نوجوان ایمل ولی خان باچاخان کا حقیقی وارث (سید اختر علی شاہ) – ترجمہ:سجاد بونیری

ایمل ولی خان کو عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر منتخب ہوئے ایک سال ہوگیا ہے۔روایت کے مطابق پارٹی کارکردگی کا سالانہ رپورٹ کا جائزہ اور مستقبل کے لئے لائحہ عمل پر غور معمول کی بات ہے۔ جمہوری روایات پر عمل کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی ہمشیہ اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ منتخب عہدیداران، متعلقہ کمیٹیوں اور عوام کے سامنے پیش کرتی ہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔کوئی شک نہیں کہ اب سیاسی جماعتیں ملک کے مختلف حصوں کے لوگوں کو جوڑ کر قومی ریاست کو برقرار رکھنے میں سب سے اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ پاکستان بھی اس عمل سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ ایک وفاقی جمہوریت ہونے کے ناطے، چھوٹے صوبوں کے حقوق کی حمایت سیاسی جماعتوں کا کردار اہم بنا دیتی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی 1910 سے شروع ہونے والے تاریخی عمل سے لیکر آج تک تسلسل کیساتھ پختونوں کی شناخت، ان کی خواہشات، ایک بہتر مستقبل اور قومی حقوق کے خوابوں کا اظہار ہے۔

باچا خان کی زندگی، جدوجہد اور تعلیمات سے رہنمائی لینے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی دعویدار عوامی نیشنل پارٹی ہر آزادی، اور عدل وانصاف کے حصول کیلئے، امن، عدم تشدد، لامتناہی اورسخت جدوجہد پر یقین رکھتی ہے جو ہر طرح کی ناانصافی، جبر اور استحصال کے خلاف ہے۔ انہی اصولوں پر عمل کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی ہمیشہ آئین کی بالادستی، سویلین بالادستی اور وفاق کے لئے کھڑی رہی۔ تاہم آج آزادی، وفاقیت اور قومی حقوق کے لئے نئے چیلنجز سامنے آئے ہیں۔اس پس منظر میں، افغانستان میں امن کے چیلنجوں کیباوجود، 40 سالہ طویل ترین تنازعہ جس نے موت، تباہی اور بے گھر ہونے، قبائلی علاقوں میں انضمام، 18 ویں آئینی ترمیم اور وفاق کو نقصان پہنچایا اور پارٹی کے قومی اور صوبائی اسمبلی میں معمولی موجودگی کو جنم دیا نے صوبائی صدر کا کام انتہائی اہم اور مظبوط بنا دیا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ2018 کے انتخابات میں پارٹی کی مایوس کن کارکردگی کے بعد، مایوسی، سستی، اور منشتر ہونا واضح طور پر غالب رہا۔ مذکورہ وجوہات کی بناء پر کھوئے ہوئے جزبے کو بحال کرنا ایک مشکل امر رہا ہے۔ایمل ولی خان کے انتخاب پر یہ سوال اٹھائے جارہے تھے کہ کیا وہ پارٹی کے جہاز کو شورش زدہ پانیوں سے نکالنے میں کامیاب ہوجائیں گے؟ قائد کی صلاحیتوں اور خصوصیات کا ہمیشہ بحران میں آزمایا جاتا ہے۔ ان خصوصیات کا مظاہرہ اس کو لوگوں میں پسند یدہ بناتا ہے۔

قائدین ہمیشہ تاریخ کا احساس رکھتے ہیں اور بعض اوقات پارٹی کے وسیع مفاد میں غیر مقبول فیصلے کرنے کی ہمت رکھتے ہیں، متحرک، پختہ یقین، ہمت اور عزم کے ساتھ جہاز کو بحفاظت ساحل پر لے جاتے ہیں۔ ایمل ولی خان خاموش رہے اور اس بات پر یقین رکھتے ہوئے کہ عمل الفاظ سے زیادہ بااثر ہوتا ہینے اپنی قائدانہ صلاحیتوں اور کارکردگی کی بناء پر اپنے ناقدین کو غلط ثابت کردیا۔ وہ اپنے منصوبوں کو سامنے رکھتے ہوئے باچا خان کے عدم تشدد، امن، اتحاد، قومی جمہوریت اور یکسانیت کے پیغام کے ساتھ عظیم تاریخی اور سیاسی میراث کے پیغامات کو نہ صر ف خیبرپختونخوا بلکہ سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے کونے کونے میں لیکر گیا۔منظم حکمت عملی اور ہر عہدیدار کو مخصوص وقت کے ساتھ ذمہ داریاں سونپنے سے انہوں نے پارٹی پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے۔انہوں نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ معمول کی سرگرمیوں سے کام نہیں چلے گا بلکہ نتائج کی بنیاد پر ہر کسی کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے ساتھ انہوں نے نظم وضبط کے متعلق یہ واضح کیا کہ کوئی بھی پارٹی کے دستور سے بالاتر نہیں ہے۔منظم اور مضبوط حکمت عملی کے تحت انہوں نے پارٹی کے کمزور علاقوں اور غیر فعال کارکنوں کی نشاندہی کرنے کے بعد ان اضلاع کا دورہ کرکے وہاں پر بڑے جلسے کئے اور غیر فعال کارکنوں کو بھی متحرک بنایا۔ سابق وزیر فرید طوفان، سابق ایم این اے اشتیاق اقبال خان اور دیگر کو پارٹی میں واپس لایا گیا۔اسی طرح سابق ایم پی اے یاسین خلیل، صاحب گل، ڈاکٹر عمر دراز اور دیگر جیسے سیاسی قدآوروں کی شمولیت پارٹی مقبولیت کے بڑھتے ہوئے گراف کی ثبوت ہے۔دور حاضر میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی اہمیت کو بھانپتے ہوئے انہوں نے نہ صرف ایک میڈیا سیل کا اہتمام کیا بلکہ1996 سے بند روزنامہ شہباز کی اشاعت بھی دوبارہ شروع کر دی۔ مختصر وقت میں باچا خان ٹرسٹ کے ڈائریکٹر کی حیثیت سیانہوں نے 36 کتابیں کی اشاعت کی۔ باچاخان اور ولی خان کی برسی کے موقع پر صوبے کے چار زونوں میں 10 دن کے جلسوں، ثقافتی شوز، سیمینارز، پینٹنگز اور کتب کی نمائشوں کو موزوں انداز میں پیش کرنا پارٹی کی خصوصیت تھی۔

اس کے علاوہ انہو ں نے باقاعدگی سے صوبے میں مطالعاتی سرکلرز کے انعقاد کی حوصلہ افزائی کی ہے جس نے نوجوانوں کی دانشوری کو تقویت بخشتی ہے۔پختون خطے کو درپیش مسائل کے پرامن حل کے لئے ایک اہم جماعت کے طور پر تمام پختون آوازوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کے ارادے سے انہوں نے نہ صرف ایک قومی جرگہ منعقد کیا بلکہ ضم قبائلی علاقوں کے معاملات پرتمام جماعتوں کو بھی اکٹھا کیا۔ آزادی صحافت، جمہوریت، قومی حقوق اور مہنگائی جیسے معاملات پر انہوں نیجلسوں جلوسوں اور سیمیناروں کا انعقاد کیا۔نظم و ضبط کے بغیر ہم آہنگی حاصل کرنا اور کارکنان کا متعدد مقاصد پر کام کرنا مشکل ہوجا تاہے۔ جتنا بھی بڑا ہدف ہو اس کیلئے اتنے ہی ذیادہ سخت نظم و ضبط کا ہونا ضروری ہے۔ قائد وہ ہے جو اپنی صفوں میں نظم و ضبط برقرار رکھنے اور عوامی مقبولیت کی قیمت پر بھی سخت فیصلے کرنے کے اہل ہو۔

جماعتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لئے ہمت اور یقین کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے کارکنوں کے ساتھ بڑے بڑے ناموں کو بھی پارٹی سے نکالا۔ جس کی ایک مثال پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں نظم و ضبط کے معاملیصدر اور جنرل سکریٹری کو ہٹانا بھی ہے۔صوبائی صدر کی حیثیت سے اپنے پہلے سال کے دوران ان کی سرگرمیوں سے ثابت ہوا ہے کہ انھیں تاریخی تسلسل اور عوامی توقعات کا بھرپور احساس ہے اور وفاقی طرزجمہوریت پر یقین ہے۔ اپنی سخت محنت، جوش و ولولہ سے آج پارٹی ایک بار پھر متحرک اور عوام بالخصوص نوجوانوں کی امنگوں کا اظہار کررہی ہے۔ درحقیقت، وہ باچا خان کی میراث کے لباس کو پہننے کے لئے صحیح وارث ہیں۔

0 0 vote
Article Rating

یہ بھی پڑھیں

ضلع خیبر ضم تو ہوا مگر مسائل حل نہ ہو سکے

مینہ وال شینواری لنڈی کوتل تحصیل طرح طرح کے مسائل کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے …

Subscribe
Notify of
1 Comment
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments

Aimal wali khan pa ratlo awami national party mah pa rwandi rawana shwe da

1
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x