باچا خانی، خوشحال خانی اور ترقی پسندی کے رنگوں میں رنگا اجمل خٹک

تحریر: عبدالحئی کاکڑ

اجمل خٹک پشتونوں میں ایک قدآور سیاستدان اور انقلابی شاعر اور ادیب کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ ان چند شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے پشتو شاعری اور سیاست میں ترقی پسندی کے رجحان کو متعارف کروایا ہے۔ وہ انیس ستر دہائی کے اوائل میں نیشنل عوامی پارٹی کے جنرل سیکرٹری تھے اور جب1973 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف لیاقت باغ میں اپوزیشن کے ہونے والے جلسے پر حملہ ہوا تو اس کے ردعمل میں وہ افغانستان چلے گئے جہاں پر انہوں نے تقریباً18 سال بسر کیے۔ وہ1989 میں پاکستان واپس آئے۔ بعد میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر بن گئے۔ پشتون سیاست اور ادب پر گہری چھاپ کی وجہ سے ہر سال سات فروری کو ان کی برسی منائی جاتی ہے۔ وہ1925 میں پیدا ہوئے تھے اور سات فروری2010 کو وفات پا گئے تھے۔


ان کی 11ویں برسی کے موقع پر ”ہم سب” اپنے قارئین کے لئے ان کا ایک غیرمطبوعہ انٹرویو شائع کر رہا ہے۔ یہ انٹرویو عبدالحئی کاکڑ نے2005 میں بی بی سی ریڈیو کے لئے اکوڑہ خٹک میں اجمل خٹک کی رہائش گاہ پر کیا تھا۔


سوال: اجمل خٹک صاحب آغاز آپ کی ابتدائی زندگی سے کرتے ہیں۔ اس بارے میں کچھ بتائیں۔
جواب: میرا سلسلہ نسب خوشحال خان خٹک سے جڑا ہوا ہے۔ میں اکوڑہ خٹک میں ان کے خاندان میں پیدا ہوا۔ یہاں پر میں نے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔1942 میں پشاور گیا اور اسی سال انگریزوں کے خلاف ہندوستان چھوڑ دو تحریک شروع ہوئی تھی جس میں، میں شریک ہوا تھا اور گرفتار ہوا۔ اسی وجہ سے میری تعلیم ادھوری رہ گئی۔ اس کے بعد میں نے بی اے اور منشی فاضل کیا اور پھر پشاور یونیورسٹی سے پشتو زبان و ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔


سوال: آپ کے خاندان کی مالی حالت کیسی تھی؟
جواب: ہم خوشحال خان خٹک کی اولاد میں سے ہیں۔ اگرچہ ہمیں خان خیل کہا جاتا ہے لیکن میرے والد کی مالی حالت اچھی نہیں تھی۔ ہم انگریزوں اور سکھوں کی جنگ میں تخت کابل کے ساتھ کھڑے تھے اسی لئے انگریزوں نے ہمیں ہر چیز سے محروم رکھا تھا۔ میرے والد ہندوستان میں میرے رشتہ داروں کے ہاں، جو وہاں ٹھیکیدار تھے کام کیا کرتے تھے۔ وہ جب بھی واپس آتے تو کاشت کاری کیا کرتے تھے۔ غربت کی وجہ سے میں تعلیم جاری نہیں رکھ سکتا تھا۔ میری ماں کا خیال تھا کہ چوتھی جماعت پاس کرنے کے بعد جب میں تھوڑا لکھنے پڑھنے کے قابل ہو جاؤں تو وہ مجھے اپنے رشتہ داروں کے ہاں ہندوستان بھیج دیں گے جہاں پر میں ان کے ساتھ منشی گیری کر لوں گا۔ لیکن چوتھی جماعت میں، میں نے پوری تحصیل میں پہلی پوزیشن حاصل کی جس کی وجہ سے مجھے وظیفہ مل گیا۔ جب دو روپیہ وظیفہ ملنے لگا تو امی نے کہا آپ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھیں۔ میں نے پھر آٹھویں جماعت میں صوبے بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی اور چار روپے بطور وظیفہ ملنے لگے۔ میں مزید تعلیم حاصل کرنے پشاور چلا گیا۔ وہاں جا کر انگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریک میں شامل ہو گیا۔ پھر گرفتاری سے بچنے کی وجہ سے مفرور ہو کر پہاڑوں میں چھپ گیا اور وہاں سے سیاسی سرگرمی جاری رکھی۔ میں پانچ سال تک سکول کا استاد رہا ہوں، پانچ سال تک ریڈیو میں کام کیا ہے اور کچھ عرصے تک صحافی رہا ہوں۔


