خیبر پختونخوا کی خواتین اور کھیلوں کے میدان- تحریر: عدنان خٹک

تحریر: عدنان خٹک

خواتین کے لیے کھیلوں کے مواقع موجود ہیں اور خیبر پختونخوا کی خواتین میں بہت ٹیلنٹ موجود ہے جو کسی بھی کھیل میں ملک کا نام روشن کر سکتی ہیں مگر سپورٹس بورڈ میں موجود کچھ لوگ اپنی پسند سے لوگوں کو بھرتی کرتے ہیں اور ٹینس جیسے مہنگے کھیل میں خواتین کھلاڑیوں کو وہ مدد نہیں ملتی جو درکار ہوتی ہے۔ اورین جاسیہ

خیبر پختونخوا میں خواتین کے لیے کھیلوں کے مواقع اور سہولیات کے حوالے سے جاننے کے لیے ہم نے خیبر پختونخوا کی خاتون سائیکلسٹ حلیمہ غیور سے بات کی۔ حلیمہ غیور خان خیبر پختونخوا کی طرف سے قومی سطح پر بھی مقابلوں میں حصہ لیتی ہیں اور صوبے کی نمائندگی کرتی ہیں۔ انہوں  نے سپورٹس بورڈ اور خیبر پختونخوا میں خواتین کے لیے کھیلوں کے سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ خواتین جو بھی کھیل کھیلنا چاہتی ہیں سپورٹس بورڈ ان کے لیے بہترین سہولیات اور کوچز مہیا کرتا ہے جس کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں خواتین کھیلوں کے مقابلوں میں نام کما رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں خواتین کے لیے ہر میدان میں مواقع موجود ہیں اور ہر فیلڈ میں خواتین کے لیے الگ وقت متعین کیا جاتا ہے جس میں خواتین کھلاڑی اپنی پریکٹس کر سکتی ہیں۔ انہوں نے سپورٹس بورڈ کے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ والدین بھی اپنی بچیوں کو کھیل کے میدان جانے کا موقع دیں تاکہ خیبر پختونخوا کی خواتین بھی عالمی سطح کے مقابلوں میں ملک اور قوم کا نام روشن کر سکیں۔


اس حوالے سے خیبر پختونخوا کی نمبر ون  ٹینس کھلاڑی اورین جاسیہ نے کہا کہ خواتین کے لیے کھیلوں کے مواقع موجود ہیں اور خیبر پختونخوا کی خواتین میں بہت ٹیلنٹ موجود ہے جو کسی بھی کھیل میں ملک کا نام روشن کر سکتی ہیں مگر سپورٹس بورڈ میں موجود کچھ لوگ اپنی پسند سے لوگوں کو بھرتی کرتے ہیں اور ٹینس جیسے مہنگے کھیل میں خواتین کھلاڑیوں کو وہ مدد نہیں ملتی جو درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹینس کے ریکٹ اور جوتے وغیرہ بہت مہنگے ہوتے ہیں اس لیے اگر خواتین کو ٹینس کھیلنے کا شوق ہو اور ٹیلنٹ بھی موجود ہو تب بھی ان کو اس کھیل میں حصہ لینے کے لیے بہت پیسے خرچ کرنے پڑتے ہیں جو ہر کھلاڑی برداشت نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر خواتین کھلاڑیوں کو درکار سہولیات مہیا کر دی جائیں تو وہ دن دور نہیں کہ خیبر پختونخوا کی خواتین دنیا میں ملک کا نام روشن کریں گی۔ انہوں نے سپورٹس بورڈ اور حکومتی اقدامات کو ناکافی قرار دیا اور کہا کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کو وہ مواقع نہیں دیے جا رہے تو اس میں حکومت کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے کہ وہ ان کے لیے مختلف پروگرامز اور کھیلوں کے مواقع پیدا کرے اور والدین میں کھیلوں کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے میڈیا اور دوسرے ذرائع سے کمپئن چلائی جائے تا کہ والدین کو یقین ہو جائے کہ کھیل کا میدان ان کی بیٹیوں کے لیے محفوظ ہے۔


