معیشت پر دباؤ اور حکومت کے دعوے

پاکستانی معیشت میں مثبت سرگرمیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ 18نومبر 2020 کو سٹیٹ بینک کی سالانہ رپورٹ میں ملک کی معاشی ترقی کا رواں سال کے لئے 1.5 سے 2.5 فیصد تک ٹارگٹ رکھا گیا ہے حالانکہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لئے رواں مالی سال کے لئے معاشی ترقی کا ٹارگٹ 2 فیصد سے کم کر کے 1 فیصد کر دیا تھا۔ سرمایہ کاری کے نمبرز میں بہتری آئی ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ قابو میں ہے۔ لارج سکیل مینوفیکچرنگ دو سال منفی میں رہنے کے بعد تین ماہ سے مثبت رحجان دیکھنے میں آیا ہے۔ ستمبر میں لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں 7.7 فیصد ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔ ترسیلات زر میں پانچ مہینے سے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سٹیٹ بینک کے مطابق اگست سے بزنس کانفیڈنس میں بھی بہتری آئی ہے جبکہ فروری، اپریل اور جون میں کئے گئے سرویز کے مطابق بزنس کانفیڈنس میں کمی آ رہی تھی۔ کیا معیشت میں واقعی بہتری آئی ہے یا آئی ایم ایف پروگرام کی دوبارہ بحالی اور اس کی وجہ سے سرکولر قرضہ اور خسارہ کم کرنے کے لئے آئی ایم ایف کے دباؤ میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے ایک دفعہ پھر معیشت پر دباؤ آ سکتا ہے یا کیا آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے بغیر پاکستان کی ضرورت پوری ہو سکتی ہے کہ پاکستان کو بیرونی قرضے بھی ملتے رہیں، زرمبادلہ کے ذخائر بھی مستحکم رہیں اور معیشت ترقی کی راہ پر بھی گامزن رہ سکے۔ حقیقی بات تو یہ ہے کہ پچھلا سال جون کو ختم ہوا ہے اور یہ رپورٹ سٹیٹ بینک کی طرف سے نومبر میں آئی ہے یعنی تقریباً پانچ مہینے بعد آئی ہے اور اس کے نتیجے میں جو اعداد و شمار سٹیٹ بینک نے دیئے ہیں وہ پرانے ہو چکے ہیں۔ اس لئے یہ رپورٹ اپ ٹوڈیٹ نہیں ہے۔ دوسری طرف رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پچھلے سال کوئڈ 19سے پہلے پاکستان کے معاشی حالات بہتر ہو چکے تھے۔ درحقیقت پچھلے سال حالات پوری طرح سنبھلے نہیں تھے۔ صنعتی پیدوار میں اس وقت تین فیصد کمی آ چکی تھی۔ دوسری بات جو بہت پریشان کن ہے فروری کے مہینے میں 12.5 فیصد افراط زر بڑھ چکا تھا اور کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتیں 22 فیصد بڑھ چکی تھیں تو یہ کہنا کہ حالات سنبھلے تھے یہ ایک نامناسب سی بات ہے۔ ایک طرف سٹیٹ بینک ملک کی معیشت کی ترقی کا رواں سال کے لئے 1.5 سے 2.5 فیصد تک دعویٰ کر رہا ہے جبکہ ورلڈ بینک کی پیشنگوئی 0.5 فیصد ہے۔ سٹیٹ بینک کے پاس یہ رپورٹ لکھتے وقت کوئی تازہ نمبرز نہیں تھے۔ سب سے پہلے تو اس سال کے اعداد وشمار اہم ہیں اور ملک میں زرعی پیداوار میں بھی بہت کمی آ رہی ہے۔ اس سال کپاس کی پیداوار میں 20 سے 25 فیصد کمی کا امکان ہے۔ پچھلے سال گندم کی پیداوار دس فیصد کم ہوئی ہے۔ چینی کی پیداوار سات فیصد کم ہوئی ہے جبکہ ملک میں پرائمری شعبہ زراعت ہے جس کی بنیاد پر صنعت کا پہیہ چلتا ہے۔ تو اس وقت یہ کہنا کہ اعداد وشمار میں مثبت اضافہ ہوا ہے یہ بات غیر مناسب ہے جبکہ پچھلے سال کی ترقی کے بارے میں جو اعدادوشمار دیئے گئے ہیں کہ ترقی کی شرح منفی 0.4 فیصد تھی یہ بھی غلط ہے بلکہ ترقی کی شرح منفی 1.5 فیصد تھی مگر اس کے باوجود حکومت کنفیڈنٹ ہے کہ کنزمپشن (Consumption) میں اضافہ ہوا ہے، صنعت کا پہیہ رواں ہو چکا ہے۔ کیا اس کی وجہ سے ترقی ہو سکتی ہے؟ لیکن اس وقت پریشان کن بات یہ ہے کہ ہمارے معاشی حالات ایسے ڈگر پر آ چکے ہیں کہ اس میں گروتھ ہی نہیں ہو رہی ہے یعنی پیداوار میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے۔ البتہ ایک اچھی خبر ہے کہ صنعتی پیداوار میں پانچ فیصد کا اضافہ ہوا ہے یعنی پچھلے سال کے مقابلے میں یہ پانچ فیصد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ پچھلے سال پیداوارکی شرح چھ فیصد گر چکی تھی، لہذا اب بھی پیداوار 2018 کے مقابلے میں کم ہے مگر دو فیکٹرز ہیں جن کے بارے میں وزیراعظم بھی بار بار بتا رہے ہیں کہ سیمنٹ کی پیداوار میں بہت اضافہ ہوا ہے یعنی جو کنسٹرکشن پیکج ہے اس کے نتائج آنا شروع ہو چکے ہیں اور ٹیکسٹائل کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کو بہت سے ایکسپورٹ آرڈرز ملے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اس وقت فیصل آباد میں فل کیپیسٹی پر ٹیکسٹائل انڈسٹری آپریٹ کر رہی ہے جس کی وجہ سے حکومت کو صنعتی پیداوار میں گروتھ بھی نظر آ رہی ہے لیکن سٹیٹ بینک اگر پچھلے مہینوں کا تازہ اعداد وشمار چھاپتا تو یہ بات اسے بھی نظر آتی کہ پہلے تین مہینوں میں ہماری برآمدات میں گیارہ فیصد کی کمی آئی ہے لیکن اس کے باوجود حکومت پرامید دکھائی دے رہی ہے لیکن ہمیں اس پر اللہ میاں کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ ہماری Remitances یعنی ترسیلات زر میں 30 فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ سے ہمارے حالات سنبھلے ہیں مگر قومی پیداوار میں اب تک نمایاں اضافہ نظر نہیں آ رہا ہے۔ ہاں سیمنٹ کی سیل میں 21 فیصد کا اضافہ ضرور ہوا ہے مگر ایک وجہ سمجھ میں نہیں آ رہی ہے کہ سٹیل کے ائٹمز میں کمی آئی ہے۔ گلاس اور لکڑی کی پراڈکٹ میں کمی آئی ہے حالانکہ یہ بھی کنسٹرکشن سے وابستہ عناصر ہیں اور ساتھ ہی ہاؤسنگ لونز میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے تو ثابت ہے کہ ہاؤسنگ فنانس کے لئے حکومت نے جو مراعات دی ہیں اس کے باوجود بزنس مین اس شعبے کی طرف مائل نہیں ہوئے ہیں اور اس کی وجہ سمجھنے کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں کیونکہ ملک کے حالات بہت خراب ہیں اور اس وقت لوگوں کوکھانے پینے کا مسئلہ ہے اور ظاہر بات ہے کہ جب بزنس سائیکل میں گراوٹ آتی ہے تو ہاؤسنگ سیکٹر نہیں بڑھتا۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ کرونا کی وجہ سے آئی ایم ایف کا پروگرام معطل ہوا تھا جبکہ اب کرونا کی دوسری لہر بھی آئی ہے۔ اگر کرونا میں کمی آ جائے اور پاکستان آئی ایم ایف کی طرف چلا جائے توگردشی قرضہ اتنا زیادہ ہے کہ خسارہ اکاؤنٹ میں کمی لانے کی کے لئے آئی ایم ایف بجلی کی قیمتوں میں دباؤ ڈالے گا جس سے معیشت اور بھی دباؤ میں آ سکتی ہے مگر دوسری طرف اگر آئی ایم ایف کا پروگرام معطل رہتا ہے تو معیشت پر بیرونی دباؤ آ جاتا ہے لیکن اس وقت پاکستان میں جو کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں ہے کیا اس سے حکومت آئی ایم ایف کے پروگرام کوزیادہ دیر تک معطل رکھ سکتا ہے اور کنسٹرکشن پروگرام کو کیا زیادہ مراعات فراہم کرسکتا ہے۔ یقیناً تین مہینے میں سرپلس اکاؤنٹ کی عنایت اللہ کے فضل سے رہا جوکہ لگ بھگ ساڑھے سات سو ملین ڈالرز تک بڑھا لیکن ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ایسا کیوں ہوا کہ ایک طرف توکرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا مگر ساتھ ساتھ انہی تین مہینوں میں فارن ایکسچینج ریزرو (زرمبادلہ) گر گیا لیکن یہ نہیں دیکھا جاتا ہے کہ توازن ادائیگی میں دو اکاؤنٹ ہوتے ہیں۔ ایک کرنٹ اکاؤنٹ جو سرپلس میں گیا اور مدت بعد ایسا ہوا کہ دوسرا اکاؤنٹ جسے ہم فنانشل اکاؤنٹ کہتے ہیں وہ خسارے میں چلا گیا یعنی جو سرپلس آیا وہ واپس چلا گیا لیکن سوال یہ ہے کہ فناشل اکاؤنٹ کیوں خسارے میں چلا گیا؟ اس کی تین وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ ملک میں کل بیرونی سرمایہ کاری میں کمی آئی ہے اگرچہ براہ راست سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گیا ہے مگر ایکویٹی کا پیسہ ملک سے باہر چلا گیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ملک کو سعودی عرب کو ایک بلین ڈالرز واپس کرنا پڑا۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ باہر سے قرضوں کی رفتار کچھ کم ہوئی ہے اور س کی وجہ یہ ہے کہ جب آئی ایم ایف کا پروگرام نہیں ہوتا ہے تو ایسے ملک کو قرض دینے والے ادارے قرض دینے میں ڈر محسوس کرتے ہیں کیونکہ قرض دینے والے یہ خیال کرتے ہیں کہ قرض لینے والے ملک کے پاس مناسب ریزروز نہیں ہیں۔ اللہ کے فضل سے اس وقت تین مہینے کے لئے تو ہیں مگر اس وقت حکومت نے مصنوعی طور پر ریزرو ڈپازٹس بنائے رکھے ہیں۔ اس سال پاکستان کو قرضوں کی اصل ادائیگی بارہ ارب ڈالرز دینے ہیں۔ دوسری طرف کرنٹ اکاؤنٹ اس وقت سرپلس میں ہے لیکن آنے والے مہینوں میں ہمیں ایسی بیشمار چیزیں درآمد کرنی ہیں جوکہ پہلے ہم نے نہیں کی ہیں۔ 70 لاکھ لگ بھگ کپاس کی بیلز درآمد کرنی ہے۔ 25 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنی ہے۔ 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنی ہے۔ پچھلے دس دنوں میں تیل کی قیمتوں میں دس فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے۔ ان چیزوں کی درآمد سے کرنٹ اکاؤنٹ کی مد میں حالات کچھ حد تک خراب ہو سکتے ہیں۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کو معیشت پر پریشر کم کرنے کے لئے سالانہ 15 سے 16 ارب ڈالرز تک باہر سے آنا ہی آنا ہے۔ اس وقت سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں جائے بغیر یہ قرضہ کیا ہم باہر سے لا سکتے ہیں۔ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ وہ ایسا کر سکتی ہے تو پھر آئی ایم ایف سے دور رہے اور یقیناً حکومت اس وقت بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کر سکتی ہے اس سے بہت بڑا نقصان ہو گا۔ افراط زر میں اضافہ ہو گا اور پیداوار میں سخت کمی آ سکتی ہے۔ اگر پاس جانا ہے آئی ایم ایف کو سمجھانا ہو گا اور بیچ کا راستہ نکالنا ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں

Khanzeb

قومیت کا انتشار ۔۔۔ مولانا خانزیب

قومیت کی تعریف میں دیگر بنیادی اکائیوں کے ساتھ اقتصادی اور معاشی اشتراک کسی قوم …