سوال: اپنی غربت کا کوئی واقعہ یاد ہے؟
جواب: اس سے بڑی بات کیا ہو سکتی ہے کہ ہمیں دو روپے بہت بڑی رقم معلوم ہوتی تھی۔ ہم ایک روپے میں چودہ کلو جوار خریدتے اور اسی سے گزر بسر کرتے۔ میری ماں ایک روٹی پکا کر اس کے چار حصے کر دیتی، ایک مجھے دیتی، ایک بہن، ایک خود کھاتی اور ایک سنبھال کے رکھ لیتی تھی۔ میں سکول سے جلدی جلدی گھر آتا، ماں روٹی کا ٹکڑا دے دیتی، گھر میں ایک بہت بڑا پتھر رکھا ہوا تھا جس پر میں مرچ پیس پیس کر روٹی پر لگاتا اور بھاگم بھاگ سکول واپس چلا جاتا۔


سوال: آپ کی روح میں شاعرانہ احساس نے کب انگڑائی لی؟
جواب: خوشحال بابا کی وجہ سے شاعری میرے خون میں گردش کرتی رہی۔ میں نے جب خوشحال بابا کی لحد خراب حالت میں دیکھی تو بہت دکھ ہوا اور اسی کیفیت میں میں نے کچھ لکھ ڈالا۔ میں نے اپنے استاد کو سنایا تو انہوں نے پسند کر کے کہا، لکھتے رہو۔ فرنگیوں کے خلاف خدائی خدمتگاروں کی جدوجہد جاری تھی جس کا مرکز ہمارا حجرہ تھا۔ ان دنوں میں انگریز اور اس کے گماشتے آتے، سرخ پوشوں کو گرفتار کرتے اور ان کے کپڑے پھاڑتے تو اس حالت کو دیکھ دیکھ کر میں لکھتا رہا۔ البتہ میں نے باقاعدہ شاعری1938 میں خوشحال بابا کی مزار پر ہونے والے مشاعرے سے شروع کی۔ یہ طرحی مشاعرہ تھا جس میں، میں نے دیکھا کہ کوئی بھی شخص کھڑا ہو کر شعر کہہ دیتا ہے۔ میں نے سوچا کہ یہ تو آسان کام ہے۔ طرح تھا کہ ”دلتہ پہ ایرو کی خلکہ لال د بدخشان وینم” میں نے سوچا یہ تو آسان کام ہے، ”بدخشان وینم، آسمان وینم” سو میں نے بھی ایک شعر لکھا جو کچھ یوں تھا،
تکہ پری رامہ د سرحد ڈیر شاعران وینم
دلتہ پہ ایرو کی خلکہ لال د بدخشان وینم
تب میں نے شاعری شروع کی جو اب تک جاری ہے۔


سوال: آپ ترقی پسند سیاست کی طرف کیسے آئے؟
جواب: اس کا اثر میں نے دہلی سے لیا تھا۔ میرے ایک رشتہ دار جو وہاں تعلیم حاصل کرنے گئے تھے اور وہ جب چھٹیوں میں گھر واپس آتے تو وہ مجھے بھی اپنے ساتھ لے لیتے چونکہ ہم کانگریسی تھے تو اسی لئے کانگریس پارٹی کی اجلاسوں میں شرکت کرتے تھے۔ کانگریس پارٹی میں ترقی پسند بھی تھے، فارورڈ بلاک والے بھی، سوشلسٹ بھی اور ترقی پسند کمیونسٹ بھی تھے۔ تو ان اجلاسوں میں مجھے ترقی پسند (جارحانہ گروپ) پسند آ گیا۔ ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کیا، شعر و شاعری سنتا رہا اور اس طرح بے حد متاثر ہوا۔ باچا خان سے تو یہاں متاثر ہو چکا تھا، خوشحال خان میرے دادا تھے۔ یہی وجہ ہے کہ میری شخصیت میں تین رنگ شامل ہو گئے۔ باچا خان، خوشحال خان اور ترقی پسندی۔
سوال: آپ کی سیاسی اور اور ادبی زندگی دہائیوں پر محیط ہے۔ آپ خود کیا سمجھتے ہیں کہ آپ ایک اچھے شاعر ہیں یا ایک اچھے سیاستدان؟
جواب: میں شاعری اور سیاست کو الگ الگ نہیں سمجھتا۔ میں سیاست میں شاعری اور شاعری میں سیاست کرتا ہوں۔ میں خود کو ملی مشرقی سیاسی فکر رکھنے والا انسان سمجھتا ہوں۔


