نواز شریف اور اسٹبلشمنٹ کی اصل جنگ

کہانی در اصل یہ ہے کہ ملک کے تین بار وزیر اعظم رہنے والے میاں نواز شریف آج لندن میں بیٹھ کر جو زبان بول رہے ہیں یہ آج کی زبان نہیں ہے بلکہ سابق وزیر اعظم یہ زبان بہت پہلے سے بول رہے ہیں لیکن اس کی سمجھ ہمیں آج آ رہی ہے، کیسے؟ اس کی طرف میں کالم کے آخری حصہ میں آتا ہوں، پہلے یہ ملاحظہ کیجئے گا۔ ہم یہ تو مانتے ہیں کہ میاں نواز شریف کو جنرل ضیاء الحق اور جنرل جیلانی (سابق آئی ایس آئی سربراہ) سیاست میں لے کر آئے لیکن ہم اس بات کو شائد یا تو سمجھنے سے قاصر ہیں اور یا جان بوجھ کر نظر انداز کر رہے ہیں کہ جنرل ضیا اور جنرل جیلانی کو آخر کیا پڑی تھی کہ وہ میاں خاندان کو بزنس سے سیاست کی طرف لے کر آئے؟ بات سیدھی سادی سی ہے کہ پنجاب میں جنرل ضیاء کو ایسے کردار کی اشد ضرورت تھی جو پنجاب جیسے بڑے صوبے میں پاکستان پیپلز پارٹی کا مقابلہ کر کے اس کو زدوکوب کرے اور یوں اس کام کیلئے نواز شریف کا انتخاب ہوا۔ اب اس کا یہ مطلب نہیں کہ نواز شریف خود ان لوگوں کے پاس گئے بلکہ یہ لوگ نواز شریف کے پاس آئے تھے کیوں کہ ان کو پنجاب میں نواز شریف جیسا بندہ دور دور تک نہیں مل رہا تھا۔

خیر اس کو چھوڑتے ہیں کہ کون کس کے پاس گیا تھا اور کون نہیں یہ وقت وقت کی بات ہوتی ہے لیکن اب اہم اصل ایشو، نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کی اصل جنگ کی طرف آتے ہیں۔ سوال یہاں یہ ہے کہ نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان یہ جنگ جو آج بھی جاری ہے (بلکہ مجھے ذاتی طور پر لگ رہا کہ اب کی بار یہ جنگ ماضی سے مختلف اور بڑی جنگ ہے) کیسے اور کیونکر شروع ہوئی؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کیلے ہمیں ماضی کے جھرونکوں میں جھانکنا ہو گا۔ تو آیئے تاریخ دیکھتے ہیں۔ نواز شریف جب پہلی بار حکومت میں آئے تو وہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر نہیں بلکہIJI کے کندھے پر بیٹھ کر ملک کے حکمران بنے تھے لہذا ان کے دونوں ہاتھ مضبوطی کے ساتھ بندھے ہوئے تھے اور کچھ بھی کرنے کا اختیار ان کے پاس نہیں تھا۔ آپ یوں سمجھ لیں کہ نواز شریف اس وقت ایک ڈمی وزیر اعظم تھے۔ تب ہی جب انہوں نے بطور وزیر اعظم اپنے اختیارات کو استعمال کرنے کی کوشش کی تو ان کی حکومت کو طاقتور حلقوں نے ڈس مس کر کے ان کو گھر بھیج دیا۔ وہ الگ بات تھی کہ نواز شریف نے اپنی حکومت عدالت سے بحال کروائی تھی اور یہ بھی الگ بات تھی کہ نواز شریف نے1993 میں اپنی حکومت بحال ہونے کے باوجود بھی استعفی دے دیا تھا۔ (اس حوالے سے ایک کنفیوژن موجود ہے۔

کچھ تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ نواز شریف نے خود استعفی دیا تھا کیوں کہ ان کی صدر اسحاق خان سے بنتی نہیں تھی اور کچھ کا خیال ہے کہ ان سے استعفی لیا گیا تھا)۔ وجہ جو بھی تھی نواز شریف چلے گئے اور بے نظیر بھٹو آ گئی۔ آپ صورت حال ملاحظہ کیجئے گا کہ وہ نواز شریف جو1993 میں استعفی دے کر گئے تھے وہی نواز شریف1997 کے عام انتخابات میں پاکستان کی تاریخ کا ہیوی مینڈیٹ لے کر دوبارہ بر سر اقتدار میں آتے ہیں۔ نواز شریف کے ماضی کے رائٹ ہینڈ چودھری نثار علی خان کے بقول اب کی بار نواز شریف کا مزاج مکمل طور پر تبدیل ہو چکا تھا۔ مزاج میں تبدیلی کی وجہ شائد تاریخی دو تہائی اکثریت تھی اور مزاج کی اس تبدیلی سے نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کی تبدیلی بھی شروع ہوگئی جو نشیب و فراز سے عبارت ہے۔1997 کے عام انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے سے نواز شریف کو یہ لگا کہ عوامی طاقت ان کے پاس ہے اور اس کا خوب استعمال کرنا چاہئے۔ نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کا پہلا باضابطہ ٹاکرا اس وقت پڑا جب6 اکتوبر1998 کو اس وقت کے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت نے نیول وار کالج لاہور میں کھلے عام ”نیشنل سیکورٹی کونسل” بنانے کا آئیڈیا نواز شریف کی حکومت کو دیا تو انہوں نے آگے سے اس پر شدید غصے کا اظہار کیا۔