خیبر پختونخوا اور خصوصی طور پر پشاور میں خواتین کھلاڑیوں کے لیے مواقع اور سہولیات کے حوالے سے ہم نے خواتین کی ڈائریکٹر سپورٹس رشیدہ غزنوی سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور پشاور میں جو سہولیات مردوں کے لیے ہیں وہی خواتین کے لیے بھی دستیاب ہیں مگر ہمارے معاشرے میں خواتین کا گھر سے باہر جانا ہی مشکل کام ہے تو اسی لیے کھیل کے میدان میں بھی خواتین ویسے ہی کم آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں کا فروغ نا صرف سپورٹس بورڈ کی ذمہ داری ہے بلکہ کھلاڑی بنانے کے لیے ہمیں خواتین اور مرد دونوں کھلاڑیوں پر سکول کے وقت سے ہی محنت کرنی پڑتی ہے اور تب جا کر وہ اچھے کھلاڑی بنتے ہیں۔ ڈی جی ویمن  سپورٹس رشیدہ غزنوی نے کہا کہ سکولوں میں امتحانات کے لیے جو ہال مختص کیا جاتا ہے اس میں سال میں کچھ ہی دن پیپر ہوتے ہیں جبکہ سال بھر وہ ہال خالی ہوتا ہے اس لیے محکمہ تعلیم کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان ہالوں میں خواتین او مرد دونوں کے لیے ٹیبل ٹینس اور دوسرے اِن ڈور کھیلوں کے انتظامات کرے تاکہ طالب علمی کے دور سے ہی کھلاڑیوں کو کھیلنے کے مواقع میسر آ سکیں اور ملک کو بہترین کھلاڑی مل سکیں۔

رشیدہ غزنوی کہا کہ خواتین کے لیے تمام سٹیڈیمز میں الگ وقت مختص کیا گیا ہے اور خواتین کھلاڑی میدان میں اپنے لیے وقت مختص کر سکتی ہیں۔ اس وقت سپورٹس کورٹ مرد کھلاڑیوں کے لیے بند اور خواتین کھلاڑیوں کو کھیلنے کے لیے میسر ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی بیٹی یا بہن کھیلنے جا رہی ہے اور وہ غیر محفوظ ہے تو ایسی کوئی بات نہیں ہے گراونڈ میں خواتین کے لیے الگ اوقات مختص ہوتی ہیں اور ان کے ساتھ مردوں کا کوئی لین دین یا آنا جانا نہیں ہوتا۔ خواتین ڈائریکٹر سپورٹس خیبر پختونخوا رشیدہ غزنوی نے والدین کے لیے پیغام کے طور پر کہا کہ تمام والدین جو کہ یہ سمجھتے ہیں کہ کھیل میں ان کی بیٹی کو کوئی مشکل پیش آ سکتی ہے وہ خود جا کر اپنی بیٹیوں کے لیے وقت مختص کریں اور اس وقت ان کے لیے گراونڈ میں خواتین کے ساتھ کھیلنے کا موقع مل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سارے والدین یہی کرتے ہیں اور اپنی بچیوں کو کھیل کود کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔


خیبر پختونخوا میں موجودہ حکومت کی کھیلوں کو ترقی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ سپورٹس بورڈ نے خواتین کوچز تعینات کی ہیں اور انہی کوچز نے ضلعوں کی سطح پر خواتین کے ٹرائلز لیے ہیں جس سے بہت ہی اچھی خواتین کھلاڑی سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ ضلعوں سے برقعوں میں بھی خواتین کھلاڑی ٹرائلز میں شرکت کے لیے آئیں اور دور دراز علاقوں سے آئیں خواتین کھلاڑیوں نے بہت انتظار بھی کیا، ان کے لیے آنا اور کھیلوں میں حصہ لینا مشکل تھا مگر ہمت اور محنت ہو تو وہ کھلاڑی ضرور نام کماتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور محکمہ کھیل خواتین کے کھیلوں پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں اور اس محنت کا نتیجہ اگلے کچھ عرصے میں سامنے آنا شروع ہو جائے گا۔


خواتین کے لیے کھیلوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے ہم نے خیبر پختونخوا سپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر اور دوسرے حکام سے بات کرنے کی کوشش کی مگر ان کی طرف سے کوئی رسپانس نہیں ملا۔   

یہ بھی پڑھیں

تور غر میں گرلز ہائر سیکنڈری سکول نہ کالج‘طالبات تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور – تحریر: انورزیب

تحریر: انورزیب تعلیمی ایمرجنسی کا دعویٰ کرنے والی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بھی علاقے …