سوال: میں نے آپ کا وہ خط جو آپ نے ایک پشتو شاعر (پروفیسر راز محمد راز) کو لکھا تھا پڑھا ہے جس میں آپ لکھتے ہیں کہ میری اور آپ کی فکری تلاش ایک ہے مگر بدقسمتی سے میری شاعری سیاست کی بھول بھلیوں میں کہیں بھٹک چکی ہے؟
جواب: آپ کو معلوم ہے کہ میں سیاست میں بہت سرگرم رہا ہوں۔ اتنا سرگرم کہ میں نیشنل عوامی پارٹی کا مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوا۔ میں پورے ملک میں گھومتا رہا۔ آپ نے مجھے ژوب میں دیکھا ہے، بلوچستان، کراچی اور یہاں تک بنگال تک جاتا رہا ہوں۔ اس دوران جب بھی مجھ پر شاعری کی آمد ہوئی ہے تو مصروفیت کی وجہ سے لکھ بھی نہ پاتا۔ اسی لئے میں سمجھتا ہوں کہ سیاست مجھ پر اتنی غالب رہی ہے کہ شاعری اگر ذہن میں آئی بھی ہے تو وہ قلم کے ذریعے کاغذ پر اتر نہیں سکی ہے۔ جو لکھ بھی پاتا تو وہ جب بھی ہم حکومت وقت کے خلاف آواز اٹھاتے تو گھر اور دفتر پر چھاپہ پڑتا اور پولیس میری شاعری، کتابیں اور دیگر دستاویزات لوٹ لیتی تھی۔ کئی بار میری شاعری لوٹی گئی ہے، جب بھی پولیس آتی تو میری ماں اور بہنیں شاعری کو زمین میں دفن کر دیتیں جو وقت گزرنے کے ساتھ رزق خاک بن جاتی۔ اس طرح میری شاعری سیاست کی راہ میں قربان ہوئی ہے۔
سوال: آپ کی شاعری کی کتاب ”د غیرت چیغہ” (غیرت کی پکار) ایک زمانے میں اتنی مقبول تھی کہ نوجوان اسے اپنے سرہانے کے نیچے رکھتے اور اس سے انقلابی جدوجہد کا جذبہ کشید کرتے لیکن اب بھی آپ شاعری کرتے ہیں لیکن جو جوش اور ولولہ ”د غیرت چیغہ” میں ہے بعد کی شاعری میں اتنا نہیں ہے۔ وجہ کیا ہے؟

جواب: بات یہ ہے کہ ”د غیرت چیغہ” کے بعد حکومت کو میری شاعری کی طاقت کا اندازہ ہوا، مجھے جیل بھیجا گیا، مارا پیٹا گیا، اس طرح میرا سیاسی نشیب و فراز شروع ہوا اور اس دوران جو کچھ میں نے لکھا وہ منظر عام پر نہ آ سکا۔ ایک وقت ایسا بھی تھا کہ خوف کے مارے کوئی میرا نام بھی نہیں لے سکتا تھا۔ میں نے افسانے تحریر کیے ہیں، ڈرامے لکھے ہیں لیکن وہ سارے یا تو پولیس چھاپوں کی نذر ہوئے یا خوف سے میرے نام نہ لینے کی وجہ وہ میں پس منظر میں چلے گئے۔
سوال: آپ کے ناقدین سمجھتے ہیں کہ اجمل خٹک نظریاتی طور پر کسی ایک مقام پر نہیں ٹھہرے ہیں۔ آپ کسی زمانے میں خدائی خدمتگار تھے، پھر کمیونسٹ بن گئے، افغانستان میں جلاوطنی کے دوران آزاد پشتونستان اور آزاد بلوچستان کے نعرے لگاتے رہے اور واپس آ کر پشتون قوم پرست سیاست کی اور اب فوجی ڈکٹیٹر جنرل مشرف سے ملاقات کر کے ایک مضبوط پاکستان کی بات کرتے ہیں؟
جواب: جو لوگ یہ کہتے ہیں ان کو میری زندگی، شاعری اور سیاست سے واقفیت نہیں ہے۔ جو خدائی خدمتگار، ترقی پسند اور قوم پرست میں تب تھا وہ آج بھی ہوں۔ جسے آپ نظریاتی راستے بدلنا کہتے ہیں سوائے جنرل مشرف سے ملاقات کے میں نے کوئی ٹھوکر نہیں کھائی ہے۔ جب میں نے جنرل مشرف سے ملاقات کی تو ان کے بارے میں میں نے اتنا کہا کہ ان کی (جنرل مشرف) باتوں میں مجھے امید کی کرن نظر آئی ہے مگر میں نے تو ان کے دکھائے ہوئے چراغ کا پیچھا نہیں کیا۔ انہوں نے مجھے بہت بڑی بڑی پیشکشیں کیں، اگر میں قبول کرتا تو میں اپنے نظریات چھوڑ کر قبول کر لیتا جو میں نے نہیں کیا۔ میں اپنے نظریات پر ہمیشہ کاربند رہا ہوں۔