نواز شریف کو لگا کہ آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت نے ایک سیاسی بیان دے کر ان کی وزیر اعظم کی حیثیت سے ساری اتھارٹی ایک لمحے میں ختم کر دی ہے۔ نواز شریف نے اس وقت فیصلہ کیا کہ اختیارات کے توازن کو برقرار رکھنے کیلے آرمی چیف کو رخصت کرنا ہو گا اور یوں اگلے ہی دن وزیر اعظم نواز شریف نے آرمی چیف جہانگیر کرامت کو وزیر اعظم ہاؤس بلا کر ان سے استعفی طلب کیا۔ یوں نواز شریف نے خود کو طاقتور وزیر اعظم کے طور پر ثابت کردیا۔ یہاں تو کھیل جلدی میں ختم ہوا کیوں کہ قانونی طور پر نواز شریف طاقتور تھے اور انہوں نے اپنی طاقت آئینی طور پر استعمال کی لہذا مزید گڑ بڑ پیدا نہیں ہوئی لیکن، لیکن نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کا جب دوسرا باضابطہ ٹاکرا پڑا تب صورت حال بہت مختلف تھی۔ نواز شریف، اسٹیبلشمنٹ کا دوسرا ٹاکرا جنرل پرویز مشرف کی شکل میں پڑا اور اس ٹاکرے نے میاں نواز شریف کو ہلا کر رکھ دیا۔ کارگل کی لڑائی ہوئی تو وزیر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف پرویز مشرف میں تنازعات پیدا ہونا شروع ہوگئے تھے۔

ان اختلافات میں اصل تیزی اس وقت آئی جب یہ خبریں سامنے آنے لگیں کہ جنرل پرویز مشرف کوئٹہ کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل طارق پرویز کو نواز شریف سے ملاقات کرنے پر برطرف کرنے والے تھے۔ جب یہ بات نواز شریف تک پہنچی تو انہوں نے اس پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور جنرل طارق کا معاملہ جنرل مشرف کے سامنے اٹھایا جس سے ان دونوں کے درمیان خلیج مزید بڑھ گئی۔ اخبارات کی ان شہ سرخیوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا کہ آرمی چیف نے جنرل طارق کو نواز شریف سے ملاقات کرنے پر برطرف کر دیا۔ نواز شریف یہ بیان پڑھ کر خاصے غصے میں آ گئے اور انہوں نے اسی وقت فیصلہ کر لیا کہ کارگل جنگ سے وزیر اعظم کو بے خبر رکھنے کے الزام پر چار جرنیلوں کو، جنرل محمود، جنرل عزیز، جنرل جاوید حسن اور ڈی جی ایم آئی جنرل توقیر ضیا کو برطرف کریں لیکن چوھدری نثار علی خان اور اپنے بھائی شہباز شریف نے انہیں ایسا کرنے سے روکے رکھا۔ اسی اثنا میں جنرل مشرف کے قریبی ساتھیوں نے نواز شریف کی حکومت کو برطرف کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور ساتھ ہی پرویز مشرف کو اعتماد میں بھی لے لیا تھا اس لیے جب آرمی چیف سری لنکا جا رہے تھے تو انہوں نے جاتے ہوئے جنرل محمود سے کہا تھا کہ اگر میری غیر موجودگی میں کچھ گڑ بڑ ہوئی تو پلان پر من و عن عمل کرنا ہے جبکہ دوسری جانب نواز شریف اپنی چال چلانے میں مصروف تھے۔ یعنی چار جرنیلوں سمیت پرویز مشرف کو برطرف کرنا اور آخر کار فتح ان کی ہوئی جن کے پاس ٹینک اور توپیں تھیں۔ نواز شریف کی حکومت برطرف ہو چکی تھی اور وہ کراچی کی لانڈھی جیل میں جنرل مشرف کا طیارہ اغوا کرنے کے الزام میں بند تھے اور دوسری طرف پرویز مشرف ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے تھے۔

