی حکومت کے خلاف سپریم کورٹ نہیں جاتے ہیںکہ انہوں نے ہمارے بنیادی حقوق پامال کئے اور ملک کی معیشت کا بیڑا بھی غرق کیا۔ انہوں نے ملک کی معاشرت اور سیاست میں منافرت کے بیج بھی بوئے تاکہ بہتر مستقبل کی خاطر تو یہ سلسلہ بند کیا جائے ۔ بقول حسن نثار صاحب کے اب نیب جتنی بھی کارروائیاں کرے گا یہ موجودہ لسی میں مزید پانی ڈالنا ہے اور پانی ڈالتے ڈالتے لسی کی لذت خود بخود ختم ہو جائے گی۔ لہذا اب تحریک انصاف کو صرف اور صرف دیگر شعبوں میں کاکردگی دکھانا ہوگی جو کہ تاحال نظر نہیں آتی ہے۔2022 تک سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس ملک کی معیشت کی ترقی کی شرح کے متعلق جو رپورٹ جاری کی ہے اس میں 4 فیصد کی شرح کا ہندسہ دور دور تک نظر نہیں آتا ہے جبکہ نواز شریف کے آخری سال میں یہ 5.5 فیصد تھا یعنی مودی سرکار کے برابر۔ ادھر خیبر پختونخوا کے بجلی رائلٹی جیسے آئینی حق کو ماننے سے خسرو بختیار انکاری تھے یہاں تک کہ اپوزیشن کی چیخ و پکار کے بعد خان نے یہاں آکر صوبائی حقوق کے تحفظ کے جواں ہمت نمائندوں کے سامنے بجلی رائلٹی کا حق ماننے کا اقرار کیا لیکن وفاق کے پاس ایک دمڑی نہ ہونے کے سبب دینے سے معذرت کی۔ اس بے شرم بیان پربھی ان نمائندوں کی تالیاں نہیں تھمتی تھیں سندھ حکومت کو کرپشن کے سبب اس کے آئینی حقوق نہ دینے کا اقرار کر رہے ہیں جبکہ خود وفاق اور پنجاب کے چھان چھان وجود دیکھنے سے قاصر ہیں۔ باقی رہا عدالتوں کے وقار کا سوال تو حال ہی میں چند واقعات سے ثابت ہوچکا ہے کہ عدالتوں کی تکریم کا دعویٰ کس حقیقت کی بنیاد پر ان کے ماتھے کا جھومر ہے۔ ایسے میں خان زندہ باد نہ کہوں تو اور کیا کہوں؟
٭٭٭٭٭

یہ بھی پڑھیں

اسلام کی آڑ میں

پچھلے کافی عرصے سے یا بہ الفاظ دیگر ’’یہ نصف صدی کا قصہ ہے دو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