سوال: آپ کا کہنا ہے کہ آپ کو جنرل مشرف کی باتوں میں امید کی کرن نظر آئی تھی لیکن بعد میں ثابت ہوا کہ ویسے نہیں ہوا جب آپ نے ان کی باتوں پر اعتبار کیا اور بعد میں نتیجہ آپ کی توقع کے برعکس نکلا تو کیا اس سے آپ کی سیاسی بصیرت پر سوالیہ نشان نہیں لگ جاتا ہے؟
جواب: جب جنرل مشرف نے آدھے گھنٹے تک ملاقات کی تو ان کی باتوں کا محور افغانستان، قبائل اور پشتونوں کے حقوق تھے۔ ان تین باتوں کو میں نے روشنی کی کرن کہا تھا لیکن جب صحافیوں نے مجھ سے سوال کیا تو میں نے جواب میں کہا تھا کہ اگر یہ روشنی لوگوں کی جھونپڑیوں تک پہنچتی ہے تو روشنی ہے اور اگر یہ جی ایچ کیو میں مقید رہی تو پھر روشنی نہیں ہے۔
سوال: جب آپ افغانستان میں تھے تو وہاں بیٹھ کر پشتونوں کو یہ امید دلایا کرتے تھے کہ میں ایک دن سرخ ڈولی لے کر خیبر پار کروں گا لیکن اٹھارہ سال بعد آپ سرخ ڈولی لائے بغیر افغانستان سے واپس لوٹے؟


جواب: سرخ ڈولی سے میری یہ مراد نہیں تھی کہ کاندھے پر سرخ ڈولی اٹھائے، جس میں دلہن بیٹھی ہو گی اور لوگ کہیں گے وہ دیکھو سرخ ڈولی آ گئی ہے، یہ تو ایک شاعرانہ، ادیبانہ اور فقیرانہ استعارہ اور صدا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ میں اپنا سیاسی ”’مرام” (مقصد) حاصل کر کے رہوں گا۔ وہ مرام جو میرا ہے، میرے لوگوں اور دھرتی کا ہے، وہ حاصل کر کے رہوں گا۔ شاعر استعارہ، علامت اور تشبیہہ کا استعمال کرتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جس کو میں نے سرخ ڈولی کہا ہے، اپنی دھرتی، اپنے حقوق اور تشخیص کی سرخ ڈولی، وہ ایک دن ضرور آئے گی۔
میں نے ایک تازہ نظم لکھی ہے کہ ”د وینو پہ یون کی بہ یو نوی گل پیدا شی” یعنی خون سے بھرے تالاب میں ایک نئی کونپل کھلے گی۔ پھر تو ایک دن کوئی مجھ سے یہ بھی پوچھ سکتا ہے کہ وہ خون کا تالاب کہاں تھا اور وہ کونپل کہاں کھلی؟ اس وقت پشتون جن حالات سے گزر رہے ہیں اسی کو میں نے خون کے تالاب سے تشبیہہ دی ہے۔ پھول سے مراد یہ نہیں ہے کہ میں اس سے پگڑی یا زلفوں میں پرو لوں گا، اس سے مراد میری منزل ہے۔ سرخ ڈولی میرا مرام ہے۔


سوال: آپ خود بتا سکتے ہیں کہ آپ اپنی طویل سیاسی جدوجہد میں منزل پانے میں کس حد تک کامیاب اور کس حد تک ناکام ہوئے ہیں؟
جواب: جنہوں نے سیاست کی وہ آج گاڑیوں، بنگلوں، بینک بیلنس اور جائیدادوں کے مالک ہیں اور آپ کو پتہ ہے کہ میرے پاس یہ سب کچھ نہیں ہے۔ اگر اسے ناکامی کہتے ہیں تو پھر تو میں ناکام ہوں۔ میں نے پشتون سرزمین، افغانستان میں اٹھارہ سال، پاکستان اور بنگلہ دیش میں طویل سیاسی جدوجہد کی ہے اور اگر لوگ اس جدوجہد کو کامیابی نہیں کہتے بلکہ چونکہ میں بنگلے میں یا کرسی پر نہیں بیٹھا ہوں اور وہ اسے ناکامی سمجھتے ہیں تو اس ناکامی کو تو میں نے لات ماری ہے اور اس سے میں کامیابی نہیں سمجھتا۔
نوٹ: مضمون ہٰذا چھ فوری دو ہزار اکیس کو ”ہم سب” پر شائع کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں

تعصب نہیں انصاف چاہئے

تحریر: مظفر خان پشتین تاریخ گواہ ہے کہ گروہ بندی، فرقہ بندی اور تعصب کو …