یوں نواز شریف کا اسٹیبلشمنٹ سے دوسرا ٹاکرا نواز شریف کی برطرفی، جیل جانے اور بعد ازاں ایک ڈیل کے ذریعے سعودی عرب جاکر سرور پیلس میں رہائش پذیر ہونے پر ختم ہوا- اسی دوران نواز شریف پاکستان واپس آتے ہیں اور ان کی اسٹیبلشمنٹ سے صلح ہو جاتی ہے اور پھر 2013 کا الیکشن جیت کر ایک مرتبہ پھر پاکستان کے وزیر اعظم بن جاتے ہیں۔ دو سال بخیر و عافیت گزرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر اسٹیبلشمنٹ سے طاقت کے توازن بگڑنے پر دراڑ پڑ جاتی ہے اور اب کی بار یہ دراڑ نواز شریف کی تاحیات نا اہلی پر ختم ہو جاتی ہے اور یوں نواز شریف کی عملی سیاست کا مکمل خاتمہ ہو جاتا ہے لیکن نواز شریف کی عوامی سیاست ابھی بھی باقی ہے اور آج کل اس کا خوب استعمال ہو رہا ہے۔

اب تحریر کے آخر میں ہم یہ ثابت کرتے ہیں کہ نواز شریف آج جو زبان اسٹیبلشمنٹ اور طاقت ور حلقوں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں یہ آج کی نہیں بلکہ یہ بہت پہلے کی زبان ہے۔ معروف صحافی رؤف کلاسرا صاحب اپنی کتاب ”ایک سیاست کئی کہانیاں” میں لکھتے ہیں کہ2002 میں جنرل مشرف چاہتے تھے کہ شہباز شریف پاکستان واپس آ کر پاکستان مسلم لیگ نون کی قیادت کریں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا لیکن نواز شریف نے اس آفر کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ بقول نواز شریف کے اگر وہ چاہتے تو وہ چند گھنٹوں بعد پاکستان پہنچ سکتے تھے۔ اس کیلئے انہیں محض اتنا کرنا تھا کہ وہ مشرف کو وردی سمیت پاکستان کا صدر مان لیتے لیکن نواز شریف پاکستانی عوام اور فوج پر یہ ثابت کرنا چاہ رہے تھے کہ آخر کوئی ایسا سیاست دان بھی تھا جو قابل فروخت نہیں تھا۔ نواز کا خیال تھا کہ اب وقت آ گیا تھا کہ پاکستانی سیاستدان فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے کھڑے ہو جائیں اور ان کو پیغام دیں کہ سیاست دان اس ملک کے حقیقی حکمران ہیں کوئی اور نہیں۔

ان کے خیال میں اب کسی نہ کسی کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہتھکنڈوں کے خلاف مزاحمت کرنی چاہئے جن کے کارندے پہلے سیاسی قوتوں کو اقتدار سے ڈس مس کرتے ہیں، سیاسی حکمرانوں کو جیل میں ڈالتے ہیں اور پھر ملک پر اپنی طاقت کے ذریعے قابض ہو جاتے ہیں اور نتیجتاً آخر ملک کا بیڑا غرق کر دیتے ہیں۔ نواز کا خیال تھا کہ اب یہ تماشہ بند ہو جانا چاہئے۔ سیاست دانوں کو اقتدار بیک ڈور چینل سے نہیں بلکہ لوگوں کے ووٹوں سے لینا چاہئے۔ آج بھی نواز شریف یہی بول رہے ہیں۔ یہ ”ووٹ کو عزت دو” اصل میں کیا ہے؟ یہی ہے کہ عوام کے ووٹوں سے اقتدار آنا اور جانا چاہئے کسی اور کی مداخلت پر نہیں۔ تو آخر کار ہمیں یہ بات ماننا ہو گی کہ نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کی اس آگ میں نواز شریف کا جو اسٹیبلشمنٹ سے متعلق بیانیہ ہے یہ آج کا نہیں بہت پہلے کا ہے لیکن بہت سے نادان اس کو سمجھنے سے عاری ہیں۔ اللہ کرے ان کو سمجھ آجائے۔ اس سے ہمیں یہ بھی سمجھ میں آ گئی ہو گی کہ نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کی اصل جنگ آئین کا نفاذ ہے۔ نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کو آئین کے مطابق امور چلانے کا کہتے ہیں اور وہ لوگ نواز شریف کو ایسا کرنے سے روکتے ہیں جس سے دونوں کے درمیان ایک نہ ختم ہونے والی جنگ جاری ہے۔ راقم کی بس یہی دعا ہے کہ نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کی اس جاری جنگ میں جیت صرف اور صرف جمہوریت اور جمہوریت پسند حلقوں کی ہو، آمین! پاکستان زندہ باد جمہوریت پائندہ باد۔

یہ بھی پڑھیں

Khanzeb

قومیت کا انتشار ۔۔۔ مولانا خانزیب

قومیت کی تعریف میں دیگر بنیادی اکائیوں کے ساتھ اقتصادی اور معاشی اشتراک کسی قوم …