Wait and see، بہت بڑی ناعاقبت اندیشی

کرونا وائرس کی وجہ سے اس وقت عالمی معیشت کا پہیہ جام ہو چکا ہے، پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی ہنگامی صورت حال ہے اور اس طرح کی ہنگامی صورت حال اور چیلنجز ہنگامی اقدامات کا تقاضہ کرتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک کاروباری طبقے اور شہریوں کے لئے بڑے مالی پیکجز کے اعلانات کرچکے ہیں۔ پاکستان کو بھی اپنی معیشت کو سہارا اور غریبوں کو امداد دینے کے لئے بغیر کسی انتظار کے اہم فیصلے لینا ہوں گے کیونکہ کرونا وائرس کے حوالے سے Wait and see والی پالیسی بہت بڑی ناعاقبت اندیشی ہے۔ کرونا وائرس اب 186سے زائد ممالک تک پھیل چکا ہے۔ پوری دنیا میں چار لاکھ کے قریب کرونا وائرس کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ساڑھے سولہ ہزار سے زائد افراد موت کی وادی میں چلے گئے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں اس وقت لاک ڈاؤن ہے۔ دنیا اس وباء کی وجہ سے بہت تیزی کے ساتھ کساد بازاری کی طرف بڑھ رہی ہے اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے امریکہ، برطانیہ، انگلینڈ اور دنیا کے کئی ممالک امدادی پیکجز کے اعلانات کر چکے ہیں۔ اس وقت امریکہ نے اپنے ملک کے کاروباری طبقے اور عوام کو سہارا دینے کے لئے ایک ہزار ارب ڈالرز سے زائد کا اعلان کیا ہے جو تیاری کے مرحلے میں ہے جبکہ صدر ٹرمپ نے پورے طور پر سو بلین ڈالرز کے ریلیف پیکج پر دستخط کر دیئے ہیں۔ ائیر لائن انڈسٹری کے لئے 150ارب ڈالرز اور دیگر سیکٹرز کے لئے 300 ارب ڈالرز دینے کی تجویز پر غور کیا جارہا ہے۔ امریکہ میں ہر شہری کو ایک ہزار ڈالر کا چیک ملنے کا امکان ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص کو دس لاکھ ڈالرز تک قرض کی ادائیگی کرنی ہے تو اس کو تین ماہ کی چھوٹ دی گئی ہے۔ اسی طرح برطانیہ نے بھی معاشی حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے 350 ارب پاونڈز کے معاشی پیکج کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی برطانوی کمپنی انتہائی کم شرح سود پر 50 لاکھ پاؤنڈز کا قرضہ لے سکتی ہے اور ابتدائی چند مہینوں تک اس کو سود سے چھوٹ کی سہولت بھی ہوگی۔اسی طرح برطانوی شہریوں کے لئے بھی قرض کی ادائیگی کے لئے تین ماہ کیلئے چھوٹ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ویتنام نے بھی نجی کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے ملازمین کو نہ نکالیں بلکہ حکومت ان ملازمین کو ان کی تنخواہوں کا 75 فیصد حصہ کچھ مہینوں تک دے گی۔ فرانس نے بھی کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے 45 بلین یوروز دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ چھوٹے تاجروں کو کرائے اور یوٹیلٹی بلز معاف کئے ہیں۔ بھارت کے مختلف صوبوں میں اسی قسم کے پیکجز دینے کے اعلانات کئے جا رہے ہیں۔ ریاست اتر پردیش نے 35 لاکھ مزدوروں کو ہر ماہ ایک ہزار روپے نقد دینے کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح قطر میں بھی شاپنگ مالز اور مارکیٹوں کا کرایہ چھ ماہ تک نہیں لیا جائے گا۔ سعودی عرب نے بھی معیشت کو سہارا دینے کے لئے 32 ارب ڈالرز جبکہ کاروبار ی برادری کو انکم ٹیکس سمیت دیگر ٹیکسز میں چھوٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک بھی اسی طرح کے اعلانات کر رہے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان ان ممالک کے مقابلے میں معاشی طور پر مضبوط ملک نہیں ہے لیکن پاکستان کو بھی اپنی حیثیت کے مطابق عوام کو معاشی ریلیف دینے کے لئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ حکومت کو اس دباؤ سے نکلنے کے لئے آوٹ آف دی باکس حل نکالنا ہوگا۔ جو اہم فٰیصلے کرنے ہیں وہ فوراً کرنے ہوں گے۔ مزید تاخیر نہیں ہو سکتی ہے۔ وزیر خزانہ حفیظ شیخ نے جمعہ کو وزیراعظم کی معیت میں صحافی برادری سے فرمایا کہ حکومت منگل کے دن اصلاحات کا اعلان کرے گی، صنعت کاروں کو سبسڈی دی جائے گی اور ٹیکسوں میں کمی کا اعلان کیا جائے گا تاکہ کرونا وائرس سے اکانومی کو تباہی کا سامنا نہ ہو۔ لیکن اس اعلان میں ایسا کوئی عندیہ نہیں دیاگیا کہ پارشل لاک ڈاؤن اور کرونا وائرس کے باعث معاشی حالات کے خراب ہونے کے سبب دیہاڑی دار مزدوروں کو کیاا پیکج دیا جائے گا۔ ہفتے کے دن کروڈ آئل کی قیمت 19 ڈالرز فی بیرل تک آئی تھی جو کہ بعد میں بائونس ہوکر 23 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔ حکومت پاکستان کے پاس بہت بڑا موقع ہے کہ وہ ڈیزل اور پٹرول کی قمیتوں میں خاطر خواہ کمی لائے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس وقت حکومت پاکستان کم ازکم 25 تا 30 روپے فی لیٹر قیمت کم کرسکتی ہے۔ اس کے باوجود بھی حکومت فی لیٹر خاطر خوا ہ ٹیکس کما سکتی ہے اور اس کی قیمت کم کرنے کے لئے یکم اپریل تک انتظار کرنا کوئی دانشمندی نہیں ہے بلکہ سابقہ سیکرٹری خزانہ وقار مسعودکے مطابق ماضی میں کئی بار ہر 15دن کے بعد کیا بلکہ ہفتہ وار بنیاد پر نظر ثانی کی جاتی رہی ہے، ماہانہ بنیاد پر نظر ثانی کرنا کوئی آسمانی صحیفہ کے مطابق عمل نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ سہولت حکومت کی طرف سے عوام کو تو نہیں ملتی بلکہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی طرف سے ملتی ہے جس کا فائدہ اب حکومت کے علاوہ تیل کی ترسیل سے وابستہ کمپنیوں کو بھی بے حساب مل رہا ہے تو کیوں نہ یہ سہولت عوام کو منتقل کی جائے۔ اس وقت دنیا میں پاکستان شرح سود کے لحاذ سے ارجنٹائن کے بعد دوسرا بڑا ملک ہے۔ بزنس کمیونٹی اور صنعت کاروں کو یقین تھا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان شرح سو دکو سنگل عدد پر لے آئے گا لیکن سٹیٹ بینک آف پاکستان نے .75 کی کمی پر اکتفا کیا۔ حالانکہ شرح سود میںصرف ایک فیصدکمی سے حکومت پر قرض کے بوجھ میں ماہانہ 20 ارب روپے کی کمی آتی ہے جو رواں سال بجٹ پر 3200 ارب روپے کا بوجھ ہے، اس کمی سے عوام کو بہت سہولت مل سکتی ہے لیکن اس کے لئے دوماہ کا انتظار کیوں کیا جا رہا ہے؟ وزیراعظم اس ضمن میں عالمی اداروں سے کرونا وائرس کے سبب معیشت کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے معاشی سہولت مانگ رہے ہیں اور خود بے جا معاشی پالیسیوں کے سبب عوام کو عذاب عظیم میں مبتلاء رکھا ہے۔ ہاٹ منی کے حصول کی خواہش اب بے معنی ہے کیونکہ پاکستان کو آئل میں کمی کے باعث اب 7 بلین ڈالرز سے زائد آسانی کے ساتھ ملنے والے ہیں تو اب زیادہ شرح سود کا جواز کیا ہے؟ کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے۔ دیکھتے ہیں منگل کے دن خان آف ریاست مدینہ اپنی رعایا پر اطمینان کا پھوار برساتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں

Hunarmal

وَلَو کُنتُم فی بُروجِِ مُشیدۃ

موت کو تھوک کے حساب سے بانٹنے والا کورونا وائرس پوری آب وتاب کے ساتھ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