نیا پاکستان اور جنگل کا قانون

FTAF کے نام پر جو قانون سازی ہوئی ہے اس پر ووٹنگ کے بعد بہت سخت خیال آرائیاں کی گئی ہیں۔ اپوزیشن نے کہا کہ FATF کے نام پر قوم کے کئی حقوق سلب ہوئے۔ حکومت یہ کہتی ہے کہ اپوزیشن غدار ہے جس نے قومی مسئلے کے اوپر اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لئے گورنمنٹ کو NRO پر آمادہ کرنے کے لئے بلیک میلنگ کرنے کی کوشش کی۔ حقیقت کیا ہے۔ پانچ چھ سوالات اٹھتے ہیں۔ کیا اس میں ایسی قانون سازی کی گئی ہے جس سے ہم عوام کی زندگی پر اثر پڑے گایا کیا اپوزیشن ہمارے نام پر ڈرامہ کر رہی ہے جیسے کہ عمران خان حکومت کا دعویٰ ہے۔ دلچسپی کا امر یہ بھی ہے کہ پہلا بل جو پاس ہوا 200 ووٹ حکومت اور 190اپوزیشن کو ملے۔ اپوزیشن کے 36 ارکان غیر حاضر رہے جن میں 12 پی ایم ایل نواز کے تھے اور باقی کا تعلق اپوزیشن کی دوسری جماعتوں سے تھا۔ کیا یہ اپنی مرضی سے غائب تھے یا جس طرح سینٹ کی تحریک عدم اعتماد کی طرح اپوزیشن کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ تبدیلی پی ٹی آئی حکومت کے جوڑ توڑ کی مصلحت تھی یا محکمہ زراعت کی ایماء کا نتیجہ تھا۔ شاہد خاقان عباسی کا موقف ہے کہ FTAF کا معاملہ ہمیشہ رازداری سے ڈیل کیا جاتا ہے۔ پبلک ڈیبیٹ کا حصہ نہیں بنایا جاتا ہے اور نہ بنانا چاہئے کیونکہ اس میں ایسی باتیں ہوتی ہیں جو آپ پر impose کی جاتی ہیں۔ شاہد خاقان فرماتے ہیں کہ جائنٹ سیشن میں کل 14 بل لائے گئے تھے۔ دو بلوں کو اپوزیشن نے کلی طور پر مسترد کر دیا تھا اور حکومت نے ہمارے موقف کو تسلیم بھی کیا تھا، اس میں ایک بل اکنامک ٹیررازم کے حوالے سے تھا۔ اس بل میں یہ درج تھا کہ آپ کسی بھی پاکستانی کو 180 دن کے لئے غائب کر سکتے ہیں تو اپوزیشن نے اس پرسوال اٹھایا تو حکومت نے موقف اختیار کیا کہ یہ FTAF کا بل نہیں، یہ غلطی سے آ گیا ہے۔ اپوزیشن نے اصرارکیا کہ جس نے یہ بل بنایا اس کو تو بلائیں کہ آخر یہ بل بناتے وقت اس کے ذہن میں کیا تھا۔ حکومت نے تو اس کو نہیں بلایا مگر حکومت کا اس بل کو سلپنگ کے انداز میں پاس کرنے کا ڈرامہ ناکام ہوا۔ اسی طرح ایک سی آر پی سی کا ترمیمی بل تھا۔ سی آر پی سی کو FTAF کے لئے ترمیم کرنے سے اس کا اطلاق پورے پاکستان پر ہو جائے گا۔ اس میں بھی اسی طرح کی چیزیں تھیں کہ جہاں آج تھانوں میں پہلے سے لوگ غیر محفوظ ہیں اس سے لوگ مزید غیر محفوظ ہو جائیں گے جبکہ سات بل اپوزیشن کی بھرپور امینڈمنٹ کے ساتھ پاس ہوئے۔ UN سیکورٹی کونسل کے ایکٹ میں امینڈمنٹ کا بل تھا، نہ جانے اس سے اس حکومت کی نالائقی عیاں ہے یا حب الوطنی کے دعوے میں وطن دشمنی تھی کہ کابینہ اپنے اختیارات اس بل کے دائرہ کار کے اندر کسی کو بھی تفویض کر سکتی ہے۔ اپوزیشن نے سوال اٹھایا کہ کسی بھی شخص سے تو امریکی، اسرائیلی یا ہندوستانی بھی مراد لیا جا سکتا ہے آخر آپ اپنے اختیارات کس کو منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ کم ازکم یہاں تو لکھو کہ پاکستانی شہری یا پاکستانی ادارے کو تفویض کریں گے۔ اس شق کو حکومت مشکل سے مان گئی۔ اب ATA اینٹی ٹیررازم ایکٹ کے تیسرے امینڈمنٹ بل کے تحت نہ ٹیلفون محفوظ ہے نہ کمپیوٹر محفوظ ہے نہ آپ کا گھر اور آپ کا پیچھا ہر جگہ اور ہر وقت کیا جا سکتا ہے۔ یہ پورا عمل دو گھنٹے میں ہوا۔ عجلت میں جو قانون پاس ہو جاتا ہے وہ تعمیر کی بجائے تباہی کا منبع بن جاتا ہے۔ اگرچہ اس بل میں یہ لکھا گیا کہ حکومت یہ سب کچھ عدالت سے اجازت لے کر کرے گی لیکن اس بل میں اس بات کا ذکر نہیں کہ کس لیول کی عدالت سے اجازت لینا ہو گی لیکن سب سے قابل مذمت امر یہی ہے کہ اس بل میں ٹیرر فنانسنگ کی کوئی وضاحت نہیں ہے۔ آج آپ ایک پولیس پر پھتر ماریں تو آپ پر ATA.7 لگ سکتا ہے یہ ویسا ہی قانون ہے۔ اینٹی منی لانڈرنگ امینڈمنٹ بل کو موثر بنانے کے لئے 20 تجاویز اپوزیشن کی شامل ہیں اور اپوزیشن نے اس کو ملک کے مفاد میں موثر بنانے کے لئے تجاویز دیں کیونکہ حکومت جو FTAF کا قانون بنا رہی تھی تو کل یہ قانون پاکستان کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تو پھر عمران خان کے اس دعوے کو ہم کیسے مانیں کہ اپوزیشن نے اپنے ذاتی مفاد کے لئے ہمیں ہر طرح سے بلیک میل کرنے کی کوشش کی؟ عمران خان کے اس دعوے میں کیا وزن ہے کہ اپوزیشن وہ چاہتی ہے جو کہ بھارت چاہتا ہے۔ شاہد خاقان عباسی کا موقف ہے کہ اگر حکومت بیٹھتی اور بات کرتی تو جائنٹ سیشن کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور نہ 36 ممبروں کو خریدنا یا دبانا پڑتا۔ یہ بہت پرانی سیاست ہے اس سے ہم کو باہر آنا چاہئے۔ یہ اسمبلی زیادہ سے زیادہ تین سال تک چلے گی لیکن قوانین ہمیشہ رہتے ہیں۔ ATA.7 آج پورے ملک کے لئے ایک ناسور بن چکا ہے۔ تھانیدار رشوت کا ریٹ بڑھانے کی خاطر ATA.7 لگانے کی دھونس دھمکی ضرور دے گا۔ جائنٹ سیشن میں FTAF کے اس عجلت میں پاس کئے گئے قانون کے سیکشن 35 میں لکھا گیا ہے کہ جو بھی Good Faith یعنی اچھی نیت کے ساتھ وفاقی حکومت کرے گی جو کچھ فنانشنل مانیٹرنگ یونٹ کرے گی یا انتظامیہ کرے گی کوئی اس کو کورٹ میں چیلنج نہیں کر سکتا ہے۔ یہ تو کھلا فاشزم ہے، حکومت کی اچھی نیت تو یک طرفہ احتساب سے واضح ہے جس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے، صرف اعلیٰ عدالتوں کے ریمارکس آنکھیں کھولنے کے لئے کا فی ہیں۔ اس قانون میں جو خامیاں عجلت اور حکومت کی بدنیتی کے سبب رہ چکی ہیں ان کی وجہ سے اب نیب کے قانون کا اطلاق ایک راہ چلتے انسان پر بھی ہو سکتا ہے حالانکہ ایسا کرنا نیب کے بیسک مینڈیٹ میں بھی نہیں ہے۔ بیرسٹر علی ظفر کے مطابق اپوزیشن اور عوام کے جو اعتراضات ہیں وہ قانون پر کم اور اس کے نفاذ کے متعلق خدشات پر زیادہ ہیں کیونکہ اگر ہم بغور دیکھیں تو دنیا میں لگ بھگ تمام قوانین ایسے ہی ہیں۔ ماہر قانون ریما عمر کا موقف ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں آپ اداروں کو جیسے بھی پاور دیں عوام پریشان ہو جاتے ہیں اس لئے قانون کی تشکیل کے لئے بہت احتیاط کے ساتھ اپروچ کرنا چاہئے کیونکہ ہماری ریاست کی فطرت ایسی ہے کہ قانون کا یہاں مس یوز بہت زیادہ ہوتا ہے۔ پیکا (PECA) خواتین کے تحفظ کے نام پر نفرت انگیز سپیچ کو ختم کرنے کے لئے لایاگیا تھا تب بھی اس کے مس یوز ہونے کے خدشات ظاہر کئے گئے اور آج جب ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ جرنلسٹوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ سو قانون کے الفاظ سوچ سمجھ کر لکھنے چاہئیں۔ اس کے علاوہ قوانین میں سیف گارڈ دینا چاہئے کہ اگر ریاست کے کچھ ادارے اس کو کسی کے خلاف صرف بدنیتی کی بنیاد پر استعمال کریں تو اور ادارے ہوں جو اس کو پروٹیکٹ کریں۔ افسوس کے ساتھ پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا ہے بلکہ FTAF کے متعلق جو قانون سازی ہوئی ہے اس کے لئے وہ پیمانہ استعمال نہیں کیا گیا ہے جو کہ دنیا کے جمہوری ممالک میں اختیار کیا جاتا ہے۔ پہلے قانون کا ایک ڈرافٹ تیار کیا جاتا ہے اور پھر اسے شائع کر کے پبلک کیا جاتا ہے۔ اس پر عوام سے تجاویز لی جاتی ہیں۔ اس کے بعد اس میں ترمیم کر کے اپوزیشن اور حکومت مل کر مشترکہ ڈیبیٹ کرتی ہیں۔ لیکن یہاں عوام تو کیا بلکہ جائنٹ سیشن میں تو اپوزیشن کو بھی نہیں سنا گیا۔ انہوں نے علی ظفر کے اس موقف کو بھی مسترد کیا کہ دنیا میں بھی ایسے قوانین ہیں بلکہ دنیا بھر میں ایسے قوانین پر تنقید کی جاتی ہے۔ پچھلے سال UN میں ایک رپورٹ تفصیل سے آئی ہے کہ دنیا میں انسانی حقوق کی پامالی کے لئے FTAF کو استعمال کیا جاتا ہے۔ لہذا یہ بہت تشویش کا معاملہ ہے کہ پاکستان میں بھی FTAF کے بہانے انسانی حقوق کی پامالی ہو گی۔ پاکستان میں ہم نے فوجی عدالتیں بنائیں وہ کس طرح استعمال ہو ئیں، گمشدگیاں بڑھیں۔ کاؤنٹرٹیررازم کے نام پر پاکستان اور امریکہ آپس میں کیسے ٹیم اپ کرتے ہیں، یہ بھی سب کو پتہ ہے۔ ریاستیں اپنے آپ کو ایسے قوانین کے نام پر اور بھی مضبوط کرتی ہیں۔ ہمارے لئے اہم سوال یہ ہے کہ ہم اس سے کس طرح بچیں۔ جہوری طور پر ترقی یافتہ ممالک میں اگر ایسے قوانین ہیں تو وہاں ادارے بھی آزاد ہیں لیکن ہمیں اپنے اداروں پر اعتماد نہیں، لوگ سالوں تک Detention میں ہوتے ہیں لیکن ملزم کے پاس نکلنے کاکوئی راستہ نہیں ہوتا۔ بے گناہ ہونے کی صورت میں آپ ان کو Sue نہیں کرسکتے ہیں تو یہ جنگل کا قانون نہیں تو اور کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بی آر ٹی، ایک ”پوڈری” اور رکشہ ڈرائیور – تحریر: ملک سیدزمان خان

پشاور بی آر ٹی منصوبے پر ایک واقعہ بلکہ لطیفہ یاد آیا۔ ایک ”پوڈری” (ہیروئنچی …

%d bloggers like this: