اٹھارہویں ترمیم مسئلے کا حل نہیں ہے

مختلف ادوار میں جو آئین چوری ہوا تھا یعنی آئین کے ساتھ جو کھلواڑ کیا گیا تھا اس کو ٹھیک کرنے کے لئے اتفاق رائے سے اٹھارہویں ترمیم کی گئی تھی جو کہ وفاقی نظام حکومت میں صوبوں کو مطمئن کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اس وقت بھی آئین میں یہ ترامیم کرنے والوں کا خیال تھا کہ یہ ایک Living document ہے اور اس میں بہتری کا امکان ہر دور میں رہے گا اور ہونا بھی چاہیے۔ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ اٹھارہویں ترمیم ہمارا ہر مسئلہ حل نہیں کر سکتی ہے۔ یعنی کہ اٹھارہویں ترمیم سے بھی آگے جانے کی ضرورت ہے۔ اس وقت جن جن چیزوں پر اتفاق رائے ہوا، ان نکات کو اٹھارہویں ترمیم میں سمویا گیا۔ لیکن ساتھ ہی اس ترمیم کے بانیوں نے کہا کہ اگر ایسا موقع ہو تو ہم اس سے بھی بہت آگے جائیں گے۔ اگر آئین میں صوبوں کے متعلق ڈیولوشن پاور کے مسئلے یا وسائل کی تقسیم کے بارے میں کوئی نکتہ نہیں چھیڑا جاتا تو سو بسم اللہ۔ لیکن اگر ہم بغور جائزہ لیں تو واضح ہو جائے گا کہ مسلہ اٹھارہویں ترمیم کا نہیں ہے۔ کیا اٹھارہویں ترمیم کے تحت تمام اختیارات صوبوں کو ابھی تک مل رہے ہیں تو جواب ضرور ناں میں ملتا ہے۔ اگر ملک آئین کے تحت نہیں چلایا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خرابی اٹھارہویں ترمیم میں ہے۔ پی ٹی آئی کا یہ موقف سو فیصد درست ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت اختیارات صوبائی لیول سے نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوتے ہیں۔ بھئی کون اس موقف کی حمایت نہیں کرتا بلکہ ہم سب بھی اس کے قائل ہیں۔ اختیارات کا ڈیولوشن ضلعوں تک ہونا چاہیے لیکن جو NFCs ہو ئے تھے اس کے بعد PFCs ہونے چاہیے تھے جو پی پی پی کے دور میں بھی نہیں ہوئے اور پی ایم ایل این کے دور میں بھی نہیں۔ لیکن پی ٹی آئی کی حکومت جب سے آئی ہے انہوں نے ایک سال سے زائد عرصہ پہلے پنجاب کے بلدیاتی ادارے ختم کئے۔ اس کے بعد ہائی کورٹ نے بلدیاتی انتخابات بروقت نہ ہونے کی وجہ سے پرانے بلدیاتی ادارے بحال ہونے کی دھمکی بھی دی لیکن اس کے باوجود پی ٹی آئی حکومت تاحال بلدیاتی انتخابات کرانے پر آمادہ نظر نہیں آتی ہے۔ اسی طرح پی ٹی آئی کا کے پی میں گذشتہ انتخابات میں اپنے تئیں کلین سویپ کا دعویٰ تو ہے لیکن ابھی تک یہاں پر بھی بلدیاتی انتخابات سے کترا رہی ہے۔ بلدیاتی انتخابات کرانے کی حمایت تمام جماعتیں بھی کرتی ہیں۔ بار بار ہماری عدالت عالیہ بھی ضروری ڈاکومنٹیشن پوری کرنے پر اصرار کر رہی ہے جبکہ پی ٹی آئی کی حکومت مسلسل بہانے بنا کر پہلو تہی کر رہی ہے تو پی ٹی آئی کے ڈیولوشن پاور کے حق میں دعویداری میں سچائی کس بنیاد پر نظر آتی ہے۔ نہ پی ٹی آئی حکومت نے اب تک این ایف سی ایوارڈ کے لئے آئین کے تحت سچائی کے ساتھ آمادگی ظاہر کی اور نہ صوبوں کو رائلٹی دے رہی ہے تو پھر کس بنیاد پر اٹھارہویں ترمیم کو ملک کی ترقی کی راہ میں ایک رکاوٹ سمجھا جاتا ہے؟ یہ سوال بہت سے حلقوں کی جانب سے چھیڑا جاتا ہے۔ اس کومیڈیا کی آشیرباد بھی حاصل ہے۔ یہ قوتیں ایک مضبوط مرکز کا میلان رکھتی ہیں۔ کچھ خاص ادارے اور کچھ خاص لوگ اس قسم کے مائنڈ سیٹ کے اسیر ہیں۔ باقی رہی وباء، آفت، سیلاب اور زلزلوں وغیرہ کی تباہ کاریاں تو یہ وفاقی مسائل ہیں، اس سے نمٹنے کے لئے این ڈی ایم اے کا ادارہ موجود ہے اور اس کے ماتحت ادارے پی ڈی ایم ایز موجود ہیں۔ اگر وفاقی حکومت اس کے تحت چلتی ہے تو روکا کس نے ہے۔ چلے اور زور شورسے چلے۔ لیکن حالیہ کرونا وائرس کے خلاف جہاد کرنے کی ساکھ وفاقی حکومت گنوا چکی ہے، سندھ حکومت نے جتنے بھی اقدامات اٹھائے کوئی کنفیوژن والے نہیں تھے۔ دنیا کا جو تجربہ تھا اس کے مطابق اقدامات اٹھائے۔ وزیراعظم، کچھ وزراء اور سندھ گورنر نے ان کی مخالفت کی۔ لیکن تمام صوبوں نے حتیٰ کہ وفاق نے بھی اس کو فالو کیا۔ پی ٹی آئی کے اس موقف کو ہم کیسے تسلیم کریں کہ اٹھارہویں ترمیم کی روح کے ہم خلاف نہیں حالانکہ جب اٹھارہویں ترمیم کو اتفاق رائے سے پاس کیا گیا تھا تو اس وقت عمران اور پی ٹی آئی نے بھر پور مخالفت کر کے اس کو مک مکا قرار دیا تھا۔ یہ تو سب کو معلوم تھا کہ مشرف نے سترہویں ترمیم کے تحت آئین پاکستان کی بے حد پامالی کی تھی لہذا آئین کو تو بحال کرنا تھا۔ آئین میں ترمیم کرانا کوئی بازیچہ اطفال نہیں ہے یہ صرف میڈیا میں شوشوں سے نہیں بدلا جا سکتا ہے۔ اس وقت ملک میں کرونا جیسے سنگین مسئلے پر تو حکومت نے پارلیمانی سیشن تک بمشکل بلایا ہے اور شیخ چلی اٹھارہویں ترمیم کی ناکامی کا اعلان کر کے تبدیلی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ آئین میں تبدیلی کے لئے تو ماحول ہی نہیں ہے کیونکہ یہ لمبے لمبے ڈیٹس چاہتا ہے اور خان تو اپوزیشن لیڈر کی وڈیو تقریر سننے کے لئے بھی تیار نہیں تو اٹھارہویں ترمیم میں خان کی حسب منشاء تبدیلی کا خواب کیسے پورا ہو گا۔ یہ ایک لاحاصل بحث ہے۔ یہ جہاں ناکام نظر آتے ہیں تو اپنی ناکامی، نااہلی اور کرپشن کو چھپانے کے لئے اٹھارہویں ترمیم کے سر ذمہ داری تھوپ دیتے ہیں یعنی کہ سارا پیسہ تو این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو جاتا ہے وفاق کے پاس بچتا کیا ہے۔ آئین میں بدلاؤ کے لئے منجھے اور سنجیدہ سیاستدان موجود ہونے چاہئیں کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ مل بیٹھیں اور کوئی نکتہ بینی کریں اور پی ٹی آئی کی صفوں میں تاحال وہ مجمع نہیں ہے جو کہ ایسا کر سکے۔ اس قسم کا شوشہ اب بھی پی ٹی آئی نے میڈیا میں چھوڑا ہے اور ساتھ ہی اسد عمر کے ذریعے رابطوں کے اقرار کے بیانات بھی دلوا رہے ہیں۔ ہاں! اٹھارہویں ترمیم کی بعض شقوں پر Invisible forces کو اعتراضات ہیں جس کا اظہار انتخابات کے ماحول کو سیٹ کرتے وقت وہ پاکستانی میڈیا پر بھی کرتی تھیں۔ لیکن تاحال وہ Invisible forces کا ایک نمائندہ پی ٹی آئی کی حکومت میں Visible ہو چکا ہے اور شبلی فراز کے ساتھ اس کی جوڑی بنا دی گئی ہے، اس سے پہلے موصوف کو CPEC کی اتھارٹی سونپ دی گئی تھی تاکہ پنجاب کے مفادات کی ڈنڈاماری کی راز داری برقرار رہے، ماہرین سیاست یہ پیش بینیاں کر رہے ہیں کہ یہ جوڑی اٹھارہویں ترمیم کی نوعیت تبدیل کرنے کے لئے اپوزیشن کو ایک پیغام امن Olive branch ہے لیکن خان کے فاشسٹ رویہ کی وجہ سے یہ جوڑی دیرپا چلنے والی نظر نہیں آتی ہے کیونکہ شبلی فراز اپنی حلیم طبیعت کے باعث عمران کی شدید خواہش کے باوجود کسی خاص حد سے زیادہ نہیں جا سکتے ہیں یعنی خان کی فاشسٹ مزاج کے باعث سمجھوتا ایکسپریس کا چلنا اپوزیشن اور حزب اقتدارکے درمیان ناممکن ہے اور سب سے آخر مگر سب سے اہم یہ ہے کہ 2018 کے انتخابات چھوٹی قومیتوں کی نظر میں پاکستان کی تاریخ میں عوامی منڈیٹ پر ایک بد ترین ڈاکہ ہے لہذا اس دور میں اٹھارہویں ترمیم کو چھیڑنا ناقابل ہضم اقدامات ہوں گے۔ باقی مرضی میرے صیاد کی ہے۔ پاکستان کو چلتا دیکھنا چاہتے ہیں تو چلے ورنہ فبھا، ایک بنگال کے بجائے تین بنگال کے جنم کے لئے تیاری کریں۔ پھر رونا کیا ہوت جب چڑیا چگ گئیں کھیت کا عالم ہو گا، خدا نہ کرے کہ بی ایل ایف کی طرح کئی بی ایل ایفس جنم لیں۔

یہ بھی پڑھیں

sadar Jamal

دانہ خاک میں مل کر گلِ گلزار ہوتا ہے

جب لازو کا آخری وقت قریب آیا تو کسی نے اس کی زندگی کے کچھ …