کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

تحریر: سلطان خان ٹکر

ضمنی انتخابات میں کون ہارے اورکون جیتے کوئی بات نہیں، ہار جیت لازم و ملزوم ہیں لیکن جو جگ ہنسائی ڈسکہ کے انتخابات میں ہوئی اصل لمحہ فکریہ یہی ہے۔ ایک مشہور قول ہے کہ ووٹ ڈالنا مسئلہ نہیں بلکہ ووٹ گننا مسئلہ ہے اور پاکستان کی انتخابی تاریخ میں اس قوم کا یہی المیہ ہے کہ ووٹ گننے میں اس قوم کے مینڈیٹ کا ذبیحہ کیا جاتا ہے اور یہ واویلہ حالیہ ڈسکہ این اے 75 کے انتخابات میں بھی دیکھا و سنا گیا جس کے حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے یہ کہا ہے کہ اس حلقے کا نتیجہ اس وقت تک اناؤنس نہیں کیا جائے گا جب تک اس حوالے سے انوسٹی گیشن اور رپورٹ نہیں دی جاتی ہے۔ انتخابات کے دن ساری دنیا نے یہ دیکھا کہ یہ حلقہ پورے دن ایک میدان جنگ بنا رہا، بد نظمی تھی، جھڑپیں ہوئیں اور بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ دو جانیں بھی اس میں گئیں، دھاندلی کے الزامات بھی لگ رہے ہیں۔ نون لیگ کی طرف سے یہ کہا گیا کہ سلو پولنگ کروائی جا رہی ہے اور آخر میں وہی ہوا جو پاکستان کی تاریخ میں ہوتا رہا ہے یعنی پی ایم ایل نون کی برتری کو دیکھ کر 340 پولنگ سٹیشن کے نتائج آنے کے بعد مزید نتائج رک گئے۔ باقی پولنگ سٹیشنوں کی تعداد 20 بنتی ہے اور انہی پولنگ سٹیشنوں کے پریذائیڈنگ آفیسر لاپتہ ہو گئے ریٹرننگ آفیسر کے مطابق جن سے ان کا رابطہ نہیں ہو رہا ہے۔ نون لیگ نے الزام لگایا کہ ان لاپتہ آفیسرز نے صبح 6 بجے آ کر اپنے نتائج ریٹرننگ آفیسر کے حوالے کئے لیکن ساتھ ہی الیکشن کمیشن نے ایک پریس ریلیز جاری کیا جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ پریذائیڈنگ آفیسرز سے مسلسل رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن رابطہ نہیں ہوا۔ یہ بھی کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے بعد میں چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سے مد د لینے کی کوشش کی گئی کہ پریذائیڈنگ آفیسرز کہاں ہیں لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو رہا تھا لیکن صبح تین بجے کے وقت چیف سکرٹری سے رابطہ ہوا اور انہوں نے یقین دلایا کہ جو لاپتہ آفیسرز ہیں انہیں بازیاب کرایا جائے گا جس کے بعد پھر چیف سکرٹری سے رابطہ ممکن نہیں رہا۔ پھر 6 بجے پریذائیڈنگ آفیسر آئے اور اپنے پولنگ بیگ ریٹرننگ آفیسر کے پاس جمع کیے۔ اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر نے یہ بتایا کہ 20 پولنگ سٹیشنوں کے جو نتائج ہیں ان میں ردوبدل کا شبہ ہے جس کی وجہ سے رزلٹس روک دیئے گئے ہیں اور تفصیلی رپورٹ الیکشن کمیشن نے طلب کی ہے۔ اس پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ معاملہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوری لگتی ہے۔ جو الزامات نون نے لگائے ہیں ان کی تصدیق الیکشن کمیشن کی طرف سے بھی آ گئی ہے کہ فارم 45 جو کہ پریذائیڈنگ آفیسر نے ریٹرننگ آفیسر کے پاس جمع کرائے ہیں ان میں ٹمپرنگ کا شبہ ہے اور اگر فرانزک میں بھی ایسا ثابت ہوا تو پی ایم ایل نون کا فیصلہ یہی ہے کہ پھر پورے حلقے میں دوبارہ انتخابات ہوں۔ الیکشن کمیشن نے تو آفیشل رزلٹ ابھی تک اناؤنس نہیں کیا ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف اپنی جیت کا اعلان کر چکی ہے۔ حماد اظہر ہو، شبلی فراز ہو، فواد چوہدری ہو یا اسد عمر سب نے یہی کہا ہے کہ ہم 7800 ووٹ کی لیڈ سے جیت چکے ہیں۔ فواد چوہدری نے اپنے ٹویٹ میں یہ بھی لکھا کہ یہ رزلٹ اناؤنس کیا جائے، کارکنان کے صبر کو نہ آزمایا جائے، احترام قانون کا ہو گا نہ نون کا ہو گا۔ کمال کی بات یہ ہے کہ جب 340 پولنگ سٹیشن کے رزلٹ سامنے آ گئے، پاکستان بھر کا الیکٹرانک میڈیایہ اعلان کر چکا کہ اس وقت 3 ہزار ووٹ کے ساتھ پی ایم ایل این آگے ہے اور خود شہباز گل نے رات ڈھائی بجے یہ ٹویٹ کیا تھا کہ 360 میں سے 305 پولنگ سٹیشنوں کے نتائج آ چکے ہیں اور ان میں پی ایم ایل این کی 4 ہزار لیڈ ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو باقی بیس پولنگ سٹیشن تھے ان میں تحریک انصاف نے ساڑے گیارہ ہزار ووٹ لئے ہیں جس میں پی ایم ایل کی 3 ہزار لیڈ بھی ختم ہو گئی اور تحریک انصاف اب یہ کلیم کر رہی ہے کہ ہم 7800 ووٹ سے جیت چکے ہیں جب کہ یہی 20 سٹیشن اب متنازع ہیں جن پر الیکشن کمیشن نے پریس ریلیز میں ردوبدل کے شبے کا اظہار کیا ہے۔ ان بیس پولنگ سٹیشنوں کے ٹوٹل ووٹ 29 ہزار ہیں جب کہ 340 پولنگ سٹیشنوں کا ٹرن آؤٹ 40 فیصد کے قریب تھا۔ اگر 29 ہزار کا 40 فیصد ٹرن آؤٹ نکالا جائے تو وہ بنتا ہے تقریباً 13ہزار۔ اس وقت تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ ان 13 ہزار میں سے ہمیں ساڑے گیارہ ہزار ووٹ ملے ہیں۔ ایسے کمالات تو الہ دین کے چراغ بھی نہیں دکھا سکتا جو خان کا چراغ دکھا گیا۔ عمران خان تو اوپن بیلٹ کے حامی ہیں یہاں تو خفیہ بیلٹ کو بھی نہ صرف گولی مار دی گئی بلکہ پریذائیڈنگ آفیسرز مسنگ پرسنز کی فہرست میں شمار ہو گئے۔ خان کے اوپن بیلٹ کی حمایت میں تو ملک کی معزز عدالت عالیہ کی طرف سے جج صاحبان کے ریمارکس میں الیکشن کمیشن کی کار کردگی پر طعنے سجائے جاتے ہیں لیکن یہاں پر تو پوری قوم نے الیکشن کمیشن کی بے بسی تحریک انصاف حکومت کے ہاتھوں دیکھ لی کہ نہ چیف سیکرٹری سے فون پر رابطہ ہوتا ہے نہ آئی جی سے رابطہ ہوتا ہے بلکہ آئی جی پنجاب تو راؤ انوار کی طرح فون کے ریڈار سے غائب ہو جاتے ہیں جبکہ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر جیسے لوگوں سے ٹیلی فون پر رابطے ممکن نہیں ہو پاتے ہیں، مشکل سے رات کے تین بجے چیف سیکرٹری سے رابطہ ہوتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اپنی ذمہ داری میں کوتاہی کے سبب چیف سیکرٹری کی آنکھوں سے نیند اڑ جانی چاہیے تھی، موصوف فون بند کر کے سکون کی نیند سو لیے۔ یہ بات شک کے میدان سے نکل کر یقین کی دنیا میں داخل ہو جاتی ہے کہ
بے خودی بے سبب نہیں غالب
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
اور سپریم کورٹ الیکشن کمیشن سے تیس مار خان بننے کی آس سجائے بیٹھی ہے کہ تمہاری کار کردگی کے صفحات خالی ہیں۔ حکومت وقت کی قیادت جو کہ اس وقت پاکستان کی سیاست میں خود کو اخلاقی درجے پر سمجھتی ہے، الیکشن کمیشن کی پریس ریلیز میں لگائے الزامات پر ایسی خاموش ہے جیسے کہ کچھ ہو ا نہیں۔ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان الزامات کا جوابدہ بنانا تو دور کی بات ہے بلکہ خود آفیشل رزلٹ آنے سے پہلے اپنی جیت کا اعلان بھی کر چکے ہیں اور فواد چوہدری جسے پاکستانی میڈیا ایک منجھا ہوا سیاستدان سمجھتا ہے انہوں نے بھی الیکشن کمیشن کے الزامات پر خود اندھا اور بہرا بن کر الٹا یہ کہہ دیا کہ اگر الیکشن کمیشن نے رزلٹ جلد اناؤنس نہ کیا تو احترام قانون کا ہو گا اور نہ نون کا ہو گا۔ جبکہ بلبل پنجاب فردوس عاشق اعوان کا ارشاد عالیہ مبارکہ ہے کہ دھند کی وجہ سے پریذائیڈنگ آفیسر ریٹرننگ آفیسر کے دفتر وقت پر پہنچ نہ سکے لیکن سب سے مضحکہ خیز سوال یہ ہے کہ کیا دھند کی وجہ سے فون کے ذریعے رابطے بھی ممکن نہیں ہو رہے تھے۔ سٹالن کا کہنا ہے کہ ووٹ ڈالنے والوں سے زیادہ ووٹ گننے والوں کی اہلیت ضروری ہے اور ان نالائقوں ابن نالائقوں سے ایک حلقہ شفاف منیج نہیں ہو پایا گیا پورے پاکستان کو کیا خاک منیج کر پائیں گے؟

یہ بھی پڑھیں

بیانیے پر ڈٹا ہوا نواز شریف

تحریر: حماد حسن وہ یہی نواز شریف ہی تھا جس نے اپنی قریب المرگ اہلیہ …