چند ثانیے سردار حسین بابک کے ساتھ

جب اے این پی برسر اقتدار آئی تھی تو دہشت گردی عروج پر ہونے کے باوجود کے پی کی حیات جہاں کے کئی شعبوں میں جواں ہمت وزیر اعلیٰ امیر حیدر ہوتی نے کئی کارنامے سرانجام دیئے، ان میں تعلیمی ترقی ایک خصوصی باب کی حامل ہے۔ اگر ایک طرف اس کا کریڈٹ امیر ہوتی کو جاتا ہے تو دوسری طرف اس کریڈٹ سے سردار بابک کو محروم کرنا بھی زیادتی ہو گی جن کے دور وزارت میں بے شمار نئے سکولوں کا قیام، بے شمار سکولوں کی اپ گریڈیشن، نظام تعلیم کو مادری زبان میں رائج کرنے کے لئے عملی کوششیں، طالبات کو تعلیم کی طرف راغب کرنے کے واسطے وظائف، قابل طلبہ و طالبات کے لئے وظائف مقرر کرنے کے لئے مختلف پروگرام وغیرہ جیسے لازوال و بے مثال کام ہوئے، جس بائیومیٹرک نظام کا پی ٹی آئی کریڈٹ لیتے تھک نہیں رہی یہ پراجیکٹ بھی اس حکومت کے آخری ایا م میں دستخط شدہ ہے۔ اساتذہ کو تعلیمی سرگرمیوں کو سر انجام دینے کے لئے انہیں نفسیاتی طور پر مطمئن کرنا ضروری ہوتا ہے لہٰذا اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ کرنا بھی بابک صاحب کی لگن کے باعث ممکن ہوا تھا۔ اساتذہ کے سالوں کا انتظار ختم کر کے انہیں اپ گریڈ کر دیا گیا۔ گویا سیاست کے میدان میں وارد ہوتے ہی بابک نے دھوم مچا دی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اے این پی کو پختونوں کو زندگی کے میدان میں آگے لے جانے کے لئے اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کرنے کی ضرورت کا احساس ہے اور سردار حسین بابک نے خدائی خدمت گار تحریک کے ممبر ہونے کی وجہ سے اس احساس کا ایک عملی نمونہ دکھا دیا۔ اگر تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو خدائی تحریک کی بنیاد رکھتے ہی پختونوں کو تعلیم سے روشناس کرانے کے لئے باچا خان اور ان کے مخلص ساتھیوں نے مدرسوں کا جال بچھا دیا تھا۔ کسی قوم کو اپنی بات پہنچانے کے لئے ہر فرد سے گھل مل جانے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی خوبی سردار بابک میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ وہ کسی بھی شخص کو پہلی ملاقات میں یہ احساس دلاتے ہیں گویا کے مخاطب سے برسوں کے تعلقات ہیں اور شائد نہیں بلکہ یقیناً کہ سلیکشن کے اس دور میں بھی سردار بابک اپنے حلقے کی سیاست میں اپنے حلقے کے عوام کی محبت کی طاقت سے خفیہ قوتوں کو انتخابی میدان میں مات دے پاتے ہیں۔ اپنے روشن وژن، قابلیت اور جرات اظہار کے سبب یہ نام نہاد ڈپٹی اپوزیشن لیڈر نہیں بلکہ اسمبلی کو ہر وقت متحرک اور گرمائے رکھتے ہیں۔ قابلیت اور سرگرم کارکن ہونے کے سبب آج یہ اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری ہیں، وہ باچا خان مرکز میں واقع اپنے دفتر باقاعدگی سے آتے ہیں اور پارٹی کے بے شمار کارکن اور پارٹی کے مختلف لیول کے عہدیداروں سے ملاقات کرتے ہیں۔ چہرے پر مسکراہٹ سجاتے ہوئے ہر کسی کو بار بار باچا خان مرکز آنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں راقم سے چند ثانیہ کی ملاقات میں انہوں نے ایسے ہی برتاؤ کا مظاہرہ کیا، مرکز میں اچھی مہمان نوازی کے باوجود چائے پانی کا بڑے اخلاص سے پوچھا، چند ثانیے کی دوسری ملاقات کے دوران پختوں قوم کے مزاج کے متعلق اپنے موقف کو کوزے میں بند کرکے پیش کیا، اس موقع پر جنوبی پختونخوا کے صدر شاہی خان شیرانی، نوشہرہ کے صدر جمال خٹک اور دو تین اور شخصیات بھی موجود تھیں۔ باتوں کے دوران بابک صاحب نے یہ تاسفانہ اظہار بھی کیا کہ پختون قوم اپنے فائدے کے متعلق بہت کم دماغ سے کام لیتی ہے، انہوں نے یہ مثال بھی دی کہ اگر کسی پختون کی 200 جریب غیرنہری زمین بھی ہو تو وہ اپنی فصل کی بوائی اور بڑھوتری کے لئے بارش کی دعائیں مانگتا ہے لیکن خود ہمت کر کے ٹیوب ویل نکالنے کی زحمت گوارا نہیں کرے گا۔ دماغ سے کام نہ لینے کا یہ نظارہ راقم ساون کے موسم میں خود اپنے گھر میں بھی بار بار دیکھتا ہے، اکثر صحن میں چارپائیاں پڑی ہوتی ہیں، ڈھکنا تنور کے پاس پڑا ہونے کے باوجود تنور پر نہیں ہوتا ہے، دھوئے ہوئے کپڑے تاروں پر سکھانے کی خاطر پڑے ہوتے ہیں، پانی نکالنے والے موٹر کا پردہ موٹر کے پاس تو ہوتا ہے مگر موٹر پر نہیں ہوتا ہے جبکہ جانور کھلے صحن میں بندھے ہوتے ہیں۔ جب تک بارش کی بوندیں ریلے میں نہیں تبدیل ہوتیں ہم ٹس سے مس نہیں ہوتے اور یہی ہم سب پختونوں کی کہانی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پختون قوم ہنر پر شرم محسوص کرتی ہے، اکثریت نے اپنے پیشے چھوڑ دیئے یہاں تک کہ ہم بحیثیت قوم پیشہ گری کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے ہیں جبکہ بدقسمتی سے حکومت کے پاس وسائل ہونے کے باوجود اس طرف راغب نہیں ہے۔ جب تک ہم دماغ سے نہیں سوچتے اس وقت تک آگے جانا نا ممکن ہے۔ انہوں نے اس کی وجہ یہی بتائی کہ پختون قوم کو خان ازم کا نشہ چڑھ گیا ہے۔ پیشہ گری کا پنجاب سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ پنجابی قوم کا بچہ بھی اپنا معمولی سا کاروبار بھی ایسی لگن سے کرتا ہے کہ دل چاہتا ہے کہ میں بھی ایسے ہی کروں۔ انہوں نے کہا کہ پختون قوم حکومت کے تعاون کے بغیر بھی آگے بڑھ سکتی ہے بشرطیکہ پختون قوم میں اتحاد ہو، انہوں نے اس کی مثال ہر گلی کوچے میں ہر مسجد کی پر شکوہ عمارت سے دی اور کہا کہ اگر ایسا ہی جذبہ بحیثیت قوم ہم زندگی کے دیگر شعبوں میں دکھاتے تو آج پختونوں کا خطہ ترقی میں کسی بھی خطے سے کم نہ ہوتا بلکہ سب سے آگے ہوتا لیکن راقم کی نظر میں پختون اپنی اس بے اتفاقی کی وجہ سے غیر کی نظر بد کے ہاتھوں شکار ہو رہے ہیں۔ تاریخ کے صفحات میں چنگیز خان سے بھی زیادہ بدتر سلوک کے مستحق ٹھہرائے جارہے ہیں کیونکہ چنگیز خان تو غیروں کو مارتا تھا بلکہ یہ تاریخ کی ایک ریت ہے کہ نامعلوم تاریخ سے اب تک یہ ہو رہا ہے لیکن یہ تاریخ کی کوئی مثال نہیں کہ کوئی غیر کے شہ پر خود اپنے گھر کو جلا کر راکھ کر ڈالے۔ اگر اس میں غیر کا ہاتھ نہ ہوتا تو احسان اللہ احسان میاں افتخار حسین کے اکلوتے بیٹے کے قتل، اے پی ایس کے واقعے اور کئی دیگر واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے بعد کیسے سنگین نگرانی کے باوجود جیل کی سلاخیں توڑ کر بھاگ نکلتا۔ آخر میں سردار بابک نے کہا کہ باچا خان کے دور میں اطلاعاتی ترسیل کے ذرائع کمزور ہونے کے باوجود پارٹی کا پیغام بڑے خلوص کے ساتھ بڑی آسانی کے ساتھ پہنچایا جاتا تھاجبکہ آج ہر ہاتھ میں موبائل ہونے کے باوجود وہ سرگرمی نہیں دکھائی جاتی ہے جو کہ باچا خان کے زمانے میں ہوتی تھی۔ جب تک ہم ایسا نہیں کرتے اس جوش اور ولولے کا وجود میں نظر آنا مشکل ہے۔ لیکن اب یوتھ کو دیکھ کر امید کی کرن نظر آتی ہے۔ جب تک پختون قوم میں ایسی لگن نمودار نہیں ہوتی ہے پختون قوم کی بقاء اور ترقی مشکل ہے حالانکہ آج کے اس دور میں بھی پختون قوم کی اپنی سرزمین کے تحفظ کے لئے قربانیاں پاکستان کی دیگر قومیتوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں لیکن اپنی بے مثال قربانیوں کے باوجوداپنی بے اتفاقی کی وجہ سے ثمر سے فیضیابی میں پختونوں کا حصہ بہت کم ہے۔

یہ بھی پڑھیں

”باچا خان شتہ، د قیوم خان خو سہ درک نہ لگی“ ۔۔۔ فیاض الدین

یہ تو ان کی خوش قسمتی تھی کہ گولیاں ختم ہوگئیں، ہم نے کسی کو …

%d bloggers like this: